Tuesday, 15 June 2010

تصحیح العقائد بابطال الشواھد الشاھد

کتاب کا نام : تصحیح العقائد بابطال الشواھد الشاھد
مولف کا نام : علامہ محمد رئیس ندوی رحمۃ اللہ علیہ
ناشر: ام القری پبلیکیشنز فتومند روڈ سیالکوٹ روڈ گوجرانوالہ
03008110896،03216466422

مکتبہ اسلامیہ اور مکتبہ قدوسیہ اردو بازار لاہور سے بآسانی دستیاب ہے۔
سن اشاعت :  مارچ 2010
قیمت : 560 روپے ، 50 % ڈسکاونٹ کے بغیر

تعارف کتاب :

یہ کتاب دراصل مسئلہ علم غیب اور اور مسئلہ حاضر ناظر پر بریلوی کتاب "الشاہد" کا جواب ہے۔مصنف نے اس موضوع کے حوالے سے بیش بہا دلائل دیئے ہیں۔ یہ مفصل جواب 212 عناوین اور 448 صفحات پر مشتمل ھے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عالم الغیب اور حاضر و ناظر ہونے کے عقیدے کا رد کیا گیا ہے۔

مصنف کا تعارف : مصنف جامعہ سلفیہ بنارس میں شیخ الحدیث تھے اور انہوں نے 10 مئی 2009 کو وفات پائی، ان کے شاگردوں میں ڈاکٹر رضا اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ اور ڈاکٹر وصی اللہ عباس نمایاں ہیں۔
مصنف کی کل 23 تصانیف تھیں۔

Monday, 14 June 2010

اسلام اور رہبانیت

ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ کو جمع ہونے کا حکم دیا، پھر ان کے سامنے حسب ذیل خطبہ ارشاد فرمایا:

ما بال اقوام حرّمو النساء والطعام والطیب وشھوات الدنیا- فانی لست امرکم ان تکونو قسیسین ورھبانا- فانہ لیس فی دینی ترک اللّحم والنساء ولا اتحاذ الصوامع، وان سیاحۃ امتی الصوم ورہبانیتھم الجھاد، اعبدواللہ ولا تشرکو بہ شیئا و حجو واعتمرو واقیمو الصلواۃ واتو الزکواۃ مصومو رمضان واستقیموا یستقم لکم- فانما ھلک من کان قبلکم بالتشدید علی انفسھم فشدد اللہ علیھم- فتلک بقایاھم فی الدیار والصوامع-
(معالم التنزیل)

" لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ عورتوں کو، کھانے کو، خشبو کو، اور دنیا کی لذیذ چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرنے لگے ہیں؟ مں تمہیں صوفی اور درویش اور راہب و تارک دنیا بننے کا حکم دینے نہیں آیا کیونکہ گوشت کو اور عورتوں کو چھوڑدینا اور خاقاہوں میں بیٹھ جانا میرے دین میں نہیں ہے-
میری امت کی سیاحت روزہ ہے- ان کی رہبانیت جہاد ہے- اللہ کی عبادت کرتے رہو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھراؤ، حج اور عمرہ ادا کرتے رہو، نماز، روزہ اور زکواۃ کی ادائگی اور پابندی کرو- اور استقامت دکھاؤ تاکہ تمہارے معاملات بھی درست کردیے جائيں-
تم سے اگلے لوگ انہی سختیوں کی وجہ سے تباہ ہوگئے- جوں جوں وہ اپنے اوپر سختی کرتے گئے اللہ تعالی بھی ان پر سختی کرتا گیا- ان کے بچے کھچے اب گرجوں اور عبادت گاہوں میں باقی رہ گئے ہیں-"


اس خطبے کے بعد یہ آیت نازل ہوئی:

" اے ایمان والو! جو پاک چيزيں اللہ نے تم پر حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کرو- "

Sunday, 13 June 2010

صلاۃ غوثیہ کی حقیقت

یہاں اس غلط فہمی کو دور کرنا بھی ضروری ہے جو بعض عقیدت مندوں نے پیدا کر رکھی ہے کہ:
"خود شیخ جیلانی نے یہ تعلیم دی تھی کہ مشکلات کے وقت مجھے پکارا کرو میں زندگی میں بھی اور بعد از حیات بھی تا قیامت تمہاری سنتا اور مدد کرتا رہوں گا"-

اس سلسلہ میں آپ کی طرف جو جھوٹی باتیں منسوب کی جاتی ہیں، ان میں سے بطور نمونہ ایک جھوٹ ملاحضہ فرمائيں:

"شیخ نے فرمایا کہ جو کوئی مصیبت میں مجھ سے مدد چاہے یا مجھ کو پکارے تو میں اس کی مصیبت کو دور کروں کا اور جو کوئی میرے توسل سے خدائے تعالی سے اپنی حاجت روائی چاہے گا تو خدا تعالی اس کی حاجت کو پورا کرے گا- جو کوئی دو رکعت نماز پرھے اور ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد گارہ مرتبہ سورۃ اخلاص یعنی "قل ھو اللہ احد" پڑھے اور سلام پھرینے کے بعد گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھے اور مجھ پر بھی سلام بھیجے اور اس وقت اپنی حاجت کا نام بھی لے تو ان شاءاللہ تعالی اس کی حاجت پوری ہوگی- بعض نے بیان کیا ہے کہ دس پانچ قدم جانب میرے مزار کی طرف جل کر میرا نام لے اور اپنی حاجت کو بیان کرے اور بغض کہتے ہیں مندرجہ ذیل دو شعروں کو بھی پڑھے:
(ترجمہ اشعار: کیا مجھ کو کچھ تنگدستی پہنچ سکتی ہے جبکہ آپ میرا ذخیرہ ہیں اور کیا دنیا میں مجھ پر ظلم ہوسکتا ہے جبکہ آپ میرے مددگار ہیں- بھیڑ کے محافظ پر خصوصا جبکہ وہ میرا گار ہو، ننگ و ناموس کی بات ہے کہ بیابان میں میرے اونٹ کی رسی گم ہوجائے"-
(قلائد الجواہر، مترجم: ص 192)

"پھر عراق (بغداد) کی سمت میرا نام لیتا ہوا گیارہ قدم چلے"
(بھجۃ الاسرار۔ ص:102)

نقد و تبصرہ:

٭ اول تو یہ واقعہ ان کتابوں سے ماخوذ ہے جن کی استنادی حیثیت کے حوالہ سے ہم یہ ثابت کر چکے ہیں کہ وہ قابل اعتماد نہیں ہیں-
٭ اگر بالفرص شیخ نے یہ بات خود فرمائی بھی ہو تو تب بھی اس پر عمل اس لئے نہیں کیا جاسکتا کہ یہ قرآن و سنت کے صریح خلاف ہے-
٭ فی الحقیقت یہ بات خود شیخ کی موحدانہ تعلیمات کے منافی ہے کیونکہ شیخ تو یہ فرماتے ہیں کہ:
"اخلاص پیدا کرو اور شرک نہ کرو، حق تعالی کی توحید کا پرچار کرو اور اس کے درواوے سے منہ نہ موڑو- اسی اللہ سے سوال کرو، کسی اور سے سوال نہ کرو، اسی سے مدد مانگو، کسی اور سے مدد نہ مانگو، اسی پر توکل و اعتماد کرو اور کسی پر توکل نہ کرو"-
(الفتح الربانی: مجلس 48، ص 151)

Saturday, 12 June 2010

عسر کے بعد یسر ہے

اے انسان!
بھوک کے بعد شکم سیری، پیاس کے بعد سیرابی، جاگنے کے بعد نیند، مرض کے بعد صحت ہے-
گم کردہ منزل پائے گا، مشقت اٹھانے والا آسانی حاصل کرے گا- اندھرے چھٹ جائيں گے

"قریب ہے کہ اللہ تعالی اپنی فتح یا اور کسی بات کو لے آئے"

رات کو بشارت دو صبح صادق کی جو اس کو پہاڑوں کی طرف دھکیل دے گی وادیوں کی جانب بھگادے گی، غمزدہ کو بشارت دو روشنی کی طرح تیزی سے آنے والی آسانی کی، مصیبت زدہ کو مڑدہ سنادو محفی لطف و کرم اور مہربان ہاتھوں کا، جب آپ دیکھین کا صحرا دراز سے دراز ہوتا جاتا ہے تو جان لیں کہ اس کے بعد سرسبز شاداب نخلستان ہے، رسی لمبی پہ لمبی ہوتی جاتی ہے تو یاد رکھیے کہ جلد ہی ٹوٹ جائے گی-

آنسو کے ساتھ مسکراہٹ ہے، خوف کے بعد امن، گھبراہٹ کے بعد سکون، آگ نے ابراہیم خلیل اللہ کو نہیں جلایا کیونکہ حکم ربانی سے وہ "ابراہیم علیہ السلام کے لئے ٹھنڈک اور سلامتی بن گئی" سمندر نے موسی کلیم اللہ علیہ السلام کو نہیں ڈبویا کیونکہ انہوں نے بلند اور سچی آواز میں کہا کہ " میرا رب میرے ساتھ ہے اور مجھے راستہ دکھلادے گا-
"
محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یار غار ڈھارس بندھائی کہ ہمارے ساتھ اللہ ہے- لہذا امن و سکینت اور نصرت نازل ہوئی- موجودہ برے حالات کے شکار، مایوس کن صورت حال کے گرفاتار صرف تنگی، عبرت اور بدبختی ہی کا احساس کرتے ہیں ان کی نظر کمرہ کی دیوار اور دروازے تک ہوتی ہے، اس کے آگے ان کی رسائی نہیں-

کاش وہ پردہ کے پیچھے بھی دیکھتے ان کی فکر و رائے پس پردہ دیوار تک پہنچ جاتی- لہذا تنگ دل نہ ہوں ہمیشہ یکساں حالت نہیں رہے گی، بہترین عبادت اللہ کی رحمت و آسانی کا انتظار ہے، زمانہ الٹتا پلٹتا ہے، گردش دوراں جاری رہتی ہے- غیب مستور ہے، اور مدبر عالم کی ہر روز نئی شان ہے- امید ہے کہ اللہ اس کے بعد کوئی معاملہ پیدا کرے گا۔

عسر کے بعد یسر ہے
تنگی کے بعد آسانی ہے-

Friday, 11 June 2010

قاتلِ حسین (رضی اللہ عنہ) کا انجام

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

لا رَیب ۔۔۔ حضرت حسین (رضی اللہ عنہ) کی شہادت ، اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معصیت اور نافرمانی ہے ۔
اس سے وہ تمام لوگ آلودہ ہیں ، جنہوں نے آپ (رضی اللہ عنہ) کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا یا قتل میں مدد کی یا قتل کو پسند کیا !!
سیدنا حضرت حسین (رضی اللہ عنہ) کی شہادت عظیم ترین گناہوں میں سے ایک گناہ تھا ۔
جنہوں نے یہ فعل کیا ، جنہوں نے اس میں مدد کی ، جو اس سے خوش ہوئے ۔۔۔ وہ سب کے سب اُس عتابِ الٰہی کے سزاوار ہیں جو ایسے لوگوں کے لئے شریعت میں وارد ہے !

حضرت حسین رضی اللہ عنہ ، آپ کے بیٹوں ، بھتیجوں اور ساتھیوں کی شہادت کا المیہ ۔۔۔

عراق کے گورنر عبیداللہ بن زیاد کے براہ راست حکم سے وقع پذیر ہوا تھا۔ خانوادۂ نبوت پر روا رکھے گئے اس ظلم عظیم کی جو سزا اللہ تعالیٰ نے اسے دی ، اس نے عبیداللہ بن زیاد کو دنیا کے لیے نشانِ عبرت بنا دیا۔

جامع ترمذی میں مشہور تابعی حضرت عمارہ بن عمیر تیمی رحمة اللہ علیہ سے روایت ہے :

عن عمارة بن عمير، قال لما جيء برأس عبيد الله بن زياد وأصحابه نضدت في المسجد في الرحبة فانتهيت إليهم وهم يقولون قد جاءت قد جاءت ‏.‏ فإذا حية قد جاءت تخلل الرءوس حتى دخلت في منخرى عبيد الله بن زياد فمكثت هنيهة ثم خرجت فذهبت حتى تغيبت ثم قالوا قد جاءت قد جاءت ‏.‏ ففعلت ذلك مرتين أو ثلاثا ‏.‏

جب عبیداللہ بن زیاد اور اس کے سپاہیوں کو قتل کرنے کے بعد ان کے سر کوفہ لائے گئے تو کوفہ کے "رحبہ" نامی محلے کی ایک مسجد میں ایک دوسرے پر رکھ دئے گئے۔
عمارہ کہتے ہیں :
میں وہاں گیا تو لوگ کہہ رہے تھے : وہ آیا ، وہ آیا
اتنے میں وہاں ایک سانپ نمودار ہوا اور ان سروں کے درمیان گھس گیا۔ پھر وہ عبیداللہ بن زیاد کے نتھنے سے اس کے سر میں گھس گیا اور تھوڑی دیر تک سر میں رہنے کے بعد باہر آ گیا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
اس کے بعد پھر لوگوں نے کہا : وہ آیا ، وہ آیا
اور جس طرح وہ سانپ پہلے اس کے نتھنوں کے راستے اس کے سر میں گھسا تھا اسی طرح دو یا تین بار کیا۔


امام ترمذی نے اس حدیث کو " حسن صحیح " قرار دیا ہے۔