Showing posts with label اتباع قرآن و سنت. Show all posts
Showing posts with label اتباع قرآن و سنت. Show all posts

Sunday, 17 June 2012

کیا انسان اللہ کاخلیفہ ہے؟

کیا انسان اللہ کاخلیفہ ہے؟


السلام علیکم!
جب ہم پاکستان میں تھے تو ہمیں یہ ہی بتایا جاتا تھا کہ اللہ نے آدم علیہ سلام کو خلیفہ بنا کر زمین پر بھیجا ہے، اور آدم اللہ کا خلیفہ ہے۔ 
اور یہاں تک کہ ہمیں پڑھایا بھی یہی جاتا تھا اور وہاں کے مولوی حضرات بھی یہ ہی راگ الاپتے رہتے تھے کہ اللہ نے ہمیں اپنا خلیفہ بنا یا ہے۔ 
خیر یہاں یو کے میں بھی یہ ہی کچھ تھیوری چل رہی ہے، مگر کچھ دن پہلے ٹی وی پر ڈاکٹر الشیخ صہیب حسن حفظ اللہ کا قسط وار پروگرام "فکر آخرت" چل رہا تھا تو ادھر اسی موضوع پر تھوڑا سا تبصرہ ہوا تھا، جس کو میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں، امید کہ معلومات میں اضافہ ہو۔ ان شاءاللہ 

یہ حقیقیت ہے کہ اللہ نے آدم کو خلیفہ بناکر دنیا میں بھیجا جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ:

"وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَةً"

(اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں)

تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ آدم کو اپنا خلیفہ بناکر دنیا میں بھیجنا چاہتا ہے۔ 
احادیث میں بھی یہ ہی مرکوز ہے کہ اللہ نے آدم کو دنیا میں خلیفہ بنایا ہے، مگرکہیں بھی مرکوز نہیں ہے کہ اللہ نے آدم کو دنیا میں اپنا خلیفہ یا نائب مقرر کیا ہے۔ 
خلیفہ عربی لفظ ہے جس کا مطلب ہے کسی کی جگہ لینے والا جسے انگریزی میں کہتے ہیں Successor، یعنی کسی کی جگہ لینا، To succeed some one
اب Successor ہمیشہ کسی کی جگہ لینے آتا ہے، جب ایک خلیفہ کا اس دنیا سے انتقال ہوگا تب دوسرا اس کی جگہ لے گا، مگر اللہ تو حیّ اور قیّوم ہے، ہمیشہ سے ہے اور رہے گا تو پھر ان کا خلیفہ بننے کا یہاں کوئی جواز نہیں ملتا۔ 
اب سوال یہ ہے کہ اگر آدم علیہ سلام اللہ کے خلیفہ بن کے زمین پر نہیں آئے تو پھر خلیفہ کا لفظ کیوں استعمال ہوا ہے؟
دراصل کچھ راویات میں آیا ہے کہ انسانوں سے پہلے اس دنیا میں جن آباد تھے پھر وہ سرکش ہوگئے اور اللہ کی حدود کو پامال کردیا تو اللہ نے انہیں ایک بہت بڑے لشکر کے ذریعے نیست و نابود کیا اور اس لشکر کے سردار عزازیل تھے۔ 
پھر اللہ نے عزازیل کا رتبہ بہت بڑا کردیا اور وہ فرشتوں کی محفل میں اٹھنے بیٹھنے لگا اور جب اللہ نے آدم کو پیدا فرمایا تو وہ اس وقت فرشتوں کی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے تو اس نے اللہ کی نافرمانی کی تو اللہ نے اسے ابلیس بنادیا۔ 
ابلیس کا لفظ ابلس سے نکلا ہے جس کی معنی ہیں اللہ کی رحمت سے دھتکارا ہوا۔ 
تو ہم پہلے والے موضوع پر آتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ آدم سے پہلے اس زمین پر جنوں کی حکمرانی تھی اور اللہ نے آدم کو جنوں کے بعد اس زمین پر خلیفہ مقرر کیا۔ 
اب اس کا صاف مطلب نکلتا ہے کہ انسان اس زمین پر خلیفہ تو مقرر ہوا تھا مگر اللہ کا خلیفہ نہیں بلکہ اس سے پہلے کی قوم کی جگہ اس کو خلیفہ مقرر کیا تھا۔ 
اور قران میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ آدم کو اللہ کا خلیفہ بنا کر زمین پر بھیجا گیا۔ 
واللہ اعلم

Friday, 25 May 2012

اللہ کہاں ہے؟

اللہ کہاں ہے؟  
تحریر: شیخ عادل سہیل حفظ اللہ 

آئیے سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں کیا فرمایا ہے؟
1۔ اللہ العلی القدیر کا فرمان ہے:
إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ يُغْشِى ٱلَّيْلَ ٱلنَّهَارَ يَطْلُبُهُۥ حَثِيثًۭا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ وَٱلنُّجُومَ مُسَخَّرَٰتٍۭ بِأَمْرِهِۦٓ ۗ أَلَا لَهُ ٱلْخَلْقُ وَٱلْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلْعَٰلَمِينَ﴿54﴾
ترجمہ: بے شک تمہارا رب الله ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھرعرش پر قرار پکڑا رات سے دن کو ڈھانک دیتا ہے وہ اس کے پیچھے دوڑتا ہوا آتا ہے اور سورج اورچاند اور ستارے اپنے حکم کے تابعدار بنا کر پیدا کیے اسی کا کام ہے پیدا کرنا اور حکم فرمانا الله بڑی برکت والا ہے جو سارے جہان کا رب ہے (سورۃ الاعراف ،آیت 54)
2۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ ۖ يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ ۖ مَا مِن شَفِيعٍ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ إِذْنِهِۦ ۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمْ فَٱعْبُدُوهُ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ﴿٣﴾
ترجمہ: بے شک تمہارا رب الله ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش پر قائم ہوا وہی ہر کام کا انتظام کرتا ہے اس کی اجازت کے سوا کوئی سفارش کرنے والا نہیں ہے یہی الله تمہارا پروردگار ہے سو اسی کی عبادت کرو کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے (سورۃ یونس ،آیت 3)
3۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:
ٱللَّهُ ٱلَّذِى رَفَعَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍۢ تَرَوْنَهَا ۖ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ ۖ وَسَخَّرَ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ ۖ كُلٌّۭ يَجْرِى لِأَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى ۚ يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ يُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لَعَلَّكُم بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوقِنُونَ ﴿٢﴾
ترجمہ: الله وہ ہے جس نے آسمانوں کو ستونوں کے بغیر بلند کیا جنہیں تم دیکھ رہے ہو پھر عرش پر قائم ہوا اور سورج اور چاند کو کام پر لگا دیا ہر ایک اپنے وقت معین پر چل رہا ہے وہ ہر ایک کام کاانتظام کرتا ہے نشانیاں کھول کر بتاتا ہے تاکہ تم اپنے رب سے ملنے کا یقین کر لو (سورۃ الرعد،آیت 2)
4۔ اللہ الرحمن کا فرمان ہے:
ٱلرَّحْمَٰنُ عَلَى ٱلْعَرْشِ ٱسْتَوَىٰ ﴿٥﴾
ترجمہ: رحمان جو عرش پر جلوہ گر ہے (سورۃ طہ،آیت 5)
5۔ اللہ ہر ایک چیز کے واحد خالق کا فرمان ہے:
ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ ۚ ٱلرَّحْمَٰنُ فَسْـَٔلْ بِهِۦ خَبِيرًۭا ﴿59﴾
ترجمہ: جس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے چھ دن میں بنایا پھر عرش پر قائم ہوا وہ رحمنٰ ہے پس ا س کی شان کسی خبردار سے پوچھو (سورۃ الفرقان،آیت 59)
6۔ اللہ الحکیم کافرمان ہے:
ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ ۖ مَا لَكُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَلِىٍّۢ وَلَا شَفِيعٍ ۚ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ ﴿٤﴾
ترجمہ: الله وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اورجو کچھ ان میں ہے چھ روز میں بنایا پھر عرش پر قائم ہوا تمہارے لیے اس کے سوا نہ کوئی کارساز ہے نہ سفارشی پھر کیا تم نہیں سمجھتے (سورۃ السجدۃ،آیت 4)
7۔ اللہ الکریم کا فرمان ہے:
هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ ۚ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ۖ وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ ۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ ﴿٤﴾
ترجمہ: وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ جو چیز زمین میں داخل ہوتی اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اُترتی اور جو اس کی طرف چڑھتی ہے سب اس کو معلوم ہے۔ اور تم جہاں کہیں ہو وہ تمہارے ساتھ ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے (سورۃ الحدید ،آیت 4)
اس مندرجہ بالا آیت مبارکہ میں ہمارے اس رواں موضوع کی دلیل کے ساتھ ساتھ ایک اور بات کی بھی وضاحت ہے ،جس کے بارے میں اکثر لوگ غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں،اور وہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کی "معیت" یعنی اُس کا ساتھ ہونا۔جس کے بارے میں عموما یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی ذات مبارک کے ذریعے کسی کے ساتھ ہوتا ہے،جو کہ درست نہیں ہے کیونکہ اللہ جل جلالہ نے خود ہی اپنی "معیت" کی کیفیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ ﴿٤﴾
ترجمہ: اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے (سورۃ الحدید ،آیت 4)
یعنی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ساتھ ہونا اُس کے علم و قدرت ،سماعت و بصارت کے ذریعے ہے ،نہ کہ اس کی ذات مبارک کے وجود پاک کے ساتھ کسی کے ساتھ ہونا ہے۔ان شاء اللہ اس موضوع پر بات پھر کسی وقت۔(1)
(8) اللہ المعز کا فرمان ہے:
مَن كَانَ يُرِيدُ ٱلْعِزَّةَ فَلِلَّهِ ٱلْعِزَّةُ جَمِيعًا ۚ إِلَيْهِ يَصْعَدُ ٱلْكَلِمُ ٱلطَّيِّبُ وَٱلْعَمَلُ ٱلصَّٰلِحُ يَرْفَعُهُۥ ۚ وَٱلَّذِينَ يَمْكُرُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ لَهُمْ عَذَابٌۭ شَدِيدٌۭ ۖ وَمَكْرُ أُو۟لَٰٓئِكَ هُوَ يَبُورُ ﴿10﴾
ترجمہ: جو شخص عزت چاہتا ہو سو الله ہی کے لیے سب عزت ہے اسی کی طرف سب پاکیزہ باتیں چڑھتی ہیں اور نیک عمل اس کو بلند کرتا ہے اور جو لوگ بری تدبیریں کرتے ہیں انہی کے لیے سخت عذاب ہے اوران کی بری تدبیر ہی برباد ہو گی (سورۃ الفاطر،آیت 10)
(9) اللہ ذی المعارج کا فرمان ہے:
سَأَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍۢ وَاقِعٍۢ ﴿١﴾لِّلْكَٰفِرِينَ لَيْسَ لَهُۥ دَافِعٌۭ ﴿٢﴾مِّنَ ٱللَّهِ ذِى ٱلْمَعَارِجِ ﴿٣﴾تَعْرُجُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ إِلَيْهِ فِى يَوْمٍۢ كَانَ مِقْدَارُهُۥ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍۢ ﴿٤﴾
ترجمہ: ایک طلب کرنے والے نے عذاب طلب کیا جو نازل ہو کر رہے گا (یعنی) کافروں پر (اور) کوئی اس کو ٹال نہ سکے گا (اور وہ) اللہ ئے صاحب درجات کی طرف سے (نازل ہوگا) جس کی طرف روح (الامین) اور فرشتے پڑھتے ہیں (اور) اس روز (نازل ہوگا) جس کا اندازہ پچاس ہزار برس کا ہوگا (سورۃ المعارج،آیت 1تا4)
(10) اللہ الاعلیٰ کا فرمان ہے:
يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ إِلَى ٱلْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِى يَوْمٍۢ كَانَ مِقْدَارُهُۥٓ أَلْفَ سَنَةٍۢ مِّمَّا تَعُدُّونَ ﴿٥﴾
ترجمہ: وہ آسمان سے لے کر زمین تک ہر کام کی تدبیر کرتا ہے پھراس دن بھی جس کی مقدار تمہاری گنتی سے ہزار برس ہو گی وہ انتظام اس کی طرف رجوع کرے گا (سورۃ السجدۃ،آیت 5)
(11) اللہ العلی القدیر کا فرمان ہے:
يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ۩ ﴿50﴾
ترجمہ: اور اپنے پروردگار سے جو ان کے اوپر ہے ڈرتے ہیں اور جو ان کو ارشاد ہوتا ہے اس پر عمل کرتے ہیں (سورۃ النحل،آیت 50)
اللہ تعالیٰ کے مندرجہ بالا فرامین سے صاف اور واضح طور پر سمجھ آتا ہے کہ اللہ الاعلیٰ اپنی تمام مخلوق کے اوپر ،اُس سے جدا اور بلند ہے،کسی لفظ کی کوئی تشریح یا تاویل کرنے سے پہلے ہمیں اللہ تعالیٰ کے یہ درج ذیل فرامین بھی ذہن میں رکھنے چاہیے جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اکرم محمد ﷺ کو مخاطب فرما کر ،اُن کے اُمتیوں کو اُن ﷺ کے منصب رسالت کی ذمہ داریوں میں سب سے اہم ذمہ داری بتائی ہے اور ہمیں یہ سمجھایا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرامین مبارک کو اللہ کے رسول ﷺ کی بیان کردہ قولی اور عملی تفسیر شرح اور تعلیمات کے مطابق سمجھنا ہے،نہ کہ اپنی عقل و سوچ،مزاج،پسند و ناپسند اور اپنے خود ساختہ جہالت زدہ فلسفوں کے مطابق:
بِٱلْبَيِّنَٰتِ وَٱلزُّبُرِ ۗ وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ﴿٤٤﴾
ترجمہ: (اور ان پیغمبروں کو) دلیلیں اور کتابیں دے کر (بھیجا تھا) اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو (ارشادات) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو اور تاکہ وہ غور کریں (سورۃ النحل،آیت 44)
اور مزید تاکید فرمائی کہ:
وَمَآ أَنزَلْنَا عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ ٱلَّذِى ٱخْتَلَفُوا۟ فِيهِ ۙ وَهُدًۭى وَرَحْمَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ ﴿64﴾
ترجمہ: اور ہم نے جو تم پر کتاب نازل کی ہے تو اس کے لیے جس امر میں ان لوگوں کو اختلاف ہے تم اس کا فیصلہ کردو۔ اور (یہ) مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے (سورۃ النحل،آیت 64)
اللہ تعالیٰ کے فرمان کی تفسیر اور شرح کی ذمہ داری اللہ کی طرف سے اپنے رسول ﷺ کو دی گئی ہے ہر کس و ناکس کو یہ اجازت نہیں کہ وہ اپنی مرضی سےیا اپنی سوچ و فکر کے مطابق ،یا اُس کے ذہن پر مسلط فلسفوں اور شرعا نا مقبول خود ساختہ کسوٹیوں کی بنا پر قرآن پاک کی آیات مبارکہ کی ایسی تفسیر یا تشریح کرے جو اللہ یا رسول ﷺ کی صحیح ثابت شدہ سنت مبارکہ کہ مطابق نہ ہوں، اور جب اس کی جہالت زدہ سوچیں اور فلسفے قرآن کریم کی ہی آیات شریفہ کے ذریعے مردود قرار پائیں تو آیات شریفہ کی باطل تاویلات کرنے لگے،اور جب اس کی باطل تاویلات صحیح چابت شدہ سنت مبارکہ کے ذریعے مردود قرار پائیں تو سنت مبارکہ کا ہی انکار کرنے لگے۔


Friday, 11 November 2011

شیطان کا ڈاکیا

شیطان کا ڈاکیا


عربی زبان میں ایک نہایت زہریلے سانپ کو عاضۃ کہتے ہیں جس کا ڈسا ہوا فورًا مر جاتا ہے۔ اسی سے "العضۃ" کا لفظ ہے جس کا معنی چغل خور ہے کیونکہ وہ بھی فریقین کے درمیان فتنہ و فساد کی آگ بڑھکا دیتا ہے اور بات فورًا دشمنی اور قتل و غارت تک پہنچ جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ایک دفعہ اپنے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا:
أَتَدْرُونَ مَا الْعَضْهُ؟
"جانتے ہو "العضہ" کیا ہے؟؟
صحابہ نے عرض کیا "اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتا ہے"
فرمایا: 
نَقْلُ الْحَدِيثِ مِنْ بَعْضِ النَّاسِ إِلَى بَعْضٍ، لِيُفْسِدُوا بَيْنَهُمْ
"بعض کی باتیں بعض کی طرف بیان کرنا تا کہ ان کے درمیان فساد ڈالا جائے" 
(سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ حدیث نمبر 846)

مسلمان کبھی شیطان کا ڈاکیا نہیں بنتا۔ اگر کسی موقع پر کسی کے خلاف کوئی بات سن لے تو اس کو وہاں پر ہی دفن کر دے تا کہ فریقین کےدرمیان نفرت و کدورت کے جراثیم مزید پیدا نہ ہوں۔

ایک دفعہ کسی آدمی نے اللہ کے ایک نیک بندے کو آ کر بتلایا کہ فلاں شخص آپ کے خلاف فلاں فلاں باتیں کرتا ہے، وہ سن کر فرمانے لگے "شیطان کو تیرے علاوہ کوئی ڈاکیا نہیں ملا"؟ ایک اور شخص نے اللہ کے ایک بندے سے کہا "فلاں شخص نے آپ کو یہ یہ گالی دی ہے" وہ کہنے لگے "اے ظالم! اس نے نہیں دیں گالیاں تو تو نے دی ہیں۔ اس نے تو پتھر پھینکا تھا مگر مجھے نہیں لگا مگر تو اس قدر ظالم نکلا کہ وہ اٹھا کر مجھے مار ہی دیا"۔ 
اللہ تعالیٰ ہمیں چغل خوری کی لعنت سے محفوظ فرمائے۔

Wednesday, 9 November 2011

خبر بیان کرنے کا مسئلہ

خبر بیان کرنے کا مسئلہ


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"کفی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ما سمع"
آدمی کے لیے جھوٹا ہونے میں (یہ بات) کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو (بغیر تحقیق کے) بیان کرے"-
(رواہ مسلم)

تشریح: مطلب یہ ہے یہ اگر کوئی شخص یہ عادت رکھتا ہو کہ جو کچھ سنے بغیر تحقیق کےروایت بیان کرے تو اس کے جھوٹ بولنے میں اسی قدر کافی ہے- کیونکہ جو کچھ وہ سنتا ہے، سب سچ نہیں ہوسکتا بلکہ سنی سنائی باتیں اکثر جھوٹ ہوتی ہیں- اس لیے جب تک کسی بات یا خبر کا سچ ہونا متحقق نہ ہو اسے ہرگز آگے بیان نہیں کرنا چاہیے- معلوم ہوا کہ خبروں کا بیان کرنا ایک ذمہ داری کی چيز ہے اور مسائل دین میں سے ہے- 
خبردار! کسی سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق و تفتیش کے کبھی آگے نہ پہنچاؤ- 

Thursday, 27 October 2011

"پیٹ کے بل یا الٹی کروٹ لیٹنا جہنمیوں کا طریقہ ہے"


"پیٹ کے بل یا الٹی کروٹ لیٹنا جہنمیوں کا طریقہ ہے"

حضرت یعیش بن طھفہ غفاری نے اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ، انہوں نے فرمایا:جو نادار حضرات نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مہمان ہوا کرتے تھے(ایک بار)اس میں(شامل ہو کر))میں بھی آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم )کے ہاں مہمان ہوا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) رات کواپنے مہمانوں کی دیکھ بھال کی غرض سے تشریف لائے تو مجھے یٹ کے بل لیٹے دیکھا۔ آنخضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے قدم مبارک سے ٹھوکر دیا اور فرمایا:" اس انداز سے نہ لیٹو۔ اللہ تعالی اس انداز سے لیٹنے کو نا پسند فرماتے ہیں"۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ قدم مبارک سے ٹھوکردے کر جگایا اور فرمایا: "یہ اہل جہنم کا لیٹنے کا انداز ہے۔"
سنن الترمذی

Saturday, 16 July 2011

مسجد کے آداب اور عمرفاروق کا کوڑا


مسجد کے آداب اور عمرفاروق کا کوڑا


عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ كُنْتُ قَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ فَحَصَبَنِي رَجُلٌ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهَاذَيْنِ‏.‏ فَجِئْتُهُ بِهِمَا‏.‏ قَالَ مَنْ أَنْتُمَا ـ أَوْ مِنْ أَيْنَ أَنْتُمَا؟ قَالاَ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ‏.‏ قَالَ لَوْ كُنْتُمَا مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ لأَوْجَعْتُكُمَا، تَرْفَعَانِ أَصْوَاتَكُمَا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . 

( صحيح البخاري :470، المساجد – السنن الكبرى :2/447،448 – مصنف عبد الرزاق :1/438 )

ترجمہ : حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار میں مسجد نبوی میں سویا ہوا تھا کہ کسی نے مجھے کنکر پھینک کر مارا ، جب میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ تھے ، انہوں نے مجھ سے کہا کہ : جاؤ اور ان دونوں آدمیوں کو بلا کر لاؤ ، جب میں ان دونوں کو بلا کر لایا تو حضر عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا : تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو ؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ ہم طائف سے آئے ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تم اہل مدینہ میں سے ہوتے تو میں تم کو سخت سز ادیتا ، تم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں اپنی آواز بلند کررہے ہو ۔ 

{ صحیح بخاری و سنن کبری }

تشریح : محبت ،خوف اور رجا کے ساتھ تعظیم عبادت الہی کے لازمی جزء ہیں ، ضروری ہے کہ اللہ تعالی کی عبادت کرتے وقت جہاں اس سے محبت ، خوف ، رجا وغیرہ جیسے قلبی جذبات انسان کے اندر موجزن ہوں وہیں اس ذات ذو الجلال و الاکرام کی تعظیم کا جذبہ بھی کار فرما ہو ، یہی وجہ ہے کہ غایت تعظیم کی جتنی صورتیں ہیں وہ صرف باری تعالی کے ساتھ خاص ہیں جیسے سجدہ ، رکوع اور ہاتھوں کو باندھ کر بلا حس وحرکت کھڑا ہونا ، واضح رہے کہ تعظیم صرف اعمال عبادت تک خاص نہیں بلکہ امکنہ عبادت کی بھی تعظیم ، تعظیم الہی کا ایک حصہ ہے چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے :

[وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى القُلُوبِ] 
{الحج:32} 

"اور جو شخص اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتا ہے تو یہ بات اس کے دلوں کے تقوی سےتعلق رکھتی ہے "

اس آیت میں شعائر سے مراد وہ تمام اشیاء ہیں جو دین اسلامی کے نمایاں امتیازی امور ہیں ،جیسے ، کعبہ مشرفہ ، صفا مروہ ، عرفات ، منی ومزدلفہ وغیرہ نیز اذان ، مسجدیں اور وہ دینی محفلیں داخل ہیں جو اللہ تعالی کے نام پر قائم کی جائیں ۔

یہ بات آج ملاحظے میں ہے کہ ذات باری تعالی اور اس کے شعائر سے متعلق تعظیم کا جذبہ لوگوں کے دلوں سے مفقود ہوتا جارہا ہے خصوصا مسجدوں کی تعظیم تو اب سرے سے ناپید ہوتی جارہی ہے جب کہ مسجد اللہ کے شعائر میں بہت اونچا مقام رکھتی ہے ،

جس کا اندازہ زیر بحث حدیث سے ہوتا ہے کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے یہاں تک گوارہ نہیں کیا کہ مسجد رسول میں بلند آواز سے گفتگو کی جائے اور ان دونوں کو سخت سزا دینا چاہا لیکن صرف اس بنیاد پر سخت سزا دینے سے باز رہے کہ وہ لوگ مدینہ منورہ جو مرکز علم تھا اس سے دور کے رہنے والے تھے ، بلکہ آپ رضی اللہ عنہ نے تو مسجد کی تعظیم کو یہاں تک مدنظر رکھا کہ مسجد نبوی سے باہر ایک چبوترہ بنوادیا تھا کہ اگر کوئی شخص دنیاوی بات چیت کرنا چاہتا ہے تو وہ مسجد سے نکل جائے اور باہر بیٹھ کر گفتگو کرے ۔
{ موطا امام مالک}

لیکن افسوس کہ آج مسلمانوں نے مسجدوں کے اس ادب کو کھودیا ہے حتی کہ حرمین شریفین کے ادب کو بھی بالائے طاق رکھ دیا ہے خاص کر موبائل اور اس کی میوزک نما گھنٹی کی شکل میں تو مسجدوں کے ساتھ کھلی بے ادبی ہورہی ہے اور معاملہ یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ لوگ اپنے موبائلوں میں موسیقا اور گانوں کی گھنٹی رکھتے ہیں اور بغیر بند کئے عام مسجدوں اور حرمین شریفین میں داخل ہوجاتے ہیں ، پھر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مسجدوں بلکہ حرمین شریفیں میں نمازوں کے دوران مختلف گھنٹیوں اور گانے باجے کی آواز سنائی دیتی ہے ، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مسجد کی اہمیت اور ادب لوگوں کے دلوں سے ناپید ہے ،یہ حضرات یہ دھیان نہیں دیتے کہ کس کے دربار اور کس کی مجلس میں حاضری کے لئے جارہے ہیں ؟ اس طرح اگر غور کیا جائے تو وہ لوگ کئی جرموں کے مرتکب ہورہے ہیں ۔


[۱] اللہ کے ساتھ سوء ادب ۔

[۲] نماز میں خشوع وخضوع میں خلل اندازی ۔

[3] مسلمانوں کو تکلیف دینا اور ان کی نماز میں خلل اندازی ۔

[۴] اور سب سے بڑی بات یہ کہ مسجد میں شیطانی آواز ۔ 


اس لئے ضروری ہے کہ اس طرف توجہ دی جائے ورنہ ڈرہے کہ ہم لوگ اس حدیث کے ضمن میں آجائیں ، آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوں گے کہ وہ مسجدوں میں دنیا کی باتیں کریں گے ، ایسے لوگوں کی اللہ تعالی کو کوئی ضرورت نہیں ۔ { صحیح ابن حبان } عیاذ باللہ ۔

فوائد :


1. مسجد میں سونا جائز ہے ۔

2. مسجد میں بلا ضرورت آواز بلند کرنا ، شور مچانا جائز نہیں ہے ۔

3. مسجد کی تعظیم گویا اللہ تعالی کی تعظیم ہے ۔

4. مسجد میں داخلہ کے وقت اپنے موبائل کو خاموش {سائلنٹ } رکھنا ضروری ہے ۔ 



Saturday, 2 July 2011

رفع بلاء اور دفع مصائب کے لیے چھلے پہننا اور دھاگے وغیرہ باندھنا شرک ہے۔

رفع بلاء اور دفع مصائب کے لیے چھلے پہننا اور دھاگے وغیرہ باندھنا شرک ہے۔
اللہ تعالی کا ارشادہے:
(قُلْ أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ أَرَادَنِيَ اللَّهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كَاشِفَاتُ ضُرِّهِ أَوْ أَرَادَنِي بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكَاتُ رَحْمَتِهِ قُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ (سورة الزمر39: 38))
“(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم)آپ ان سے کہہ دیجئے:تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اللہ تعالی مجھے کوئی ضرر پہنچانا چاہے تو اللہ کے علاوہ تم جن کو پکارتے ہو کیا وہ اس ضرر کو ہٹا سکتے ہیں؟ یا اللہ مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو کیا یہ اسکی رحمت کو روک سکتے ہیں؟آپ کہہ دیجیے: مجھے تو اللہ ہی کافی ہے۔ بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔”(2)

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
(أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَى رَجُلًا فِي يَدِهِ حَلْقَةٌ مِنْ صُفْرٍ فَقَالَ: مَا هَذِهِ؟ قَالَ: مِنَ الْوَاهِنَةِ. فَقَالَ: انْزِعْهَا فَإِنَّهَا لَا تَزِيدُكَ إِلَّا وَهْنًا, فَإِنَّكَ لَوْ مُتَّ وَهِيَ عَلَيْكَ، مَا أَفْلَحْتَ أَبَداً)(مسند احمد :4 / 445 و سنن ابن ماجہ، الطب، باب تعلق التمائم ، ح:3531)
“نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ میں پیتل کا چھلا دیکھا تو پوچھا: “یہ کیا ہے؟” اس نے کہا یہ واھنہ(ایک مرض) کی وجہ سے پہنا ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا: “اسے اتاردو۔(اس لیے کہ یہ تمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا) تمہاری بیماری میں مزید اضافہ ہی کرےگا۔ اگر تمہیں یہ چھلا پہنے ہوئے موت آگئی تو کبھی نجات نہ پاسکو گے۔”(3)

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(مَنْ تَعَلَّقَ تَمِيْمَةً فَلَا أَتَمَّ الله ُلَهُ، وَمَنْ تَعَلَّقَ وَدَعَةً فَلَا وَدَعَ الله ُلَهُ)(مسند احمد :4 / 153)
“جس نے (بیماری سے تحفظ کے لیے)کوئی تمیمہ(تعویذ، منکاوغیرہ)لٹکایا، اللہ تعالی اس کی مراد پوری نہ کرے۔ اور جس نے سیپ باندھی اللہ تعالی اسے بھی آرام اور سکون نہ دے۔”(4)
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:
(مَنْ تَعَلَّقَ تَمِيْمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ)(مسند احمد :4 / 156)
“جس نے (بیماری سے تحفظ کی نیت سے)تمیمہ(تعویذ، منکا وغیرہ)لٹکایا اس نے شرک کیا۔”
ابن ابی حاتم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان کیا ہے:
(أَنَّهُ رَأى رَجُلاً فِي يَدِهِ خَيْطٌ مِّنَ الْحُمَّى فَقَطَعَهُ)“نہوں نے ایک شخض کے ہاتھ میں بخار سے تحفظ کے لیے دھاگا بندھا ہوا دیکھا تو انہوں نے اسے کاٹ ڈالا اور یہ آیت تلاوت فرمائی:
(وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ (سورة يوسف12: 106))
“اور ان میں سے اکثرلوگ اللہ تعالی پر ایمان لانے کے باوجود مشرک ہیں۔”(5)
(تفسیر ابن ابی حاتم:7 / 12040)

مسائل
1)(بیماری سے تحفظ کی نیت سے )چھلا پہننا اوردھاگہ وغیرہ باندھنا سخت منع ہے۔
2) اگر صحابی بھی اس نیت سے کوئی چیز پہنے، باندھے یا لٹکائے اور اسی حال میں مرجائے تو وہ بھی کبھی فلاح نہیں پا سکتا۔ حدیث میں صحابہ کی اس ٹھوس بات کے لیے شاہد بھی موجود ہے کہ شرک اصغر ، کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
3) جہالت کے سبب بھی ان اعمال کے مرتکب کو معذور نہیں سمجھا جائے گا۔
4) یہ چیزیں دنیا میں بھی مفید نہیں بلکہ مضر ہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “یہ تیری بیماری کو مزید بڑھائے گا”
5) ایسی چیزیں استعمال کرنے والے کو سختی سے روکنا چاہئے۔
6) جو شخص، کوئی چیز باندھے یا لٹکائے تو اسے اسی کے سپرد کردیا جاتا ہے۔
7) تمیمہ (تعویذ ، منکا وغیرہ)لٹکانا بھی شرک ہے۔
8) بخار کی وجہ سے دھاگہ وغیرہ باندھنا بھی شرک ہے۔
9) حذیفہ رضی اللہ عنہ کا اس موقع پر سورۂ یوسف کی آیت تلاوت کرنایہ دلیل ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شرک اکبر کی آیات کو شرک اصغر کی تردید میں پیش کیا کرتے تھے جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا ہے۔
10) نظربد سے بچاؤکے لیے سیپ باندھنا بھی شرک ہے۔
11) (بیماریوں سے تحفظ کے لیے)تمیمہ (تعویذ، منکا وغیرہ)لٹکانے والے اور سیپ وغیرہ باندھنے والے کے لیے بد دعا کی جاسکتی ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “اللہ تعالی اس کی مراد پوری نہ کرے اور اسے آرام نہ دے۔”
نوٹ:-
(1) شرک کی توضیح کرتے ہوئے یہاں سے توحید کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ اور یہ بات طے شدہ ہے کہ کسی چیز کی معرفت اور پہچان دو طرح سے حاصل ہوتی ہے۔اپنی حقیقت کی معرفت اور اس کی ضد کی معرفت۔
یہاں سے امام(محمد بن عبد الوہاب)اپنی گفتگو کا آغاز، توحید کے متضاد یعنی شرک اکبر کے بیان سے کر رہے ہیں۔ کیونکہ شرک اکبر کے ارتکاب سے توحید مکمل طور پر ختم ہو کر رہ جاتی ہے اور اس کا مرتکب ملت اسلامیہ سے یکسر خارج ہو جاتا ہے۔ شرک کی بعض اقسام ایسی ہیں جو توحید کے اعلی درجہ کے منافی ہیں اور وہ اقسام شرک اصغر سے ہیں۔ ان کے ارتکاب سے توحید کے اعلی درجہ میں کمی آجاتی ہے۔ اس لیے توحید کا اعلی ترین درجہ تویہ ہے کہ انسان شرک کی جملہ انواع و اقسام سے بچ کر رہے۔
شیخ(محمد بن عبد الوہاب رحمتہ اللہ علیہ)نے شرک کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ابتدا میں شرک اصغر کی بعض ایسی منتقل ہونے کے اصول پر عمل کرتے ہوئے اولا شرک اصغر کا اور بعد ازاں شرک اکبر کا ذکر کیا ہے۔
اس باب کے عنوان سے واضح ہوا کہ چھلے پہننے اور دھاگے باندھنے کے علاوہ منکے، تعویذات، لوہا، چاندی وغیرہ اور دیگر مختلف اشیاء جو گلے میں باندھی یا لٹکائی جاتی ہیں یا گھروں میں، گاڑیوں پر چھوٹے بچوں کے گلے میں کسی مخصوص مقصد، نظریہ یا عقیدہ کے تحت پہنی ، باندھی یا لٹکائی جاتی ہیں، یہ سب شرک ہے۔
چھلے اور دھاگے اور اسی طرح تعویذات وغیرہ کی بابت عربوں کا عقیدہ تھا کہ یہ اشیاء آئی ہوئی مصیبت کو رفع کردیتی یا آنے والی مصیبت کو روک دیتی ہیں۔ ایسی حقیر اشیاء کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ یہ چیزیں اللہ تعالی کی تقدیر کو روک سکتی ہیں، یہ شرک اصغر کیسے ہو سکتا ہے؟ (بلکہ یہ تو شرک اکبر ہے۔)کیونکہ ایسا کرنے والے کے دل میں ان اشیاء کی محبت موجود ہوتی ہے اور وہ ان اشیاء کی مصائب روکنے اور ان سے بچانے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ یہی شرک ہے۔ اصل اصول یہ ہے کہ صرف انہی اشیاء اور اسباب کی تاثیر کا عقیدہ رکھنا جائز ہے جن کی شریعت نے اجازت دی ہے یا تجربہ سے ثابت ہو کہ یہ اسباب واقعی ظاہری طور پر مؤثر ہیں۔ مثلا طبیب کا دوا دینا، یا جیسے وہ اسباب ، جن سے نفع حاصل ہوتا ہے جیسے آگ سے حرارت اور پانی سے ٹھنڈک کا حاصل ہونا وغیرہ۔ یہ ایسے اسباب ہیں جن کی تاثیر ظاہر اور واضح ہے۔
شرک اصغر کی جملہ اقسام بعض اوقات نیتوں کی بنیاد پر شرک اکبر بن جاتی ہیں۔ مثلا کوئی شخص چھلے اور دھاگے وغیرہ کو سبب سمجھنے کی بجائے یہ عقیدہ رکھے کہ یہ بذات خود مؤثر ہے تو اس کا یہ عمل شرک اکبر ہوگا کیونکہ اس نے یہ عقیدہ رکھا کہ اس کا ئنات میں اللہ تعالی کے علاوہ بھی کوئی چیز تصرف کرنے کی قدرت رکھتی ہے۔ گویا اس مسئلے کا اصل تعلق دل کے ساتھ ہے۔
(2) اس آیت میں اللہ تعالی نے اپنے نبی سے فرمایا کہ آپ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ کیا اس بات کا اقرار کرلینے کے باوجود کہ صرف اللہ تعالی ہی آسمانوں اور زمینوں کا خالق ہے، تم اس کے ساتھ ساتھ غیر اللہ کی بھی عبادت کرتے ہو؟ قرآن مجید کا یہی انداز ہے کہ مشرکین جس توحید ربوبیت کا اقرار کرتےہیں ، وہ ان کے اسی اقرار کو ان کے خلاف پیش کرکے اس توحید الوہیت کا اثبات کرتا ہے جس سے وہ انکار کرتے ہیں۔
“تَدْعُوْنَ”تم پکارتے ہو۔ یہ پکارنا بطور سوال اور طلب ہو یا محض بطور عبادت ۔ مشرکین میں غیر اللہ کو پکارنے کی یہ دونوں صورتیں پائی جاتی ہیں۔ اور اللہ کے علاوہ جنہیں پکارا جاتا ہے ان کی کئی قسمیں ہیں مثلا بعض مشرک تو مصیبت، دکھ یا پریشانی کے موقع پر انبیاء ، رسل اور صالحین کو پکارتے ہیں، بعض اللہ تعالی کے فرشتوں کو پکار کے لائق سمجھتے ہیں اور بعض ستاروں کی طرف، بعض اشجار و احجار کی طرف اور بعض بتوں اور مٹی کی ڈھیریوں کی طرف لپکتے اور جھکتے ہیں۔ یہ سب شرک کی صورتیں ہیں۔ پیش نظر آیت میں اللہ تعالی نے ثابت کیا ہے کہ یہ تمام معبودان باطلہ کسی کو نفع یا نقصان پہنچانے پر قادر نہیں۔ اب ان اشیاء اور شخصیات کے متعلق مشرکین کا یہ عقیدہ، کہ اللہ تعالی کے ہاں ان کے بلند مراتب ہیں جن کی وجہ سے یہ اس کے ہاں سفارش کرسکیں گے، باطل اور بے بنیاد ہوا۔ قرآن مجید میں جو آیات شرک اکبر کی تردید میں آئی ہیں، اہل علم انہی آیات کو شرک اصغر کے ابطال اور تردید میں بھی پیش کرتے ہیں کیونکہ دونوں قسم کے شرک(اکبر اور اصغر)میں انسان اللہ تعالی کو چھوڑ کر غیراللہ کے ساتھ اپنا تعلق جولیتا ہے۔ لہذا جب بڑی صورت (شرک اکبر)میں غیر اللہ کے ساتھ تعلق جوڑنا باطل اور بے حقیقت ہے تو چھوٹی صورت(شرک اصغر)میں تو بالاولی باطل ہوا۔
نیز اس آیت میں یہ بیان ہے کہ اللہ تعالی کے علاوہ کسی کو یہ قدرت حاصل نہیں کہ وہ کسی کو کچھ ضرر یا نقصان پہنچا سکے۔ اسی طرح یہ بھی کہ جب اللہ تعالی کسی کو کوئی ضرر پہنچائے تو اس کے حکم کے بغیر کوئی بھی شخص یا چیز اس ضرر کو ہٹانے پر قادر نہیں۔ اللہ تعالی کے علاوہ، کسی کو نفع دینے یا ضرر پہنچانےکے لائق سمجھنے کا یہی وہ مفہوم ہے جس کے پیش نظر مشرک لوگ چھلے پہنتے یا دھاگے باندھتے ہیں، اسی لیے ان کاموں کو شرک کہا گیا ہے۔
(3) آپ کا “مَاهذِه”کہہ کر اس چھلے کے متعلق دریافت کرنے کا یہ انداز اس کے اس عمل پر شدید ناراضی، ناپسندیدگی، اور انکار کے لیے تھا۔
واھنہ: ایک بیماری ہے جو جسم کو کمزور کر ڈالتی ہے۔
(امام ابن الاثیر الجزری فرماتے ہیں کہ “واھنہ” ایک ایسی بیماری ہے جس سے کندھے یا پورے بازوکی رگ پھول جاتی ہے۔ اس تکلیف سے نجات کے لیے دم بھی کرتے ہیں۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ کہنی اور کندھے کے درمیانی حصہ میں بعض اوقات تکلیف ہوجایا کرتی ہے۔ یہ تکلیف مردوں کو ہوتی ہے۔ عورتوں کو نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو وہ چھلا پہننے سے اس لیے منع فرمایا تھا کہ اس نے اس خیال سے پہنا تھا کہ وہ اسے مرض سے محفوظ رکھے گا۔ حالانکہ چھلے کا بیماری سے نجات سے کوئی واسطہ یا تعلق نہیں۔ مترجم)
“انْزِعْهَا”اسے اتار دو۔ یہ حکم تھا اور جس شخص کوکوئی حکم دیا جائے، اگر انسان جانتا ہو کہ وہ حکم اطاعت سے انکار نہیں کرے گا تو اسے ہاتھ سے منع کرنے کی بحائے زبان سے کہہ دینا ہی کافی ہوتا ہے۔
“فَإِنَّهَا لَا تَزِيدُكَ إِلَّا وَهْنًا”یہ تمہاری بیماری میں مزید اضافہ ہی کرے گا”۔
یعنی اگر تمہارے عقیدہ کے مطابق اس کی کوئی تاثیر ہے تو یہ نہ صرف تمہارے جسم کو نقصان پہنچائے گا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ تمہاری روح اور نفس کو بھی نقصان پہنچائے گا اور وہ یہ کہ تمہاری روح اور نفس کمزور ہوجائیں گے۔
مشرک کی عقل کام نہیں کرتی۔ وہ چھوٹے نقصان سے بچنے کی خاطر کوئی ایسا کام کر بیٹھتا ہے جو پہلے سے بھی بڑے نقصان پر منتج ہوتا ہے۔ مگروہ عقل کی کمی کی وجہ سے نقصان کو نفع پر محمول کرتا رہتا ہے۔
“ فَإِنَّكَ لَوْ مُتَّ وَهِيَ عَلَيْكَ، مَا أَفْلَحْتَ أَبَداً” “اگر تمہیں یہ چھلا پہنے ہوئے موت آگئی تو کبھی نجات نہ پاسکو گے”۔
اس نفی میں دو معنوں کا احتمال ہے۔ ایک تو یہ کہ ایسا کرنے والے کو شرک اکبر کا ارتکاب کرنے والے کی مانند کبھی جنت میں داخلہ اور جہنم سے نجات نہ مل سکے گی کیونکہ اس نے یہ عقیدہ رکھا کہ یہ چھلا بذات خود نفع بخش اور مفید ہے اور دوسرا معنی ہے کہ ایسا کرنے والے کو مکمل نجات نہ مل سکے گی کیونکہ اللہ تعالی نے شرعی یا قدرتی طور پر جس چیز کو شفا کا سبب قرار نہیں دیا اس نے اسی کو شفا دہندہ سمجھ لیا۔ اس لیے اس مفہوم کے لحاظ سے اس کا شرک ، شرک اصغر ہوگا۔
(مَنْ تَعَلَّقَ تَمِيْمَةً فَلَا أَتَمَّ الله ُلَهُ)جس نے تمیمہ لٹکایا اللہ تعالی اس کی مراد پوری نہ کرے” “تَعَلَّقَ”کا معنی جہاں لٹکانے کا ہے وہاں اس کا معنی دلی لگاؤ اور قلبی میلان کا بھی ہے۔ گویا کوئی چیز(بیماری سے تحفظ کے لیے)لٹکانے والے کا دلی لگاؤ اور قلبی میلان اس کی طرف ہوتا ہے۔
“تَمِيْمَةً”.....نظربد سے تحفظ، نقصان سے بچاؤ اور کسی کے حسد سے حفاظت کی خاطر، منکے یا کوئی دوسری چیز جو گلے میں پہنی اور سینے پر لٹکائی جائے اسے “تَمِيْمَةً”کہا جاتا ہے۔ ایسا کرنے والے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا فرمائی ہے کہ اللہ تعالی اس کی مراد پوری نہ کرے۔ “تَمِيْمَةً”کو تمیمہ کہنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس کے بارے میں انسان کا یہ اعتقاد ہوتا ہے کہ میرا کام یہی (منکے وغیرہ)مکمل اور تمام کریں گے۔ تو آپ نے اسی بد اعتقادی کی بنا پر بد دعا فرمائی کہ اللہ تعالی اس کا کام مکمل اور پورا ہی نہ کرے۔
“ وَمَنْ تَعَلَّقَ وَدَعَةً فَلَا وَدَعَ الله ُلَهُ” (اور جس نے سیپ (گلے میں) لٹکائی اللہ تعالی اسے آرام اور سکون نہ دے)
“وَدَعَةً”سیپیوں یا منکوں کی ایک قسم ہے جسے لوگ (گلے میں پہن کر)سینے پر کھتے ہیں یا پھر نظربد سے بچنے کے لیے بازو پر باندھتے ہیں۔ ایسا کرنے والے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا فرمائی کہ اللہ تعالی ایسے شخص کو آرام و سکون اور راحت میں نہ رہنے دے۔ کیونکہ اس نے اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کیا۔
(4) “مِّنَ الْحُمَّى”میں لفظ “مِّنَ”تعلیل کا ہے ۔ یعنی اس نے وہ دھاگہ بخار کو دور کرنے اور اس سے بچنے کے لیے باندھا تھا۔ “فَقَطَعَهُ” “تو انہوں نے اسے کاٹ ڈالا”اس سے ثابت ہوا کہ کسی بیماری سے تحفظ اور شفا کے لیے دھاگہ وغیرہ باندھنا ایسا کبیرہ گناہ ہے جس پر ناپسندیدگی کا اظہار کرنا واجب اور اسے کاٹ ڈالنا ضروری ہے۔
نیز ثابت ہوا کہ جہنم سے نجات کے لیے صرف توحید ربوبیت پر ایمان رکھنا کہ ہمارا پروردگار، رازق، اور ہماری زندگی اور موت کا مالک اللہ ہے۔ یہی بات کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ توحید فی العبادت بھی نجات کے لیے شرط ہے۔ اس آیت میں شرک سے مراد شرک اکبر ہے۔ مصنف (امام محمد بن عبد الوہاب رحمتہ اللہ علیہ )یہی بتانا چاہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شرک اکبر کے بارے میں نازل شدہ آیات سے شرک اصغر بھی مراد لیا کرتے تھے۔
لنک