Monday, 28 June 2010

خواتین کو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی نصیحتیں

خواتین اسلام کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی نصیحتیں



فرمانِ الہٰی ہے :۔

1(اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ) مومن عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نظر یں نیچی رکھیں ، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ۔ (النور24:آیت31)

2 اپنی زیب وزینت کا اظہار نہ ہونے دیں۔(النور24:آیت31)

3 اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈالے رہیں۔(النور24:آیت31)

4 ( غیر محرموں سے) نرم لہجہ میں بات نہ کرو ۔(الاحزاب33:آیت32)

5 نماز کی پابندی کرو، زکوٰۃ کی ادائیگی کرو۔(الاحزاب33:آیت32)

6 اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔(الاحزاب33:آیت32)

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :۔

1 ایسے راستوں پر نہ چلیں جہاں مردوں کی ریل پیل ہوبلکہ کنارے کنارہ چلتے ہوئے راستہ طے کریں۔(ابوداؤد)

2 غیر محرم مردوں سے تنہائی میں نہ ملیں اس لئے کہ اس وقت تیسرا شیطان ہوتا ہے۔(جو برائی کروانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے)۔(ابوداؤد)

3 دیور ، جیٹھ وغیرہ سے بھی تنہائی میں نہ ملیں۔(بخاری)

4 غیر محرم کے ساتھ سفر سے اجتناب کریں۔(بخاری)

5 بازار بد ترین جگہ ہے (بلا ضرورت بازار نہ جائیں)۔(مسلم)

6 خوشبو لگا کر اور باریک لباس پہن کر گھر سے نہ نکلیں اس لئے کہ یہ عریانی اور دعوتِ گناہ ہے ۔(مسلم)

7 اپنے شوہر کی برائیاں بیان نہ کریں۔(بخاری)

8 اپنے شوہر کی نافرمانی نہ کریں۔(نسائی)

9 شوہر کی عدم موجودگی میں اپنی عزت، مال و اولاد کی حفاظت کریں۔(حاکم)

مندرجہ بالا نصیحتوں پر عمل کرنے سے مسلمان عورتیں جنت کی حقدار بن سکتی ہیں جو کہ یقینی کامیابی ہے ۔ ’’جسے آگ سے بچا کر جنت میں داخل کردیا گیا وہ یقیناًکامیاب ہوگیا۔‘‘(اٰلِ عمران3آیت185)

Thursday, 17 June 2010

شاہ عبداللہ کی بدولت 866 افراد نے اسلام قبول کیا

جسمانی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے بچوں کی پیدائش کے واقعات آج کل کوئی نئی بات نہیں رہی، مختلف ملکوں میں ایسے بچوں کو بڑے آپریشن کے ذریعے علحیدہ کرنے کے انتظامات بھی ہیں-
اور بعض ممالک ایسے بھی ہیں جہاں ایسے بچے انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے ساری زندگی انتہائی تکلیف دہ انداز میں گزارنے پر مجبور ہیں-
افریقی ممالک بھی ان میں شامل ہیں- جہاں بچوں کو نارمل زندگی جینے کے مواقع میسر نہیں، اس کی مثال افریقی ملک "کیمرون" کے ایک عیسائی گھرانے میں پیدا ہونے والے دو بچے ہیں جو ایک عرصے تک اسی حال میں رہے، تاآنکہ سعودی عرب کے شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز تک یہ خبر پہنچی، چونکہ سعودی عرب میں ڈاکٹر عبداللہ ربیعہ اس قسم کے آپریشن کے ماہر تصور کیے جاتے ہیں، شاہ عبداللہ نے انتہائی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیمرون کے اس عیسائی خانادن کے سعودی عرب میں حکومت کے خرچ پر ان بچوں کے آپریشن کی آفر دےدی۔
آپریشن کے دوراں بچوں کے والد جیمز کومسو نے جو سعودی عرب مین شاہ عبداللہ کی دعوت پر قیام پذیر تھے، ڈاکٹر ربیعہ اور دیگر مسلمانوں کے حسن سلوک سے متاثر ہوکر نہ صرف اسلام قبول کیا بلکہ کیمرون لوٹ کر اپنے دیہات میں بھی اسلام کی دعوت کا کام شروع کردیا، جس کے نتیجے میں ان کے دیہات اور قرب و جوار کے دیہات سے جملہ 866 افراد نے اسلام قبول کیا۔
اللہ اکبر
انہوں نے بتلایا کہ ان مسلمانوں کے لئے مسجد اور اسلامی مرکز کے تعمیر کی ضرورت تھی، انہوں نے شاہ عبداللہ سے درخواست کی جو فوری طور پر قبول کرلی گئی اور عنقریب یہاں ایک اسلامی مرکز کی تعمیر بھی عمل میں لائی جارہی ہے۔
سبحان اللہ
اللہ شاہ عبداللہ کو لمبی عمر عطا فرمائے، ان کا یہ کام ان کی نجات کا ذریعہ بنادے، ان کے اگلے اور پجھلے گناہ معاف فرمادے۔ آمین
والسلام علیکم

اقتباس: مجلہ صراط مستقیم برمنگھم

Wednesday, 16 June 2010

عورت کو نماز پڑھتے وقت اپنے پاؤں چھپانے چاہیے

السلام علیکم شيوخ!

کل میری اپنے استاذ عربی شیخ عبداللہ سے بات چیت ہورہی تھی۔
بات کہیں سے کہیں نکل گئی اور میں نے کہا کہ عورت کو نماز پڑھتے وقت اپنے پاؤں چھپانے چاہیں چاہے وہ موزے پہن کر چھپائے۔
تو شیخ نے فرمایا کہ میں اس بات کو قبول نہیں کرتا کہ نہ میں نے کہیں پڑھا ہے اور نہ دیکھا ہے تو آپ اس کی دلیل لائيں؟

یہ حدیث سنن ابی داؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے سوال کیا کہ کیا عورت تہ بند کےبغیر نماز پزھ سکتی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ہاں! مگر کپڑا یا کرتا لمبا ہو اور پاؤں نظر نہیں آئيں۔

اور میں نے ایک اور جگہ پڑھا تھا کہ فرشتے کی نطر نہ پڑے اس لیے عورت کو نماز میں پاؤں چھپانے چاہیں۔
واللہ اعلم

تو میرا سوال ہے کہ اگر آپ کے پاس اس پر کوئی حدیث، تحقیق و دلیل بمع حکم ہے تو پیش کریں کہ میں اپنے استاذ کے سامنے پیش کر سکوں۔ ان شاءاللہ
والسلام علیکم


1) عن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من جر ثوبه خيلاء لم ينظر الله إليه يوم القيامة فقالت أم سلمة فكيف يصنعن النساء بذيولهن قال يرخين شبرا فقالت إذا تنكشف أقدامهن قال فيرخينه ذراعا لا يزدن عليه

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ فرماتے ہیں‌ کہ رسول اللہ صلى اللہ نے فرمایا جس نے ازراہ تکبر اپنا کپڑا لٹکایا اللہ تعالى قیامت
کے دن اسکی طرف نہیں‌ دیکھے گا۔

ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے استفسار کیا کہ عورتیں‌ اپنے دامنوں کا کیا کریں (کیا وہ بھی مردوں کی طرح نصف ساق پر رکھیں ) تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ (نصف پنڈلی سے ) ایک بالشت نیچے تک لٹکائیں وہ عرض گداز ہوئیں کہ پھر تو انکے پاؤں کھلے رہ جائیں‌ گے تو آپ‌ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر (نصف پنڈلی سے ) ایک ذراع؏ نیچے لٹکائیں
؏ (ڈیڑھ فٹ / دو بالشت / ہاتھ‌ کی درمیانی انگلی سے کہنی تک کے حصہ کو ذراع کہتے ہیں‌ جوکہ دو بالشت کی ہو تی ہے اور متوسط آدمی کا ذراع ڈیڑھ فٹ‌کا ہو تا ہے )
جامع ترمذی أبواب اللباس باب ما جاء فی جر ذیول النساء (1731) ابن ماجة ( 3580 - 3581 )
یہ حدیث صحیح ہے

اس سے معلوم ہوا کہ عورتیں:

1) غیر محرموں سے اپنے پاؤں کو چھپائیں
2) کپڑا نصف پنڈلی سے عموما ایک بالشت اور گھر سے باہر نکلتے ہوئے دو بالشت تک لٹکائیں
3) جب نصف پنڈلی سے ایک بالشت نیچے تک لٹکائیں گی تو بالضرور انکے پاؤں‌ چھپ جائیں‌ گے
یاد رہے کہ
4) تنگ پائنچے رکھنا عورتوں کے لیے شرعا ممنوع ہے
5) عورت کا یہ لباس نماز اور غیر نماز دونوں کے لیے یکساں ہے

والسلام علیکم

Tuesday, 15 June 2010

تصحیح العقائد بابطال الشواھد الشاھد

کتاب کا نام : تصحیح العقائد بابطال الشواھد الشاھد
مولف کا نام : علامہ محمد رئیس ندوی رحمۃ اللہ علیہ
ناشر: ام القری پبلیکیشنز فتومند روڈ سیالکوٹ روڈ گوجرانوالہ
03008110896،03216466422

مکتبہ اسلامیہ اور مکتبہ قدوسیہ اردو بازار لاہور سے بآسانی دستیاب ہے۔
سن اشاعت :  مارچ 2010
قیمت : 560 روپے ، 50 % ڈسکاونٹ کے بغیر

تعارف کتاب :

یہ کتاب دراصل مسئلہ علم غیب اور اور مسئلہ حاضر ناظر پر بریلوی کتاب "الشاہد" کا جواب ہے۔مصنف نے اس موضوع کے حوالے سے بیش بہا دلائل دیئے ہیں۔ یہ مفصل جواب 212 عناوین اور 448 صفحات پر مشتمل ھے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عالم الغیب اور حاضر و ناظر ہونے کے عقیدے کا رد کیا گیا ہے۔

مصنف کا تعارف : مصنف جامعہ سلفیہ بنارس میں شیخ الحدیث تھے اور انہوں نے 10 مئی 2009 کو وفات پائی، ان کے شاگردوں میں ڈاکٹر رضا اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ اور ڈاکٹر وصی اللہ عباس نمایاں ہیں۔
مصنف کی کل 23 تصانیف تھیں۔

Monday, 14 June 2010

اسلام اور رہبانیت

ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ کو جمع ہونے کا حکم دیا، پھر ان کے سامنے حسب ذیل خطبہ ارشاد فرمایا:

ما بال اقوام حرّمو النساء والطعام والطیب وشھوات الدنیا- فانی لست امرکم ان تکونو قسیسین ورھبانا- فانہ لیس فی دینی ترک اللّحم والنساء ولا اتحاذ الصوامع، وان سیاحۃ امتی الصوم ورہبانیتھم الجھاد، اعبدواللہ ولا تشرکو بہ شیئا و حجو واعتمرو واقیمو الصلواۃ واتو الزکواۃ مصومو رمضان واستقیموا یستقم لکم- فانما ھلک من کان قبلکم بالتشدید علی انفسھم فشدد اللہ علیھم- فتلک بقایاھم فی الدیار والصوامع-
(معالم التنزیل)

" لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ عورتوں کو، کھانے کو، خشبو کو، اور دنیا کی لذیذ چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرنے لگے ہیں؟ مں تمہیں صوفی اور درویش اور راہب و تارک دنیا بننے کا حکم دینے نہیں آیا کیونکہ گوشت کو اور عورتوں کو چھوڑدینا اور خاقاہوں میں بیٹھ جانا میرے دین میں نہیں ہے-
میری امت کی سیاحت روزہ ہے- ان کی رہبانیت جہاد ہے- اللہ کی عبادت کرتے رہو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھراؤ، حج اور عمرہ ادا کرتے رہو، نماز، روزہ اور زکواۃ کی ادائگی اور پابندی کرو- اور استقامت دکھاؤ تاکہ تمہارے معاملات بھی درست کردیے جائيں-
تم سے اگلے لوگ انہی سختیوں کی وجہ سے تباہ ہوگئے- جوں جوں وہ اپنے اوپر سختی کرتے گئے اللہ تعالی بھی ان پر سختی کرتا گیا- ان کے بچے کھچے اب گرجوں اور عبادت گاہوں میں باقی رہ گئے ہیں-"


اس خطبے کے بعد یہ آیت نازل ہوئی:

" اے ایمان والو! جو پاک چيزيں اللہ نے تم پر حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کرو- "