Showing posts with label اسلامی متفرق موضوعات. Show all posts
Showing posts with label اسلامی متفرق موضوعات. Show all posts

Sunday, 4 December 2011

قرآن و حدیث میں جوڑا جہیز سے کہاں منع کیا گیا ہے ؟

قرآن و حدیث میں جوڑا جہیز سے کہاں منع کیا گیا ہے ؟

لوگ اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ قرآن یا حدیث میں جوڑا جہیز وغیرہ کے بارے میں صراحتاً کہاں بیان ہواہے؟
جواب یہ ہیکہ نہ صرف قرآن و حدیث بلکہ سیرت رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)، سیرت صحابہ اور سیرتِ اسلاف کا اگر مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتاہیکہ نہ صرف جہیز بلکہ وہ تمام اخراجات جن کا بوجھ لڑکی کے والدین کو اُٹھانا پڑتا ہے وہ ان کے نزدیک حرام تھیں۔ اس سے پہلے کہ ہم ان تفصیلات میں جائیں پہلے اس بات کی تحقیق کرلیں کہ لوگوں کے ذہن میں اس کے حرام یا ناجائز ہونے کے بارے میں شک کی نفسیات کیا ہے ؟ گویا خون 
اور سور کے گوشت کی طرح اگر ’ جوڑا جہیز ‘ کے بارے میں بھی واضح الفاظ میں قرآن میں حکم ہوتا تو وہ فوری مان لیتے اور ہرگز بحث نہ کرتے ۔

خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق


جوڑا جہیز کو حلال کرنے والوں کی نفسیات سمجھنے کے لیے ہمیں یہود و نصریٰ اور مشرکین کے اس مزاج کا مطالعہ کرنا ہوگا جس کا قرآن نے تذکرہ کیا 
ہے ۔

یہود و مشرکین کی تاویلیں

یہودیوں کے جرائم Crimes کا قرآن میں جگہ جگہ تذکرہ کیا گیا ہے ۔ ان جرائم میں سے ایک جرم یہ بھی تھا کہ جب کوئی حکم ان کی مرضی کے خلاف ہوتا تو اس سے فرار حاصل کرنے وہ اُلٹے سوالات کرنا شروع کردیتے تاکہ کوئی تاویل نکل آئے ۔جیسے:
» اللہ تعالیٰ نظر کیوں نہیں آتا ؟

وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَى لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً // البقرة:55

 اللہ کو چاہئے تھا کہ بادلوں کی شکل میں نمودار ہوتا تاکہ سب اُس پر بلا چوں و چرا ایمان لالیتے ۔

هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ أَن يَأْتِيَهُمُ اللّهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ // البقرة:210

 اللہ کو چاہئے تھا کہ قوم کے جو اعلیٰ سردار یا اہم افراد ہیں ان میں سے کسی کو نبی یا بادشاہ بناکر بھیجتا یہ معمولی آدمیوں کو نبی ہم کیسے تسلیم کریں ۔ہر قوم نے یہ اعتراض کیا۔ مثال کے طور پر ایک واقعہ پر غور کیجیئے

أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلإِ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ ........... // البقرة:246-247

 اگر ہم غلط ہوتے ، شرک یا حرام کے مرتکب ہوتے تو اللہ ہم کو مٹانہ دیتا ؟ اللہ اور اسکے رسول کا صدقہ ہے کہ ہمارا عمل صحیح ہے ورنہ ہم سوسائٹی میں اتنے باعزت نہ ہوتے اور نہ ہمارے کاروبار میں اتنی برکت ہوتی۔ وغیرہ وغیرہ۔

سَيَقُولُ الَّذِينَ أَشْرَكُواْ لَوْ شَاء اللّهُ مَا أَشْرَكْنَا وَلاَ آبَاؤُنَا وَلاَ حَرَّمْنَا مِن شَيْءٍ // الأنعام:148

 کیا ہمارے باپ دادا بے علم تھے جو تم ہم کو علم سکھانے آئے ہو۔

قَالُواْ أَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءنَا وَتَكُونَ لَكُمَا الْكِبْرِيَاء فِي الأَرْضِ وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِين // يونس:78

 جب ان سے کہا جاتا کہ ایمان لاو اُس پر جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہم تو اُسی طریقے کی اتباع کرینگے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللّهُ قَالُواْ بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءنَا أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لاَ يَعْقِلُونَ شَيْئاً وَلاَ يَهْتَدُون // البقرة:170

 اور جب کھلے الفاظ میں بصراحت کوئی حکم آجاتا توپھرحیلے تراشنے لگتے اور ایسے ایسے سوالات کرتے جنکا مقصد یہ ہوتا کہ بچنے کا کوئی جواز نکل آئے ۔ مثال کے طور پر جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی زرد رنگ کی گائے کو ذبج کرنے کا حکم دیا جس کی انہوں نے پرستش شروع کردی تھی تو موسیٰ (علیہ السلام) سے سوالات کرنے لگے کہااللہ سے پوچھو کہ اسکا رنگ کیسا ہو، حالت کیسی ہو ۔ اسکی مزید تفصیلات کیا ہیں۔

وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُواْ بَقَرَةً قَالُواْ أَتَتَّخِذُنَا هُزُواً قَالَ أَعُوذُ بِاللّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِين ......... (البقرة:67-70)

 اسی طرح جب انہیں سنیچر کے روز مچھلیاں پکڑنے سے منع کردیاگیا تو انہوں نے نئی نئی ترکیبیں ڈھونڈیں تاکہ اللہ کا حکم بھی پور ا ہو جائے اور مچھلیاں بھی زیادہ سے زیادہ ہاتھ آئیں۔

واَسْأَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي ......... // الأعراف:163
یہ وہی چال تھی جو آج جوڑا جہیز لینے والے اور دینے والے دونوں انتہائی معصوم بن کر چلتے ہیں۔

 اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ اللہ تم کو حکم دیتا ہیکہ وادی کے دوسری طرف جو قوم آباد ہے اس سے آگے بڑھ کر جہاد کرو تو کہنے لگے کہ وہ تو بہت طاقتور قوم ہے ہماری اور ان کی طاقت کا مقابلہ نہیں ہو سکتا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اصرار کیا تو کہنے لگے تم اور تمہارا خدا جاو اور مِل کر لڑو ہم تو یہیں رہیں گے۔

وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ اذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنبِيَاء وَجَعَلَكُم مُّلُوكًا ...........
(المائدة:20-24)


 جب مدینے میں دین کی دعوت پھیلنی شروع ہوئی تو یہودی جنکو اہلِ علم کے طور پر عزت کی نظروں سے دیکھا جاتا تھا انکی وقعت کم ہونے لگی تو انہوں نے اسیطرح کے سوالات معصوم مسلمانوں کو سکھا کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس بھیجنے لگے جیسے روح کیاہے، تقدیر کیاہے، اصحابِ کہف اور ذولقرنین کون تھے وغیرہ۔ ان سوالات کا مقصد یہ ہوتا کہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے جواب نہ دیا تو لوگوں کو یہ تاثر دیا جاسکے کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) ایک اچھے نیک دل اور عبادت گزار انسان ہیں لیکن مذہب ، تاریخ، فلسفہ وغیرہ کے علم سے ناواقف ہیں۔ ورنہ روح، تقدیر وغیرہ جیسے سوالات کے جوابات صریحتاً بیان کردیتے۔

آج بھی لوگوں نے یہودیوں کی طرح اس تاویل سے اپنے آپ کو مطمئن کر رکھا ہے کہ اگر جوڑا جہیز اور دوسری رسمیں واقعی غلط ہوتیں تو اللہ تعالیٰ قرآن میں یا اللہ کے رسول حدیثوں میں صاف الفاظ میں نام لے کر بیان کردیتے ۔ایسے لوگوں سے اگر یہ سوال کیاجائے کہ مہر کے بارے میں تو صراحتاًقرآن اور حدیث میں بیان کردیاگیاہے پھر کتنے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے نقد مہر ادا کردیاہے تو پتہ چلے گا کہ مشکل سے دس فیصد ایسے لوگ ہیں جنہوں نے نقد مہر ادا کیاہے۔ کئی تو ایسے ہیں جن پر اس حدیث کا اطلاق ہوتا ہے کہ فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کہ جس نے مہر ادا کرنے کا (ٹھوس) ارادہ نہ کیا وہ زانی کی موت مرا۔ ۔

آج کے خوشحال لوگوں کی تاویلیں

غریب اور متوسط طبقے کے افراد بات تو پھر بھی مان لیتے ہیں لیکن صاحبِ ثروت افراد کا رویہ وہی منافقانہ ہوتا ہے جس کا ذکر قرآن میں یوں آ تا ہے کہ

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لاَ تُفْسِدُواْ فِي الأَرْضِ قَالُواْ إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُون
أَلا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَـكِن لاَّ يَشْعُرُون
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُواْ كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُواْ أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاء أَلا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاء وَلَـكِن لاَّ يَعْلَمُون
( البقرة:11-13 )
ترجمہ : جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد مت پھیلاو تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے لوگ ہیں اور جب ان سے کہا جاتا ہیکہ ایمان لاؤ جیسے دوسرے لوگوں نے ایمان لایا ہے تو کہتے ہیں کیا ہم بھی بے وقوفوں کیطرح ایمان لے آئیں؟


بالکل اسی طرح یہ حضرات کی سوچ یہ ہوتی ہیکہ زکوٰة خیرات بھرادا کرتے رہو۔ نہ علماء کو ناراض کرو نہ جماعتوں کو، ان کی بھی مالی امداد کرتے رہو لیکن جہاں بات بڑی سوسائٹی میں اپنے نام کو باقی رکھنے کی ہووہاں اللہ یا رسول کی باتیں مناسب نہیں ہوتیں اس لئے وہی عمل کرو جو بڑی سوسائٹی کو پسند ہے۔نہ یہ جہیز کے محتاج ہوتے ہیں نہ دعوت کے۔ پھر بھی جب ان سے اللہ اور اس کے رسول کے طریقے پر چلنے کیلئے کہا جائے تو ان کا رویہ وہی منافقانہ ہوتا ہے جیسے کہہ رہے ہوں میاں کیا ہم معمولی درجے کو لوگ ہیں جو اپنی بیٹی یا بیٹے کی شادی بغیر کسی دھوم دھام کے کردیں ہم تو صاحبِ عزت لوگ ہیں۔ہم کو سوسائٹی کے تقاضوں کا پتہ ہے۔ آپ چونکہ سوسائٹی سے واقف نہیں اسلئے ایسی بیوقوفی کی باتیں کرتے ہیں۔بخدا یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جن پاس خود رسول بھی چل کر آئیں تو یہ ان کی پوری پوری خاطر و مدارت کرینگے اور کچھ اعانت دے کر رخصت کرنے کی کوشش کرینگے لیکن اپنے شادی بیاہ میں ان کے طریقے پر ہرگز نہیں چلیں گے کوئی نہ کوئی جواز پیدا کر ہی لیں گے۔
دلچسپ بات یہ ہیکہ ایسے لوگوں کو ایسے مولوی اور ملّا مل بھی جاتے ہیں جو ان کے ہر عمل کو جائز کرنے والی دلیلیں فراہم بھی کردیتے ہیں۔


وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِهَاد // البقرة:206
ترجمہ : اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو توغرور اسکو گناہ میں پھنسا دیتا ہے سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے جو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔
یہ آیت ایسے ہی لوگوں کے رویّہ کی نشاندھی کرتی ہے۔

ایسا نہیں ہیکہ یہ نماز نہیں پڑھتے یا روزوں کا انکار کرتے ہیں۔ ہر وہ عبادت جسمیں انہیں مزا آئے جو ان کے موڈ اور سہولت کے مطابق ہو وہ برابر کرتے ہیں۔ ہر سال نفل عمرے ادا کرتے ہیں۔ لیکن جہاں شادی بیاہ کو موقعوں پر ہندو رسموں اور اسراف جیسے حرام سے بچنے کا سوال آئے یہ تاویلیں پیش کرتے ہیں اور اپنے ضمیر کی تسلی کے لیے کچھ خیر خرات میں اضافہ کرجاتے ہیں۔


قیامت آئے گی تو دیکھا جائے گا

جس کے پاس پیسہ ہوتا ہے اسکی سوچ بدل جاتی ہے۔ پیسہ جتنا زیادہ ہوتاجاتاہے آخرت کے بارے میں وہ اتنا ہی جواز تلاش کرنے والا ہوتا جاتاہے۔ جسطرح شہر کے بڑے لوگوں کی سوسائٹی میں اسکی آو بھگت ہوتی جاتی ہے اسکا رویّہ ایسے ہوجاتا ہے جیسے پہلے تو قیامت آئیگی نہیں۔ اور اگر ہوگی بھی تو اللہ اسکو اس سے بھی بڑی عزت سے نوازے گا۔ اس سوچ کا سورہ کہف میں یوں نقشہ کھینچا گیا ہے۔

وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلاً رَّجُلَيْنِ جَعَلْنَا لأَحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ أَعْنَابٍ وَحَفَفْنَاهُمَا بِنَخْلٍ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعًا
كِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ آتَتْ أُكُلَهَا وَلَمْ تَظْلِمْ مِنْهُ شَيْئًا وَفَجَّرْنَا خِلاَلَهُمَا نَهَرًا
وَكَانَ لَهُ ثَمَرٌ فَقَالَ لِصَاحِبِهِ وَهُوَ يُحَاوِرُهُ أَنَا أَكْثَرُ مِنكَ مَالاً وَأَعَزُّ نَفَرًا
وَدَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ قَالَ مَا أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَذِهِ أَبَدًا
وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَى رَبِّي لأَجِدَنَّ خَيْرًا مِّنْهَا مُنقَلَبًا
( الكهف:32-36 )
ترجمہ : اور ان سے دو شخصوں کا حال بیان کروجنمیں سے ایک کے لیے ہم انگور کے باغ کئے تھے۔ اور ان کے اطراف کھجور کے درخت لگائے تھے۔ اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی۔ دونوں باغ (کثرت سے) پھل لاتے۔ اور اس میں کسی طرح کی کمی نہ ہوتی۔ اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی۔ اور اسکو فائدہ ملتا رہتا۔ ایک دن جب وہ اپنے دوست سے باتیں کررہاتھا کہنے لگا کہ میں تم سے مال و دولت میں زیادہ ہوں اور جتھے (سوسائٹی) کے لحاظ سے بھی زیادہ عزت والا ہوں۔ اور اپنے آپ پر (ان شیخیوں کے ذریعے) ظلم کرتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا۔ کہنے لگا کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ باغ کبھی تباہ ہونگے۔ اور نہ یہ سمجھتا ہوں کہ قیامت برپا ہوگی۔ اور اگر میں رب کی طرف لوٹایا بھی جاوں تو (وہاں) ضرور اس سے اچھی جگہ پاوں گا۔


یہ تھا فرار کا پہلا فلسفہ کہ لوگ ثبوت میں قرآن اور حدیث میں جوڑا جہیز کے راست الفاظ سننا چاہتے ہیں۔۔

جہیز- محض ایک سماجی برائی یا حلال و حرام کا مسئلہ؟

جہیز- محض ایک سماجی برائی یا حلال و حرام کا مسئلہ؟

اگر دوسری قومیں جہیز کے لین دین کو ایک سماجی برائی Social evil کہتی ہیں توٹھیک ہے لیکن ایک مسلمان کیلئے یہ محض ایک سماجی برائی نہیں بلکہ اس سے آگے بہت کچھ ہے۔یہ ایک حلال و حرام کا سنگین مسئلہ ہے ۔ اسے سگریٹ یا سینما بینی کے برابر کی ایک برائی قرار دینا ایک نادانی ہے۔ یہ نادانی نادانستہ نہیں بلکہ دانستہ ہے ۔ چونکہ پورا نظام عورتوں کے ہاتھوں چل رہاہے جس پر مرد کنٹرول نہیں رکھتا جس کی وجہ سے یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ حلال و حرام کا مسئلہ ہے مرد مجبوریوں، مصلحتوں اور مفادات کا شکار رہتے ہیں۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ گھر کے باہر مسجدوں میں غیر اہم فروعی مسائل پر بھی ایک دوسرے کی تکفیر ہی نہیں بلکہ قتال تک کے لئے آمادہ ہوجانے والی قوم کے افراد گھر کے اندر حلال و حرام کے اتنے بڑے مسئلے پر جانتے بوجھتے خاموشی برتتے ہیں؟
اور جہاں عورتیں قصوروار نہیں وہاں مردوں کی انانیت، حرص، سوسائٹی میں جو دوسرے کر رہے ہیں ویسا یا اس سے زیادہ کرنے کی خواہش، تفاخر اور سب سے بڑھ کر یہ کہ شریعت کے احکام کو جانتے بوجھتے اپنی طرف سے کوئی نہ کوئی جواز پیدا کرکے مطمئن ہوجانے کی خود فریبی یہ تمام اسباب اس بڑھتی ہوئی لعنت کے ذمہ دار ہیں۔

کوئی تو ملے جو کہے ہاں میں خود دار نہیں


آج تک بے شمار لوگوں سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی ۔ کوئی ایسا نہ ملا جس نے یہ کہا ہو کہ
”ہاں ہم نے جہیز کا مطالبہ یا فرمائش کی تھی“ ۔
جتنے ملے سب شرفاء ملے ۔ ہر ایک نے یہی کہا بلکہ فرمایا کہ
”الحمدلله ہم نے ایک پیسہ بھی نہیں لیا ، ہمارے ہاں اس چیز کو سخت معیوب سمجھاجاتا ہے “ ۔
جب دور دور تک کوئی ایسا شخص نہیں جس نے جہیز مانگا ہو تو پھر کیا وجہ ہے کہ معاشرہ کا ہر باپ اور ہر بھائی اپنی بیٹی یا بہن کی شادی کے لیے پریشان ہے ؟

قاضی صاحب اور پنڈت جی میں فرق کیا ہے؟


اب آپ ذرا تحقیق کریں کہ جب سوسائٹی میں ہر شخص جہیز اور بے جا رسومات کا مخالف ہے تو ایک مسلمان کی شادی اور ایک غیر مسلم کی شادی میں فرق کیوں کر ختم ہوگیا ہے ؟ سوائے اس کے کہ اُن کے ہاں پنڈت آکر کسی کی سمجھ میں نہ آنے والے کچھ اشلوک پڑھتا ہے اور یہاں قاضی صاحب کسی کی سمجھ میں نہ آنے والی کچھ عربی آیتیں پڑھ جاتے ہیں۔ وہاں آگ کے پھیرے ہوتے ہیں اور یہاں کچھ دیر کے لیے سروں پر ٹوپیاں یا دستیاں ڈال کر کچھ افراد دلہا دلہن سے ایجاب و قبول کی رسم پوری کروا کر بغیر وضو کے دعاء و فاتحہ پڑھ کر مصری بادام کے لوٹنے لٹانے کی چھینا جھپٹی پر ”النکاح من سنتی“ والے ڈرامے کا The End کرتے ہیں ۔
پنڈت جی وہاں اپنی دکھشنا لے کر ہاتھ جوڑتے نمسکار کرتے ہوئے رخصت ہوجاتے ہیں اور اِدھر قاضی صاحب اپنی فیس اور Tip وصول کر کے خوشی خوشی آداب بجا لاتے ہوئے نکل جاتے ہیں ۔ باقی سب کچھ تو وہی ہوتا ہے یعنے جہیز ، رسمیں ، لڑکی کے سرپرست کے خرچے پر اپنے سارے مہمان باراتیوں کی ضیافت وغیرہ ۔ نوٹوں کی گڈیاں تو دونوں طرف شادی سے پہلے ہی وصول کرلی جاتی ہیں ۔ جو لوگ ذرا غیرت مند اور خود دار ہوتے ہیں وہ بجائے نقد وصول کرنے کے کچھ اور معاملہ deal طئے کرلیتے ہیں ۔
یہ کافری تو نہیں کافری سے کم بھی نہیں
کہ مردِ حق ہو گرفتارِ حاضر و موجود
آئیے ! پھر اسی سوال کی طرف کہ جب نوشہ اور اُن کا سارا گھرانہ ان تمام ہندوانہ رسموں کو نا پسند کرتا ہے تو پھر یہ سب کیونکر ہوا ؟ پوچھئے تو انتہائی شرافت اور فخر سے فرماتے ہیں :
”ہم نے تو صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ہمیں سوائے لڑکی کے اور کچھ نہیں چاہئے ۔ جو بھی دینا ہے وہ اپنی بیٹی کو دے دیجئے ۔۔۔وہ بھی خوشی سے“۔
دراصل یہی وہ اصل کھیل ہے جسے لوگ شرافت و خوداری کا لبادہ اوڑھ کر تہذیب ، رواج یا سسٹم کے نام پر کھیلتے ہیں ۔
میاں بیوی کا رشتہ صرف دو افراد کا میل نہیں بلکہ ایک خاندان اور پورے معاشرے کی بنیاد ہے ۔ اگر بنیاد میں غلطی رہ جائے ، چاہے دانستہ ہو یا نا دانستہ، نہ کوئی دیوار سلامت رہتی ہے نہ چھت ، نہ کھڑکی نہ دروازہ ۔ تو پھر ایسی عمارت کے انجام کا آپ خود اندازہ کرسکتے ہیں۔ اسی طرح اگر میاں بیوی کا رشتہ غلط بنیادوں پر کھڑا ہو تو خاندان ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں تک اس کے غلط اثرات پڑتے ہیں ۔ جس بنیاد کو ڈالنے کے لیے لڑکی کے سرپرست کو خوشی سے یا مجبوری و مصلحت کی وجہ سے لڑکے پر خرچ کرنا پڑا ہو۔ اس کے لیے لڑکی کے باپ اور بھائی کو ہوسکتا ہے گھر بیچنا پڑا ہو ، چندہ ، خیرات یا زکوٰة مانگنی پڑی ہو۔ ہوسکتا ہے جھوٹ ، رشوت ، چوری اور بے ایمانی کرنی پڑی ہو۔ اب آپ ہی اندازہ لگائیے کہ ایسی غلط کاریوں کے ساتھ قائم ہونے والی بنیاد کیا معاشرے میں ایک پاک خاندان کی مضبوط عمارت کھڑی کرپائے گی ؟ جس طرح جام کے پیڑ سے آم نہیں اُگتے اسی طرح اسلام کو پامال کرنے والے طریقے کی بنیاد پر شروع ہونے والے رشتے نیک اور دیندار نسلیں نہیں پیدا کرسکتے ۔ یہ منطق Logic کے خلاف ہے ۔

عورت بغاوت پر کیوں اتر آئی ہے؟


کسی بھی دین یا مذہب کے حق ہونے یا نہ ہونے کی دو کسوٹیاں Criteria ہیں ایک تو یہ کہ عقائد ، عبادات یا رسومات کے علاوہ وہ دین انسان کو زندگی گزارنے کا طریقہ System of Life کیا دیتا ہے ؟
دوسرے یہ کہ اس کے ماننے والے اُسے کس طرح پیش کرتے ہیں ؟
یہاں ہماری ناکامی کی اصل وجہ کا پتہ چلتاہے ۔ اگرچہ کہ ہر شخص یہ اعتراف کرتا ہے حتٰی کہ مخالفینِ اسلام خود تسلیم کرتے ہیں کہ سوائے اسلام کے کوئی اور مذہب ایسا نہیں ہے جو اتنا مکمل اور شاندار نظام حیات System of Life دیتا ہو ۔ لیکن اسکے پیش کرنے والوں نے اِسے دنیا کی نظروں میں نہ صرف مشکوک کردیا بلکہ دور کردیا۔اسلام کی صحیح تعلیمات جن پر عمل پیرا ہونے سے یہ زمین بھی جنّت نما بن جاتی ہے وہ تعلیمات خود مسلمانوں کی زندگی میں دور دور تک نظر نہیں آتیں ۔ہر شخص نماز ، روزے ، داڑھی ، ٹوپی وغیرہ کے بارے میں پوچھئے تو وہ ہر ضروری اور غیر ضروری تفصیل کے ساتھ خوب بحث کر سکتا ہے لیکن اسلام کے معاشی ، سیاسی ، سماجی ، عدل ، یا تعلیمی نظام اور بنکنگ، انشورنس یا ٹریڈنگ کے بارے میں پوچھئے تووہ سوائے چند مبہم فتوؤں کے کچھ نہیں بتا پائے گا ۔
اسی طرح عورتوں کے حقوق کے بارے میں پوچھئے ، سوائے اسکے کہ طلاق کس طرح دی جائے ، کب دی جائے ، عورت کی کون سی غلطی پراُسے کیا سزا دی جائے ؟ اس کے علاوہ اسے کچھ نہیں معلوم۔ دوسرے الفاظ میں اگر عورت غلطی کرے تو اسلام مرد کو کیا اختیار دیتا ہے وہ یہ تو بہت اچھی طرح جانتا ہے لیکن اگر مرد کمینہ پن کرے تو اسلام عورت کو کیا حق دیتا ہے وہ اس بارے میں کچھ نہیں بتاتا ۔
یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان عورتیں بغاوت کررہی ہیں۔ ابھی حال ہی میں ٹامل ناڈو میں عورتوں نے اپنی مسجد علٰہدہ بنانے کا اعلان کردیا اسکے علاوہ بھی کئی مقامات سے خبریں پڑھنے میں آئیں کہ عورتوں نے خود نماز کی امامت، جمعہ کا خطبہ اور قاضی کے فرائض ادا کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کئی عورتیں غیر مسلموں سے شادیاں بھی کررہی ہیں۔ اسکی مزید تفصیل آگے باب ”نقصانات “میں ملاحظہ ہو۔
اور اسی طرح کی بغاوت اور سرکشی کی کئی خبریں دنیا کے دوسرے ممالک سے بھی ملتی رہتی ہیں۔ اسکے اسباب تو کئی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہیکہ عورتیں اس نظام کے خلاف اب کھڑی ہوچکی ہیں جو نظام قاضیوں، دارالقضاة، مفتیوں اور علماء نے قائم کیا جسمیں مرد کی جانب سے طلاق دئیے جانے پر تو فوری سرٹیفکٹ دے دیا جاتا ہے لیکن اگر عورت خلع حاصل کرنا چاہے تو اسے مہینوں اور برسوں لٹکا کر رکھا جاتا ہے۔
عہد نبوی میں حضرت ثابت بن قیس (رضی اللہ عنہ) کی دو بیویوں حبیبہ بنت سہیل (رضی اللہ عنہا) اور جمیلہ (رضی اللہ عنہا) نے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے خلع کی درخواست کی اور وجوہات بتائیں تو آپ نے انہیں فوری طلاق حاصل کرلینے کی اجازت دے دی ۔
لیکن ہمارے عہد میں بے چاریاں دفترقضاء ت یا پھر کورٹ کے چکر لگاتی رہتی ہیں ۔مرد نہ مہر ادا کرنے راضی ہوتا ہے اور نہ لیا ہوا جہیز اور جوڑے کی رقم وغیرہ واپس کرنے تیار ہوتاہے۔ برسوں نہیں صدیوں عورت نے مرد کے ہاتھوں یہ ظلم سہا ہے شائد یہ انہی کی بددعا کا نتیجہ ہیکہ ہندوستان میں Anti Dowry Act Section 498A نافذ ہوا ۔ اس قانون کا جائز استعمال کم اور ناجائز زیادہ ہوا اور نتیجہ یہ نکلا کہ ہر مرد عورت کے آگے ڈرنے لگا۔
اُدھر پاکستان میں بھی ایک اسلامی مملکت ہونے کے باوجود مرد سے دوسری شادی کی آزادی چھین لی گئی۔مرد شریعت کی آڑ لینا بھول گیا۔ ایسا ہونا بھی چاہئیے تھا کیونکہ انصاف کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ جو فریق منگنی، نکاح کے دن کی دعوت ، جہیز وغیرہ پر خرچ کرے اُسی کی مرضی اور اسی کا فیصلہ چلنا بھی چاہئے۔

پہلا ذمہ دار طبقہ … دین و شریعت کے علمبردار


اس پورے فساد میں اصل قصور دینی امور کے ذمہ داروں اور شریعت کے نام نہاد علمبرداروں کا ہے ۔ ہمارے واعظ اور مقرر جس شدت کے ساتھ عقائد ، ایمانیات ، بدعات و شرکیات پر اپنا پورا زورِ بیان صرف کرتے ہیں اس شدت کے ساتھ کبھی جوڑے جہیز کے بارے میں بیان نہیں کرتے ۔ مسلکی اختلافات پر فریقین جسطرح ایک دوسرے کے خلاف دندناتے ہوئے جلوسوں اور جلسوں میں مظاہرے کرتے ہیں ، گرجدار شعلہ بیان تقریروں کے ذریعے ایک دوسرے پر کفر ، شرک اور نہ جانے کیا کیا فتوے لگاتے ہیں وہی جوہرِ شعلہ بیانی کبھی جہیز کی لعنتوں کے خلاف نہیں صرف کرتے۔ جن فروعی مسائل پر یہ لوگ زور دیتے ہیں ان موضوعات کا تعلق نہ ایک غریب گھر کی روٹی سے ہے نہ اس کے معاشی مسائل سے، نہ ان موضوعات میں کوئی دعوت، تقویٰ و تزکیہ کا پہلو ہے اورنہ غیر مسلموں کے لیے ان میں کوئی کشش ۔ جب کہ جوڑا جہیز کا موضوع ایک ایسا سماجی موضوع ہے جس کا تعلق نہ صرف ہر مسلمان کے معاش ، اخلاق و کردار سے ہے بلکہ کروڑوں غیر مسلمین کے لیے اس میں اسلام کی دعوت پوشیدہ ہے۔جسمیں مسلمان اور غیر مسلمین دونوں کی معاشی راحت کا سامان ہے ہمارے مقرر اور واعظ اس موضوع کو چھوتے بھی نہیں۔ اگر کچھ کہتے بھی ہیں تو نہ وہ گرج ہوتی ہے نہ مخالفین پر فائرنگ کا انداز ہوتا ہے ۔ ایسا لگتا ہے جیسے ابا جان شریر بچے کو چمکار تے ہوئے کہہ رہے ہوں :
” بیٹا بُری بات ہے اچھے بچے اس طرح شرارت نہیں کرتے “۔
اور نہ قاضی صاحبان خطبے میں ان چیزوں کی ممانعت کرتے ہیں ۔
ہوس بالائے ممبر ہے تجھے رنگیں بیانی کی
نصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کی
اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ خود بھی اور ان کے اہل خاندان اور ان کے ساتھ ساتھ وہ تمام لوگ بھی جن کے چندوں سے مدرسے اور مسجدوں کی انتظامی کمیٹیاں چلتی ہیں اس جرم میں کسی نہ کسی حد تک شریک ہیں ۔ ظاہر ہے جب کہنے والے کے ہاتھ خود خون میں رنگے ہوں وہ دوسروں پر انگلی کیسے اٹھا سکتا ہے ۔
اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جوڑا جہیز ہی دراصل آج مسلمانوں کی ذلت و رسوائی کا اصل سبب ہے ۔اسکی ذمہ داری سب سے پہلے دین کی نمائندگی کرنے والے طبقے پر ہے، اسکے بعد تعلیم یافتہ خوشحال مسلمانوں پر۔

Wednesday, 9 November 2011

نماز میں صفیں درست کرنے کا بیان

 

نماز میں صفیں درست کرنے کا بیان
صفیں درست کرنا فرض ہے:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اپنی صفیں درست کرو، بلاشبہ صفیں درست کرنا نماز کا حصہ ہے"
(بخاری، کتاب الاذان، باب اقامت الصف من تمام الصلاۃ: 723، مسلم: 433)

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"صفیں سیدھی کرو، ایک دوسرے  کے ساتھ کندھے برابر کرو، خلا کو پر کرو، (صفیں درست کروانے والو9 اپنے بھائیوں کے لیے نرم ہوجاؤ اور شیطان کے لیے (بیچ میں) خالی جگہ مت چھوڑو۔"
(ابوداؤد، کتاب الصلاۃ، باب تسویۃالصفوف: 666- صحیح)

صفیں درست کرنے کی فضیلت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"صفیں ملانے (یعنی خلا کو پر کرنے) والوں کو اللہ (اپنے ساتھ) ملالیتا ہے اور صفیں کاٹنے والوں کو اللہ (اپنے سے) کاٹ دیتا ہے-"
(ابو داؤد، کتاب الصلاۃ، باب تسویۃ الصفوف:666، نسائی:820- صحیح)

 صفیں درست نہ کرنے کی سزا:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" تم ضرور بضرور اپنی صفیں درست کرلو، ورنا اللہ تعالی تمہارے درمیان اختلاف پیدا کردے گا۔"
(بخاری، کتاب الاذان، باب تسویۃ الصفوف عند الاقامۃ و بعدھا: 717- مسلم:436)

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" اپنی صفوں میں خوب مل کر کھڑے ہوا کرو، انھیں قریب قریب بناؤ اور گردنوں کو بھی برابر رکھو، اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بلاشبہ میں شیطان کو دیکھتا ہوں کہ وہ بکری کے بچے کی طرح صفوں کی خالی جگہوں میں گھس جاتا ہے (اور نماز خراب کرتا ہے)۔"
(ابوداؤد، کتاب الصلاۃ، باب تسویۃ الصفوف: 667، نسائی:816- صحیح)

صفیں درست کرنے کا طریقہ:

سیدنا انس رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں:
"جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صفیں درست کرنے کا حکم دیتے  تو ہم اس طرح کھڑے ہوتے تھے کہ ہم نمازی اپنا پاؤں اور کندھے ساتھ والے کے ساتھ پاؤں اور کندھے کے ساتھ چپکا دیتا تھا۔"
(صحیح بخاری، کتاب الاذان، باب الزاق المنکب بالمنکب۔۔۔۔۔۔الخ:725)

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"پاؤں کو سیدھا کرنا اور ہاتھ کو ہاتھ پر رکھنا سنت میں سے ہے-"
(ابوداؤد، کتاب الصلواۃ، باب مضع الیمنی علی الیسری فی الصلواۃ: 754- حسن)
تقبل قنا و منکم

Saturday, 5 November 2011

ڈاکٹرطاہر القادری اور موضوع روایات کی ترویج

ڈاکٹرطاہر القادری اور موضوع روایات کی ترویج



٭۔یہ بات بالکل سچ اور حق ہے کہ 
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 
’’ لا تکذبوا عليّ فإنہ من کذَب عليّ فلیلِج النار ‘‘
’’مجھ پر جھوٹ نہ بولو،کیونکہ بیشک جس نے مجھ پر جھوٹ بولا تو وہ (جہنم کی) آگ میں داخل ہو گا۔ ‘‘( صحیح بخاری ، کتاب العلم، باب إثم من کذب علی النبي ﷺ ح ۱۰۶، صحیح مسلم : ۱)
٭۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’ من حدّث عني بحدیث یرٰی أنہ کذب فھو أحد الکاذبین ‘‘
’’جس نے مجھ سے ایسی حدیث بیان کی جس کا جھوٹ ہونا معلوم ہو ، تو وہ شخص جھوٹوں میں سے ایک ( یعنی جھوٹا) ہے۔ ‘‘( صحیح مسلم قبل ح ۱، ترقیم دارالسلام : ۱)
ان احادیث اور دیگر دلائل کو مدنظر رکھ کر علماے کرام نے فرمایا کہ موضوع (یعنی جھوٹی، من گھڑت )روایت کا بیان کرنا حلال نہیں ہے۔
حافظ ابن الصلاح نے فرمایا : 
’’اعلم أن الحدیث الموضوع شر الأحادیث الضعیفۃ ولا تحل روایتہ لأحد عَلِم حالہ في أي معنی کان إلا مقرونًا بِبَیان وضعہ ‘‘ ( مقدمہ ابن الصلاح مع التقیید والایضاح ص ۱۳۰، ۱۳۱، دوسرا نسخہ ص ۲۰۱)
’’جان لو کہ بے شک موضوع حدیث ضعیف اَحادیث میں سب سے بری ہوتی ہے اور حال معلوم ہونے کے بعد کسی شخص کے لئے اس کی روایت حلال نہیں ہے، چاہے جس معنی میں (بھی ) ہو ، سوائے اس کے کہ اُس کے موضوع ہونے کا ذکر ساتھ بیان کر دیا جائے۔‘‘
مگر افسوس ہے اُن لوگوں پر جو اَحادیث نبویہ ﷺ اور آثارِ صحیحہ کے باوجود جھوٹی اور بے اصل روایتیں مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں اور آخرت کی پکڑ سے ذرّہ بھر بھی نہیں ڈرتے۔
٭۔ایک طویل حدیث میں آیا ہے کہ 
نبی کریمﷺ نے خواب میں دیکھا: ایک شخص کی باچھیں چیری جا رہی ہیں۔ ( دیکھئے صحیح بخاری : ۱۳۸۶) یہ عذاب اس لئے ہو رہا تھا کہ وہ شخص جھوٹ بولتا تھا، لہٰذا آپ غور کریں کہ رسول اللہﷺ پر جھوٹ بولنے یا جھوٹ پھیلانے والے کو کتنا بڑا عذاب ہو گا!؟
٭۔رسولﷺنے فرمایا:
’’ وإیاکم والکذب ‘‘ (صحیح مسلم: ۲۶۰۷، ترقیم دارالسلام : ۶۶۳۹) ’’اور(تم سب ) جھوٹ سے بچ جائو۔ ‘‘
٭۔حافظ ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم الاندلسی(متوفی ۴۵۶ھ)نے لکھا ہے:
’’وأما الوضع في الحدیث فباقٍ ما دام إبلیس وأتباعہ في الأرض ‘‘
’’اور اس وقت تک وضع ِ حدیث ( کا فتنہ ) باقی رہے گا، جب تک ابلیس اور اُس کے پیروکار رُوئے زمین پر موجود ہیں۔ ‘‘ ( المحلی:۹؍ ۱۳ مسئلہ : ۱۵۱۴)
معلوم ہوا کہ شیطان اور اُس کے چیلوں کی وجہ سے جھوٹی روایات گھڑنے اور ان کے پھیلانے کا فتنہ قیامت تک باقی رہے گا، لہٰذا ہر انسان کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئے اور اپنی خیر منانی چاہئے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ ٹھکانا جہنم مقرر کر دیا گیا ہو اور بندہ اپنے آپ کو بڑا نیک ، جنتی ، مبلغ اور عظیم سکالر سمجھتا رہے!
اس تمہید کے بعد عرض ہے کہ جھوٹی روایات پھیلانے اور غلط بیانیاں لکھنے میں پروفیسر ڈاکٹرمحمد طاہر القادری بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں، جس کی فی الحال دس (۱۰) مثالیں مع ثبوتِ وضع پیشِ خدمت ہیں:
1۔سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی طرف منسوب ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺکے پاس سفید ٹوپی تھی جسے آپ پہنا کرتے تھے ، وہ آپ کے سر اَقدس پر جمی رہتی تھی۔ ( المنہاج السوي ص ۷۷۰ ح ۹۸۵ بحوالہ ابن عساکر فی تاریخ دمشق ۴؍ ۱۹۳ (دوسرا نسخہ ۴؍ ۳۳۳) کنز العمّال ۷؍۱۲۱ ح ۱۸۲۸۵)
اس روایت کوطاہر القادری صاحب نے بطورِ حجت اپنی کتاب میں پیش کیا ہے، حالانکہ اسکی سند میں عاصم بن سلیمان کوزی راوی ہے، جس کے بارے میں 
حافظ ابن عدی نے فرمایا:
’’ یعدّ فیمن یضع الحدیث ‘‘ ( الکامل لابن عدي ۵؍ ۱۸۷۷، دوسرا نسخہ ۶؍ ۴۱۲) ’’اُس کا شمار اُن لوگوں میں ہے جو حدیث گھڑتے تھے۔‘‘
امام دارقطنی نے فرمایا:
’’بصري کذاب عن ہشام وغیرہ‘‘ ’’ہشام ( بن عروہ ) وغیرہ سے روایت کرنے والا بصری جھوٹا ہے۔‘‘(الضعفاء والمتروکین: ۴۱۲) 
2۔کئی مجہول راویوں کی ایک روایت میں آیا ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: 
’’إذا کان یوم القیامۃ نادٰی منادٍ یا محمد! قُم فادخل الجنۃ بغیر حساب، فیقـوم کل من اسمہ محمّد فیتوھم أن النداء لہ فلکرامۃ محمد لایُمنعون‘‘ (اللآلی المصنوعۃ في الأحادیث الموضوعۃ للسیوطي :۱؍ ۱۰۵)
’’جب قیامت کا دن ہو گا تو ایک منادی پکارے گا:اے محمد! اُٹھ کر جنت میں بغیر حساب کے داخل ہو جاؤ، تو ہر وہ شخص جس کا نام محمد ہو گا یہ سمجھتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہو گا کہ یہ نداء اُس کے لئے ہے، پس محمدﷺ کی کرامت ( بزرگی ) کے سبب انھیں منع نہیں کیا جائے گا۔ ‘‘
یہ روایت بیان کر کے جلال الدین سیوطی نے فرمایا: 
’’ ھذا معضل،سقط منہ عدۃ رجال، واﷲ أعلم ‘‘ ( ایضاً: ص ۱۰۵، ۱۰۶)
’’یہ معضل ( یعنی شدید منقطع) ہے، اس سے کئی راوی گر گئے ہیں۔ واللہ اعلم ‘‘ 
محدثین کی اصطلاح میں ’ معضل‘ اُس روایت کو کہتے ہیں جس کے ’’ درمیان سند سے دو متوالی راویوں کو چھوڑ دیا جائے۔‘‘ ( دیکھئے تذکرۃ المحدثین از غلام رسول سعیدی، ص ۳۴)
متوالی کا مطلب ہے: اوپر نیچے، پے در پے ، لگاتار۔
سیوطی کی بیان کردہ اس موضوع اور معضل روایت کو علی بن برہان الدین حلبی شافعی (متوفی۱۰۴۴ھ)نے اپنی کتاب ’انسان العیون‘ یعنی السیرۃ الحلبیۃ میں درج ذیل الفاظ کے ساتھ نقل کیاہے: 
’’وفي حدیثٍ معضلٍ: إذا کان یوم القیامۃ ۔ ۔ ۔ ‘‘ (۱؍ ۸۳، دوسرا نسخہ :۱؍ ۱۳۵)
اس روایت کو طاہر القادری صاحب نے اپنی علمیت کا اظہار کرتے ہوئے درج ذیل الفاظ میں نقل کیا ہے:
’’ مُعضل سے مروی حدیث ِمبارکہ میں ہے: 
إذا کان یوم القیامۃ ‘‘( تبرک کی شرعی حیثیت، ص ۵۸، اشاعت سوم، ستمبر ۲۰۰۸ئ)
گویا کہ طاہر القادری صاحب کے نزدیک معضل نامی کوئی راوی تھا ، جس سے یہ موضوع حدیث مروی ہے۔ سبحان اللہ !!
اُصولِ حدیث کی اِصطلاح معضل( یعنی منقطع) کو راوی بنا دینا اس بات کی دلیل ہے کہ واقعی طاہر القادری صاحب بہت بڑے ’ ڈاکٹر ‘ اور ’ پروفیسر‘ ہیں۔ سبحان اللہ !
3۔ایک روایت میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم !(اے نبی کریمﷺ) میں کسی ایسے شخص کو آگ کا عذاب نہیں دوں گا جس کا نام آپ کے نام پر (یعنی محمد ) ہو گا۔ (إنسان العیون یعنی السیرۃ الحلبیۃ:۱؍ ۸۳، دوسرا نسخہ :۱؍ ۱۳۵)
اس روایت کو طاہر القادری صاحب نے روایت نمبر۱ قرار دے کر بحوالہ انسان العیون بطورِ حجت پیش کیا ہے، حالانکہ انسان العیون (السیرۃ الحلبیۃ) نامی کتاب میں اس کی کوئی سند یا حوالہ موجود نہیں ہے۔
علامہ عجلونی حنفی اور ملا علی قاری نے بتایا کہ اسے ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔ (دیکھئے: کشف الخفاء ومُزیل الإلباس:۱؍۳۹۰ح ۱۲۴۵،الأسرار المرفوعۃ في الأخبار الموضوعۃ : ص ۲۰۱ رقم ۱۹۲)
ابو نعیم والی روایت کی سند سیوطی کی کتاب ذیل اللآلي المصنوعۃ (ص ۲۰۱) میں موجود ہے اور ابو نعیم کی سند سے ہی اسے مسند الفردوس میں نقل کیا گیا ہے۔ دیکھئے مسند الفردوس اور اس کا حاشیہ (۳؍ ۲۲۰ ح ۴۴۹۱ وقال في الأصل:نبیط بن شریط)
اس کے راوی احمد بن اسحق بن ابراہیم بن نبیط بن شریط کے بارے میں حافظ ذہبی نے فرمایا :
’’لا یحل الاحتجاج بہ فإنہ کذاب‘‘ ’’اس سے حجت پکڑنا حلال نہیں،کیونکہ وہ کذاب ( جھوٹا )ہے۔ ‘‘ (میزان الاعتدال:۱؍ ۸۳ ت ۲۹۶، لسان المیزان: ۱؍ ۱۳۶)
کذاب کے موضوع نسخے سے روایت کو ’ مشہور حدیث ِمبارکہ‘ کہہ کر بطورِ حجت نقل کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بیان کرنے والاڈاکٹر طاہر القادری ترویج اکاذیب میں مصروف ہے۔
4۔ایک روایت میں آیا ہے کہ آدمؑ نے (سیدنا) محمد رسول اللہﷺ کے وسیلے سے دعا کی تھی۔ طاہر القادری صاحب نے اس روایت کو بحوالہ المستدرک للحاکم ( ۲؍ ۶۱۵) نقل کر کے لکھا ہے:
’’ اس حدیث پاک کو جن اجل علماء اور ائمہ و حفاظ حدیث نے اپنی کتب میں نقل کر کے صحیح قرار دیا ہے، ان میں سے بعض یہ ہیں:
  1. البیہقي في الدلائل، ۵:۴۸۹
  2. ابو نعیم فی الحلیۃ ، ۹: ۵۳
  3. التاریخ الکبیر ، ۷: ۳۷۴
  4. المعجم الصغیر للطبراني، ۲: ۸۲
  5. الہیثمي في مجمع الزوائد، ۸: ۱۵۳ f ابن عدي في الکامل ، ۴: ۱۵۸۵
  6. الدر المنثور، ۱: ۶۰
  7. الآجري في الشریعۃ ۴۴۲۔ ۴۲۵
  8. فتاوٰی ابن تیمیہ ، ۲: ۱۵۰ ‘‘
( عقیدئہ توحید اور حقیقت ِشرک، ص ۲۶۶، اشاعت ہفتم ،جون ۲۰۰۵ئ)
اس عبارت میں طاہر القادری صاحب نے نو(۹) مذکورہ کتابوں اور علماء کے بارے میں نو (۹) عدد غلط بیانیاں کی ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
1۔امام بیہقی نے اس روایت کو صحیح نہیں کہا، بلکہ فرمایا:
’’تفرّد بہ عبدالرحمٰن بن زید ابن أسلم من ھذا الوجہ عنہ وھو ضعیف (واﷲ أعلم)‘‘ ( دلائل النبوۃ :۵؍ ۴۸۹ ،طبع دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان ) ’’اس سند کے ساتھ عبدالرحمن بن زید بن اسلم منفرد ہوا، اور وہ ضعیف ہے۔ ‘‘( واللہ اعلم )
امام بیہقی نے توراوی کو ضعیف قرار دیا ہے اور قادری صاحب کہہ رہے ہیں کہ اُنہوں نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے ۔ سبحان اللہ!
2۔حافظ ابو نعیم الاصبہانی کی کتاب حلیۃ الأولیاء ( ۹؍ ۵۳) میں یہ روایت نہیں ملی اور نہ اسے ابو نعیم کا صحیح قرار دینا ثابت ہے۔
3۔التاریخ الکبیرسے مراد اگر امام بخاری کی کتاب التاریخ الکبیرہے تو یہ روایت وہاں نہیں ملی اور نہ امام بخاری سے اسے صحیح قرار دینا ثابت ہے۔اگر التاریخ الکبیرسے مراد کوئی دوسری کتاب ہے تو اس کی صراحت کیوں نہیں کی گئی بلکہ یہ تو صریح تدلیس ہے۔
4۔المعجم الصغیر للطبراني (۲؍ ۸۲، ۸۳ ح ۱۰۰۵، بترقیمی) میں یہ روایت موجود ہے لیکن امام طبرانی نے اسے صحیح قرار نہیں دیابلکہ فرمایا:یہ (سیدنا) عمرؓسے صرف اسی اسناد (سند ) کے ساتھ مروی ہے، احمد بن سعید نے اس کے ساتھ تفرد کیا ہے۔
5۔حافظ ہیثمی نے اس روایت کو صحیح قرار نہیں دیا، بلکہ لکھا ہے:
’’رواہ الطبراني في الأوسط والصغیر وفیہ من لم أعرفھم ‘‘
’’ اسے طبرانی نے الأوسط اورالصغیرمیں روایت کیا اور اس میں ایسے راوی ہیں جنھیں میں نہیں جانتا ۔‘‘ ( مجمع الزوائد: ۸؍ ۲۵۳)
6۔ابن عدی کی کتاب الکامل کے محولہ صفحے بلکہ ساری کتاب میں یہ روایت نہیں ملی۔
7۔درّمنثور(۱؍ ۵۸، دوسرا نسخہ ۱؍ ۱۳۱)میںیہ روایت بحوالہ المعجم الصغیر للطبراني، حاکم،الدلائل لأبي نعیم، الدلائل للبیہقياور ابن عساکر موجود ہے، لیکن اسے صحیح قرار نہیں دیا گیا۔
8۔الآجري نے اسے صحیح قرار نہیں دیا۔ (الشریعہ: ص ۴۲۷، ۴۲۸ ح ۹۵۶، دوسرا نسخہ :۳؍ ۱۴۱۵)
9۔حافظ ابن تیمیہ ؒ نے اس روایت کو بحوالہ ابو نعیم في دلائل النبوۃ نقل توکیا ہے مگر صحیح قرار نہیں دیا،بلکہ عرش کے بارے میں صحیح اَحادیث کی تفسیر کے طور پر نقل کیا۔ (دیکھئے: مجموع فتاویٰ : ۲؍ ۱۵۰، ۱۵۱)بلکہ ابن تیمیہؒ نے بذاتِ خود اس روایت پر جرح کی ، فرمایا:
’’اس حدیث کی روایت پر حاکم پر انکار کیا گیا ہے،کیونکہ اُنہوں نے خود (اپنی)کتاب المدخل میں کہا: عبدالرحمن بن زید بن اسلم نے اپنے باپ سے موضوع حدیثیں روایت کیں۔۔۔( قاعدۃ جلیلۃ في التوسل والوسیلۃ ص ۸۵، مجموع فتاویٰ ج۱ص ۲۵۴۔ ۲۵۵)
فائدہ:
مجھے عبدالاول بن حماد بن محمد انصاری مدنیؒ نے خبر دی کہ میں نے اپنے والد (شیخ حماد الانصاری رحمہ اللہ)کو فرماتے ہوئے سنا:
’’إن الاعتماد علی الفتاوٰی التي في خمسۃ وثلاثین مجلدًا لا ینبغي وتحتاج إلی إعادۃ النظر وقد وجدّتُ فیھا تصحیفًا وتحریفًا ‘‘ 
’’بے شک پینتیس (۳۵) جلدوں والے فتاویٰ پر اعتماد نہیں کرنا چاہئے اور ( اس میں)نظر ثانی کی ضرورت ہے،میں نے اس میں تصحیف اور تحریف پائی ہے۔‘‘ ( نیز دیکھئے المجموع في ترجمۃ حماد الانصاري :۲؍ ۷۲۳ فقرہ نمبر ۱۱۰)
معلوم ہوا کہ فتاویٰ ابن تیمیہ مطبوعہ پر اندھا دھند اعتماد صحیح نہیں بلکہ اس کی عبارات کو حافظ ابن تیمیہ ؒکی دوسری عبارات پر پیش کرنا چاہئے۔
قادری صاحب کی نو( ۹) غلط بیانیوں کے تذکرے کے بعد عرض ہے کہ مستدرک الحاکم وغیرہ کی روایتِ مذکورہ موضوع ہے۔ اسے حافظ ذہبی نے موضوع کہا اور باطل خبر قرار دیا۔ حافظ ابن حجر نے ’خبرًا باطلا‘ والی جرح نقل کر کے کوئی تردید نہیں کی یعنی حافظ ابن حجر کے نزدیک بھی یہ روایت باطل ہے۔ (دیکھئے: لسان المیزان :۳؍ ۳۶۰، دوسرا نسخہ :۴؍ ۱۶۲)
٭۔اگر کوئی کہے کہ حاکم نے اسے صحیح الإسناد کہا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تصحیح کئی وجہ سے غلط ہے۔مثلاً:
1۔خود حاکم نے اس روایت کے ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم کے بارے میں فرمایا: 
’’روٰی عن أبیہ أحادیث موضوعۃ۔ ۔ ۔‘‘ ( المدخل إلی الصحیح ص ۱۵۴ت ۹۷)
’’اُس نے اپنے باپ سے موضوع حدیثیں بیاں کیں ۔‘‘
گویا وہ اپنی شدید جرح بھول گئے تھے۔
2۔حاکم کی یہ جرح جمہور علماء مثلاً حافظ ذہبی وغیرہ کی جرح سے معارض ہے۔
3۔حاکم اپنی کتاب المستدرک میں متساہل تھے۔
4۔اس کی سند میں عبداللہ بن مسلم راوی ہے، جس کے بارے میں حافظ ابن حجرؒ نے فرمایا کہ اس کا عبداللہ بن مسلم بن رشید ہونا میرے نزدیک بعید نہیں ہے۔ ( لسان المیزان ۳؍ ۳۶۰)
اس ابن رشید کے بارے میں حافظ ابن حبان نے فرمایا:’یضع‘وہ ( حدیثیں) گھڑتا تھا۔ ( المجروحین:۲؍ ۴۴، لسان المیزان:۳؍ ۳۵۹)
5۔ایک روایت میں آیا ہے کہ ’’ کوئی قوم مشورہ کے لئے جمع ہو اور محمد نام والا کوئی شخص اُن کے مشورہ میں داخل نہ ہو تو اُن کے کام میں برکت نہیں ہو گی۔‘‘ (موضح أوھام الجمع والتفریق للخطیب:۱؍ ۴۲۹،دوسرا نسخہ ۱؍ ۴۴۶ ذکر أحمد بن حفص الجزري )
یہ روایت نقل کر کے طاہر القادری صاحب نے لکھا ہے کہ
’’ حلبی نے إنسان العیون (۱:۱۳۵) میں کہا ہے کہ حفاظِ حدیث نے اِس روایت کی صحت کا اِقرار کیا ہے۔ ‘‘ ( تبرک کی شرعی حیثیت ،ص ۶۰ حاشیہ ۲)
عرض ہے کہ نہ تو حلبی نے انسان العیون ( ۱؍ ۱۳۵، دوسرا نسخہ ۱؍ ۸۳) میں یہ بات کہی ہے اور نہ حفاظِ حدیث نے اس کی صحت کا اقرار کیا ہے بلکہ حلبی نے روی کہہ کر اس روایت کو بغیر سند اوربغیر حوالے کے ذکر کیاہے
جبکہ حافظ ذہبی نے اس روایت کے راوی احمد بن کنانہ شامی پر ابن عدی کی جرح نقل کی، اور یہ حدیث مع دیگر اَحادیث نقل کر کے فرمایا:
’’قلت:وھٰذہ أحادیث مکذوبۃ‘‘ ’’میں نے کہا: اور یہ حدیثیں جھوٹی ہیں۔ ‘‘ ( میزان الاعتدال :۱؍ ۱۲۹ ت ۵۲۲)
حافظ ابن حجر نے اس جرح کو نقل کر کے برقرار رکھا اور کوئی تردید نہیں کی۔ (دیکھئے :لسان المیزان :۱؍ ۲۵۰، دوسرا نسخہ :۱؍ ۳۷۷)
حفاظِ حدیث نے تو اس روایت کو مکذوب(جھوٹی) قرار دیا ہے، لیکن طاہر القادری صاحب اسے صحیح باور کرانے کی فکر میں ہیں ۔
6۔طاہر القادری صاحب نے امام ابو حنیفہ سے ایک روایت نقل کی :
’’ میں نے حضرت انس بن مالکؒسے سنا، اُنھوں نے حضور نبی اکرمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
’’ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلیٰ کُلِّ مُسْلِمٍ ‘‘
’’علم حاصل کرناہر مسلمان پر فرض ہے۔ ‘‘( امام ابو حنیفہ امام الائمہ فی الحدیث :۱؍ ۷۸۷، ۷۸۶)
قادری صاحب نے اس کے لئے تین حوالے دیئے:
  1. ’’ ابو نعیم الاصبہانی ، مسند الامام ابی حنیفہ : ۱۷۶ ( ہمارا نسخہ ص ۲۴)
  2. خطیب بغدادی ، تاریخ بغداد ، ۴: ۲۰۸، ۹: ۱۱۱
  3. موفق ، مناقب الامام الاعظم ابی حنیفہ ، ۱: ۲۸ ‘‘
اس کے بعد قادری صاحب نے دیگر محدثین کے حوالے دیئے ، جن کی روایات میں إمام أبو حنیفۃ قال:سمعت أنس بن مالک رضي اﷲ عنہ یقول:‘‘ کا نام و نشان تک نہیں لہٰذا اُن کا یہاں ذکر صحیح نہیں ہے۔
روایت ِ مذکورہ کی تینوں سندوں میں احمد بن صلت حمانی راوی ہے، جسے امام ابن عدی، حافظ ابن حبان اور امام دارقطنی وغیرہم نے کذاب قرار دیا اور حافظ ذہبی نے فرمایا:
’’ کذاب وضّاع‘‘( میزان الاعتدال:۱؍ ۱۴۰) ’’وہ جھوٹا، حدیثیں گھڑنے والا ہے۔الخ ‘‘ تفصیل کے لئے دیکھئے ماہنامہ ’الحدیث‘ حضرو ( عدد ۷۲ ص ۱۲۔۱۳)
قادری صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ کذاب راوی کی منفرد روایت موضوع ہوتی ہے اور روایتِ مذکورہ کو کسی ثقہ و صدوق راوی کا امام ابو حنیفہ سے’’ قال سمعت أنس ابن مالک رضي اﷲ عنہ‘‘کی سند سے بیان کرنا کہیں بھی ثابت نہیں ہے۔موٹی موٹی کتابیں لکھنے کے بجائے اگر چھوٹی سی مختصر اور صحیح احادیث والی کتاب ہو تو دنیا اور آخرت دونوں کے لئے مفید ہو سکتی ہے بشرطیکہ آدمی کا عقیدہ صحیح ہو اور کتاب سلف صالحین کے فہم و منہج پر ہو۔
تنبیہ:
روایتِ مذکورہ پر خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے درج ذیل جرح فرمائی ہے:
اسے بشر ( بن الولید ) سے احمدبن صلت کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا اور یہ ابو یوسف سے محفوظ( یعنی صحیح ثابت ) نہیں ہے اور انس بن مالک ؓسے امام ابو حنیفہ کا سماع ثابت نہیں ہے۔ واللہ اعلم (تاریخ بغداد :۴؍ ۲۰۸)
دوسرے حوالے میں اس روایت کے بارے میں خطیب بغدادی نے فرمایا: 
’’لا یصح لأبي حنیفۃ سماع من أنس بن مالک وھذا الحدیث باطل بھٰذا الإسناد ۔ ۔ ۔ ‘‘ (تاریخ بغداد ۹؍ ۱۱۱ ت ۴۷۱۹)
’’انس بن مالکؓ سے ابو حنیفہ کا سماع صحیح نہیں ہے اور یہ حدیث اس سند سے باطل ہے۔۔۔ ‘‘
تاریخ بغداد کے مذکورہ حوالے پیش کرنا اور اس جرح کو چھپانا اگر خیانت نہیں تو پھر کیا ہے؟
7۔طاہر القادری صاحب نے امام ابو حنیفہ سے ذکر کیا کہ 
’’ میں نے حضرت عبداللہ بن اُنیسؓ سے سنا:اُنہوں نے حضور نبی اکرمﷺسے سنا: تیری کسی چیز سے محبت تجھے اندھا اور بہرا کر دیتی ہے۔ ‘‘ ( المنہاج السوي ص ۸۰۸ ح ۱۰۴۶ بحوالہ جامع المسانید للخوارزمي:۱؍ ۷۸)
عرض ہے کہ مسند الخوارزمی کی اس روایت کا دارومدار أبو علی الحسن بن علی بن محمد بن إسحق دمشقی التمار پر ہے، جس نے اسے علی بن بابویہ اسواری عن جعفر بن محمد بن علی بن الحسن عن یونس بن حبیب عن أبی داود طیالسی کی سند سے روایت کیا ہے۔(جامع المسانید:۱؍ ۷۸۔ ۷۹)
اس الحسن بن علی کے بارے میں امام ابن عساکر نے فرمایا:
’’حدّث عن علي بن بابویہ الأسواري عن أبي داود الطیالسي بخبر کذب والحمل فیہ علیہ أو علیٰ شیخہ فإنما مجھولان‘‘ 
’’اس نے علی بن بابویہ اسواری عن ابی داود الطیالسی کی سند سے جھوٹی روایت بیان کی جس کا ذمہ دار وہ یا اُس کااستاد ہیں کیونکہ یہ دونوں مجہول ہیں۔ ‘‘ ( لسان المیزان:۲؍ ۲۴۰، ۲۴۱ ، نیز دیکھئے :لسان المیزان :۲؍ ۲۳۶)
سیدنا عبداللہ بن اُنیسؓ جون (۵۴) ہجری میں فوت ہوئے تھے اور امام ابو حنیفہ اَسّی ( ۸۰) ہجری میں پیدا ہوئے تھے۔ دیکھئے: تقریب التہذیب (۳۲۱۶ ، ۷۱۵۳)
اپنی پیدائش سے چھبیس ( ۲۶) سال پہلے فوت ہو جانے والے صحابی سے امام ابو حنیفہ کس طرح حدیث سن سکتے تھے؟ کیا انہی ’ تحقیقات ‘ کی بنا پر انہوں نے ’شیخ الاسلام‘ کا لقب اختیار کیا ہے؟! 
8۔طاہر القادری صاحب فرماتے ہیں:
’’ حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ۸۰ ہجری میں پیدا ہوا اور میں نے اپنے والد کے ساتھ ۹۶ ہجری میں ۱۶ سال کی عمر میں حج کیا پس جب میں مسجد ِحرام میں داخل ہوا میں نے ایک بہت بڑا حلقہ دیکھا تو میں نے اپنے والد سے پوچھا یہ کس کا حلقہ ہے؟تو اُنہوں نے فرمایا: یہ عبداللہ بن جَزء زبیدی کا حلقہ ہے۔ پس میں آگے بڑھا اور ان کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جو اللہ تعالیٰ کے دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے غموں کو کافی ہو جاتا ہے اور اسے وہاں وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا۔‘‘ ( المنہاج السوي ص ۸۰۹ ح ۱۰۴۸، بحوالہ جامع المسانید للخوارزمي ۱؍۸۰، تاریخ بغداد للخطیب البغدادي۳؍ ۳۲ رقم ۹۵۶)
اس روایت کی دو سندیں ہیں:
1۔ایک میں احمد بن صلت حمانی ہے جو کہ بہت بڑا کذاب تھا۔ (دیکھئے مضمون ہذا ،روایت نمبر ۶)
2۔الحسن بن علی دمشقی کذاب ہے ۔ (دیکھئے روایت نمبر ۷)
اسکے باقی کئی راوی مجہول ہیں اور سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدیؓ اس جھوٹی روایت کے برعکس ۸۵، ۸۶، ۸۷ یا ۸۸ھ میں فوت ہو گئے تھے۔ (دیکھئے: تقریب التہذیب: ۳۲۶۲)
9۔طاہر القادری صاحب نے سیدنا ابو ہریرہؓ کی طرف منسوب سند سے نقل کیا کہ رسول اللہﷺکے پاس ایک شامی سفید ٹوپی تھی۔
( المنہاج السوي ص ۷۶۹ ح ۹۸۳ ، بحوالہ جامع المسانید للخوارزمي ۱؍ ۱۹۸)
اس روایت کا پہلا راوی ابو محمد عبداللہ بن محمد بن یعقوب البخاری الحارثی کذاب ہے۔ اس کے بارے میں امام ابو احمد الحاکم الکبیر اور حاکم نیشاپوری صاحب المستدرک دونوں نے فرمایا: ’’وہ حدیث بناتا تھا۔‘‘ ( کتاب القراء ۃ للبیہقي ص ۱۵۴، دوسرا نسخہ ص ۱۷۸ ح ۳۸۸ وسندہ صحیح إلیہما)
مزید تفصیل کے لئے دیکھئے الکشف الحثیث عمن رُمی بوضع الحدیث (ص ۲۴۸) لسان المیزان ( ۳؍ ۳۴۸۔ ۳۴۹) اور میری کتاب نُور العینین (ص ۴۳)
نیز اس روایت میں کئی راوی نامعلوم ہیں۔
10۔طاہر القادری صاحب نے لکھا ہے:
’’ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے مبارک قدموں کو بھی یہ معجزہ عطا فرمایا کہ اُن کی وجہ سے پتھر نرم ہو جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے قدومِ مبارک کے نشان بعض پتھروں پر آج تک محفوظ ہیں۔ ‘‘
1۔حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں:
’’ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ کَانَ إذا مَشٰی عَلَی الصَّخر غَاصَتْ قَدَمَاہُ فِیْہِ وَ أَثرت ‘‘ (تبرک کی شرعی حیثیت ،ص۷۶، اشاعت سوم ستمبر ۲۰۰۸ئ)
(زرقانی ، شرح المواھب اللدنیہ ،۵:۴۸۲… سیوطی ، الجامع الصغیر،۱:۲۷،رقم:۹)
’’ حضور نبی اکرمﷺ جب پتھر وں پر چلتے تو آپﷺ کے پاؤں مبارک کے نیچے وہ نرم ہو جاتے اور قدمِ مبارک کے نشان اُن پر لگ جاتے۔‘‘ حالانکہ یہ روایت ذکر کرنے کے بعد زرقانی (متوفی ۱۱۲۲ھ) نے لکھاتھا :
’’ وأنکرہ السیوطي وقال: لم أقف لہ علیٰ أصل ولا سند ولا رأیت من خرجہ في شيء من کتب الحدیث وکذا أنکرہ غیرُہ لکن ۔۔۔ ‘‘ 
’’اور سیوطی نے اس ( روایت ) پر انکار کیا اور کہا: مجھے اس کی کوئی اصل یا سند نہیں ملی اور نہ میں نے دیکھا کہ حدیث کی کتابوں میں کسی نے اسے روایت کیا ہے، اور اس طرح دوسروں نے بھی اس (روایت) کا انکار کیا لیکن ۔۔۔ ‘‘ ( المواہب اللدنیۃ :۵؍ ۴۸۲)
’لیکن‘ والی بات تو بے دلیل ہے اور سیوطی کی کتاب الجامع الصغیرمیں یہ روایت قطعاً موجود نہیں بلکہ عبدالرؤف المناوی نے اسے الجامع الصغیرکی شرح میں ذکر کیا اور کہا: ’’ولم أقف لہ علیٰ أصل‘‘ مجھے اس کی کوئی اصل نہیں ملی۔ (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر:۵؍ ۹۱ح ۶۴۷۸)
مناوی کی اس شرح کے شمائل والے حصے کو حسن بن عبید باحبشی (مجہول)نے الشمائل الشریفۃ کے نام سے دار طائر العلم سے شائع کیا اور اس کی ج۱؍ص ۹، رقم ۹ (الشاملہ) پر یہ روایت مناوی کی جرح کے ساتھ موجود ہے۔
محمد بن یوسف صالحی شامی نے کہا:
’’ولا وجود لذٰلک في کتب الحدیث البتۃ‘‘ ( سبل الھدی والرشاد في سیرۃ خیر العباد ۲؍ ۷۹، مکتبہ شاملہ)
’’اور اس ( روایت ) کا کتب ِ حدیث میں کوئی وجود نہیں ہے۔‘‘
خلاصہ یہ کہ اس بے سند اوربے اصل (موضوع) روایت کو طاہر القادری نے حدیثِ رسول قرار دے کر عام لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے۔
لنک