Tuesday, 5 July 2011

اسامہ بن لادن اور امریکی سی آئی آے میٹنگ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آج میرے عنوان کا موضوع ہے:
اسامہ بن لادن اور امریکی سی آئی آے میٹنگ

مئی 2011 کا مہینہ تھا  جب ٹی وی پر  امریکی صدر اوبامہ  کی بریکنگ نیوز تھی کہ امریکی اسپیشل فورس نے پاکستان کے علائقے ایبٹ آباد کے ایک کمپاؤنڈ میں دنیا کے سب سے خطرناک دھشتگرد اسامہ بن لادن کو ایک خفیہ آپریشن میں ہلاک کیا گیا اور اس کی لاش کو چھپاکر وہاں سے لے گئے اور خفیہ طریقے سے سمندر برد کیا گیا اور بعد میں یہ بہانہ کیا گیا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر اسامہ بن لادن کی تصویر کو دکھایا  نہیں جائے گا اور کہانی ختم ۔
مجھے کچھ عرصے تک اسی شش و پنچ میں مبتلا رہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک بندہ 5 سالوں تک پاکستان کے ایک مشھور شہر میں رہتا ہوں اور کسی کو بھی اس کا پتہ نہیں چلا  اور چلا بھی تو کوسوں دور بیٹھے امریکی فوجوں کو اور انہوں نے بغیر کسی اطلاع کے آسانی سے اور بغیر کسی نقصان کے اسامہ او ہلاک کرکے اس کی لاش بھی لے گئے اور کسی کو دکھلائے بغیر سمندر برد کردیا جوکہ یہ بات میری سمچھ سے بالا تر تھی۔
تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ اس کی کھوج لگائ جائے کہ اصل معاملہ کیا ہے حالانکہ ہر طرف سے یہ ہی صدا آرہی تھی کہ اس سارے معاملے میں گڑبڑ ہے اور امریکی افغانستان سے عزت کے ساتھ نکلنے اور اپنے ملک کی عوام کے جوتوں سے بچنے کے لیے  یہ ڈرامہ رچایا ہے  اور ویسے بھی جب القائدہ کا وجود ہی اس دنیا میں نہیں ہے اور صرف اور صرف امریکی انٹیلی جنسیز کی رپورٹ میں ہی القائدہ  کا نام سنا  اور ان ہی کی میڈیا میں دکھایا جاتا ہے تو اسامہ کہاں سے ملے گا۔
خیر اسی کھوج میں  تلاش جاری و ساری تھی ایک  جگہ اس کا سراغ مل گیا، جس تحقیق کی تلاش تھی وہ  اس خوبصورتی سے مل جائے گا اس کا اندازہ ہی نہیں تھا اور اس پر میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ کم از کم میرے دل میں شش و پنچ  و تشویش تھی و دور ہوئی  کہ یہ سارا ڈرامہ تھا  پھر سوچا کیوں نہ آپ سب کے سامنے بھی یہ چيز پیش کروں کہ میرے ساتھ آپ کے دل کا بوجھ بھی ہلکا ہوئے کہ اس ڈرامے کی وجہ سے ہمارے ملک کی بقا و سلامتی  بھی داؤ پر لگی ہوئی تھی۔ الحمدللہ
کچھ عرصہ پہلے یہاں اسی فورم میں نے اسامہ بن لادن کے متعلق عرض کر چکا ہوں اب ان کے بارے میں مزید کچھ تحقیق پیش کرتا ہوں۔  ان شاءاللہ
جیسا کہ اسامہ بن لادن  کے خلاف جنگ کی شروعات 11/9 کے ڈرامہ سے شروع ہوئی تھی، جب پہلی اسٹیج ہی ڈرامہ تھی تو اس کا ہر سین بھی ڈرامہ ہوتا ہے۔
فرانس کی اخبار لے فگیرو کے ایک رپورٹر نے 1 نومبر  2001 کو اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ اسامہ بن لادن اور سی آئی اے کی دبئی  کی ایک اسپتال میں ملاقات ہوچکی ہے۔ اس پر میں کچھ انکشافات اردو ترجمہ کرکے آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ ان شاءاللہ

Bin Laden is reported to have arrived in Dubai on July 4 from Quetta in Pakistan with his own personal doctor, nurse and four bodyguards, to be treated in the urology department. While there he was visited by several members of his family and Saudi personalities, and the CIA.

اسامہ بن لادن 4 جولاء 2001 یو کوئٹہ پاکستان سے دبئی پہنچا اور اس کے ساتھ اس کا ذاتی ڈاکٹر، نرس اور 4 محافظ بھی تھے جہاں اس نے اپنی فیملی کے کچھ ممبران،سعودی آفیشل ممبران اور امریکی سی آئی اے  کے ایجنٹ سے بھی ملاقات کی۔

CIA physicians had visited Bin Laden in July 2001 at the American Hospital in Dubai.
اسامہ بن لادن کو11/9 سے دو مہینے پہلے دبئی کی اسپتال میں داخل کروایا گیا تھا  10 ن کے لیے اور وہ اسپتال امریکہ کے زیر سرپرستی چل رہی تھی۔  یوں کہیے کہ اس کا علاج دبئی کی امریکی اسپتال میں ہورہا تھا اور نہ صرف ہورہا تھا سی آئی اے کے ایک فزیشن ڈاکٹر بھی اس کو دیکھ چکا تھا۔

The CIA chief was seen in the lift, on his way to see Bin Laden, and later, it is alleged, boasted to friends about his contact. He was recalled to Washington soon afterwards.
اس اسپتال میں اس کی ملاقات سی آئی اے کے چیف کے ساتھ ہوئی تھی جوکہ اس ملاقات کے بعد فوری طور پر واشنگٹن روانہ ہوگیا تھا۔

Intelligence sources say that another CIA agent was also present; and that Bin Laden was also visited by Prince Turki al Faisal, then head of Saudi intelligence, who had long had links with the Taliban, and Bin Laden۔
 اور  اس سے ملنے والوں میں سے سعودی شہزادہ پرنس ترکی الفیصل ، سعودی انٹیلی جنس چیف  بھی تھے جس کےلنک طالبان اور بن لادن کے 
ساتھ تھے او ر ایک سی آئی اے کا ایجنٹ بھی وہاں موجود رہا۔

یہ اور بات ہے  کہ اس اسپتال والوں نے اور واشنگٹن والوں نے بھی اس خبر کو جھوٹ قرار دیا جوکہ ان کا پرانا وطیرہ ہے اور اس خبر  کو  فرانس کی ایک اخبار نے افشاں کیا تھا۔

Private planes owned by rich princes in the Gulf fly frequently between Quetta and the Emirates, often on luxurious "hunting trips" in territories sympathetic to Bin Laden۔
گلف کے ایک شیخ کے پرائیوٹ جہاز میں بن لادن کو کوئٹہ سے دبئی لایا گیا تھا ۔

Bin Laden has often been reported to be in poor health. Some accounts claim that he is suffering from Hepatitis C, and can expect to live for only two more years.
اسامہ بن لادن کی طبیعت اکثر خراب رہتی تھی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ کو ہیپاٹیئیٹس سی ہوا تھا اور وہ صرف دو سالوں تک زندہ رہ سکتا تھا۔

According to Le Figaro, last year he ordered a mobile dialysis machine to be delivered to his base at Kandahar in Afghanistan.
فرانس کی اخبار لے فگیرو نے انکشاف کیا تھا کہ سال 2000 می اسامہ بن لادن نے موبائل ڈائیلاسز مشین  آرڈر کی تھی جوکہ اس کے بیس کندھار افغانستان پہنچائی گئی تھی۔

مزید خبر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک کو کلک کیجیے۔ ان شاءاللہ


اب اس تحقیق کا اخذ یہ نکلتا ہے کہ اسامہ بن لادن امریکہ کا ایجنٹ تھا اور اسی کے لیے کام کرتا تھا۔  اور جب وہ  11/9 ہوا تو اوپر کی خبر کے مطابق وہ زیادہ وقت تک زندہ نہیں رہ سکتا تھا، اگر اس خبر میں صداقت ہے تو پھر اسامہ بن لادن کے بہت پہلے ہی مرجانا چاہیے تھا ۔
اس بارے میں اگلی تحقیق پیش کی جائے گی۔ ان شاءاللہ
والسلام علیکم

Monday, 4 July 2011

اسامہ بن لادن یا سی آئی اے ایجنٹ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

جب سے اسامہ بن لادن کے موت کا ڈرامہ چل نکلا ہے ہر کسی کو اس پر ترس آگیا ہے اور کچھ لوگوں کو تو وہ شھید، امیر المجاہدین، اسلام کا علمبردار اور نجانے کن کن القاب سے نوازا گیا ہے۔ اور تو اور وہ لوگ جن کو اسامہ سے کوئی دلی ہمدردی نہیں تھی اب اس کی موت کے بعد ان کے دل میں بھی کچھ ہمدردی پیدا ہوگئی ہے۔ عجیب!!!!!!اور میں اس قسم کے القاب کو سن پر ایسے ہی ہنستا ہوں جیسے یہاں سے ھزاروں میل دور پینٹاگون میں بیٹھے سی آئی اے علمدار ہنستے ہونگے ہم مسلمانوں کی کم عقل پرسب سے پہلے تو یہ بات کسی بھی جذباتی مسلمان کو سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ سب ڈرامہ ہے اور بہت سے لوگ اس کو اب بھی ڈرامہ ہی سمجھتے ہوں مگر یہ بات کوئی بھی نہیں سمجھتا کہ اسامہ بن لادن امریکی اسیٹ (اثاثہ) تھا اور مرنے تک رہا ہے۔ مگر اس بات کو کوئی ماننے کو تیار ہی نہیں ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ پہلے سی آئی اے کا ایجنٹ تھا مگر اس کے بعد نہیں رہا اور یہاں سے ہی ان کی بیوقوفی شروع ہوگئی ہے۔ میری بات کو اب تک کسی نے نہیں مانا اور نہ سمجھے گا کیونکہ بہت ساری باتیں ایسی ہوتی ہیں جوکہ جب تک میڈیا میں نہ آئيں تب تک کوئی کسی پر یقین نہیں کرتا۔اب ایک بات عرض کروں کہ امریکہ جس نے ابن لادن کو بنایا اور جس نے اب تک القائدہ کو سپورٹ کیا ہے وہ تو ٹی وی پر آکر یہ کہنے سے رہا کہ یہ سب ہمارے لیے کام کرتے ہیں۔ دیکھیں! اسامہ تب تک زندہ رہا جب تک امریکہ نے چاہا اور جب اس کی موت اوبامہ کے لیے اچھی الیکشن مہم ثابت ہوتی ہے تو اس نے اس کو ماردیا۔ بہت سے لوگ اسی بات کو حقیقت سمجھتے ہیں اور اس میں حقیقت کا پہلو بھی ہے مگر اصل حقیقت کچھ اور ہے جو جذبات میں آتے ہوئے لوگ سمجھ نہیں پائيں گے اور نہ ان لوگوں کو سمجھ میں آئے گا جنہوں نے اسامہ کو اپنا مسیحا سمجھا ہوا تھا اور اس کے نام کی مالا جبتے رہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ (مرد/عورت) آج کل فورمز میں اسامہ کے لیے غیرت دکھاتے نظر آئیں گے اورتکفیر کا فتوای بھی پھینکتے جائيں گے- مگر کم ازکم یورپ کے لوگ اس کے برعکس سمجھتے ہیں اور اس کہانی پر بالکل
 یقین نہیں رکھتے بلکہ اس ٹوہ میں لگے رہتے ہیں کہ اصل پس پردہ کیا پلاننگ ہوئی ہوگی۔ 
سب سے پہلے تو یہ جنگ کوئی اسلام و کفر کی جنگ نہیں ہے، یہ ایک طاقت کی جنگ ہے، افغانستان میں جو جنگ چل رہی ہے وہ دنیا کی دو
 طاقتور ترین انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جنگ ہے، سی آئی اے اور آئی ایس آئی ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔
ایک ایجنسی تحریک طالبان پاکستان کی حمایت کرتی ہے تو دوسری ایجنسی طالبان افغانستان کی پشت پناہی کررہی ہے۔
افغانستان میں نیٹو کی آرمی مررہی ہے اور پاکستان میں ہماری آرمی بشمول پاکستانی لوگ۔
اب کم علم لوگ اس کو جہاد کا نام دیں یا مجاہدین کے معجزے، مگر حقیقت وہ ہی ہے جو میں نے بیان کی ہے۔
اب آپ لوگ کچھ دھائیاں پیچھے چلے جائيں تو آپ کو حقیقت کا علم ہوگا کہ روس کے خلاف جو جہاد شروع ہوا تھا افغانستان میں وہ جہاد نہیں تھا، بالکل میں نہیں تھا۔
امریکہ کی روس کے خلاف طاقت کی جنگ تھی، جس میں پاکستان اور سعودی عرب کی مدد کے ذریعے اور افغانیوں کی لاشوں کے سہارے امریکہ نے وہ جنگ جیتی تھی اور اس کا نام جہاد دیا گیا تھا، کیونکہ اکر اس کا نام جہاد نہ دیا جاتا تو اس میں حصہ لینے کوئی نہیں آتا۔
سعودی عرب سے رکروٹمینٹ ہوتی تھی اور ساری دنیا سے لوگ رکروٹ ہوتے تھے اور اسامہ بن لادن افغانستان میں سعودیہ کی طرف سےامریکہ کے ایجنٹ کا کام کرتا تھا بعد میں وہ ہی امریکی ایجنٹ بذریعہ سعودی عرب امیرالمجاہدین بن گیا۔ 

More than two million Afghans had died in the decade long war CIA war- its biggest covert operation since Vietnam. US taxpayers spent $3.8 billion prosecuting the genocide. The House of Saud matched that amount and the other GCC monarchs kicked in as well.

The US did nothing to help rebuild Afghanistan and the forces which the CIA created to fight their proxy war were increasingly turning their anger towards the West.
(Handbook for the New War”. Evan Thomas. Newsweek. 10-8-01)

اور اسامہ بن لادن ہیرو بن گیا، اور لوگوں نے اس کو پیسہ دینا شروع کردیا اور تو اور ایک سعودی ارب پتی جس کا امریکہ میں بہت بڑا کاروبار چل رہا تھا اور اس کے کاروبار میں جارج بش اور دوسرے لوگ پارٹنر تھے، اس نے بھی اسامہ کو بہب بڑی رقم دی۔

Saudi billionaire Sheik Khalid bin Mahfouz- owner of BCCI and National Commercial Bank and an enthusiastic supporter of the mujahadeen- embraced the Taliban. Bin Mahfouz- whose net worth is over $2 billion- controls Nimir Petroleum, a partner with Chevron Texaco in developing a 1.5 billion barrel Kazakhstan oil field. A Saudi Arabian government audit found that bin Mahfouz’ National Commercial Bank had transferred over $3 million to Osama bin Laden charities in 1999.

The White House Connection: Saudi Agents and Close Bush Friends”. Maggie Mulvihill, Jonathan Wells and Jack Meyers. Boston Herald Online Edition. 12-10-01


اسامہ بن لادن نا تو مجاہد تھے اور نہ ہی نام نہاد القائدہ کا سربراہ، القائدہ ایک کہانی ہے، ٹی وی پر چلنے والا ڈرامہ جس کی اصل دنیا سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ جب القائدہ کا کوئی وجود ہی نہیں ہے تو اس کے سربراہ کی کیا حیثیت ہے اور جب اس کے نام نہاد فرضی سربراہ کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے تو وہ مجاہد کیسے ہوگيا۔
اب  لوگ کہیں گے کہ پھر امریکہ اس کے پیچھے کیوں پڑگیا تھا اور اس کو کیوں مارا یا اس کی دشمن کیوں ہے تو یہ بھی ایک ڈرامہ ہے۔
القائدہ اور اسامہ کے نام استعمال کرکے امریکہ اپنے مفادوں کو بروئے کار لارہا ہے جوکہ کم علم لوگ جہاد کی جذباتیت میں آکر سمجھنے سے قاصر ہیں۔
سب سے پہلے تو امریکہ کا افغانستان میں حملہ اسامہ کے لیے تھا ہی نہیں، یہ تو کنفرم ہے، یہ 9/11 کا ڈرامہ رچانے کا مقصد بزنس ڈیل میں ناکامی ہے اور بس۔
کم علم لوگ اس کو اسلام اور عیسائیت کی جنگ قرار دے رہے ہیں اور اس جنگ میں لڑنے والے کو مجاہد اور مرنے والے کو شھید کا درجہ دیتے ہیں۔
حالانکہ کہانی اس کے برعکس ہے۔
سب سے پہلے تو سب کو پتہ ہے کہ 9/11 ایک ڈرامہ تھا اس کو اسامہ نے اپنے سر کیوں لیا؟ القائدہ کی وڈیوز ہر وقت آتی رہتی تھی 9/11 کے حمایت میں، آخر کیوں؟
اگر آپ کہتے ہیں کہ یہ سب کہانی امریکہ کی ہے، یہ اسامہ کا نام دینا، اس کی وڈیوز بنانا، ہر دھماکوں کی ذمہ واری اسامہ کی لینا اور القائدہ کا ہر جگہ نام استعمال کرنا امریکہ کا ڈرامہ ہے تو پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب یہ سارا ڈرامہ ہے تو پھر اسامہ نے کون سے تیر مارے کہ وہ مجاہد بن گیا؟
اور اگر اس نے یہ  سب کیا ایک مجاہد ہونے کے ناتے تو پھر اس کا مطلب ہے کہ 9/11 بھی اسی نے کیا ہوگا!!!! جوکہ ایک ڈرامہ ہے تو اس پھر اس ڈرامہ میں بھی اسامہ کا کوئی کردار ہوگا!!!

آخر میرے آپ سے کچھ سوالات ہیں کہ:


اسامہ مجاہد کیسے بن گیا؟

اور اگر وہ مجاہد ہے تھا پھر اس نے کون سے تیر مارے؟
اگر اس نے روس کے خلاف تیر مارے تو وہ تو سی آئی اے کے ایجنٹ کے طور پر کام کررہا تھا تو پھر مجاہد کیسے ہوگیا؟
اور اگر امریکہ کے خلاف اس نے لڑائی کی ہے تو پھر اس کا مطلب ہے کہ دنیا میں اور خصوصی طور پر مسلم دنیا میں قل غارت ہوئی جہاد کے نام پر وہ اسامہ نے کی تھی تو پھر وہ اسلام کا مجاہد کیسے ہوگیا کہ ان سے تو معصوم اور نہتے لوگ مارے؟



خیر ان سوالوں کا جوابات  ایک اور تحقیق پڑھنے کے بعد آپ کو معلوم ہوجائيں گے۔ ان شاءاللہ
والسلام علیکم

Sunday, 3 July 2011

"دنیا میں عالمی دھشتگردی کا کوئی وجود ہی نہیں ہے"

السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
آج جو عنوان میں لےکر آیا ہوں اس کا تعلق عالمی دھشتگردی سے ہے۔
آج کل دنیا میں امریکہ نے عالمی دھشتگردی کے خلاف جنگ (war On Terrorism) کے نام سے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کے لیے پوری دنیا میں دھشتگردی مچا رکھی ہےاور اس دھشتگردی کا شکار مسلمان اور مسلمانوں کے بے بہا قیمتی وسائل ہیں جو اللہ تعالی نے ہمیں عطا کیے ہیں۔
اگر آپ تحقیقی طور پر پوری دنیا میں نگاھ دوڑائيں گے تو آپ کو یہ دھشتگردی کے خلاف جنگ ایک گھناؤنے مقصد کی تکمیل کے مشن کے علاوء کچھ نہیں نظر آئے گی۔
حالانکہ اس کو ان الفاظ یہ کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ:
"دنیا میں عالمی دھشتگردی کا کوئی وجود ہی نہیں ہے"
اس بارے میں انٹرنیشنل کالم نگاروں نے بہت کچھ لکھا ہے اور بہت ساری تحقیقی عنوانات پیش کیے مگر جو کالم میں آپ کے سامنے پیش کررہا ہوں جس میں روس ایک جنرل نے انکشاف کیا ہے کہ:
International Terrorism Does Not Exist
اس میں وہ لکھتے ہیں کہ:
International terrorism does not exist and that the September 11 attacks were the result of a set-up.
کہ یہ جنگ کا کوئی وجود ہی نہیں ہے اور یہ ایک 9/11 کے کارنامہ بنا بنایا کھیل تھا۔
اور لکھتا ہے کہ:

Terrorism is the weapon used in a new type of war. At the same time, international terrorism, in complicity with the media, becomes the manager of global processes. It is precisely the symbiosis between media and terror, which allows modifying international politics and the exiting reality.

دھشتگری نئی قسم کی جنگ کا ہتھیار ہے۔ اور یہ عالمی دھشتگری کا ہتھیار میڈیا کی ملی بھگت یا سازش کا نتیجہ ہے۔

The organizers of those attacks were the political and business circles interested in destabilizing the world order and who had the means necessary to finance the operation.

اس دھشتگری کے ترتیب دینے والے بزنس مین اور سرمایہ کار ہیں جو اس دنیا کے ایک نئے انداز سے ترتیب دینا چاہتے تھے اور انہی لوگوں نے اس آپریشن کو فنانس کیا تھا۔

Only secret services and their current chiefs – or those retired but still having influence inside the state organizations – have the ability to plan, organize and conduct an operation of such magnitude. Generally, secret services create, finance and control extremist organizations. Without the support of secret services, these organizations cannot exist –

صرف انٹیلی جنس ایجنسیاں، ان کے موجودہ سربراہان یا پھر رٹائرڈ سربراہاں (جن کا اب بھی ایجنسی میں رول ہے) نے یہ سارا 9/11 کا ڈرامہ ترتیب دیا تھا اور یہ ایجنسیاں ہی جہادی تنظیموں کو فنانس اور کنٹرول کرتی ہیں اور ان کی سپورٹ کے بغیر ان جہادی تنظیموں کا وجود ہی نہیں رہے۔ [/COLOR]

Osama bin Laden and “Al Qaeda” cannot be the organizers nor the performers of the September 11 attacks. They do not have the necessary organization, resources or leaders. 

اسامہ بن لادن یا القائدہ اس 9/11 کے واقعے کو نہ ترتیب دے سکتی ہے اور نہ یہ کارنامہ کرسکتی ہے کیونکہ ان کے پاس یہ کام کرنے کے لیے نہ تنظیم ہے نہ وسائل ہیں اور نہ ہی ایسا کوئی لیڈر/سربراہ ہے۔ 
The September 11 operation modified the course of events in the world in the direction chosen by transnational mafias and international oligarchs; that is, those who hope to control the planet’s natural resources, the world information network and the financial flows. This operation also favored the US economic and political elite that also seeks world dominance.

اس 9/11 کے واقعے کے پیچھے بین الاقوامی مافیا ہے جو اس دنیا کے مالی وسائل، فنانشل بہاؤ اور انفارمیشن نیٹ ورک پر کنٹرول کرنا چاہتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ (اس نام نہاد عاملی دھشتگردی کی جنگ میں) امریکہ کے ٹاپ اکانامک اور پولیٹکل اشرافیہ بھی دلچسپی رکھتے ہیں جن کا مقصد بھی اس دنیا میں حکومت کرنا/کنٹرول کرنا ہے۔

The use of the term “international terrorism” has the following goals: 


اب اس عالمی دھشتگردی کے کیا مقاصد نکلتے ہیں یا اس کا کنکلیوڑن کیا ہے وہ آپ نیچے دیے گئے لنک میں پڑھ سکتے ہیں۔ ان شاءاللہ
International Terrorism Does Not Exist

اس کالم کے لکھنے والے روسی جنرل کا کچھ تعارف یوں ہے۔

General Leonid Ivashov 
General Leonid Ivashov is the vice-president of the Academy on geopolitical affairs. He was the chief of the department for General affairs in the Soviet Union’s ministry of Defense, secretary of the Council of defense ministers of the Community of independant states (CIS), chief of the Military cooperation department at the Russian federation’s Ministry of defense and Joint chief of staff of the Russian armies.

امید کہ کچھ بات سمجھ آگئی ہوگی، ویسے بھی یہ ایک معمولی سا خاکہ تھا 9/11 کے ڈرامہ کے اوپر اس پر تو اب لکھوں صفحے رقم کیے گئے ہیں۔

والسلام علیکم

Saturday, 2 July 2011

رفع بلاء اور دفع مصائب کے لیے چھلے پہننا اور دھاگے وغیرہ باندھنا شرک ہے۔

رفع بلاء اور دفع مصائب کے لیے چھلے پہننا اور دھاگے وغیرہ باندھنا شرک ہے۔
اللہ تعالی کا ارشادہے:
(قُلْ أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ أَرَادَنِيَ اللَّهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كَاشِفَاتُ ضُرِّهِ أَوْ أَرَادَنِي بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكَاتُ رَحْمَتِهِ قُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ (سورة الزمر39: 38))
“(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم)آپ ان سے کہہ دیجئے:تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اللہ تعالی مجھے کوئی ضرر پہنچانا چاہے تو اللہ کے علاوہ تم جن کو پکارتے ہو کیا وہ اس ضرر کو ہٹا سکتے ہیں؟ یا اللہ مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو کیا یہ اسکی رحمت کو روک سکتے ہیں؟آپ کہہ دیجیے: مجھے تو اللہ ہی کافی ہے۔ بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔”(2)

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
(أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَى رَجُلًا فِي يَدِهِ حَلْقَةٌ مِنْ صُفْرٍ فَقَالَ: مَا هَذِهِ؟ قَالَ: مِنَ الْوَاهِنَةِ. فَقَالَ: انْزِعْهَا فَإِنَّهَا لَا تَزِيدُكَ إِلَّا وَهْنًا, فَإِنَّكَ لَوْ مُتَّ وَهِيَ عَلَيْكَ، مَا أَفْلَحْتَ أَبَداً)(مسند احمد :4 / 445 و سنن ابن ماجہ، الطب، باب تعلق التمائم ، ح:3531)
“نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ میں پیتل کا چھلا دیکھا تو پوچھا: “یہ کیا ہے؟” اس نے کہا یہ واھنہ(ایک مرض) کی وجہ سے پہنا ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا: “اسے اتاردو۔(اس لیے کہ یہ تمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا) تمہاری بیماری میں مزید اضافہ ہی کرےگا۔ اگر تمہیں یہ چھلا پہنے ہوئے موت آگئی تو کبھی نجات نہ پاسکو گے۔”(3)

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(مَنْ تَعَلَّقَ تَمِيْمَةً فَلَا أَتَمَّ الله ُلَهُ، وَمَنْ تَعَلَّقَ وَدَعَةً فَلَا وَدَعَ الله ُلَهُ)(مسند احمد :4 / 153)
“جس نے (بیماری سے تحفظ کے لیے)کوئی تمیمہ(تعویذ، منکاوغیرہ)لٹکایا، اللہ تعالی اس کی مراد پوری نہ کرے۔ اور جس نے سیپ باندھی اللہ تعالی اسے بھی آرام اور سکون نہ دے۔”(4)
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:
(مَنْ تَعَلَّقَ تَمِيْمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ)(مسند احمد :4 / 156)
“جس نے (بیماری سے تحفظ کی نیت سے)تمیمہ(تعویذ، منکا وغیرہ)لٹکایا اس نے شرک کیا۔”
ابن ابی حاتم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان کیا ہے:
(أَنَّهُ رَأى رَجُلاً فِي يَدِهِ خَيْطٌ مِّنَ الْحُمَّى فَقَطَعَهُ)“نہوں نے ایک شخض کے ہاتھ میں بخار سے تحفظ کے لیے دھاگا بندھا ہوا دیکھا تو انہوں نے اسے کاٹ ڈالا اور یہ آیت تلاوت فرمائی:
(وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ (سورة يوسف12: 106))
“اور ان میں سے اکثرلوگ اللہ تعالی پر ایمان لانے کے باوجود مشرک ہیں۔”(5)
(تفسیر ابن ابی حاتم:7 / 12040)

مسائل
1)(بیماری سے تحفظ کی نیت سے )چھلا پہننا اوردھاگہ وغیرہ باندھنا سخت منع ہے۔
2) اگر صحابی بھی اس نیت سے کوئی چیز پہنے، باندھے یا لٹکائے اور اسی حال میں مرجائے تو وہ بھی کبھی فلاح نہیں پا سکتا۔ حدیث میں صحابہ کی اس ٹھوس بات کے لیے شاہد بھی موجود ہے کہ شرک اصغر ، کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
3) جہالت کے سبب بھی ان اعمال کے مرتکب کو معذور نہیں سمجھا جائے گا۔
4) یہ چیزیں دنیا میں بھی مفید نہیں بلکہ مضر ہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “یہ تیری بیماری کو مزید بڑھائے گا”
5) ایسی چیزیں استعمال کرنے والے کو سختی سے روکنا چاہئے۔
6) جو شخص، کوئی چیز باندھے یا لٹکائے تو اسے اسی کے سپرد کردیا جاتا ہے۔
7) تمیمہ (تعویذ ، منکا وغیرہ)لٹکانا بھی شرک ہے۔
8) بخار کی وجہ سے دھاگہ وغیرہ باندھنا بھی شرک ہے۔
9) حذیفہ رضی اللہ عنہ کا اس موقع پر سورۂ یوسف کی آیت تلاوت کرنایہ دلیل ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شرک اکبر کی آیات کو شرک اصغر کی تردید میں پیش کیا کرتے تھے جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا ہے۔
10) نظربد سے بچاؤکے لیے سیپ باندھنا بھی شرک ہے۔
11) (بیماریوں سے تحفظ کے لیے)تمیمہ (تعویذ، منکا وغیرہ)لٹکانے والے اور سیپ وغیرہ باندھنے والے کے لیے بد دعا کی جاسکتی ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “اللہ تعالی اس کی مراد پوری نہ کرے اور اسے آرام نہ دے۔”
نوٹ:-
(1) شرک کی توضیح کرتے ہوئے یہاں سے توحید کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ اور یہ بات طے شدہ ہے کہ کسی چیز کی معرفت اور پہچان دو طرح سے حاصل ہوتی ہے۔اپنی حقیقت کی معرفت اور اس کی ضد کی معرفت۔
یہاں سے امام(محمد بن عبد الوہاب)اپنی گفتگو کا آغاز، توحید کے متضاد یعنی شرک اکبر کے بیان سے کر رہے ہیں۔ کیونکہ شرک اکبر کے ارتکاب سے توحید مکمل طور پر ختم ہو کر رہ جاتی ہے اور اس کا مرتکب ملت اسلامیہ سے یکسر خارج ہو جاتا ہے۔ شرک کی بعض اقسام ایسی ہیں جو توحید کے اعلی درجہ کے منافی ہیں اور وہ اقسام شرک اصغر سے ہیں۔ ان کے ارتکاب سے توحید کے اعلی درجہ میں کمی آجاتی ہے۔ اس لیے توحید کا اعلی ترین درجہ تویہ ہے کہ انسان شرک کی جملہ انواع و اقسام سے بچ کر رہے۔
شیخ(محمد بن عبد الوہاب رحمتہ اللہ علیہ)نے شرک کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ابتدا میں شرک اصغر کی بعض ایسی منتقل ہونے کے اصول پر عمل کرتے ہوئے اولا شرک اصغر کا اور بعد ازاں شرک اکبر کا ذکر کیا ہے۔
اس باب کے عنوان سے واضح ہوا کہ چھلے پہننے اور دھاگے باندھنے کے علاوہ منکے، تعویذات، لوہا، چاندی وغیرہ اور دیگر مختلف اشیاء جو گلے میں باندھی یا لٹکائی جاتی ہیں یا گھروں میں، گاڑیوں پر چھوٹے بچوں کے گلے میں کسی مخصوص مقصد، نظریہ یا عقیدہ کے تحت پہنی ، باندھی یا لٹکائی جاتی ہیں، یہ سب شرک ہے۔
چھلے اور دھاگے اور اسی طرح تعویذات وغیرہ کی بابت عربوں کا عقیدہ تھا کہ یہ اشیاء آئی ہوئی مصیبت کو رفع کردیتی یا آنے والی مصیبت کو روک دیتی ہیں۔ ایسی حقیر اشیاء کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ یہ چیزیں اللہ تعالی کی تقدیر کو روک سکتی ہیں، یہ شرک اصغر کیسے ہو سکتا ہے؟ (بلکہ یہ تو شرک اکبر ہے۔)کیونکہ ایسا کرنے والے کے دل میں ان اشیاء کی محبت موجود ہوتی ہے اور وہ ان اشیاء کی مصائب روکنے اور ان سے بچانے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ یہی شرک ہے۔ اصل اصول یہ ہے کہ صرف انہی اشیاء اور اسباب کی تاثیر کا عقیدہ رکھنا جائز ہے جن کی شریعت نے اجازت دی ہے یا تجربہ سے ثابت ہو کہ یہ اسباب واقعی ظاہری طور پر مؤثر ہیں۔ مثلا طبیب کا دوا دینا، یا جیسے وہ اسباب ، جن سے نفع حاصل ہوتا ہے جیسے آگ سے حرارت اور پانی سے ٹھنڈک کا حاصل ہونا وغیرہ۔ یہ ایسے اسباب ہیں جن کی تاثیر ظاہر اور واضح ہے۔
شرک اصغر کی جملہ اقسام بعض اوقات نیتوں کی بنیاد پر شرک اکبر بن جاتی ہیں۔ مثلا کوئی شخص چھلے اور دھاگے وغیرہ کو سبب سمجھنے کی بجائے یہ عقیدہ رکھے کہ یہ بذات خود مؤثر ہے تو اس کا یہ عمل شرک اکبر ہوگا کیونکہ اس نے یہ عقیدہ رکھا کہ اس کا ئنات میں اللہ تعالی کے علاوہ بھی کوئی چیز تصرف کرنے کی قدرت رکھتی ہے۔ گویا اس مسئلے کا اصل تعلق دل کے ساتھ ہے۔
(2) اس آیت میں اللہ تعالی نے اپنے نبی سے فرمایا کہ آپ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ کیا اس بات کا اقرار کرلینے کے باوجود کہ صرف اللہ تعالی ہی آسمانوں اور زمینوں کا خالق ہے، تم اس کے ساتھ ساتھ غیر اللہ کی بھی عبادت کرتے ہو؟ قرآن مجید کا یہی انداز ہے کہ مشرکین جس توحید ربوبیت کا اقرار کرتےہیں ، وہ ان کے اسی اقرار کو ان کے خلاف پیش کرکے اس توحید الوہیت کا اثبات کرتا ہے جس سے وہ انکار کرتے ہیں۔
“تَدْعُوْنَ”تم پکارتے ہو۔ یہ پکارنا بطور سوال اور طلب ہو یا محض بطور عبادت ۔ مشرکین میں غیر اللہ کو پکارنے کی یہ دونوں صورتیں پائی جاتی ہیں۔ اور اللہ کے علاوہ جنہیں پکارا جاتا ہے ان کی کئی قسمیں ہیں مثلا بعض مشرک تو مصیبت، دکھ یا پریشانی کے موقع پر انبیاء ، رسل اور صالحین کو پکارتے ہیں، بعض اللہ تعالی کے فرشتوں کو پکار کے لائق سمجھتے ہیں اور بعض ستاروں کی طرف، بعض اشجار و احجار کی طرف اور بعض بتوں اور مٹی کی ڈھیریوں کی طرف لپکتے اور جھکتے ہیں۔ یہ سب شرک کی صورتیں ہیں۔ پیش نظر آیت میں اللہ تعالی نے ثابت کیا ہے کہ یہ تمام معبودان باطلہ کسی کو نفع یا نقصان پہنچانے پر قادر نہیں۔ اب ان اشیاء اور شخصیات کے متعلق مشرکین کا یہ عقیدہ، کہ اللہ تعالی کے ہاں ان کے بلند مراتب ہیں جن کی وجہ سے یہ اس کے ہاں سفارش کرسکیں گے، باطل اور بے بنیاد ہوا۔ قرآن مجید میں جو آیات شرک اکبر کی تردید میں آئی ہیں، اہل علم انہی آیات کو شرک اصغر کے ابطال اور تردید میں بھی پیش کرتے ہیں کیونکہ دونوں قسم کے شرک(اکبر اور اصغر)میں انسان اللہ تعالی کو چھوڑ کر غیراللہ کے ساتھ اپنا تعلق جولیتا ہے۔ لہذا جب بڑی صورت (شرک اکبر)میں غیر اللہ کے ساتھ تعلق جوڑنا باطل اور بے حقیقت ہے تو چھوٹی صورت(شرک اصغر)میں تو بالاولی باطل ہوا۔
نیز اس آیت میں یہ بیان ہے کہ اللہ تعالی کے علاوہ کسی کو یہ قدرت حاصل نہیں کہ وہ کسی کو کچھ ضرر یا نقصان پہنچا سکے۔ اسی طرح یہ بھی کہ جب اللہ تعالی کسی کو کوئی ضرر پہنچائے تو اس کے حکم کے بغیر کوئی بھی شخص یا چیز اس ضرر کو ہٹانے پر قادر نہیں۔ اللہ تعالی کے علاوہ، کسی کو نفع دینے یا ضرر پہنچانےکے لائق سمجھنے کا یہی وہ مفہوم ہے جس کے پیش نظر مشرک لوگ چھلے پہنتے یا دھاگے باندھتے ہیں، اسی لیے ان کاموں کو شرک کہا گیا ہے۔
(3) آپ کا “مَاهذِه”کہہ کر اس چھلے کے متعلق دریافت کرنے کا یہ انداز اس کے اس عمل پر شدید ناراضی، ناپسندیدگی، اور انکار کے لیے تھا۔
واھنہ: ایک بیماری ہے جو جسم کو کمزور کر ڈالتی ہے۔
(امام ابن الاثیر الجزری فرماتے ہیں کہ “واھنہ” ایک ایسی بیماری ہے جس سے کندھے یا پورے بازوکی رگ پھول جاتی ہے۔ اس تکلیف سے نجات کے لیے دم بھی کرتے ہیں۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ کہنی اور کندھے کے درمیانی حصہ میں بعض اوقات تکلیف ہوجایا کرتی ہے۔ یہ تکلیف مردوں کو ہوتی ہے۔ عورتوں کو نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو وہ چھلا پہننے سے اس لیے منع فرمایا تھا کہ اس نے اس خیال سے پہنا تھا کہ وہ اسے مرض سے محفوظ رکھے گا۔ حالانکہ چھلے کا بیماری سے نجات سے کوئی واسطہ یا تعلق نہیں۔ مترجم)
“انْزِعْهَا”اسے اتار دو۔ یہ حکم تھا اور جس شخص کوکوئی حکم دیا جائے، اگر انسان جانتا ہو کہ وہ حکم اطاعت سے انکار نہیں کرے گا تو اسے ہاتھ سے منع کرنے کی بحائے زبان سے کہہ دینا ہی کافی ہوتا ہے۔
“فَإِنَّهَا لَا تَزِيدُكَ إِلَّا وَهْنًا”یہ تمہاری بیماری میں مزید اضافہ ہی کرے گا”۔
یعنی اگر تمہارے عقیدہ کے مطابق اس کی کوئی تاثیر ہے تو یہ نہ صرف تمہارے جسم کو نقصان پہنچائے گا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ تمہاری روح اور نفس کو بھی نقصان پہنچائے گا اور وہ یہ کہ تمہاری روح اور نفس کمزور ہوجائیں گے۔
مشرک کی عقل کام نہیں کرتی۔ وہ چھوٹے نقصان سے بچنے کی خاطر کوئی ایسا کام کر بیٹھتا ہے جو پہلے سے بھی بڑے نقصان پر منتج ہوتا ہے۔ مگروہ عقل کی کمی کی وجہ سے نقصان کو نفع پر محمول کرتا رہتا ہے۔
“ فَإِنَّكَ لَوْ مُتَّ وَهِيَ عَلَيْكَ، مَا أَفْلَحْتَ أَبَداً” “اگر تمہیں یہ چھلا پہنے ہوئے موت آگئی تو کبھی نجات نہ پاسکو گے”۔
اس نفی میں دو معنوں کا احتمال ہے۔ ایک تو یہ کہ ایسا کرنے والے کو شرک اکبر کا ارتکاب کرنے والے کی مانند کبھی جنت میں داخلہ اور جہنم سے نجات نہ مل سکے گی کیونکہ اس نے یہ عقیدہ رکھا کہ یہ چھلا بذات خود نفع بخش اور مفید ہے اور دوسرا معنی ہے کہ ایسا کرنے والے کو مکمل نجات نہ مل سکے گی کیونکہ اللہ تعالی نے شرعی یا قدرتی طور پر جس چیز کو شفا کا سبب قرار نہیں دیا اس نے اسی کو شفا دہندہ سمجھ لیا۔ اس لیے اس مفہوم کے لحاظ سے اس کا شرک ، شرک اصغر ہوگا۔
(مَنْ تَعَلَّقَ تَمِيْمَةً فَلَا أَتَمَّ الله ُلَهُ)جس نے تمیمہ لٹکایا اللہ تعالی اس کی مراد پوری نہ کرے” “تَعَلَّقَ”کا معنی جہاں لٹکانے کا ہے وہاں اس کا معنی دلی لگاؤ اور قلبی میلان کا بھی ہے۔ گویا کوئی چیز(بیماری سے تحفظ کے لیے)لٹکانے والے کا دلی لگاؤ اور قلبی میلان اس کی طرف ہوتا ہے۔
“تَمِيْمَةً”.....نظربد سے تحفظ، نقصان سے بچاؤ اور کسی کے حسد سے حفاظت کی خاطر، منکے یا کوئی دوسری چیز جو گلے میں پہنی اور سینے پر لٹکائی جائے اسے “تَمِيْمَةً”کہا جاتا ہے۔ ایسا کرنے والے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا فرمائی ہے کہ اللہ تعالی اس کی مراد پوری نہ کرے۔ “تَمِيْمَةً”کو تمیمہ کہنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس کے بارے میں انسان کا یہ اعتقاد ہوتا ہے کہ میرا کام یہی (منکے وغیرہ)مکمل اور تمام کریں گے۔ تو آپ نے اسی بد اعتقادی کی بنا پر بد دعا فرمائی کہ اللہ تعالی اس کا کام مکمل اور پورا ہی نہ کرے۔
“ وَمَنْ تَعَلَّقَ وَدَعَةً فَلَا وَدَعَ الله ُلَهُ” (اور جس نے سیپ (گلے میں) لٹکائی اللہ تعالی اسے آرام اور سکون نہ دے)
“وَدَعَةً”سیپیوں یا منکوں کی ایک قسم ہے جسے لوگ (گلے میں پہن کر)سینے پر کھتے ہیں یا پھر نظربد سے بچنے کے لیے بازو پر باندھتے ہیں۔ ایسا کرنے والے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا فرمائی کہ اللہ تعالی ایسے شخص کو آرام و سکون اور راحت میں نہ رہنے دے۔ کیونکہ اس نے اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کیا۔
(4) “مِّنَ الْحُمَّى”میں لفظ “مِّنَ”تعلیل کا ہے ۔ یعنی اس نے وہ دھاگہ بخار کو دور کرنے اور اس سے بچنے کے لیے باندھا تھا۔ “فَقَطَعَهُ” “تو انہوں نے اسے کاٹ ڈالا”اس سے ثابت ہوا کہ کسی بیماری سے تحفظ اور شفا کے لیے دھاگہ وغیرہ باندھنا ایسا کبیرہ گناہ ہے جس پر ناپسندیدگی کا اظہار کرنا واجب اور اسے کاٹ ڈالنا ضروری ہے۔
نیز ثابت ہوا کہ جہنم سے نجات کے لیے صرف توحید ربوبیت پر ایمان رکھنا کہ ہمارا پروردگار، رازق، اور ہماری زندگی اور موت کا مالک اللہ ہے۔ یہی بات کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ توحید فی العبادت بھی نجات کے لیے شرط ہے۔ اس آیت میں شرک سے مراد شرک اکبر ہے۔ مصنف (امام محمد بن عبد الوہاب رحمتہ اللہ علیہ )یہی بتانا چاہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شرک اکبر کے بارے میں نازل شدہ آیات سے شرک اصغر بھی مراد لیا کرتے تھے۔
لنک