Showing posts with label اسلام اور عصر حاضر. Show all posts
Showing posts with label اسلام اور عصر حاضر. Show all posts

Tuesday, 9 July 2013

مکہ میٹرو پراجکٹ کا 2014 میں افتتاح

مکہ میٹرو پراجکٹ کا 2014 میں افتتاح


مکہ میں 62 بلین ریال مالیتی عوامی ٹرانسپورٹ نظام شہریوں کے علاوہ عازمین حج و عمرہ کے ٹرانسپورٹ میں ڈرامائی ارتقاء کا وسیلہ بنے گا۔ اس نظام 
میں 4 لائنوں پر مشتمل میٹرو ریل اور 88 اسٹیشن اور ایک تیز رو بس خدمات نٹ ورک بھی شامل ہوگا۔
مکہ کے مئیر اسامہ البر نے یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایاکہ پراجکٹ کے پہلے مرحلہ کا کام آئندہ سال کے وسط میں شروع ہوگا۔ پراجکٹ کا یہ حصہ 25.5 بلین ریال کے مصارف سے مکمل ہوگا اور اس کی تکمیل میں 3برس لگ جائیں گے۔ مسجد الحرام کے ارد گرد کے علاقوں میں زیر زمین لائنیں بچھائی جائیں گی۔ یہ سلسلہ تیسرے رنگ روڈ کی تعمیر تک جاری رہے گا۔ اس علاقہ سے باہر لائینیں متعلق پلوں پر سے گذریں گے۔
 پراجکٹ کے پہلے مرحلہ میں ام القراء یونیورسٹی سے سیدہ عائشہ مسجد تک 30 کیلو میٹر لائن بچھانے کا عمل مکمل ہوگا۔ ام القراء یونیورسٹی عابدیہ میں قائم ہے۔ مکہ مئیر الٹی کی زیر ملکیت کمپنی البلاد الامین میٹرو ریل پراجکٹ کا تکنیکی جائزہ لیا ہے جس کا نفاذ مکہ ریلوے کمپنی کی جانب سے عمل میں آئے گا۔ اس پراجکٹ پر ایک فرانسیسی مشاورتی کمپنی سستر اور جرمن کمپنی بی ڈبلیو انجینئرس بھی کام کریں گی۔ بس خدمات کو میٹرو نظام سے مربوط کیا جائے گا۔ البر نے مزید وضاحت کی کہ تیز رفتار بس خدمات شہر کے مختلف علاقوں کو ایک دوسرے سے مربوط کریں گی۔ 60 کیلو میٹر کے فاصلہ 160 اسٹیشنوں پر قیام سے طئے ہوگا۔ ان علاقوں میں مقامی بس خدمات کا انتظام ہوگا جہاں میٹرو ریل اسپیڈ بس نٹ ورک نہیں ہوگا۔ مقامی بسیں مسجد الحرام اور ارد گرد کے رہائشی اضلاع تک 65کیلو میٹر کا فاصلہ طے کرے گی۔
 انہوں نے یہ بھی بتایاکہ پبلک ٹرانسپورٹ اسکیم 3مرحلوں میں اور 10سال میں مکمل ہوگی۔ میٹرو نظام کیلئے فیڈر بس خدمات کا آغاز ہوگا۔ مکہ کے گورنر پرنس خالد الفیصل جدہ ہلٹن میں آج پراجکٹ پر 2روزہ ورکشاپ کا افتتاح کریں گے۔ پراجکٹ کے انتظام کی ذمہ دارایاں ایک برطانوی مشاورتی کمپنی انجام دے گی جس کے ساتھ معاہدہ پر دستخط ہوگا۔
گورنر نے اپنے نائب عبدالعزیز الخضائر کی زیر صدارت11 رکنی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور پراجکٹ کی نگہداری اسی کے ذمہ ہوگی۔ البر نے 
مشائر ریلوے اور حرمین ریلوے اسٹیشن کو مربوط کرنے کے ایک پراجکٹ کے نفاذ کے پلان سے بھی آگاہ کیا۔

Monday, 27 May 2013

سیکس گرومنگ اسکینڈل (برطانیہ)

سیکس گرومنگ اسکینڈل 



برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کو چاہئے کہ وہ ان ٹولیوں کے مسئلہ کی یکسوئی کریں جو منظم خطوط پر فروغ پاتے ہوئے نوجوان سفید فام لڑکیوں کا 
استعمال بیجا کررہے ہیں۔ آکسفورڈ میں 11سال عمر تک کی لڑکیوں کے خلاف قرون وسطی کی بدچلنی پر مبنی جرائم کے ارتکاب کی پاداش میں 7افراد کو سزا سنائی گئی۔ برطانوی وزیر انصاف ڈیمین گرین نے یہ بات بتائی۔ انہوں نے بتایاکہ وقت آچکا ہے کہ اس مسئلہ کی سیاسی تصحیح کے کسی بھی امکان کو مسترد کردیاجائے۔ پاکستانی نژاد افراد کو لڑکیوں کے خلاف جنسی جرائم کا قصور وار قرار دیا گیا۔ بحیثیت مجموعی ان کے خلاف 43جرائم پر انہیں خاطی قراردیا گیا۔ آکسفورڈ کے رہنے والے قمر جمیل، اختر ڈوگر، انجم ڈوگر، اسد حسین، محمد کرار، باسم کرار، ذیشان احمد اور محمد حسین جن کی عمریں 20تا30سال ہے انہیں عصمت ریزی یا اس جرم کی سازش پر متاثرہ لڑکیوں کو جنسی افعال کے ارتکاب سے قبل الکحل اور منشیات کا استعمال کروایا گیا تھا۔ بعض کو زدوکوب کیا گیا اور دیگر کو جھلساتے ہوئے دھمکیاں بھی دی گئیں۔ اولڈ بیلی کے جج نے آج اپنے فیصلے میں بتایاکہ "تم لوگوں کو انتہائی سنگین جرائم کا قصور وار قرار دیا گیا ہے اور مدت طویل تک حراست کے فیصلے ناگزیر ہیں"۔ متاثرہ لڑکیاں جن کی عمریں11تا15 سال تھیں انہوں نے پولیس کو اپنی استحصال اور ان دہشت ناک سرگرمیوں پر چوکس کیا تھا جو آکسفورڈ کے علاقہ کا ولی میں کھلے مقامات اور پارکس میں واقع فلیٹس اور گیسٹ ہاوزس میں جاری تھیں۔ اگرچہ کے بعض سماجی ورکرس اس بات سے واقف تھے کہ چند لڑکیوں کو تیار کیا جارہا تھا تاہم کسی نے بھی کوئی کارروائی نہیں کی اور ثبوت اکٹھا نہیں کیا۔ بعدازاں ایک تحقیقاتی عہدیدار نے 2010 کے اواخر میں اس کیس کا جائزہ حاصل کیا تھا۔ پولیس اور سماجی خدمات کی جانب سے متاثرین سے معذرت خواہی کی گئی ۔ جبکہ پولیس نے ان کی تعداد امکانی طورپر 50سے متجاوز بتائی ہے۔ 2010ء کے بعد یہ پانچواں آکسفورڈ اسکینڈل رہا ہے جبکہ مذکورہ سال کے دوران پاکستانیوں کے ٹولوں کو راشڈیل، ڈرجی، راٹرہیمپ اور شراپ شائر میں ممثال کیسس پر سزا سنائی گئی تھی۔ ڈیلی ٹیلیگراف کو دئیے گئے انٹرویو میں پولیس اور فوجداری انصاف کے وزیر گرین نے بتایاکہ وہ بچوں کے خلاف جنسی تشدد کی کارروائی کے مسئلہ سے نمٹنے دفتر داخلہ کی زیر قیادت گروپ تشکیل دے رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بتایاکہ پاکستانی قائدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پوری طرح اس بات کو واضح کریں کہ اس قسم کا رویہ صد فیصد ناقابل قبول ہے۔ 




                                                                                     
اس پر تبصرہ بے معنی ہی لگتا ہے، برطانیہ میں اس قسم کے پاکستانیوں نے اپنی اور اپنے ملک کی عزت خاک میں ملا کر رکھ دی ہے۔ جہاں دیکھو ان پاکستانیوں نے قانون توڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، یہ لوگ پوری دنیا میں تو مشھور ہیں ہی مگر یوکے میں بھی ان لوگوں نے اپنی کاروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ 
منشیات میں دیکھو یہ آگے، جیل میں دیکھو یہ آگے، بچوں کا استحصال دیکھو تو یہ آگے،فراڈ میں دیکھو تو یہ آگے، یعنی کہ کہیں بھی انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اوپر سے سینہ چوڑا کرکے کہتے ہیں کہ ہم ہی اصل مسلمان ہیں اور ہم ہی محب وطن پاکستانی ہیں۔ 
کبھی پی آئی اے پائلٹ پاسپورٹ کی بوریاں لے کر یہاں بیچتے ہیں تو کبھی پاکستانی ایف آئی اے کے لوگ امیگریشن فراڈ میں ملوث نظر آتے ہیں، کیا عام سا بندہ کیا سرکاری افسر، کیا پرائیوٹ کمپنی کیا سرکاری ادارہ سب لوگ برطانیہ میں جرائم کرنے میں باز نہیں آتے۔ 
اکثریت پاکستانیوں کی برطانیہ میں امن پسند ہیں اور اچھے اچھے فلاحی کاموں میں اور سیاست میں اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں مگر ان چند لوگوں کی وجہ سے ہم سب لوگ بدنام ہوکر رہ گئے ہیں۔ 
کبھی پاکستانی ٹیکسی ڈرائیوروں کا اسکینڈل سامنے آیا تھا کہ یہ لوگ سفید فام لڑکیوں کو جو شراب کے نشے میں ان کے ٹیکسی میں بیٹھتی تھیں ان کی عزتیں لوٹتے تھے اور دوستوں کو بھی مدعو کرتے تھے، اب کی بار تو سیکس گروممنگ اسکینڈل نے پورے برطانیہ میں ہلچل مچادی۔ پاکستانیوں کی یہاں جو ۃھوڑی بہت عزت تھی وہ بھی خود انہوں نے خاک میں ملادی۔ 
پاکستان میں تو یہ لوگ بچوں کے ساتھ زیادتی کرکے قتل کردیتے ہیں مگر اس قسم کے ذہنی مریض لوگوں نے برطانیہ میں بھی اس قسم کی کاروائیان جاری رکھی ہوئی تھی مگر یہ لوگ بھول گئے تھے یہ یہ پاکستان نہیں بلکہ برطانیہ ہے جہاں قانون کا بول بالا ہے اور کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے اور ہر کسی کو جو قانون کو ہاتھ میں لیتا ہے قانون کے سامنے جوابدہ ہوگا۔ ان شاءاللہ 
پتہ نہیں کب یہ قوم سدھرے گی اور اپنی غلط حرکتوں سے باز آئی گی، اللہ ہی ان کو سیدھے راستے پر لاسکتا ہے۔ ان شاءاللہ 

Sunday, 3 June 2012

بر طانیہ میں مسلمانوں کا قیام : صدیوں کے آئینے میں

بر طانیہ میں مسلمانوں کا قیام : صدیوں کے آئینے میں

مسجد القديسة آن
 چاسرنے کینٹربری ٹیلز میں اسلامی اسکالرز کے حوالے دئیے ہیں۔
1386 ء
جان نیلسن پہلا شخص تھا جس کے اسلام قبول کرنے کا علم ہوا۔
16 ویں صدی میں
اوکسفرڈ اور کیمبرج یونی ورسٹیوں نے عربی چیئرز قائم کیں۔
1630 ء کے عشرے میں
ایک دستاویز میں حوالہ دیا گیا کہ  ’  محمتنوں (ahomatens) کے ایک فرقے کا یہاںلندن میں پتا چلا ہے‘۔
1641 ء
  الیگزینڈر راس نے انگریزی زبان میں قران مجید کا پہلا ترجمہ کیا۔
1649 ء
مسلمانوں کا پہلا بڑا گروپ ہندوستان سے برطانیہ پہنچا۔ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں جو بحری عملہ بھرتی کیا اس نے ساحلی علاقوں اور شہروں میں پہلی مسلمان کمیونٹیز کی 
تشکیل کی۔دوسرے افراد ان علاقوں سے آئے جو اب بنگلہ دیش اور پاکستان کا حصہ ہیں۔
1700 ء
  نہر سوئیز کے کھلنے سے مسلمان تارکینِ وطن کی ایک اور لہر آئی۔تجارت کو فروغ ہوا تو یمنی اورصومالی محنت کش کارڈف،  لورپول،  پولک شیلڈز اور لندن کے ساحلوں پرکام کرنے آ پہنچے۔
1869 ء
مغربی رسم الخط میں تحریر شدہ قدیم قرانی نسخہ؛   مرسیہ اور انگلینڈ کے بادشاہ اؤفا مصنوعی سونے کا سکہ دینار، یہ سکہ عباسی خلیفہ منصور کے 157ہجری  (74  عیسوی)سونے 
کے دینار کی نقل ہے اور اس پر عربی میںاسلامی کلمہ شہادت کندہ کیا گیا ہے۔
لندن  میں انجمنِ اسلام قائم ہوئی جسے بعد میں پین اسلامک سوسائٹی کا نام دیا گیا۔
1886 ء
لور پول کے ایک سا لیسٹر ولیم ہنری کوئیلیم نے مراکش میں اپنے قیام کے دوران اسلام قبول کیا۔انہوں نے لورپول میں لورپول مسجد، مسلم انسٹی ٹیوٹ اور ایک یتیم خانہ مدینہ ہاؤس قائم کیا۔وہ ’  اسلامک ورلڈ‘  او ر  ہفت روزہ ’ کریسنٹ‘  کی ادارت بھی کرتے تھے۔
1887 ء
ووکنگ میں پہلی باقاعدہ تعمیر شدہ مسجد کا افتتاح ہوا۔
1889 ء
ایک اسلامی اسکالر امیر علی نے رٹز میں ایک عوامی میٹنگ منعقد کی جس میں لندن میں ایک’  ایسی مسجد کے قیام کا مطالبہ کیا گیا جو اسلامی روایات اور برطانوی سلطنت کے دارالحکومت کے شانِ شایان ہو  ‘۔
1910 ء
جانوروں کے ذبیحے کے قانون میں حلال ذبیحے کے لئے استثناء فراہم کیا گیا۔
1911 ء
لاہور سے ایک بیرسٹر خواجہ کمال الدین لندن صرف اس مقصد سے آئے کہ اسلام کے بارے میںغلط فہمیاں دور کی جاسکیں۔ایک سال بعد انہوں نے اسلامک ریویو شائع کرنا شروع کیا۔
1912 ء
انگریز نومسلم لارڈ ہیڈلی نے برٹش مسلم سوسائٹی کی بنیاد ڈالی۔
1914 ء
لندن میں مرکزی مسجد کی تعمیر کی تجاویز پر غور کرنے کے لئے لندن نظامیہ ٹر سٹ قائم کیا گیا۔
1928 ء
 برٹش لائبریری میں ایرانی اور ترکی ذخیرے کے مہتمم ڈاکٹر محمد عیسٰی والی ؛  ووکنگ مسجد
حکومت نے لندن میں مسجد کی تعمیر کے لئے00,000پاؤنڈ مختص کر دئیے۔
1940 ء
ایسٹ لند ن مسجد ٹرسٹ نے کمرشل روڈاسٹیپنی میں تین عمارتیں خرید کر انہیں لندن کی پہلی مسجد میں تبدیل کر دیا۔
1941 ء
شاہ جارج ششم ریجنٹس پارک لندن میں اسلامک کلچرل سینٹر کے افتتاح میں شریک ہوئے۔
1944 ء
اسلامی ملکوں کے 13سفیروں نے سینٹرل لندن مسجد ٹرسٹ قائم کردیا۔
1947 ء
تقسیم کے بعد بھارت اور پاکستان سے مسلمان تارکینِ وطن برطانیہ پہنچے۔برطانیہ میں محنت کشوں کی کمی سے ، جوخاص طور پر یارکشائر اور لنکاشائر میںاسٹیل اور کپڑا بنُنے کی صنعت میںتھی اس نقل ِمکانی کی حوصلہ افزائی ہوئی
1950-60 ء
مسلمانوں کی آبادی اندازاً 23,000ہو گئی۔
1951 ء
مسلمان تارکینِ وطن کی اگلی لہر افریقہ ، خاص طور پر کینیا اور یوگنڈا سے آئی جہاں کئی ایشیائیوں کو تعصب کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
1960-70 ء
برطانیہ میں مسلمان آبادی 82,000تک پہنچ گئی ، یہ اضافہ لوگوں کے کامن ویلتھ ایکٹ (962ئ) نافذ ہونے سے پہلے برطانیہ پہنچنے کی کو شش کی وجہ سے ہوا کیونکہ اس ایکٹ سے کامن ویلتھ کے شہریوں کابرطانیہ میں داخلے کا خود اختیاری حق ختم ہونے والا تھا۔
1961 ء
 ایسٹ لندن مسجد؛ کارڈف، ویلز میں 50سال تک امامت کرنے والے شیخ زید؛ ایک ایشیائی دلہن نورجہاں
برطانیہ میں اب 18مساجدہوگئیں،  جن کی تعداد میں اگلے دس سال میں سالانہ سات کے حساب سے اضافہ ہوتا رہے گا۔
1966 ء
مسلمان آبادی اندازاً 369,000ہوگئی۔
1971 ء
عیدی امین نے یوگنڈا سے 60,000ایشیائی مسلمانوں کو نکال دیا ، جن میں سے بیشتر برطانیہ میں آباد ہوگئے۔
1972 ء
اسلامک کونسل آف یورپ کا قیام عمل میں آیا جس کاہیڈ کوارٹر لندن بنا۔عیسائیوں اورمسلمانوں میں ’ محلے میں اسلام ‘  کے موضوع پر پہلا ڈائیلاگ ہوا۔
1973 ء
برٹش کونسل آف چرچز نے برطانیہ میں اسلام کے مطالعے کے لئے ایک مشیر مقرر کیا۔
1974 ء
ملکہ برطانیہ نے فیسٹول آف اسلام کا افتتاح کیا۔
1976 ء
ریجنٹس پارک میں لند ن سینٹرل مسجد کی شروعات ہوئیں ۔ بلفاسٹ اسلامک سینٹر کا قیام عمل میں آیا۔آئر لینڈ میں مسلمانوں کی تعداد کا تخمینہ 3,000لگایا گیا
1977 ء
نیچے بائیں سے دائیں: ریجنٹس پارک مسجد لندن؛ اسلامک سینٹر ڈبلن ، آئر لینڈ
اسلامک ریلیف قائم ہوئی جوآج بر طانیہ کی سب سے بڑی اسلامی فلا حی تنظیم ہے۔
1984 ء
اب یہاں رجسٹرڈ مساجدکی تعداد 338 ہوگئی
1985 ء
بر طانیہ کے سب سے بڑے اسلامی جریدے ’ کیو نیو ز  ‘کا اجراء؛  بریڈفورڈ میں پہلے رمضان ریڈیو نے مذہبی تقاریر، مذہبی موسیقی اور مذاکروں کی ملی جلی نشریات کا آغاز کیا۔
1992 ء
اسلامک سوسائٹی آف برٹن نے اسلام کے بارے میں شعور کے فروغ اور غلط فہمیوں کے تدارک کے لئے پہلی باراسلامی آگاہی کا ہفتہ منعقد کیا ۔
1994 ء
انڈیپینڈینٹ رنی میڈ ٹرسٹ نے ’ برطانوی مسلمان اور اسلامو فوبیا ‘ پر کمیشن قائم کیا۔
1996 ء
  برطانیہ کی تمام اسلامی تنظیموں کی سرپرست تنظیم کی حیثیت سے مسلم کونسل آف برٹن(ایم سی بی)کا قیام عمل میں آیا۔محمد سرور (گووآن سے) پہلے مسلمان رکن پارلمینٹ منتخب ہوئے۔
1997 ء
دو اسلامی اسکولوں کوسرکاری گرانٹ کے استحقاق کا درجہ ملا۔ دار الامراء میں لارڈ نذیر احمد اور بیرونس پاؤلاالدین پہلے مسلمان لارڈز  مقرر ہوئے۔
1998 ء
فارن آفس نے حج وفد تشکیل دیا جو ہر سال حج کے لئے مکہ جانے والے 25,000حاجیوں کو طبی اور کونسلر خدمات فراہم کیا کریگا۔
2000 ء
  ہز رائل ہائی نس پرنس چارلس لندن میں اسلامیہ اسکول کا دورہ کر رہے ہیں؛ کوسووا میں اسلامک ریلیف کا فلاحی کام
قوی مردم شماری میں پہلی بار مذہب کے بارے میں ایک سوال شامل کیا گیا ۔ یارکشائر کے شہروں میں فسادات کے بعد ٹیڈ کینٹل کی سر براہی میں لئے گئے سرکاری جائزے میں کمیونٹیز کے ادغام کو بہتر بنانے کے بارے میں تجاویز پیش کی گئیں۔حکومت نے نسلی تعلقات کے قوانین میں نسلی منافرت پر اکسانے کو شامل کرنے کے لئے قوانین پیش  کئے۔
2001 ء
جیل کے لئے پہلے کل وقتی امام کا برکسٹن جیل میں تقرر کیاگیا ۔
2002 ء
بنک آف انگلینڈ کے ڈپٹی گورنر ہاورڈ ڈیویزنے ایک تاریخی تقریر کی جس میں بر طانیہ میں اسلامی سرمایہ کاری کے فروغ کی حوصلہ افزائی کی گئی تھی۔ اسلامی مارگیجز میں سہولت کے لئے گھروں کی خریداری پر ٹیکس کے ضابطوں میں ترمیم کی گئی۔ جائے ملازمت پر مذہبی عقیدے کی بنا پر تعصب کو غیر قانونی قرار دینے کے لئے قانون متعارف کرا  یا گیا۔
2003 ء
یورپ کے پہلے اسلامی بنک ، اسلامک بنک آف برٹن نے برمنگھم میں پہلی برانچ کا آغاز کیا ۔الپ محمت بر طانیہ کے پہلے مسلمان سفیر( برائے آئس لینڈ) مقرر ہوئے۔
2004 ء
ڈیفنس منسٹری نے عاصم حفیظ کو مسلح افواج کاپہلا’  مسلمان چیپلن ‘  مقرر کیا۔اسلامی فلاحی تنظیموں نے ’  غربت کو تاریخ کا حصہ بنادو‘  مہم میں شرکت کا آغاز کیا ۔جولائی کے لندن بم دھماکوں کے بعد حکومت نے ’  ا نتہاپسندی کا مشترکہ بچاؤ‘ کے تحت برطانوی مسلمانوں کے ورکنگ گروپس تشکیل دئیے۔کشمیر میں آنے والے زلزلے کے دو دن کے اندر برطانوی اسلامی فلاحی تنظیموں نے ہنگامی امداد کے لئے 1.75ملین پاؤنڈ جمع کئے۔
2005 ء
وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم میں اسلامی آرٹ کے لئے نئی گیلری مخصوص کر دی گئی۔مانچسٹرمیوزیم آف سائنس اینڈ انڈسٹری میں 1001ایجادات کے عنوان سے نمائش کا آغاز ہوا جس میں جدیدطرزِ زندگی پرعربوں اورمسلمانوں کے  اثرات کو نمایاں کیا گیا تھا۔امجد حسین برطانیہ کے پہلے مسلمان ایڈمرل مقرر ہوئے۔

Sunday, 21 August 2011

صومالیہ کی قحط سالی اور اس کے پیچے چھپے بیرونی اسباب


صومالیہ کی قحط سالی اور اس کے پیچھے چھپے بیرونی اسباب


یہ بات قابل ذکر ہے کہ صومالیہ ہمیشہ سے ایسا نہ تھا۔ صومالیہ کی سرزمین مشرقی افریقہ کی بڑی منڈی رہی ہے۔ اس کی صحرائی پٹی دنیا کی دوسری بڑی صحرائی پٹی ہے۔ اس سرزمین پر پائے جانے والے تیل، یورینیم، گیس اور سونے کے ذخائر جو ہنوز نکالے جانے کے منتظر ہیں اس کے باسیوں کی بربادی کا سامان بنے۔ مغربی طاقتیں ان ذخائر پر وحشی درندوں کی مانند نظریں جمائے بیٹھی ہیں۔ 

حال ہی میں منظر عام پر آنے والی صومالی باشندوں کی قحط زدہ تصاویر دیکھ کر دل پھٹنے کو آتا تھا۔ کوئی ماں کیسے برداشت کر سکتی ہے کہ اس کا لخت جگر بھوک کے سبب جاں بہ لب ہو، اور وہ اس قابل نہ ہو کہ اس کو گندم کا ایک دانہ یا دودھ کا ایک قطرہ دے سکے۔ انہی تصاویر میں سے ایک تصویر میں، ہڈیوں کے ڈھانچے پر چڑھی جلد کی دبیز سی تہ میں لپٹا بچہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دنیا کے مقتدر انسانوں سے سوال کر رہا ہے کہ آیا خدا کی زمین پر میرا اتنا بھی حق نہیں کہ اس سے حاصل ہونے والا رزق میری زندگی میں کچھ لمحوں کا اضافہ کر سکے۔ یہ تصاویر دیکھ کر اقبال کی معروف نظم ” اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو “ کا یہ شعر بار بار ذہن کے بام و در پر دستک دیتا ہے

میں ناخوش و بیزار ہوں مر مر کی سلوں سے
میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو 

اربوں ڈالر کی لاگت سے بننے والی مساجد اور سونے سے مزین گنبد ہم مسلمانوں کو پکار پکار کر کہہ رہے ہیں، اے اہل ایمان! بہتر تھا کہ تم ہم کو کچے مٹی کے گھروندے ہی رہنے دیتے مگر انسان کو اس قدر بےتوقیر اور بے بس نہ ہونے دیتے۔ 

صومالیہ کے باسی مسلمان ہیں یا کسی اور دین کے پیروکار، انتہائی بھونڈا سوال ہے۔ خدائے واحد پر ایمان رکھنے والا انسان جو محمد عربی کے دین کو اپنا اوڑھنا بچھونا قرار دیتا ہے، رمضان کے اس ماہ احساس میں بھی اگر ان قحط زدہ انسانوں کی بھوک اور پیاس کو محسوس کر کے ان کی مدد کے لیے کوئی اقدام نہ کر سکے تو حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کا یہ جملہ السلام علی الاسلام ہی میرے جذبات کی صحیح عکاسی کر سکتا ہے۔ 

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صومالیہ ہمیشہ سے ایسا نہ تھا۔ صومالیہ کی سرزمین مشرقی افریقہ کی بڑی منڈی رہی ہے۔ اس کی صحرائی پٹی دنیا کی دوسری بڑی صحرائی پٹی ہے۔ اس سرزمین پر پائے جانے والے تیل، یورینیم، گیس اور سونے کے ذخائر جو ہنوز نکالے جانے کے منتظر ہیں اس کے باسیوں کی بربادی کا سامان بنے۔ مغربی طاقتیں ان ذخائر پر وحشی درندوں کی مانند نظریں جمائے بیٹھی ہیں۔ ان تمام وسائل کے ساتھ ساتھ صومالیہ ایک زرعی ملک بھی ہے۔ اس ملک کی 64 فیصد آبادی زراعت سے متمسک تھی۔ اس زرخیز ملک کے باسیوں کو کیسے گندم کے ایک ایک دانے کا محتاج کیا گیا؟ یہ سوال اپنے اندر حقائق کا ایک سمندر لیے ہوئے ہے۔ جس کا عندیہ اقبال نے بہت پہلے ہی دے دیا تھا۔ 

برفتند تا روش رزم در این بزم کہن
دردمندان جہاں طرح نو انداختہ اند
من از ایں بیش نہ دانم کہ کفن دزدی چند
بھر تقسیم قبور انجمنی ساختہ اند 

صومالیہ ہی وہ سرزمین ہے جس نے اسلام کے پہلے مہاجرین کو اپنی آغوش میں پناہ دی۔ حبشہ کا ساحل جو آج صومالیہ کے ساحلی شہر زیلہ کا حصہ ہے، یہی وہ مقام تھا جو جعفر طیار اور ان کے انصار کی پناہ گاہ بنا۔ صومالیہ کا دارلخلافہ موگا دیشو مشرقی افریقا میں اسلام کا اہم مرکز بنا۔ مسلمان تاجروں نے موگا دیشو اور موزمبیک میں اپنی تجارتی منڈیاں قائم کیں اور اسی دور میں موزمبیک کی کانوں سے سونے کی تلاش کا کام شروع کیا گیا۔ 

استعمار جب وسائل کی تلاش کے لیے دنیا پر تسلط کی غرض سے نکلا تو مشرقی افریقہ کے اس ملک نے اسے ناکوں چنے جبوائے۔ درویشوں کے سربراہ محمد عبداللہ حسن نے صومالی قوم کو استعماری تسلط کے خلاف مجتمع کیا اور کالونیلیزم کے خلاف لڑی جانے والی جنگوں میں سب سے بڑی جنگ لڑی۔ درویشوں کی حکومت نے بہت جلد صومالیہ کے تمام علاقوں پر اپنا کنڑول قائم کیا۔ تاہم برطانوی ہوائی حملوں کے سبب درویشوں کو حزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر صومالیہ استعماری افواج کا میدان جنگ بن گیا۔ ایک حصہ برطانوی صومالی لینڈ جبکہ دوسرا اطالوی صومالی لینڈ اور تیسرا حصہ فرانسیسی صومالی لینڈ قرار پایا۔ 

جنگ عظیم دوئم کے بعد برطانیہ نے اٹلی کو یہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور وہ خود 1960ء تک ان دونوں علاقوں پر مسلط رہا۔ جاتے ہوئے برطانیہ نے صومالیہ کے ساتھ بھی وہی کام کیا جو اس نے برصغیر کے مسلمانوں سے کیا تھا۔ برطانوی افواج نے صومالیہ کے دو اہم علاقے ایتھوپیا اور کینیا کو دے دیے، جن کا تصفیہ ہنوز باقی ہے۔

استعمار کے جانے کے بعد یہ خطہ کیمونسٹوں کی چراگاہ بنا۔ فوج اور پولیس کے سربراہوں نے مل کر سیاسی حکومت کا خاتمہ کیا اور سوشلسٹ پارٹی کے تحت کیمونسٹ حکومت کی بنیاد رکھی۔ اس حکومت نے صومالیہ میں بہت سے اہم ترقیاتی کام کیے۔ 

1977ء میں ایتھوپیا اور صومالیہ کے مابین متنازعہ علاقے پر جنگ چھڑ گئی، جس میں روس نے ایتھوپیا کا ساتھ دیا، جس کے سبب اس وقت کے صومالی صدر باری نے مغرب میں نئے اتحادیوں کی تلاش شروع کی۔ اسی اور نوے کی دہائی میں صومالیہ داخلی انتشار کی جانب چل پڑا۔ 

خانہ جنگی کا یہ سلسلہ آج بھی صومالیہ کی معیشت کو اپنے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہے اور اس ملک کی ترقی میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ باری صومالیہ کے جنوبی علاقوں میں اپنے مسلح حواریوں کے ہمراہ اپنے تئیں صدر تھا جبکہ شمالی علاقے پر شمالی اور جنوبی قبائل کی حکومت تھی، جس کا سربراہ علی مہدی محمد کو بنایا گیا۔ 

اسی اثناء میں 1992ء میں صومالیہ میں پہلا قحط آیا، جس کے سبب تین لاکھ افراد لقمہ اجل بنے۔ جبکہ عالمی برادری نے امداد اور امنیت کے نام پر صومالیہ میں اپنی افواج داخل کر دیں۔

unitaf امریکی افواج اور اس کے اتحادیوں کا پہلا دستہ تھا جو صومالیہ کے قحط زدہ جنوبی علاقوں میں امداد کے لیے پہنچا۔ 1993ء میں یہ ذمہ داری اقوام متحدہ کے سپرد کر دی گئی، جو unosom ii کے عنوان سے صومالیہ میں سرگرم ہوئی۔ 

صومالیہ کے جنرل محمد فرح آیدید نے اس اتحاد کو اپنے اقتدار کی راہ میں رکاوٹ جانتے ہوئے ان پر متعدد حملے کیے، جس کے سبب 1995ء میں اقوام متحدہ نے بھاری نقصان اٹھانے کے بعد اپنے مشن کو ادھورا چھوڑتے ہوئے فرار کی راہ اختیار کی۔ 

آج صومالیہ کے جنوبی علاقوں پر القاعدہ سے متمسک جماعت الشباب کا کنٹرول ہے۔

جنوبی صومالیہ میں گزشتہ دو ماہ میں پیدا ہونے والی قحط کی نئی صورتحال نے عالمی امدادی اداروں اور مغربی ذرائع ابلاغ میں کھلبلی کی سی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اگر اگلے دو ماہ میں امدادی کام کا آغاز نہ کیا گیا تو یہ قحط پورے جنوبی صومالیہ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ عالمی امدادی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال کی خشک سالی اور قحط کو گزشتہ نصف صدی کی سب سے بڑی آفت قرار دیا جا رہا ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ اگر فی الفور اقدامات نہ کیے گیے تو ممکن ہے کہ یہ صورتحال کسی بڑے انسانی المیے کو جنم دے دے۔ 

دوسری جانب مغربی میڈیا اور امدادی ادارے صومالیہ میں الشباب کی جانب سے امدادی سرگرمیوں پر لگائی جانے والی 2009ء کی پابندیوں کا واویلا کر رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ الشباب امدادی کاموں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،

کوئی بھی عالمی ادارہ ملک کی سیکورٹی صورتحال کے مدنظر اپنے وسائل کو داﺅ پر لگانے کے لیے تیار نہیں۔ اس کے برعکس الشباب نے عالمی امدادی اداروں کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کسی کو بھی امداد کرنے سے نہیں روک رہے، نہ ہی ہم نے دریاﺅں کے رخ بدلے ہیں اور نہ ہی ہم جنوبی صومالیہ کے باسیوں کو علاقہ چھوڑنے سے روک رہے ہیں۔

شنید یہ ہے کہ الشباب نے بھی جنوبی علاقوں کو خالی کرنا شروع کر دیا ہے اور ان کی جگہ وفاقی حکومت کی 
افواج لے رہی ہیں، تاہم ابھی کئی علاقے ایسے بھی ہیں جہاں الشباب کا مکمل کنٹرول ہے۔

صومالیہ کا تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ قحط خوراک کی کمی نہیں بلکہ خوراک کی سپلائی کی زیادتی کے سبب آتا
 ہے۔ خوراک کی اندھا دھند ترسیل ملکی زراعت کے لیے زہر قاتل کا کام کرتی ہے، نیز گلوبلائزیشن کے اس دور میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اصلاحاتی پروگرام قحط سازی کے اس عمل میں براہ راست ملوث ہیں چونکہ یہ پروگرام انتہائی منظم انداز سے دیہی اور شہری علاقوں کی ان معاشی سرگرمیوں کا استحصال کرتے ہیں جن کا عالمی نظام معیشت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ 

ہمارا سوال اب بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ ایک زرعی ملک کیسے قحط کے دہانے پر پہنچا؟

عالمی برادری اس بدحالی کو ملک میں خانہ جنگی اور خشک سالی کا شاخسانہ قرار دیتی ہے جو کسی حد تک درست ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ یہ خانہ جنگی شروع کیسے ہوئی؟

وسائل سے مالا مال ساحلی پٹی پر بسنے والے صومالیوں نے کیونکر ویران صحرائی علاقوں کا رخ کیا؟

زرعی شعبے کے ساتھ کیا بیتی؟

عالمی امدادی تنظیمیں اس سلسلے میں کس کردار کی حامل ہیں؟

صومالی معیشت کو اس نہج پر پہنچانے والا کون ہے؟ 


1990 کی دہائی سے صومالیہ عالمی سطح پر ایک ناکام ریاست تصور کی جاتی ہے۔ یہاں کوئی مرکزی حکومت نہیں۔ پنٹا لینڈ اور صومال لینڈ صومالیہ کے دو خود مختار خطے ہیں جب کہ جنوبی صومالیہ جس کا ذکر قبل ازیں کیا گیا مختلف مسلح گروہوں کے مابین منقسم ہے۔

1980ء کی دہائی میں صومالیہ معاشی طور پر عدم استحکام کا شکار ہونا شروع ہوا اور اس ملک کا خوراک و زراعت کا شعبہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

دا ٹائمز میگزین کے مطابق صومالی صدر محمد صیاد باری نے صومالیہ کا دو تہائی علاقہ تیل تلاش کرنے والی چار امریکی کمپنیوں Conoco، Amoco، Chevron and Phillips کو دے دیا۔

امریکی انتظامیہ ہمیشہ سے صومالیہ میں اپنی سرگرمیوں کو انسانی بنیادوں پر استوار قرار دیتی آئی ہے جبکہ امریکی تیل کی صنعت کے لوگ جن میں سابق امریکی صدر جارج بش بھی شامل ہیں کے صومالیہ میں مفادات ہر صاحب نظر کے لیے واضح اور آشکار ہیں۔

اسی طرح ورلڈ فوڈ پروگرام کی پالیسیاں بھی اس قحط میں ایک اہم عامل ہیں۔

2006ء سے صومالیہ کے شہر اریٹیریا میں مقیم واحد آزاد مغربی صحافی تھامس سی ماونٹین صومالیہ کے قحط میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے کردار کے بارے میں لکھتے ہیں۔

صومالیہ میں ورلڈ فوڈ پروگرام ایک مکروہ اور گھناﺅنی تاریخ کا حامل ہے۔

2006ء میں جب صومالی کسان اپنی گندم بیچنے کے لیے بازار میں لائے تو ورلڈ فوڈ پروگرام نے پورے صومالیہ میں سال بھر کی امدادی گندم کی تقسیم کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اس امدادی گندم کی موجودگی میں صومالی کسانوں کے لیے اپنی گندم فروخت کرنا ناممکن ہو گیا۔ صومالی کسانوں نے ورلڈ فوڈ پروگرام کے دفاتر کا گھیراﺅ کیا، جس پر ان دفاتر کی جانب سے باقاعدہ معافی مانگی گئی اور آئندہ ایسی حرکت نہ کرنے کا وعدہ کیا گیا، تاہم اگلے سال یعنی 2007ء میں دوبارہ وہی عمل دہرایا گیا۔

اس بار ورلڈ فوڈ پروگرام کو ایتھوپیا کی افواج کا تعاون حاصل تھا۔ اسی بنا پر صومالیہ کی مسلم عسکری تنظیم الشباب نے ورلڈ فوڈ پروگرام اور تمام تر مغربی امددی اداروں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی۔

The Globalization of Poverty جیسی معرکة الاراء کتاب کے مصنف مائیکل چوسو ڈوسکی (Michel Chossudovsky) نے صومالیہ کے ابتر حالات کے اسباب کا ذرا مفصل تجزیہ کیا ہے ان کا یہ تجزیہ 1993 ء میں شائع ہوا۔ اس مقالے کے چند اقتباسات پیش قارئین ہیں


آئی ایم ایف 

صومالی معیشت کا دارومدار گلہ بانوں اور چھوٹے کسانوں کے مابین اشیاء کے تبادلے پر تھا۔

1983ء تک مویشیوں کی برآمد سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ ملک کے کل زرمبادلہ کا 80 فیصد تھا۔ 80 کی دہائی میں آئی ایم ایف کی آمد کے سبب صومالی معیشت گراوٹ کا شکار ہوئی۔

آئی ایم ایف کی افریقی ممالک کے لیے زرعی اصلاحات نے اس پورے خطے بالخصوص صومالیہ کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ حکومت پر پیرس کلب کے قرضہ جات ادا کرنے کے لیے انتہائی سخت پابندیاں عائد کی گئیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ رقم ان قرضوں کی ادائیگی کے لیے مہیا کی جا سکے۔


شعبہ خوراک و زراعت کی تباہی

SAP اسٹرکچل ایڈجیسمنٹ پلین کے ذریعے صومالیہ کی حکومت کو مجبور کر دیا گیا کہ وہ درآمد شدہ گندم پر انحصار کرے۔ اسی کی دہائی میں خوراک کی مد میں ملنے والی امداد پندرہ گنا بڑھا دی گئی۔ اس سستی درآمد نے مقامی پیداوار کو بری طرح متاثر کیا۔ ملک میں کرنسی کی قیمت گرتی گئی، جس کے سبب تیل، فرٹیلائزر اور زرعی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سامنے آئے۔ اسی عرصے میں بہت سا زرعی علاقہ بیوروکریسی، فوجی افسران اور حکومت کے کاسہ لیس کاروباری حضرات کو عنایت کیا گیا۔ اپنی غذائی ضروریات کے لیے پیداوار کے بجائے برآمد کی جانے والی مصنوعات جیسا کہ پھل، سبزی اور کپاس کی کاشت کی حوصلہ افزائی کی گئی۔


شعبہ پرورش حیوانات کی تباہی

ورلڈ بنک کی ایما پر جانوروں کی ویکسی نیشن کے شعبہ کو نجی ملکیت میں دے دیا گیا۔ ویکسی نیشن کی بہت سی نجی کمپنیاں بنائی گئیں۔ حکومت کے پرورش حیوانات کے شعبہ کو مکمل طور پر ورلڈ بینک کا باج گزار کر دیا گیا۔ جس کے سبب حیوانات کی صحت پر ان عالمی اداروں کا مکمل کنٹرول ہو گیا۔ خشک سالی کے سالوں میں جانوروں کے لیے خوراک کی کمی اور ویکسی نیشن کی عدم دستیابی کے سبب صومالیہ کی معیشت کا یہ اہم حصہ زبوں حالی کا شکار ہوتا چلا گیا۔ اس زبوں حالی کا بالواسطہ فائدہ مغربی ممالک کو بھی پہنچا۔ صومالیہ سے گوشت درآمد کرنے والے ممالک نے آسٹریلیا اور یورپی منڈیوں کا رخ کرنا شروع کیا۔


ریاست کی تباہی

بریٹن ووڈ انسٹی ٹیوٹ کی سرپرستی میں صومالی حکومت کے اخراجات کی از سرنو تشکیل نے بھی صومالیہ کے شعبہ زراعت کی تباہی میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ آئی ایم ایف نے صومالی حکومت کو زراعت کے شعبے کی از سرنو بحالی کے عمل کے لیے مقامی وسائل کو بروئے کار لانے سے سختی سے روک دیا۔ بجٹ کے خسارے کو دور کرنے کے لیے انتہائی سخت شرائط رکھ دی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی امدادی اداروں نے خوراک کی صورت میں امداد میں اضافہ کر دیا۔ جسے حکومت مقامی مارکیٹ میں فروخت کر کے اپنے ترقیاتی منصوبے چلاتی رہی۔ اسی کی دہائی میں اس امدادی خوراک کی فروخت ہی حکومت کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ تھی، جس کے سبب امدادی اداروں کو حکومت کے بجٹ پر مکمل تصرف حاصل ہو گیا۔ صحت اور تعلیم کی مد میں خرچ کی جانے والی رقم بہت کم کر دی گئی۔

آئی ایم ایف نے صومالیہ کی معیشت کو ایک نہ ختم ہونے والے گھناﺅنے مدار میں داخل کر دیا۔ حیوانات کی بڑے پیمانے پر ہلاکت نے صومالی گلہ بانوں کو فاقوں پر مجبور کر دیا۔ جس کے اثرات گندم کے کاشتکاروں پر پڑے جو اپنی گندم کے تبادلے میں جانور خریدا کرتے تھے۔ صومالی معیشت کا مکمل نظام تباہ ہو گیا۔

امریکا کی جانب سے آنے والی رعایتی گندم اور کھیت کی تیاری کے لیے ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے سبب مقامی کسان بے روزگار ہونے لگے۔ شہری علاقوں میں آمدن کی کمی کے سبب خوراک کی ضرورت میں بھی کمی واقع ہونے لگی، جس کے سبب حکومت نے زراعت کے شعبے پر توجہ کم کر دی۔ حکومتی فارمز کو آنے والے سالوں میں ورلڈ بینک کی سرکردگی میں نجی ملکیت میں دے دیا گیا۔

ورلڈ بینک کے 1989ء کے ایک تخمینے کے مطابق صومالیہ کے نجی شعبے میں ایک فرد کی اوسط آمدن 3 ڈالر ماہانہ ہو چکی تھی جو کہ 1970ء کی نسبت 90 فیصد کم تھی۔ حکومتی شعبے میں تنخواہیں ورلڈ بینک ادا کر رہا تھا۔ اسی ورلڈ بینک کے احکامات پر ملازمین کی تعداد میں کمی کرائی گئی۔

1989ء میں صومالیہ کے بڑی مقدار میں واجب الادا قرضوں کے سبب آئی ایم ایف کی امداد روک دی گئی۔

ورلڈ بینک نے 1989ء میں صومالیہ کے لیے 70 ملین ڈالر کے قرضے کی منظوری دی، جس کی ادائیگی کچھ ہی ماہ بعد روک دی گئی۔

مائیکل چوسو ڈوسکی کے مطابق اس وقت فقط صومالیہ ہی نہیں بلکہ تیسری دنیا کے سو سے زیادہ ممالک میں انہی پالیسیوں پر عمل درآمد جاری ہے۔

اس کے نزدیک تیسری دنیا میں بہت سے صومالیہ ہیں جو اپنے اپنے وقت پر خشک سالی اور قحط کا شکار ہو جائیں گے۔ صومالیہ کا تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ قحط خوراک کی کمی نہیں بلکہ خوراک کی سپلائی کی زیادتی کے سبب آتا ہے۔ خوراک کی اندھا دھند ترسیل ملکی زراعت کے لیے زہر قاتل کا کام کرتی ہے، نیز گلوبلائزیشن کے اس دور میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اصلاحاتی پروگرام قحط سازی کے اس عمل میں براہ راست ملوث ہیں چونکہ یہ پروگرام انتہائی منظم انداز سے دیہی اور شہری علاقوں کی ان معاشی سرگرمیوں کا استحصال کرتے ہیں جن کا عالمی نظام معیشت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

ان تمام حقائق کے مدنظر جب ہم پاکستان میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہیں تو زبان پر قائداعظم کے وہ آخری الفاظ آ جاتے ہیں جو انھوں نے یہ دنیا چھوڑنے سے قبل کہے تھے۔ 
اللہ! پاکستان 

Friday, 12 August 2011

دہشت گرد خارجیوں (تحریک طالبان پاکستان) کی علامات


دہشت گرد خارجیوں (تحریک طالبان پاکستان) کی علامات







Wednesday, 13 July 2011

اسامہ بن لادن کی موت کے بارے میں شبہات


السلام علیکم ورحمۃ اللہ
میرا آج کا موضوع ہے:
اسامہ بن لادن کی موت  کے بارے میں شبہات

پچھلے  ہفتے کی گرما گرم بحث کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے اسامہ بن لادن کے موضوع کو آخری رخ دے کر ختم کرنے کا اردہ کرلیا ہے،  یہ میرا ان پر آخری موضوع ہے۔
امید کرتا ہوں کہ اس موضوع کو بھی بڑے  ٹھنڈے مزاج سے اور حقیقت  سے پر ہوکر اور جذبات کو بالائے تاک رکھ کو زیر غور فرمائيں گے۔ ان شاءاللہ
سب سے پہلے آپ ایک بات کو مد نظر رکھیں کہ آج تک مغربی میڈیا نے جو عکس مسلمانوں کا پیش کیا ہے یا جو روپ انہوں نے اسامہ بن لادن کیا پیش کیا ہے یا وہ تصویر کشی انہوں نے  دھشتگردی کی مھیا کی ہے یا جو  نظریہ انہوں نے تکفریوں سے لےکر مسلمانوں پر تھوپا ہے یہ چيزیں ہرگز ہرگز اسلام یا مسلمانوں کا پیشہ خیمہ نہیں ہیں۔
سب لوگ جانتے ہیں کہ اس وقت دنیا میں مغربی میڈیا بہت طاقتور ہے یا یوں کہیں کہ مغربی میڈیا پوری دنیا پر قابض ہے کہ حکومت کررہی ہے اور جو امیج وہ مسلمانوں کا پیش کرے گی دنیا اس کو ہی حقیقت تسلیم کرتی ہے۔
ہاں یہ اور بات ہے کہ اس پوری طاقتور میڈیا مافیا میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو ان کے انتہانہ پسدانہ نظریہ کے مخالف ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کا حقیقی روپ پیش کرنے کی حتی الامکان کوشش میں مصروف نظر آتے ہیں۔
مغربی میڈیا کا ہر بندہ اسلام مخالف نہیں ہے، ہر اینکر یا ہر اینالسٹ مسلمانوں کا دشمن نہیں ہے اور وہ اس کوشش میں سرگرداں ہے کہ کہیں سے مغربی میڈیا و حکومتوں کی اسلام مخالف سازش کا پتہ چلایا جائے اور اس راز کو افشاں کیا جائے۔
ایسے بہت سے محقق مغرب میں آج بھی موجود ہیں اور ان کی تحقیقات کو اب بھی مسلمان قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ الحمدللہ
بہت سے ایسے سچے، حقیقت پسند  اور میڈیا مافیا کی سازشوں سے دور لوگوں نے اپنی ویب سائیٹس، بلاگز  بنا رکھے ہیں اور اپنے تحقیق آرٹیکلس سے دنیا کو ان سازشوں سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔
اب یہ اور بات ہے کہ ہمارے کچھ تنگ نظر لوگ اس کو بھی مغربی سازش کا نام دیں تو  ان کی عقل پر ہم ہنس ہی سکتے ہیں۔
اگر آپ لوگ مغری میڈیا کی منفی سوچ کے علاوہ ایسے لوگوں  کی مثبت سوچ کو پڑھیں تو آپ کو حقیقت کچھ اور نظر آئے گی، میں مغربی میڈیا کا رسیا یہ ان کا گرویدہ یا ایجنٹ یا جوبھی آپ الزام لگائيں یا نام رکھیں وہ نہیں ہوں بلکہ مغرب میں رہتے ہوئے میں سکے کے دونوں پانسوں کو دیکھنے کا عادی ہوں، اگر جہاں مغری میڈیا میں 100 بندے اسلام مخالف ہیں اور اللہ رب العزت نے وہاں ایک بندہ ایسا ضرور پیدا کیا ہے جو ان سب کی سوچوں سے متفق نہیں ہے اور وہ حقیقت کی کھوج میں کوشاں رہتا ہے تو کیوں نہ ہم لوگ ایسے بندوں کی کھوج لگائيں اور ان کو پڑھیں کہ کیا بات ہے کہ ایک طرف 100 لوگ اسلام کے خلاف منفی سوچ رکھتے ہیں  اور ان میں سے ایک بندہ مثبت سوچ کا حامی ہے تو کوئی نہ کوئی بات ضرور ہوگی۔ ان شاءاللہ
تو میں ایسے لوگوں کو پڑھنے کا عادی ہوں، باقی لوگوں کی منفی باتیں تو ویسے ہی پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں جن کی تلاش کرنے کی ضرورت نہیں رہتی، اصل ضرورت ہے ایسے لوگوں کے تاثرات قلم بند کرنے کی جو ان سازشوں کو کسی اور نظر سے دیکھتے ، پرکھتے اور ہم سب کے سامنے رکھتے ہیں، اب یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ان کی تحریروں کا کتنا اثر رکھتے ہیں۔
تو یہ وہ بات تھی جو میں نے آپ کے سامنے اپنے نقطہ نظر کے طور پر پیش کی تھیں کہ جذبات میں آنے سے پہلے کسی کے نظریات کو پڑھنے سے اصل حقیقت کی رو تک باآسانی پہنچ سکتے ہیں باقی الزامات لگانے اور اول فول بولنے سے کسی کی ذات پر کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ اگلے کے اخلاق  کی حد ضرور سامنے پہنچ جاتی ہے۔
تو امید کرتا ہوں کہ میری اس آخری تحریر کو بھی مثبت سوچ سے پڑھیں گے اور اس پر تنقید کرنا آپ کا ولین فرض ہے  کہ میں نے تنقید کو کبھی نہیں روک بلکہ اگر تنقید اخلاق، عزت، ادب و احترام کے دائرے میں ہو تو اگلے کے علمی  رتبے کا پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک علمی تحقیق پر مبنی تحریر ہے اور یہ تحریر و تحقیق میری اپنی نہیں ہے قلم میرا ہے مگر تحقیق مغربی مثبت سوچ رکھنے والے بندوں کی ہے جو آپ  یا ہم تک اصل حقیقت سے پردہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ ان شاءاللہ
ایسے  ہی پرنٹ میڈیا  میں ایک مثبت سوچ رکھنے والے محقق کا نام ہے "گورڈن ڈف
مسٹر گوڈن ڈف نے اپنا ایک آرٹیکل پیش کیا تھا جس کا عنوان تھا:


دھائیاں پہلے یو ایس اے کھلے عام اسامہ بن لادن کی موت کا اقرار کر چکی تھی۔

Conservative commentator, former Marine Colonel Bob Pappas has been saying for years that bin Laden died at Tora Bora۔
کنزر ویٹو کمانڈر و سابقہ میرین کرنل باب پاپاس کافی سال پہلے کہ چکا تھا کہ بن لادن تورا بورا میں مر چکا ہے۔

  Now we know that Pappas was correct.
اور اب ہم جانتے ہیں کہ پاپاس صحیح کہ رہا تھا۔

However, since we lost a couple of hundred of our top special operations forces hunting for bin Laden after we knew he was dead۔
جیسا کہ ہم نے سیکڑوں اپنے فوجی جوان کی جانیں گنوادیں بن لادن کی تلاش میں حالانکہ ہم جانتے تھے کہ وہ مر چکا ہے۔

 Since we spent 200 million dollars on “special ops” looking for someone we knew was dead, who is going to jail for that?
ہم نے 200 ملین‎ ڈالرس خرچ کیے اس کی تلاش میں جس کا ہمیں پتہ کہ وہ مرچکا ہے تو کون اس کا ذمہ دار ہے اور کس کو جیل میں جانا چاہیے؟

In 66 pages, General Stanley McChrystal never mentions Osama bin Laden.  Everything is “Mullah Omar”now.  In his talk at West Point, President Obama never mentioned Osama bin Laden۔
66 صفحات میں کہیں بھی جنرل مک کرسل نے بن لادن کا ذبر نہیں کیا مگر صرف ملاں عمر کا، اوبامہ نے بھی اپنی اسپیچ ویسٹ پوائنٹ میں کھبی بھی اسامہ کا ذکر نہیں کیا۔

America knew Osama bin Laden died December 13, 2001۔
امریکیوں کو پتہ تھا کہ اسامہ بن لادن 13 دسمبر 2001  میں وفات پاچکا ہے۔

The bin Laden scam is one of the most shameful acts ever perpetrated against the American people.  We don’t even know if he really was an enemy, certainly he was never the person that Bush and Cheney said.  In fact, the Bush and bin Laden families were always close friends and had been for many years.
بن  لادن کے بارے میں جھوٹ سب سے بڑا شرم والا کھیل تھا جو امریکی عوام کے خلاف کھیلا گیا، ہم یہاں تک کہ یہ بھی نہیں جانتے کہ بن لادن واقعی امریکی دشمن تھا، حالانکہ یہ اس طرح کا بندہ نہیں تھا جس طرح بش و ڈک چینی نے اسے پیش کیا بلکہ حقیقت میں بن لادن فیملی اور بش کے فیملی ہمیشہ آپسی میں گہرے دوست رہے ہیں کافی سالوں سے۔

For years, we attacked the government of Pakistan for not hunting down someone everyone knew was dead.  Bin Laden’s death hit the newspapers in Pakistan on December 15, 2001.
کافی سالوں سے، ہم پاکستانی حکومت سے زبانی حملے/تنقید کرتے رہتے ہیں اس بندے کو نہ پکڑنے کی وجہ سے جس کے بارے میں ہمیں پہلے ہی پتہ ہے کہ وہ مر چکا ہے، جس کے موت کی خبریں 15 دسمبر 2001 میں پاکستانی اخبارات کی زینت بھی بنی تھیں۔

How do you think our ally felt when they were continually berated for failing to hunt down and turn over someone who didn’t exist?
آپ کیا محسوس کرتے ہونگے کہ ہمارے اتحادی اس بندے کی تلاش میں مسلسل ناکامی کا شکار ہیں جو اس دنیا میں وجود ہی نہیں رکھتا۔

What do you think this did for American credibility in Pakistan and thru the Islamic world?  Were we seen as criminals, liars or simply fools? 
آپ کو کیا لگتا ہے کہ امریکی ساکھ بچانے کے لیے پاکستان وی اسلامی دنیا میں اس طرح کیا گیا؟ کیا ہم دنیا میں مجرم، جھوٹے اور بے وقوف نظر نہیں آرہے ہیں؟

How many “Pentagon Pundits,” the retired officers who sold their honor to send us to war for what is now known to be domestic political dirty tricks and not national security are culpable in these crimes?
کتنے پینٹاگوں بنڈت، رٹائرڈ آفیسرز نے اپنا ضمیر بیچا ہم (امریکیوں) کو اس جنگ میں بھیج کر جو سواء ڈومیسٹک سیاسی کچرے تھا نہ کہ امریکی نیشنل سیکیورٹی۔

We spent 8 years chasing a dead man, spending billions, sending FBI agents, the CIA, Navy Seals, Marine Force Recon, Special Forces as part of a political campaign to justify running American into debt.
ہم نے 8 سال گذارے، بلینس خرچ کیے، ایف بی آئی و سی آئ اے ایجنٹس، نیوی والے، میرینس فورس مالے، اسپیشل فورس والے سب بھیجے صرف ایک مرے ہوئے بندے کی تلاش میں، جوکہ ایک سیاسی جواز تھا۔


How many laws were pushed thru because of a dead man?
How many hundreds were tortured to find a dead man?
How many hundreds died looking for a dead man?
How many billions were spent looking for a dead man?
کتنے قانون بن گئے ایک مرے ہوئے بندے کے ذریعے؟
کتنے سیکڑوں کو ٹارچر کیا گیا ایک میرے ہوئے بندے کی معلومات حاصل کرنے کے لیے؟
کتنے سیکڑوں مرگئے ایک مرے ہوئے بندے کی تلاش میں؟
کتنے بلینس ڈالرس خرچ کیے ایک مرے ہوئے بندے کو تلاش کرنے کے لیے؟

Every time Bush, Cheney and Rumsfeld stood before troops and talked about hunting down the dead bin Laden, it was a dishonor.  Lying to men and women who put their lives on the line is not a joke.
ہر دفعہ بش، ڈک چینی، رمسفیلڈ نے اپنی فوجیوں کے سامنے کھڑے ہوکر تقریر کی وہ بھی ایک مرے ہوئے آدمی کی تلاش میں، یہ ایک بے عزتی کا مقام تھا کہ جھوٹ بولا گیا ان مردوں و عورتوں سے جنہوں نے اپنی زندگیاں جنگ کے دہانے پر کھڑی کیں تھیں جوکہ کوئی مذاق نہیں تھا۔

Who is going to answer to the families of those who died for the politics and profit tied to the Hunt for Bin Laden?
کون جواب دہ ان فوجیوں کے خاندانوں کو جو مر گئے ایک سیاسی اور منافع والی جنگ میں جوکہ بن لادن کی تلاش سے منسلک تھی؟


گورڈن ڈف کے ایک اور آرٹیکل کو نظر سے اتاریں:

DOUBT THROWN ON PROOF BIN LADEN A TERRORIST LEADER

جس میں انہوں نے کہا ہے کہ:

Two weeks ago, CIA Director Leon Panetta told the press the CIA had not been able to positively confirm any specific information on Osama bin Laden since “late 2000.
دو ہفتے پہلے سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پینٹا نے میڈیا کے سامنے کہا کہ سی آئی اے کو سن 2000 کے آخر سے  اسامہ بن لادن کے بارے میں کسی قسم کی کوئی  کنفرم معلومات نہیں تھی ۔

some at the highest levels, have confirmed that all evidence lends toward Osama bin Laden’s death in December 2001.
کچھ ہاء رینکنگ نے کنفر کیا ہے کہ سارے ثبوت اسامہ بن لادن کی دسمبر 2001 میں موت کی طرف جاتے ہیں۔

The transcripts of the last proven bin Laden interview, translated by the CIA, are compared to similar translations of a 2007 “broadcast” said to be by Osama bin Laden.
اب آخری ثبوت بن لادن کا انٹرویو جوکہ سی آئی اے کے ذریعے ٹرانسلیٹ کیا گیا تھا جوکہ بالکل 2007 جیسا ترجمہ تھا۔

 Yet transcripts of translated audio and video tapes, albeit widely disputed, are continually released by a news agency tied to Israeli intelligence services.
ترجمہ کی گئی آڈیوز، وڈیوز جو بہت حد تک پھیلائي گئي تھیں جوکہ مسلسل رلیز ہورہی تھی ایک نئی ایجنسی (الجزیرہ چینل) کے ذریعے جن کا لنک اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی (موساد) سے ہے۔

With dozens of films, videos and recordings, all claiming Osama bin Laden has taken credit for 9/11 and other terrorist attacks against America, Britain, Spain and other nations۔
لاتعداد فلمز، وڈیوز اور ریکارڈنگس سب میں یہ دکھایا گیا کہ اسامہ بن لادن سے سارے دھماکوں کا کریڈٹ اپنے سر لیا ہے، چاہے 11/9 ہو  یا دوسرے دھشتگرد حملے ہوں امریکا، برطانیا، اسپین اور دوسرے ملکوں میں کیے گئے۔

 ایک اور امریکی محقق پال جوزف ویٹسن نے اس بارے میں ایک اور آرٹیکل لکھا ہے جس کا عنوان ہے:


Top US Government Insider: Bin Laden Died In 2001, 9/11 A False Flag (confirmed!)

 

اس آرٹیکل میں ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹی  آف یو ایس اے کو یہ انکشاف کرتے بتایا گیا ہے کہ:
He is prepared to tell a federal grand jury the name of a top general who told him directly 9/11 was a false flag attack۔
یہ فیدرل گرانڈ جیوری کو ایک فوج کے جنرل کا نام بتانے والا تھا جس سے اسے بتایا کا 11/9 کا واقعہ اندرونی سازش تھی۔

“Bin Laden had already been “dead for months,” and that the government was waiting for the most politically expedient time to roll out his corpse. Pieczenik would be in a position to know, having personally met Bin Laden and worked with him during the proxy war against the Soviets in Afghanistan back in the early 80′s”۔
ڈپٹی سیکریٹری آف اسٹیٹ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اسامہ بن لادن کافی مھینے پہلے مر چکا تھا اور حکومت صحیح وقت کا انتظار کررہی تھی اس کی موت کو کیش کرنے کے لیےاور ڈپٹی سیکریٹری اس بات کرنے کی پوزیشن میں تھا کیونکہ وہ ذاتی طور پر  بن لادن سے مل بھی چکا تھا اور یہ دونوں روس کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کے ساتھ کام بھی کرچکے تھے۔

Top US government insider Dr. Steve R. Pieczenik, a man who held numerous different influential positions under three different Presidents and still works with the Defense Department, shockingly told The Alex Jones Show yesterday that Osama Bin Laden died in 2001۔
امریکی ٹاپ آفیسر ڈپٹی سیکریٹری ڈاکٹر اسٹیو، جوکہ امریکا کے تین صدور کے ساتھ کام کرچکا ہے اور ابھی تک ڈفینس ڈپارٹمنٹ کے ساتھ منسلک ہے نے ایلیکس جان شو میں بتایا ہے کہ اسامہ بن لادن 2001 میں مرچکا تھا۔

Pieczenik said that Osama Bin Laden died in 2001, “Not because special forces had killed him, but because as a physician I had known that the CIA physicians had treated him and it was on the intelligence roster that he had marfan syndrome,” adding that the US government knew Bin Laden was dead before they invaded Afghanistan.
ڈپٹی سیکریٹری نے انکشاف کیا ہے کہ اسامہ بن لادن 2001 ایک میں وفات پاگیا تھا یہ نہیں کہ امریکی اسپیشل فورس نے اسے قتل کیا بلکہ ڈاکٹر ہونے کے ناتے مجھے معلوم ہے کہ ایک سی آئی اے کے ڈاکٹر نے اس کا علاج کیا تھا اور بتایا تھا کہ اسے مارفن سینڈروم بیماری ہے اور امریکی حکومت کو افغانستان پر حملہ کرنے سے پہلے اس کی موت کے بارے میں علم تھا۔

یہ کون سے بیماری ہے جو اسامہ بن لادن کو لگی تھی جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوگئی تھی اس کے بارے میں نیچے مختصر جانیے۔
Marfan syndrome is a degenerative genetic disease for which there is no permanent cure. The illness severely shortens the life span of the sufferer.

“He died of marfan syndrome, Bush junior knew about it, the intelligence community knew about it,” said Pieczenik, noting how CIA physicians had visited Bin Laden in July 2001 at the American Hospital in Dubai.
انہوں نے مزید انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ بن لادن اس خطرناک بیماری سے وفات پاگیا تھا اور امریکی صدر بش جونیئر کو اس بارے میں معلوم تھا، انٹیلی جنس کمیونٹی کو بھی اس بارے میں علم تھا، اور اس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایک سی آئی اے کے فزیشن نے اسامہ بن لادن سے دبئی کی اسپتال میں ملاقات کی تھی۔
(میں  اس انکشاف بارے میں تحریر پیش کرچکا ہوں)

“He was already very sick from marfan syndrome and he was already dying, so nobody had to kill him,” added Pieczenik, stating that Bin Laden died shortly after 9/11 in his Tora Bora cave complex.
مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ بن لادن اس خطرناک بیماری میں پہلے ہی بہت بیمار تھا اور وہ مرنے کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا تو کسی کو بھی اسے مارنے کی ضرورت نہیں تھی اور 11/9 کے واقعہ کے فوری بعد تورا بورا میں اپنے ہی غار میں وہ اس دنیا سے رحلت کرگئے۔

Pieczenik, referring to Sunday’s claim that Bin Laden was killed at his compound in Pakistan, adding, “This whole scenario where you see a bunch of people sitting there looking at a screen and they look as if they’re intense, that’s nonsense,” referring to the images released by the White House which claim to show Biden, Obama and Hillary Clinton watching the operation to kill Bin Laden live on a television screen.
انہوں نے انٹرویو میں بتایا کہ اتوار کو کاروائی دکھائی گئی ہے کہ پاکستان میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا ہے یہ سارا واقعہ جو آپ نے دیکھا ہے کہ کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اور اسکریں میں آپریشن کو لائیو دیکھ رہے ہیں جن میں جوبائیڈن، ہیلری کلنٹن اور اوبامہ شامل ہیں،  یہ سب بکواس تھا۔

“It’s a total make-up, make believe, we’re in an American theater of the absurd….why are we doing this again….nine years ago this man was already dead….why does the government repeatedly have to lie to the American people۔
یہ سب بنا بنایا کھیل تھا، یہ سب ہم دوبارہ کیوں کر رہے ہیں جبکہ 9 سال پہلے یہ بندہ (اسامہ بن لادن) پہلے ہی مرچکا تھا، کیوں یہ حکومت دوبارہ سے امریکی عوام سے جھوٹ بول رہی ہے؟

“Osama Bin Laden was totally dead, so there’s no way they could have attacked or confronted or killed Osama Bin laden۔
اسامہ بن لادن بالکل مرچکا ہے تو اس بات کا کوئی امکان نہیں تھا کہ (پاکستان میں) حملہ کیا جاتا اور اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا جاتا۔

Pieczenik said that the decision to launch the hoax now was made because Obama had reached a low with plummeting approval ratings and the fact that the birther issue was blowing up in his face.
انہوں نے مزید کہا کہ یہ سب کچھ اس لیے کیا گیا کہ امریکی صدر بارک اوبامہ کا گراف بہت نیچے گرچکا تھا۔

The farce was also a way of isolating Pakistan as a retaliation for intense opposition to the Predator drone program, which has killed hundreds of Pakistanis.
یہ سب کچھ کرنے کا مقصد پاکستان کو (بین الاقوامی طور پر ) الگ تھلگ کرنا تھا اور پاکستان کو جواب دینا تھا ڈرون حملوں کی مخالفت کرنے کا جس میں سیکڑوں پاکستانی ہلاک ہوئے تھے۔

During his interview with the Alex Jones Show yesterday, Pieczenik also asserted he was directly told by a prominent general that 9/11 was a stand down and a false flag operation, and that he is prepared to go to a grand jury to reveal the general’s name.
انہوں نے انٹرویو میں بتایا ہے کہ امریکی فوج کے ایک جنرل نے ان سے مل کر یہ بتایا کہ 11/09 کا واقعہ ڈرامہ تھا اور وہ اس جنرل کا کورٹ میں بتانے کے لیے تیار تھا۔

“They ran the attacks,” said Pieczenik, naming Dick Cheney, Paul Wolfowitz, Stephen Hadley, Elliott Abrams, and Condoleezza Rice amongst others as having been directly involved.
انہوں نے کہ ڈرامہ رچایا اور ڈک چینی، پال، اسٹیفن ہیڈلے، ایلئٹ ابرام اور کونڈولیزا رائس ڈائریکٹلی اس میں کھیل میں ملوث تھے۔

Pieczenik re-iterated that he was perfectly willing to reveal the name of the general who told him 9/11 was an inside job in a federal court, “so that we can unravel this thing legally, not with the stupid 9/11 Commission that was absurd.”
انہوں نے پھر اس بات پر زور دیا کہ یہ بالکل ہر طرح سے تیار ہوچکا تھا کہ جیوری کو اس جنرل کا نام بتادوں جس نے یہ کہا تھا کہ یہ ڈرامہ امریکی حکومت کا اندرونی سازش تھی کہ اور اس کو کورٹ کے سامنے قانونی طور پر ظاہر کرسکیں نہ کہ وہ جوکہ 11/9 کمیشن نے بتایا تھا۔ (جوکہ سراسر حھوٹ پر مبنی رپورٹ تھی)۔

:باقی پورا آرٹیکل پڑھنے کے لیے نیچے کلک کریں

Top US Government Insider: Bin Laden Died In 2001, 9/11 A False Flag 



اسامہ بن لادن کے 10 سال پہلے مرنے کے بعد اس کی لاش کو کہاں رکھا گیا اس بات کو جاننے کے لیے نیچے دیے گئے لنک کو کلک کریں

 Bin Laden’s Corpse Has Been On Ice For Nearly a Decade


اسامہ بن لادن کی کھوپڑی کو 10 سال تا بحرین کے ایک سرد خانے میں محفوظ رکھا گیا ہے اور اسامہ کی فریز کی گئی کھوپڑی کو بمع تصویر کے دیکھنے اور اس کےبارے؛؛ میں مزید پڑھنے کے لیے نیچے کلک کریں۔

The Re- Death of Bin Laden;s Frozen Corpse 


ڈاکٹر اسٹیو (رٹائرڈ ڈپٹی سیکریٹری آف اسٹیٹ ) کا انٹرویو پڑھنے کے لیے نیچے لنک کو کلک کریں:

آخر میں یہ ہی عرض کروں گا کہ حقائق کو تلاش کرنے کے لیے مثبت ذھن و سوچ کا ہونا نہایت ضروری ہے اور جذبات کو بالائے تاک رکھ کر اگر حقیقت کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کریں گے بو بہت کچھ دیکھنے اور پڑھنے کو ملے گا جس کے بارے میں ہمارا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا ہے۔ 

اس لیے امید کرتا ہوں کہ مغربی اور مثبت سوچ رکھنے والے محققین گورڈن ڈف، پال جوزف ویٹس اور ان جیسے بہت سے سچ کی تلاش کے کھوجی کو پڑھیں اور حقائق کو جاننے کی کوشش کریں کہ اسلام دشمن قووتیں ہمارے کتنے قریب پہنچ جکی ہیں اور ہو جذبات کی رو میں بہتے جارہے ہیں کہ فلاں اسلام کا سپاہی ہے، فلاں اسلام کا ہیرو ہے یا فلاں اسلام کا مسیحا ہے۔ 
اللہ تبارک و تعالی  سب مسلمانوں کو حقیقت پسندانہ اور مثبت سوچ کا حامل بنادے اور جذبات و غصہ سے بچائے رکھے اور ہم سب کو ھدایت نصیب فرمائے۔ آمین
والسلام علیکم