Showing posts with label متفرقات. Show all posts
Showing posts with label متفرقات. Show all posts

Saturday, 16 July 2011

ماہر القادری رح کا دین خانقاہی پر تبصرہ


ماہر القادری رح کا دین خانقاہی پر تبصرہ


ہر طرف خیمے لگے ہیں دور تک بازار ہے
یہ نمائش ہے کوئی میلہ ہے یا تہوار ہے


کوئی بارات اس جگہ اتری ہے باصد کر و فر
میں یہ سمجھا شامیانوں کی قطاریں دیکھ کر


یہ نفیری کی صدائيں یا کٹوروں کی کھنک
یہ دھویں کے پیچ یہ پھولوں کے گجروں کی مہک


نیم وا برقعے نگاہوں پر فسوں کرتے ہوئے
شوق نظارا کو ہر لخط فووں کرتے ہوئے


ہے یہ تقریب عقدت عرس ہے اک پیر کا
کام کرتی ہے یہان کی خاک بھی اکثیر کا

اک طوائف گارہی ہے سامنے درگاہ کے
کیا مزے ہیں خوب حضرت سہاگن شاہ کے


ساز پر کچھ چھوکرے قوالیاں گاتے ہوئے
گٹکری لیتے ہوئے ہاتھوں کو پچکاتے ہوئے


رقص فرمانے لگے کجھ صاحبان وجد و حال
یہ کرامت شیخ کی ہے یا ہے نغمے کا کمال


عورتوں کی بھیڑ میں نظارہ ٹھوکر کھائے ہے
اس ہجوم رنگ و بو میں کب خدا یاد آئے ہے


مقبرے کی جالیوں میں عرضیان لٹکی ہوئيں
یہ وہ منزل ہے جہاں نیکیاں بھٹکی ہوئيں


ان میں لکھا ہے ہماری جھولیاں بھردے
درد دل سن لیجیے مشکل کشائی کیجیے


پھول ہٹتے ہیں کہیں اور دیگ لٹتی ہے کہیں
دل مچلتا ہے کہیں اور سانس گھٹتی ہے کہیں

یہ چراغوں کی قطاریں جگ مگاتے بام و در
جس طرف بھی دیکھنے سامان تفریح نظر


چادریں چڑھتی ہوئيں ڈھولک بھی ہے بجتی ہوئی
یہ مجاور ہیں جو پوجا کررہے ہیں قبر کی


کوئی سجدے میں جھکا ہے کوئی مصروف طواف
تھام رکھا ہے کسی نے دونوں ہاتھوں سے غلاف


رو رہا ہے کوئی چوکھٹ ہی پہ سر رکھے ہوئے
ہیں کسی کے ہاتھ بہر التجا اٹھتے ہوئے


دیکھتا ہی رہ تماشائی زباں سے کجھ نہ بول
چادروں کی دھجیاں بکتی ہیں یاں سونے کے مول


ھن برستا ہے یہان چاندی اگلتی ہے زمین
آخرت کی یاد اس جا پاؤں رکھ سکتی نہیں


زائروں کے خود مجاور ہی جھکادیتے ہیں سر
مو رکے پنکھوں کے سائے میں کلاوے باندھ کر


ہے یہی تعلیم تعلیم نبی ۖ فرمان قرآن کی
ہر ایک بدعت ضلالت شرک ہے ظلم عظیم


مدعی توحید کے اور شرک سے یہ ساز باز
ایک طرف قبروں پہ سجدے دوسری جانب جائے نماز


تابکے یہ کھیل دنیا کو دکھایا جائے گا
مضحکہ توحید کا کب تک اڑایا جائے گا
------------------------------------------------------------------------------------
اقتباس: اہل حرم کے سومنات
تالیف: زاہد حسین مرزا

Wednesday, 8 June 2011

بلیک واٹر

picture        










طارق اسماعیل ساگر کا ایک اور لا زوال شاہکار ناول جس میں پاکستان میں مصروف کار صیعونی طاقتوں کو بے نقاب کیا گیا ہے ۔
مصنف : طارق اسماعیل ساگر 
تشکیل ای بک : این اے فخری 
بشکریہ : طارق اسماعیل

پیش لفظ

’’بلیک واٹر‘‘ نے عراق کے بعد پاکستان کا رخ کیا تو پاکستان کے آزاد اور بیدار معزز صحافیوں نے حکومت کی پراسرار خاموشی کو توڑتے ہوئے نعرہ حق بلند کیا اور بلیک واٹر کی گھناؤنی کارروائیوں سے پاکستانیوں کو آگاہ کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ جن صحافیوں نے یہ نعرہ مستانہ بلند کیا۔ ان میں نمایاں نام طارق اسماعیل ساگر کا ہے جو اپنی جرأت مندی کے لئے پاکستان اور بیرون ملک ایک خصوصی مقام رکھتے ہیں ۔ ان کی خصوصاً ساؤتھ ایشیا کے حوالے سے لکھی تحریروں کو سند سمجھا جاتا ہے۔سائوتھ ایشیاء میں بھارتی بالادستی کے لئے سرگرم بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی RAWاور اُس کے پُشت پناہی کرنے والی ایجنسیوں کے حوالے سے اُن کی تحریروں کو خصوصی توجہ سے پڑھا جاتاہے ۔
فاضل مصنف نے اس انتہائی اہم کتاب میں نہ صرف بلیک واٹر بلکہ سوات، فاٹا اور بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت کیوں، کب، کیسے شروع ہوئی؟ اس خطے میں امریکہ، اسرائیل، بھارت کے مفادات اور عزائم کیا ہیں؟ ’’را، موساد، سی آئی اے‘‘ اور دیگر انٹیلی جنس ادارے یہاں کیا کر رہے ہیں؟ ان کے ٹارگٹس کیا ہیں؟ پاکستانی بیورو کریسی میں ان پاکستان دشمن طاقتوں کے لئے سافٹ کارنر رکھنے والوں کے بھیانک عزائم کیا ہیں؟ ’’سی آئی اے‘‘ اور ’’را‘‘ نے قیام پاکستان کے بعد سے آج تک الگ الگ اور مشترکہ پاکستان کے خلاف کون کون سے آپریشن کئے اور اب تک کر رہے ہیں؟ پاکستان کو دولخت کرنے سے موجودہ صورتِ حال تک پہنچانے میں سی آئی اے، را، موساد اور دیگر پاکستان دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کیا کردار رہا ہے؟ مذہبی شدت پسندی کے جذبات کو کیسے، کب، کس نے اور کیوں ہوا دی؟ پاکستان کے انتہائی محب وطن اور اسلام کے شیدائی عوام کو غیر ملکی ایجنسیوں کی معاونت سے بہکانے، بھڑکانے اور حکومت سے ٹکرانے کے بعد اپنا اُلو سیدھا کرنے والے مذہبی راسپوٹین کون ہیں؟ پاکستان کو دہشت گردی کی آگ کا ایندھن بنانے والوں کی اصلیت کیا ہے؟ اور ملکی و غیر ملکی شخصیات، ادارے، ایجنسیاں، میڈیا آخر ’’آئی ایس آئی‘‘ پر ہی کیوں بار بار حملہ آور ہوتے ہیں۔ ممتاز مصنف صحافی بین الاقوامی اور ملکی امور پر اتھارٹی سمجھے جانے والے ’’طارق اسماعیل ساگر‘‘ نے اپنی مایہ ناز تصنیف میں ان سوالات کے جوابات دئیے ہیں جو ساری قوم کی آنکھیں کھول دیں گے۔

پروفیسر ڈاکٹر احمد حسن شاہ
آکسفورڈ یونیورسٹی (برطانیہ)
-------------------------------------------------------------------------

بلیک واٹر سے XE زی تک:

یہ اسلام آباد کی ایک مصروف شاہراہ ہے، جس پر معمول کے مطابق دفتری اوقات کار کے مصروف لمحات میں ٹریفک کی رفتار بہت سست پڑ گئی ہے، جس کی وجہ گاڑیوں کی وہ لمبی قطاریں ہیں جنہیں روزانہ سیکیورٹی کے کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان حالات میں ویسے ہی ہر ڈرائیور ٹینشن کا شکار ہوتا ہے، ٹریفک کی لمبی لمبی قطاریں الگ مسائل پیدا کرتی ہیں۔ یہی منظر یہاں بھی دکھائی دے رہا ہے۔ ایک نوجوان اپنی کار میں ٹریفک اشارہ کھلنے کا منتظر ہے کہ سگنل گرین ہونے پر آگے بڑھے جبکہ اس کے پیچھے لمبی قطار حد نگاہ تک دکھائی دے رہی ہے۔
لیکن۔۔۔اچانک ایک سیاہ شیشوں والی بڑی گاڑی اس کے پیچھے لگی قطار کو قریباً روندتے ہوئے ٹریفک اصولوں کی دھجیاں بکھیرتے اس کے پیچھے آکر رکتی ہے اور گاڑی کا ڈرائیور مسلسل ہارن بجانے لگتا ہے، نوجوان کیلئے یہ بڑی پریشان کن صورتحال ہے کہ سگنل ابھی تک ریڈ
RED ہے اور یہ شخص اسے چلنے کیلئے کہہ رہا ہے، اسے راستہ چاہیے جس کیلئے نوجوان کو ٹریفک سگنل توڑنا پڑے گا جو اس کو گوارہ نہیں جب نوجوان مسلسل ہارن بجانے پر بھی پیچھے نہیں ہٹتا تو اس گاڑی میں سے ایک امریکی جس نے کالے شیشوں کی عینک چڑھا رکھی ہے ہاتھ میں جدید ترین آٹو میٹک گن لئے نوجوان کے نزدیک آتا ہے اپنی گن سے اس کے دروازے کا شیشہ کھٹکھٹا کر اسے پرے ہٹنے کا دھمکی آمیز اشارہ کرتا ہے۔ نوجوان کا خون گرم ہے، وہ بھی اس بے ہودگی پر غصے میں آکر اپنے ڈیش بورڈ سے پستول نکال کر اسے دکھاتا اور اپنی گود میں رکھ لیتا ہے۔
امریکی سورما فوراً واپس پلٹتا ہے اپنے ساتھیوں کے ساتھ دوبارہ آتا ہے، وہ سب مل کر نوجوان کو زبردستی باہر نکالتے ہیں اور اسے اپنے ساتھ لے جانے پر بضد ہیں لیکن وہاں موجود غیرت مند پولیس آفیسر اور کچھ لوگ اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ معاملہ بڑھتا ہے، امریکی اپنی مخصوص زبان میں اسے ڈانٹتے وہاں سے چلے جاتے ہیں۔
یہ خوش قسمت نوجوان چونکہ برسراقتدار پارٹی کے ایک سینٹر کا بھانجا تھا، اس لئے اس کی بچت ہو گئی ورنہ آئے روز ان امریکیوں کے ہاتھوں کسی نہ کسی پاکستانی کے پٹنے کی خبر بھی آتی رہتی ہے اور اب یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں رہی۔
یہ امریکی ’’بلیک واٹر فورس‘‘ کے مادر پدر آزاد کرائے کے سپاہی ہیں جو عراق کے بعد اب پاکستان میں گھس آئے ہیں۔ بلیک واٹر جو اب’’زی (
XE) کہلاتی ہے۔ امریکی فوج کے بدمعاش، بھگوڑے، سزا یافتہ فوجیوں کا ایک مادر پدر آزاد گروہ ہے جسے امریکی حکومت دنیا کے کئی ممالک میں اپنے سفارتکاروں اور دیگر سرگرمیوں میں مصروف شہریوں کی حفاظت کیلئے بظاہر استعمال کرتی ہے اس پرائیویٹ فورس کو سی آئی اے کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔
پرائیویٹ آرمی کے تصور سے قائم امریکی سیکیورٹی ایجنسی بلیک واٹر جس کا نام اب تبدیل کر کے زی رکھ دیا گیا ہے۔ 2007ء میں قائم ہوئی اور اس کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی ملٹری تربیت گاہ ہے، ان کے پاس ایک لاکھ سے زیادہ سیکیورٹی گارڈز ہیں جن کو یہ پرائیویٹ آرمی کا نام دیتے ہیں۔ اس کمپنی کے مالکان ایرک پرنس اور ایل کلارک ہیں جو اس وقت کے امریکی صدر کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتے تھے، وہ مذہب کے لحاظ سے عیسائی ہیں اور دنیا میں کام کرنے والے عیسائی مشینری اداروں کی مالی امداد کرتے رہے ہیں۔ یہ کمپنی نائن الیون سے چند سال قبل قائم ہوئی، اس کے اہم عہدیداروں میں امریکی سی آئی اے کے ایک سابق سربراہ بھی شامل ہیں، اس پرائیویٹ کمپنی میں کام کرنے والے ایک گارڈ کی سالانہ تنخواہ چار لاکھ ڈالر سے زائد ہے جو اس امریکی جرنیل کی تنخواہ کے برابر ہے۔ جس کی 26 سال سروس ہو یعنی اس کے ایک گارڈ کی تنخواہ امریکی ریگولر فوجی کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ ہے۔ بلیک واٹر کا ٹریننگ سنٹر امریکہ میں نارتھ کیرولائنا میں ساٹھ ہزار ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔ اس ٹریننگ سنٹر میں دیگر سہولیات کے علاوہ ایک مصنوعی دریا بھی بنایا گیا ہے اس کمپنی کے پاس بیس لڑاکا طیارے اور متعدد جنگی ہیلی کاپٹر بھی ہیں۔ اس کا دعویٰ ہے کہ یہ کمپنی سالانہ ساٹھ ہزار فوجیوں کی تربیت کرتی ہے جن میں امریکہ کی مختلف ایجنسیوں اور فورسز سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ اس کے اپنے گارڈز بھی شامل ہیں۔ اس کمپنی کو زیادہ تر گورنمنٹ کنٹریکٹ ملتے ہیں۔ اس کے ریکارڈ کے مطابق اس کی نوے فیصد آمدن گورنمنٹ کنٹریکٹ سے حاصل ہوتی ہے۔ بلیک واٹر لامحدود اختیارات کی حامل کمپنی ہے۔ عراق میں تعینات اس کمپنی کے اہلکاروں پر عراقی قانون نافذ ہی نہیں ، وہ جب اور جہاں چاہیں کسی کو ہلاک کر دیں یا کوئی اور غیر قانونی اقدامات کریں انہیں روکنے والا کوئی نہیں۔ 30 مئی 2007ء کو اس کمپنی کے گارڈ نے ایک شخص کو صرف اس لئے گولی ماری کہ اس کی گاڑی امریکی حکام کے قافلے کے قریب سے گزر رہی تھی۔ 16 دسمبر 2007ء میں اس کمپنی کے گارڈز نے بیس عراقیوں پر گولیاں چلائیں جن میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے۔ اس واقعہ کے بعد امریکی حکام نے ایک آرڈر پاس کیا تھا، جس کے تحت بلیک واٹر کے کسی بھی گارڈ پر عراقی قانون لاگو نہیں ہوتا اور وہ صرف امریکی حکام کو جوابدہ ہیں۔ یہ کمپنی عراق، افغانستان، جاپان، آذربائیجان اور دیگر ممالک میں کام کر رہی ہے۔ پاکستانی وزارت داخلہ ماضی میں چاروں صوبوں کو بلیک واٹر کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ہدایت کر چکی ہے۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مصنف محمد انیس الرحمن

مصنف محمد انیس الرحمن

محمد انیس الرحمن کا شمار پاکستان  میں موجود ان دانشوروں میں ہوتا ہے جو بین الاقوامی  سازشوں اور مکاریوں جیسےموضوعات پر اتھارٹی سمجھے جاتے ہیں۔ محمد انیس الرحمن ایک اچھے صحافی بھی ہین، ان کا شمار ان اچھے صحافیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے مشاہدے اور مطالعے کی عادت ترک نہ کی ہو- ان کا مشاہدہ اس لیے وسیع  ہے کیونکہ انہوں نے اسلامی دنیا کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک کا دورہ کرکے اپنی ریسیرچ پر کام کیا ہے، کئی نامور شخصیات اور دانشوروں سے ملاقاتیں کیں اور بین الاقوامی تعلیمی اور تحقیقی اداروں اور لائبریریوں میں عرق ریزی بھی کی ہے۔
انیس الرحمن  کے اندر مزید اچھی عادت یہ بھی دیکھی گئی ہے کہ حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں وہ غم روزگار سے فرصت پاتے ہی کتابوں اور جرائد کے مطالعہ کو روزمرہ کے معمولات سے خارج نہیں ہونے دیتے- اس کے علاوہ وہ جدید دور کی ایجادات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انٹرنیٹ کو بھی استعمال میں لاتے ہیں اور اپنی دلچسپی کے موضوعات کے بارے میں دنیا بھر کے اخبارات اور جرائد کے تازہ ترین اشوز کو بھی پڑھتے ہیں- یہی تمام خوبیاں انہیں ایک اچھا رائٹر ثابت کررہی ہیں۔
ان کی کتاب پڑھنے کے بعد جب کوئی قاری انہیں ملتا ہے تو اسے یقین نہیں آتا کہ یہ کتابیں اس نوجوان نے لکھی ہیں، کیونکہ وہ دیکھنے میں ایک کھلنڈر ا سا کلین شیو نوجوان نضر آتا ہے مگر اندر سے وہ باریش ہے- محمد انیس الرحمن ایسا پاکستانی نوجوان ہے جس کے اندر کوئی 80 سالہ بزرگ عرب سکالر چھپا بیٹھا ہے۔ عرب اسکالر  کا لفظ صرف اصطلاحا استعمال نہیں کیا بلکہ ان کا شمار اچھی عربی پڑھنے، لکھنے اور بولنے والوں میں ہوتا ہے- ایک ایسے وقت میں جب لوگ اپنے بچوں کو امریکا اور يورپ کے خواب دکھایا کرتے تھے اور انگریزی زبان سکھانے کو اسٹیٹس سمجھا جاتا تھا، محمد انیس الرحمن کے والد محترم محمد امین الرحمن نے انہیں عربی کے چند بول سکھا کر مکہ اور مدینہ  سے متعارف کرادیا- پھر محمد 
انیس الرحمن سے بھی اپنے والد کی اس خواہش کی لاج رکھی- نہ صرف عربی زبان پر عبور حاصل کیا بلکہ عالم عرب سے اپنا رشتہ جوڑدیا-

محمد انیس الرحمن کون ہیں؟

اس کی تفصیل بیان کرنے سے پہلے میں یہ اعتراف کرنے میں عذر محسوس نہیں کرتا کہ نہ صرف اس کی باتوں میں بلا کی تاثیر ہے، اس کا لہجہ فکر اور درد سے بھرا ہوتا ہے اور اس کے قلم سے میں اسلام اور مشن کی خاطر آنسو ٹپکتے دیکھے ہیں۔۔۔۔محمد انیس الرحمن  اپنے والد محمد امین الرحمن کے ادارے "اخبار العرب" کی کوکھ سے جنم لیا۔
اخبار العرب پڑھنے وانے عرب دنیا کے قارئین محمد انیس الرحمن کی تحریریں پڑھ کر یہ سمجھتے  تھے کہ یہ کوئی باریش بزرگ ہوں گے لیکن جب وہ انہیں ملتے تو یہ حیرت میں مبتلا ہوجاتے کہ یہ تواسکو ل اور کالج کا ایک نوجوان ہے، ممکن ہے وہ یہ یقین نہ کرتے  کہ اخبار العرب میں شائع ہونے والی عربی تحریریں اس نوجوان کی ہیں لیکن جب وہ اس سے مختلف موضوعات پر گھنٹوں گفتگو کرتے تو یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے کہ اس نوجوان کے اندر کوئی ساٹھ سالہ بزرگ اسکالر چھپا بیٹھا ہے او ریہ حقیقت بھی تھی، ان کے اندر اپنے والد کی تربیت اور مشن سے لگاؤ کم عمری میں ہی حلول کرگیا تھا-
محمد انیس الرحمن  کا یہ کمال عربوں پر اثر کرگیا، پھر وہ پاکستان کے شہر لاہور میں بیٹھے ہوئے اس نوجوان کو اس وقت عرب دنیا میں لے گئے جب اس کے ابھی گلی محلے میں کرکٹ کھیلنے کے دن تھے- انیس الرحمن نے جیسے ہی عرب سرزمین پر قدم رکھا، اس کی تخلیقی صلاحیت کو مزید جلا ملی۔ انہیں عرب کے ان نامور اداروں اور نامور شخصیات اور اسلامی اسکالروں سے ملنے کا موقع ملا، جہاں جانے کے لیے اور جن سے ملنے کے لیے دیگر دنیا کے کئی علماء اور اسکالر صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں- محمد انیس الرحمن  نے بھی ان مواقع کی قدر کی، ان کی اس لگن کو دیکھتے ہوئے اور ان کی علمی پیاس بھجانے کے  لئے ان کے لیے دنیا کے راستے کھول دیے گئے، پھر نہ صرف وہ عرب دنیا کے  قریہ قریہ گھومے بلکہ سنٹرل ایشیا سے یورپ اور پھر افریقہ تک کا سفر کیا-
محمد انیس الرحمن کے یہ سفر  صرف سیاحت کی خاطر نہیں تھے بلکہ مشاہدے سے بھرپور ہیں، انہوں نے دنیا کی ان لائبریریوں میں کئی کئی ماہ تک شب و روز عرق ریزی کی، جن کتب خانوں کے باہر لوگ صرف تصویر بنوانا بھی اعزاز سمجھتے ہیں۔ محمد انیس الرحمن کے دنیا غیر کے سفر، علم اور مشاہدے کی تفصیل بڑی طویل ہے مگر یہ ان کا مختصر ذکر کیا گیا ہے۔  (انوار حسین ہاشمی، نوائے وفت لاہور)

صحافی وابستگی:

روزنامہ "نوائے وقت" کے جریدے ہفت روزہ "ندائے ملت" سےوابستہ ہیں۔ بین الاقوامی اور خصوصا عالم اسلام سے متعلق موضوعات، اسلامی تحریکیں، بین الاقوامی سازشیں اور اینٹی اسلامی ورلڈ کی خفیہ تنظیموں کی پس پردہ سرگرمیاں ان کے خاص موضوعات ہیں، محمد انیس 
الرحمن اس سے قبل پاکستان سے شائی ہونے والے بین الاقوامی جریدے" اخبار العرب" کے چار سال تک ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔

تعلیم و تحقیقی کام:

ابتدائی تعلیم لاہور میں حاصل کی، پنجاب یونیورسٹی  لاہور سے عربی ادر اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کی، عربی زبان و بیان پر مکمل عبور رکھتے ہیں- نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز اسلام آباد سے عربی زبان میں ڈپلومہ کیا- پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد بیرون ملک چلے گئے- جامعہ الامام محمد بن سعود  السلامیہ یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف ہائر ایجوکیشن مدینہ منورہ سے استشراق کے موضوع پر ڈپلومہ حاصل کیا- لائڈن یونیورسٹی ہالینڈ سے بھی انہوں نے استشراق اور ڈچ زبان میں ڈپلومہ حاصل کیا- بعد ازاں انہیں سوربون یونیورسٹی پیرس فرانس جانے کا موقع ملا جہاں سے انہوں نے فرانسیسی زبان اور ڈپارٹمنٹ آف مڈل ایسٹ افیئرز میں تحقیقی کام مکمل کرکے ڈپلومہ حاصل کیا اور آج کل قانون کی ڈگری حاصل کی ہے۔

زبانیں:

عربی اور انگریزی زبانوں پر عبور رکھنے کے علاوہ ڈچ اور فرانسیسی زبانوں پر بھی مہارت رکھتے ہیں-

بیرونی ممالک کے تحقیقی سفر:

محمد انیس الرحمن کو  علمی و تحقیقی کام کے علاوہ صحافتی ذمہ داریوں کیلیے دنیا کے جن حصوں میں جانے کا موقع ملا ان میں خلیج، شرق الاوسط کے ممالک، شمالی افریقہ، جنوبی افریقہ اور يورپی ممالک شامل ہیں-

تصانیف:

٭ درپردہ حقائق – اسلامی دنیا اور مغرب کی فکری کشمکش

٭ مدینہ سے وائٹ ہاؤس تک- مسلمانوں اور مغربی خفیہ ایجنسیوں کی زیر زمین پنجہ آزمائی

٭ بین الاقوامی مافیا

٭ اسلام اور صیہونی نیٹ ورک

٭ تاریخ استشراق

٭  تاریخ آثار مدینہ

٭ ابو انضال اور کارلوس

٭ نیپولین اور اسلام




مصنف کی  ان درج ذیل تحریروں کو پڑھنے کے لیے نیچے کلک کریں۔ 



Sunday, 24 October 2010

موسمی تبدیلیاں زلزلے اور دجالین

موسمی تبدیلیاں زلزلے اور دجالین

خادم الاسلام و المسلمین ڈاکٹر عصمت حیات علوی



بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

دنیا میں موسموں کی تبدیلی اور عالمی درجہ حرارت یعنی گلوبل وارمنگ کا ذکر ہم اکثر اخبارات اور رسائل میں پڑھتے رہتے ہیں اور الیکٹرانک میڈیا پر بھی اس کے بارے میں سنتے ہی رہتے ہیں دنیا کے سبھی سائنسدان اور موسمیاتی ماہرین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ موسموں کایہ منفی رد عمل دراصل مختلف طرح کے کارخانوں اور دیگر صنعتوں سے دھواں اور دیگر کثافتوں کے خارج ہونے کے نتیجے میں ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔
اچانک آنے والے طوفانوں بارشوں اور یہاں تک کہ زلزلوں کو بھی اسی گلوبل وارمنگ کے ردعمل کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔اب حج کے دن ہمارے مقامات مقدسہ پر جو غیر متوقع اور غیر معمولی بارش ہوئی ہے اسے بھی گلوبل ورمنگ کی کارستانی قرار دے کر بھلا دیا جائے گا ۔ مگر کچھ اہل نظر اس غیر متوقع وغیر معمولی بارش کو اور چند برس قبل کشمیر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں آنے والے زلزلے کو قدرتی یا حقیقی قرار نہیں دے رہے ہیں بلکہ ان کے پیچھے بھی کسی انسانی ہاتھ کو دیکھ رہے ہیں بلکہ ڈھکے چھپے لفظوں میں ان دونوں واقعات کوانسانی شرارت قرار دے رہے ہیں۔
قارئین کرام یاد کریں کہ گذشتہ برس جب چین کے دارلحکومت بیجنگ میں اگست کے مہینے میں اولمپکس گیمزکھیلی گئیں تھیں تب وہ مون سون کا موسم تھا اور اس مہینے میں اس علاقے میں بارشیں ہوا ہی کرتی ہیں ۔مگر چین نے ایسا مکمل انتظام کر رکھا تھا کہ جب بادل بیجنگ کا رخ کریں تو ان کو راستے میں ہی برسا دیا جائے اور یوں بادلوں کو بیجنگ تک پہنچنے ہی نہ دیا جائے ۔
ہم بچپن میں پڑھا کرتے تھے کہ مون سون کے موسم میں بحیرہ بنگال سے نمی کے بخارات اٹھتے ہیں اور نمی سے لدے ہوئے بادل بن جاتے ہیں پھر یہ نمی سے لدے ہوئے بادل ہواﺅں کے دوش پر پورے ہندوستان پر برسے بغیرگذر جاتے ہیں اس کے بعد وہ ہمارے ملک کے شمال میں واقع بلند وبالا پہاڑوں سے ٹکرا کر رک جاتے ہیں اورواپس پلٹ کر آنے والے مزید بادلوں سے مل جاتے ہیں اس طرح سے ہمارے میدانی علاقوں کے اوپر ہوا میں نمی کا تناسب اس قدر زیادہ ہوجاتا ہے کہ ہوا اس تناسب کو سنبھال نہیں سکتی یوں نمی قطرے بن کر برسنا شروع ہو جاتی ہے۔اس عمل کو بارش کہتے ہیں۔
جس طرح سے نمی سے لدے ہوئے بادل ہندوستان کے اوپر سے برسے بغیر سینکڑوں میل کا سفر کرتے ہوئے گذر جاتے ہیں اسی طرح سے بحیرہ عرب سے اٹھنے والے نمی سے لدے ہوئے بادل بھی عرب ممالک کے اوپر اوپر سے بہت ہی زیادہ بلندی پر گذرتے ہیں مگر چونکہ ان کے راستے میں کوئی بلندوبالا پہاڑ نہیں آتے اس لئے نمی کا تناسب زیادہ نہیں ہو پاتا یوں وہ بادل عرب ممالک پر برسے بغیر آگے نکل جاتے ہیں کبھی کبھار جب ہوا میں نمی بڑھ جاتی ہے تب عرب کے ریگذاروں پر بارش ہو جایا کرتی ہے ۔
جیسے سمندروں جھیلوں اور گھنے جنگلوں کے اوپر ہوا میں نمی کی مقدار ہمیشہ ہی زیادہ ہوتی ہے اس لئے سمندروں جھیلوں اور گھنے جنگلوں پر بارشیں زیادہ ہی ہوتی ہیں یعنی کہ بارش ہونے کا عمل پہاڑوں سے بادلوں کے ٹکرائے بغیر بھی ہو سکتا ہے بشرطِ کہ ہوا میں نمی زیادہ کردی جائے اور اس عمل کا مظاہرہ یورپ کے کئی سائنسدان پچھلی صدی میں کئی مرتبہ کر چکے ہیں۔اب تو سائنس اچھی خاصی ترقی کرچکی ہے جبھی تو جدید طیاروں سٹیلائٹ اور سپیس ٹیکنالوجی کی مدد سے سائنسدانوں نے مصنوعی بارش برسانا بچوں کا کھیل بنا دیا ہے ۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے مقامات حج پر جو یہ اچانک غیر معمولی اور غیر متوقع بارش ہوئی ہے اس کے پیچھے دجالین یعنی کہ انٹی مسلمین صہیونی سائنسدانوں کا ہاتھ ہے۔
آپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہوگا کہ یہ دجالین کیا ہے۔ دراصل ہم مسلم قوم کا قرآن کریم اور حدیث مبارکہ پر اتنا ایمان نہیں ہے جتنا اعتماد کافراقوام کو ہماری مقدس کتاب قرآن کریم اور احادیث ﷺ میں بیان کی گئی پیشین گوئیوں اور دیگر حقائق پر ہے۔ہمارے طبقہ اعلیٰ والے جب مادی و معاشی ترقی کرتے ہیں تو نہ صرف مدرپدر آزاد ہوجاتے ہیں بلکہ مذہب کا مذاق اڑانا جدیدیت اور فیشن سمجھتے ہیں جب کہ ان کے برعکس یورپ اور امریکہ کے برسراقتدار طبقات نہ صرف کٹر مذہبی ہیں بلکہ جیسے جیسے وہ اقتدار کی سیڑھی پر بلند ہوتے جاتے ہیں ویسے ویسے وہ زیادہ مذہبی اور انتہا پسند ہو تے جاتے ہیں میں ہر ملک سے مثالیں نہیں دوں گا کیونکہ ایسے بات لمبی ہو جائے گی۔
صرف امریکہ سے ایک مثال دے کر بات آگے بڑھاوں گا۔ آنجہانی صدر ریگن سے لے کر امریکہ کی موجودہ اور اصلی حکمران ہیلری کلنٹن کے عقائد کر دیکھ لیں ۔یہ سبھی کے سبھی انتہا پسند بنیاد پرست کٹراور متعصب عیسائی یا صہیونی ہیں جو کہ یسوع مسیح کی آمد پر غیر متزلزل یقین رکھتے ہیں اور ان کے استقبال کی تیاریوں میں دل وجان سے مصروف ہیں ۔ یسوع مسیح کی دوبارہ آمد کے بارے میں ان کی تبدیل شدہ کتب میں جو کچھ بھی درج ہے۔
یہ صہیونی اور صلیبی نہ صرف اس کو مانتے ہیں بلکہ اس سلسلے میں قرآن مجید اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی مطالعہ کرتے ہیں تاکہ نہ صرف ہماری روک تھام کی جا سکے بلکہ ہمیں گمراہ بھی کیا جا سکے جیسا کہ کتب احادیث میں درج ہے کہ امام مہدی کی مدد کے لئے خِراسان سے کالے جھنڈوں والا ایک لشکرنکلے گا اسی حدیث کو سچ مان کر صہیونیوں اور صلیبیوں نے اس مذکورہ لشکر کا راستہ روکنے کے لئے پہلے تو افغانستان پر بھرپور حملہ کیا تھا پھر پاکستان پر قبضہ کیا ہے اور اب اس اہم خطے میں طرح طرح کی قلعہ بندیوں میں مصروف ہیں ۔
کچھ کالمسٹ یہ خیال کرتے ہیں اور پھر وہ ایسا لکھتے بھی ہیں کہ عنقریب امریکن اس خطے سے نکل جائیں گے ایسے لکھاریوں اور دانشوروں سے میری یہ درخواست ہے کہ وہ جدید علوم پڑھنے کے ساتھ ساتھ احادیث رسول ﷺ کا مطالعہ بھی کیا کریں اگر میرے فاضل دوست خاص طور پر امام مہدی کے ظہور ۔دجال کے خِروج اور عیسیٰ علیہ اسلام کی دوبارہ آمد کی احادیث کا بغور مطالعہ کریں تو ان پر یہ حقیقت کھل جائے گی کہ یہ دجالی لشکر واپس جانے کے لئے نہیں آیا ہے بلکہ ام الحرب یعنی کہ جنگوں کی ماں لڑنے کے لئے آیا ہواہے کیونکہ دجالین کا ایمان یہی ہے کہ اس بڑی جنگ کے نتیجے میں ہی دجال کا فتنہ ظاہر ہوگا۔
سچ تو یہ ہے کہ سابق امریکن صدر جارج واکر بش نے کروسیڈ کا لفظ سہواً نہیں بولا تھا بلکہ یہ ایک کوڈ ورڈ تھا اور حقیقت میں دنیا کے کونوں کھدروں میں چھپے ہوئے صہیونیوں کے لئے ایک واضح پیغام تھا کہ اب نیو ورلڈ آڈر یعنی کہ دجال کے استقبال کی تیاریوں کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے اس لئے تم بھی اپنی کمر کس لو اب تو یہ راز بھی راز نہیں رہا ہے کہ انتہا پسند بنیاد پرست اور کٹر عیسائی یہودیوں کے مخالف نہیں رہے ہیں بلکہ وہ بھی صہیونی بن چکے ہیں ۔
یہاں پر ایک بات کی وضاحت کر دوں کہ کسی شخص کے صہیونی ہونے کے لئے اس کا یہودی ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ جو بھی شخص گریٹر اسرائیل کی حمایت کرتا ہے اور جنگوں کی ماں یعنی کہ آرمیگڈون کی تیاریوں میں انتہا پسندیہود کے ساتھ ہے وہ بھی صہیونی ہی ہے اس تعریف کے لحاظ سے بش اور کانڈولیزا رائیس بھی صہیونی ہیںاور پرویزمشرف بھی صہیونی ہی ہے ۔
اب جو لوگ دجال کو اپنا لیڈر مانتے ہیں اور اس کے استقبال کی تیاریوں میں دل وجان سے مصرف ہیں ان کو میرے کچھ قابل احترام علما ءنے دجالی کہا ہے اور میں نے انہی محترم علما اور اساتذہ کرام کی تقلید میں ان صہیونیوں اور صلیبیوں کو دجالین کا نام دیا ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب متعصب یہود اور ہنود ہم کو الٹے سیدھے اور اپنے من پسند القابات سے نواز سکتے ہیں تو ہمیں بھی یہ حق حاصل ہے کہ ہم اپنی سچی کتاب کی روشنی میں ان کے صفاتی اور عملیاتی نام رکھیں ۔
اب چونکہ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں یہود کے باطل لیڈر کو دجال کہا گیا ہے یوں اس کا استقبال کرنے والے اور چاہنے والے دجالیں ہی کہلوائیں گے۔یہ دجالین یا صہیونی اپنے لیڈر کی آمد کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے اطمینان سے نہیں بیٹھے ہوئے ہیں بلکہ ہر قسم کی تیاریوں میں مصروف ہیں ۔ وہ اپنے لیڈر کی قیادت میں جنگ کرنے کے لئے سپر ہیومن بنانے کے تجربات ہٹلر کے دور میں ہی شروع کرچکے ہیں ۔ دراصل ہٹلر کو اس قسم کے عجیب وغریب تجربات کرنے کے لئے اور ایک سپر ریس یا سپر ہیومین بنانے پر یہودی سائینس دانوں نے ہی آمادہ کیا تھا ۔
یوں اس عیار قوم نے جرمن قوم کا کثیر سرمایہ اپنے تخیلا تی انسان کے تجربات پر ضائع کر دیا تھا اور پھر جب ان صہیونیوں کی سازشوں سے جرمن قوم کو شکست ہوئی تھی تو انہی صہیونی یا دجالی سائنس دانوں نے اپنے گھناونے کارناموں کو ہٹلر کے کھاتے میں ڈال دیا ہے ۔ اب ہٹلر تو مر چکا ہے وہ عالم بالا سے واپس آکر صہیونیوں یعنی کہ دجالین کے بارے میں درست اور اصل حقائق تونہیں بیان کر سکتا یوں صہیونیوں کا جھوٹ دنیا کے سر پر چڑھ کر بول رہا ہے۔ جب جنگ عظیم دوم کے خاتمے پر جرمنی پر چار مغربی طاقتوں نے قبضہ کر لیا تھا تب جرمنی کے صہیونی سائنس دان نے امریکہ جانے کا فیصلہ کیا تھا تو عیسا ئی سائنس دانوں نے مجبوری کے عالم میں روسیوں کے ساتھ جانا قبول کر لیا تھا۔

 

جب صہیونی یعنی کہ دجالین سائنسدان امریکہ آگئے تھے تو انہوں نے اپنے شیطانی (دجالی) منصوبوں کی تکمیل کے لئے امریکہ کے سرمائے کو ایسے ہی استعمال کرنا شروع کردیا تھا جیسے وہ جرمنی کی شکست سے قبل جرمن قوم کے سرمائے کو اپنی قوم کے مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کر رہے تھے یہ تجربات پچاس کی دھائی کے آغاز سے ہی شروع کر دیئے گئے تھے۔
ملٹی پل ہیومن ری پروڈکشن۔ سپر ہیومن ۔شی میل ۔ہی فیمیل ۔ سیلف ری پروڈکٹیو ہیومن(ایسا انسان یا سپر مین جو ایک مکمل نر اور مادہ ہو اور خود بخود بچے جننے کی صلاحیت رکھتا ہو) ۔یہ سبھی دجالین سائنسدانوں کے اذہان کی اختراعات ہیں اور ان پر امریکہ کے بہت سارے ریسرچ سنٹر زمیں تین چار عشروں سے کام ہو رہا ہے جن کا فائدہ تو بہرحال صہیونی (دجالین ) ہی اٹھائیں گے مگر ان پر کثیر سرمایہ امریکن کا ہی لگ رہا ہے۔ ڈولی شیپ دراصل کلوننگ سائنس کا پہلا اور ابتدائی کارنامہ ہے اور اس کے پیچھے صہیونیوں کے ایک فرقہ رئیلینز کی فکر کام کر رہی اس فرقے کو امریکن پریس کلونائیڈ کا نام دیتا ہے۔
بہرحال یہ سبجیکٹ بہت وسیع ہے اور چونکہ میں اس بارے میں خاصا علم رکھتا ہوں اس لئے ان موضوعات پر تفصیل سے لکھوں گا۔انشا اللہ العلیم و الخبیر۔ مگر اس وقت میں مسلم قوم کے ذہین افراد کا عوماً اور مسلم سائنسدانوں کا خصوصاً دھیان اس طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ صہیونی سائنس دان زمین کی مقناطیسیت اور زمین کے توازن پر پہاڑوں کی اہمیت پر برسوں سے تجربات کررہے ہیں اوران کے ان تجربات کی بنیاد قرآن حکیم کی متعدد آیات ہیں ۔جیسے کہ اللہ حکیم نے سورة ٰلقمٰن میں دسویں آیت میں ارشاد فرمایا ہے
﴾خلق السمٰوٰ ت بغیر عمدٍ ترونھا و القٰی فی الارض رواسی ان تمید بکم ﴿
تر جمہ:: اسی نے آسمانوں کو ستونوں کے بغیر پیدا کیا جیسا کہ تم دیکھتے ہو اور زمین پر پہاڑ رکھ دیے تاکہ تم ہلا ہلا نہ دے۔

میں فزکس اور ارضیات کے بارے میں کچھ علم نہیں رکھتا اسی لئے اپنے مسلم بھائی اور بہن سائنس دانوں سے درخواست گذار ہوں کہ وہ زمین کی گردش پرمقناطیسیت کے اثرات ا ور زمین کے توازن کے لئے پہاڑوں کی اہمیت پر کچھ روشنی ڈالیں اور جو کچھ بھی علم ان کو اللہ العلیم و الخبیر نے عطا فرمایا ہے اس علم کی روشنی میں مسلم امة کی راہنمائی کے لئے کچھ مفید مضامین تحریر فرمائیں۔اس کا اجر ان کو اللہ مالک و خالق عطا فرمائیں گے۔ انشا اللہ
جب کشمیر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں شدید زلزلہ آیا تھا تو میں حیران رہ گیا تھا کیونکہ میرے علم کے مطابق ارضی اور سمٰوٰتی عذاب صرف اس بستی پر نازل ہوا کرتے ہیں جو کہ کھلم کھلا اللہ رب العزت کی نافرمان ہوچکی ہو ۔ اس لئے میں تحقیق اور جستجو میں پڑ گیا تھا پھرایک سال کے مکمل مطالعے رابطے اور انٹرویوز کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام برسوں سے ایک خاص نہج پر جاری و ساری ہے تو میں نے خود سے سوال کیا تھا ۔
کیا یہ عذاب الہٰی ہے یا کسی انسانی چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ ہے؟ کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب کسی بستی یا کسی علاقے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام جاری وساری ہو تو اس بستی یا علاقے پر ربی عذاب نہیں آیا کرتے خواہ وہ بستی کھلم کھلا بدکاری کی مرتکب ہو رہی ہو کیونکہ جب تک کسی بستی میں ایک بھی مبلغ اسلام موجودہواللہ رحیم و کریم اس بستی پر رحم و کرم ہی فرمایا کرتے ہیں ۔
پھر مجھے میرے سوال کا جواب مل گیا تھا ۔یہ سب میرے رب کا فضل و کرم ہے اس میں میری کوئی خوبی نہیں ہے ۔وہ اپنے گناہ گار بندوں کی بھی راہنمائی فرماتا ہے سو اس ذات لا شریک نے میرے جیسے بدکار اور برے کی راہنمائی بھی فرمائی ہے

یہ ایک چھوٹا سا مضمون تھا جو کہ فزکس کے کسی ماہر نے لکھا تھا اور یہ انٹر نیٹ پر کچھ دیر ہی رہا تھا۔ افسوس کہ ان دنوں میرے پاس نہ تو پرنٹر تھا اور نہ ہی میرا پرانا کمپیوٹر اس قابل تھا کہ میں اس کو کاپی اور پیسٹ کرکے اپنے کمپیوٹر میں محفوظ کر لیتا مگر میرا مقصد حل ہو گیا تھا ۔الحمد للہ الرب العالمین
اس مضمون کا ماحاصل یہ تھا کہ ہماری زمین ایک بڑے مقناطیس کی مانند ہے اور اس کی کچھ پرتوں میں مقناطیسی لہریں شمالی قطب سے جنوبی قطب کو چلتی ہیں اور کچھ دوسری پرتوں میں یہی لہریں جنوبی قطب سے شمالی قطب کو واپس آتی ہیں یعنی کہ لہروں کے چلنے کا ایک مربوط اور مکمل نظام ہے اگر اس نظام میں خلل واقع ہوجائے یا کسی طرح سے خلل واقع کر دیا جائے تو زلرلہ آسکتا ہے اور پہاڑ بھی سرک سکتے ہیں کیونکہ یہ پہاڑ اسی مقناطیسی قوت کے بل پر زمین پر اپنی اپنی جگہ پر قائم ہیں۔

تب میں نے سوچا تھا کہ کسی دجالی سائنس دان نے قرآن حکیم کی سورة التکویر (۱۸) کی تیسری آیت اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے پر تدبر کیا ہوگا اور پھرسائنسی تحقیق میں جٹ گیا ہوگا۔
پھر میں نے تصور کیا تھا کہ تورا بورا پر کارپٹ بمباری کے بعد امریکن فوجیوں کے بھیس میں دجالی سائنس دان افغانستان کے علاقے واخان میں پہنچے ہوں گے اور طویل گہرے غاروں میں ایسے آلات لگائے ہوں گے جو کی زمین کے مقناطیسی لہروں میں خلل اندازی پیداکرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے اور ان سائنسی یا مقناطیسی آلات کو بذریعہ سٹیلائیٹ ریموٹ سے کنٹرول کیا جا سکتا ہوگا ۔پھر ان دجالی سائنس دانوں نے امریکہ یا اسرائیل میں بیٹھ کر یہ تجربہ کیا ہوگا جس کی کامیابی کے نتیجے میں کشمیر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ایک خوفناک اور تباہ کن زلزلہ آیا تھا۔
جو لوگ افغانستان کے مذکورہ پہاڑی مقامات دیکھ چکے ہیں وہ میری اس بات کی تصدیق کریں گے کہ واخان اور ملحقہ پہاڑوں میں میلوں لمبے قدرتی غار ہیں جن کی انتہا کا اندازہ لگا نا ابھی انسانی بس سے باہر ہے اور مجھے یقین ہے کہ سائنسی آلات کی مدد سے دجالی سائنس دان ایسی گہرائی تک جا پہنچے ہوں گے جہاں تک کوئی انسان نہ جا سکا ہوگا۔ یہ کوئی مفروضہ نہیں ہے ان مقناطیسی لہروں اور دیگر تجربات کے بارے میں انگلش لینگویج میں تو بہت کچھ شائع ہو چکا ہے۔
البتہ اردو زبان میں پڑھنا ہو تو میں مفتی ابولبانہ شاہ منصور کی تحقیقی کتاب دجال تجویز کرتا ہوں یہ کتاب الفلاح کراچی سے شائع ہوئی ہے اور اس میں امام مہدی کے ظہور۔ فتنہ دجال اور عیسیٰ علیہ السلام کی آمد پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے یوں یہ کتاب دور قدیم کی اسلامی ہدایات و معلومات اور دور جدید کی تحقیقات کا حسین مرقع بن گئی ہے۔
اپنے اختتامی کلمات میں میں اپنے مسلم بھائیوں اور بہنوں سے یہی درخواست کروں گا کہ آپ جدید علوم یعنی کہ ماڈرن ایجوکیشن اینڈ ٹیکنالوجی ضروربہ ضرور حاصل کریں مگر ساتھ ہی ساتھ قرآن حکیم پر تدبر کرنے کی عادت کو اپنائیں اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر غورو فکر بھی کیا کریں۔
::وما علینا الالبلاغ

Sunday, 6 June 2010

آئیے دعا مانگیں

السلام علیکم
آئیے ۔۔۔ روزانہ اچھی اچھی دعائیں مانگا کریں ۔۔۔
انشاءاللہ

سب سے پہلے میں امت مسلمہ کے حق میں دعا کرونگا کہ "یا اللہ امت مسلمہ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین

Tuesday, 1 June 2010

خوش آمدید

بلاگ پر آپ کو دل سے خوش آمدید !!