Friday, 29 July 2011

عورتوں کا نرم لہجے میں گفتگو کرنا


عورتوں کا نرم لہجے میں گفتگو کرنا


اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے میں بات نہ کرو کہ جس کی دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے اور ہاں باقاعدے کے مطابق کلام کرو-
(الحزاب:32)
اللہ تعالی نے جس طرح عورت کے وجود کے اندر مرد کے لیے جنسی کشش رکھی ہے (جس کی حفاظت کے لیے بھی خصوصی ہدایات دی گئی ہیں تاکہ عورت مرد کے لیے فتنے کا باعث نہ بنے) اسی طرح اللہ تعالی نے عورتوں کی آواز میں بھی فطری طور پر دلکشی، نرمی اور نزاکت رکھی ہے جو مرد کو اپنی طرف کھینچتی ہے- بنا بریں اس آواز کے لیےبھی یہ ہدایت دی گئی ہے کہ مردوں سے گفتگو کرتے وقت قصدا ایسا لب و لہجہ اختیار کرو کہ نرمی اور لطافت کی جگہ قدرے سختی اور روکھاپن ہو- تاکہ کوئی بدباطن لہجے کی نرمی سے تمہاری طرف مائل نہ ہو اور اس کے دل میں برا خیال پیدا نہ ہو-
یہ روکھا پن ، صرف لہجے کی حد تک ہی ہو، زبان سے ایسا لفظ نہ نکالنا جو معروف قاعدے اور اخلاق کے منافی ہو- ان اتفتین کہ کر اشارہ کردیا کہ یا بات اور دیگر ہدایات قرآن و حدیث میں ہیں وہ متقی عورتوں کے لیے ہیں، کیونکہ انہیں ہی یہ فکر ہوتی ہے کہ ان کی آخرت برباد نہ ہوجائے- جن کے دل خوف الہی سے عاری ہیں، انہیں ان ہدایات سے کیا تعلق؟ اور وہ کب ان ہدایات کی پرواہ کرتی ہیں؟

نوٹ: میری پیاری بہنوں! جیسا کہ انٹرنیٹ ایک دنیا کے مافق ہے، یہ پرہجوم بازارہے، اگر آپ اس میں داخل ہونگي تو آپ پر بھی ہر وہ حکم شرعی نافظ ہوگا جو کہ باہر کی دنیا میں آپ پر نازل ہوتا ہے، مثلا:
٭ باہر کی دنیا میں پردہ کا حکم ہے تو نیٹ کی دنیا میں بھی پردہ کا حکم ہے کہ آپ اپنی تصویر کسی کو مت بھیجیں۔ 
٭ باہر کی دنیا میں کسی نا محرم سے بات کرنا منع ہے تو یہی قانون نیٹ کی دنیا میں بھائی لاگو ہوتا ہے- 
٭ کسی نامحرم سے بات کرنا یعنی اگر صرف اس کی آواز بھی سننا گناہ ہے جو ہر مرد و عورت پر لازم ہے- 
٭ خاص کر کے چیٹ کے معاملے میں احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ الفاظ آپ کی زبان کی عکاسی کرتے ہیں، اگر آپ غیر محرم سے نرم رویے سے بات کریں گی تو وہ آپ کی زبان کی عکاسی کرے گا اور اس سے فتنہ پیدا ہوگا جوکہ شریعت میں بالکل جائز نہیں ہے-

ہر وہ حکم جو باہر کی دنیا میں عورتوں پر لاگو ہوتا ہے اس ہی کی بنیاد پر نیٹ پر بھی لاگو ہوتا ہے-
نیٹ ایک بازار ہے وہاں پر جانے سے پہلے بڑی احتیاط کرنی پڑتی ہے ایک غلطی کی وجہ سے عزت جانے کا خطرہ رہتا ہے-
اگر آپ بازار میں جائيں گی تو آپ کو شریعت کے دائرے میں مجبوری کی حالت میں نکلنا پڑے گا تو اسی طریقہ سے نیٹ بھی ایک دنیا ہے جہاں دین کی خاطر جانے پر اپنے آپ کو شریعت کے دآئرے میں ڈھاپانے کی اشد ضرورت ہے-
میں امید کرتا ہوں کہ یہ میرا پیغام جس بھی بہن نے پڑھا ہوگا وہ کوشش کرے گی کہ کسی بھی طرح اپنے آپ کو شریعت کے دائرے سے باہر نہ کرے گی کیونکہ جوابدہ تو ہر انسان اللہ کے سامنے ہی ہے- ان شاءاللہ 
نا محرم مرد ہو یا عورت سب پر یہ ہی قانون لاگو ہوتا ہے- اور ہر اچھے اور اللہ سے ڈرنے والے مسلمان کو ان اللہ کے قوانین کی پاسداری کرنی ہوگی کہ آخرت میں اللہ کی ذات کے سامنے سرخرو ہوسکے۔ ان شاءاللہ
والسلا م علیکم

Tuesday, 26 July 2011

مرض عشق کا علاج



مرض عشق کا علاج
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ



شیخ الاسلام امام احمد بن عبدالحلیم بن تیمیہ رحمہ اللہ سے اس شخص کا علاج پوچھا گیا کہ جو شیطان کے مشہور ترین تیروں میں سے ایک تیر "عشق" کا شکار ہوگیا ہو؟

آپ نے جواب ارشاد فرمایا:

جو اس زہریلے زخم میں مبتلا ہوگیا ہو تو اسے چاہیے کہ مندرجہ ذیل کام کرے جس سے اس زہر کو کشید کیا جاسکے اور تریاق ومرہم کے ذریعہ زخم مندمل ہوجائے:

اول:
 اسے چاہیے کہ اگر کنوارہ ہے تو نکاح کرے اور اگر شادی شدہ ہے تو اپنی بیوی سے تعلق قائم کرے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘إذا نظر أحدكم إلى محاسن امرأة فليأت أهله ; فإنما معها مثل ما معها’’([1])
 (جب تم میں سے کوئی کسی عورت کے محاسن دیکھ لے تو اسے چاہیے کہ اپنی بیوی کے پاس آئے (اور ضرورت پوری کرے)، کیونکہ اس کے پاس بھی وہی کچھ ہے جو دوسری کے پاس ہے) اور یہ بات اس کی شہوت کو توڑ دے گی اور عشق کو کمزور کردے گی۔
دوم:
 پنج وقتہ نماز کی (وقت وجماعت) کے ساتھ پابندی کرے اور رات (تہجد) کے وقت اللہ تعالی سے دعاء والحاء وزاری کرے۔ لازم ہے کہ اس کی نماز حضورِقلب اور خشوع وخضوع کے ساتھ ہو۔ اور کثرت کے ساتھ یہ دعاء پڑھے: ‘‘يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ يا مصرف القلوب صرف قلبي إلى طاعتك وطاعة رسولك’’([2])
 (اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ، اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی طرف پھیر دے) پھر جب وہ دعاء کا عادی ہوجائے گا اور اللہ تعالی کے لئے تضرع والحاء وزاری کرے گا تو اللہ تعالی یقینا ًاس کا دل اس سے پھیر دے گا جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے متعلق فرمایا:

﴿كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ﴾ (یوسف: 24)

(اسی طرح سے ہم نے ان سے برائی اور فحاشی کو پھیر دیا کیونکہ وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھے)

سوم:
 اس شخص (یعنی معشوق) کے مسکن وگھر سے اور جہاں ان کا جمع ہونا ممکن ہوتا ہے وہاں سے اس طور پر دوری اختیار کرلےکہ اس کی کوئی خیر خبر اس کے کانوں سے نہ ٹکرائے، نہ ہی اس کی نظر کبھی اس پرپڑے کہ اس کے دل پر کوئی اثر ہو۔ کیونکہ دوری اختیار کرنا جفا ہے ۔ اور جب اس کا ذکر ہی کم ہوجائے گا تو اس کا اثر دل پر کمزور ہوتا جائے گا۔ 
تو اسے چاہیے کہ ان امور پر عمل پیرا ہو اور دیکھے کہ پھر اس کا کیا حال ہوتا ہے۔ واللہ اعلم

(مجموع فتاوی ابن تیمیہ ج 32 کتاب النکاح کا پہلا سوال ص 5-6ط مجمع الملك فهدسن اشاعت: 1416ھ/1995م)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حواشی

[1] صحیح ترمذی 1158 کے الفاظ ہیں‘‘إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ، فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ فَإِنَّ مَعَهَا مِثْلَ الَّذِي مَعَهَا’’ (جب عورت آتی ہے تو بصورت شیطان آتی ہے، پس اگر تم میں سے کوئی ایسی عورت دیکھ لے جو اسے اچھی لگے، تو اسے چاہیے کہ اپنی بیوی کے پاس آئے (اور ضرورت پوری کرے) کیونکہ اس کے پاس بھی وہی چیز موجود ہے جو دوسری عورت کے پاس ہے)

[2] صحیح ترمذی 3522 کے الفاظ صرف یہ ہیں: ‘‘يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ’’

Saturday, 23 July 2011

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور سائنس کے اعترافات

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور سائنس کے اعترافات

جنین کی نشوونما کے پہلے چالیس دن : 

ڈاکٹر جولے سمپسن ، ہیوسٹن ( امریکہ ) کے بیلور کالج آف میڈیسن میں شعبہ حمل و زچگی و امراض نسوانی ( Ob-Gyn ) کے چیئرمین اور سالماتی و انسانی توارث کے پروفیسر ہیں ، اس سے پہلے وہ میمفس کی یونیورسٹی آف ٹینٹیسی میں شعبہ ” اوب گائن “ کے پروفیسر اور چیئرمین رہے ، وہ امریکی باروری انجمن کے صدر بھی تھے ۔ 1992ءمیں انہیں کئی ایوارڈ ملے ، جن میں ایسوسی ایشن آف پروفیسرز آف اوب گائن پبلک ریلکنیشن ایوارڈ بھی شامل تھا ۔ پروفیسر سمپسن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی درج ذیل دواحادیث کا مطالعہ کیا ۔
(( ان احدکم یجمع خلقہ ، فی بطن امہ اربعین یوما ))
( صحیح البخاری ، بدءالخلق ، باب ذکر الملائکۃ ، حدیث : 3208 ، صحیح مسلم ، القدر ، باب کیفیۃ خلق الآدمی ، حدیث : 2643 ) 
” تم میں سے ہر ایک کی تخلیق کے تمام اجزاءاس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک ( نطفے کی صورت ) میں جمع رہتے ہیں ۔ “

(( اذا مر بالنطفۃ اثنتان واربعون لیلۃ ، بعث اللہ الیھا ملکا ، فصورھا وخلق سمعھا وبصرھا وجلدھا ولحمھا وعظامھا )) 
( صحیح مسلم ، القدر ، باب کیفیۃ خلق الآدمی.... حدیث : 2645 ) 
” جب نطفہ قرار پائے بیالیس راتیں گزر جاتی ہیں تو اللہ ایک فرشتے کو اس کے پاس بھیجتا ہے جو ( اللہ کے حکم سے ) اس کی شکل و صورت بناتا ہے ، اور اس کے کان ، اس کی آنکھیں ، اس کی جلد ، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں بناتا ہے ۔ “ 

پروفیسر سمپسن ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دوحدیثوں کا بالاستیعاب مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ جنین کے پہلے چالیس دن اس کی تخلیق کے ناقابل شناخت مرحلے پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان احادیث میں جس قطعیت اور صحت کے ساتھ جنین کی نشوونما کے مراحل بیان کئے گئے ہیں ان سے وہ خاص طور پر متاثر ہوئے ، پھر ایک کانفرنس کے دوران انہوں نے اپنے درج ذیل تاثرات پیش کئے ۔

دونوں احادیث جو مطالعے میں آئی ہیں ، وہ ہمیں پہلے چالیس دنوں میں بیشتر جنینی ارتقاءکا متعین ٹائم ٹیبل فراہم کرتی ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج صبح دوسرے مقررین نے بھی بار بار اس نکتے کو دہرایا ہے ۔ یہ احادیث جب ارشاد فرمائی گئیں اس وقت کے میسر سائنسی علم کی بنا پر اس طرح بیان نہیں کی جا سکتی تھیں ۔ میرے خیال میں اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نہ صرف جینیات ( Genetics ) اور مذہب کے درمیان کوئی تصادم نہیں ، درحقیقت ، مذہب بعض روایتی سائنسی نقطہ نظر کو الہام سے تقویت پہنچا کر سائنس کی رہنمائی کر سکتا ہے اور یہ کہ قرآن میں ایسے بیانات موجود ہیں جو صدیوں بعد درست ثابت ہوئے اور جو اس امر کا ثبوت ہیں کہ قرآن میں دی گئی معلومات اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی ہیں ۔

انگلیوں کے پوروں پر جراثیم کش پروٹین :

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

(( اذا اکل احدکم من الطعام فلا یمسح یدہ حتی یلعقھا او یلعقھا ))
( صحیح مسلم ، الاشربۃ ، باب استحباب لعق الاصابع.... حدیث : 2031 ) 
” جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو وہ اپنا ہاتھ نہ پونچھے یہاں تک کہ اسے ( انگلیاں ) چاٹ لے یا چٹوالے ۔ “ 

کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنے کا حکم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ صدیاں پہلے دیا اور اس میں جو حکمت کار فرما ہے اس کی تصدیق طبی سائنسدان اس دور میں کر رہے ہیں ۔

ایک خبر ملاحظہ کیجئے :

جرمنی کے طبی ماہرین نے تحقیق کے بعد یہ اخذ کیا ہے کہ انسان کی انگلیوں کے پوروں پر موجود خاص قسم کی پروٹین اسے دست ، قے اور ہیضے جیسی بیماریوں سے بچاتی ہے ۔ ماہرین کے مطابق وہ بیکٹیریا جنہیں ” ای کولائی “ کہتے ہیں ، جب انگلیوں کی پوروں پر آتے ہیں تو پوروں پر موجود پروٹین ان مضر صحت بیکٹیریا کو ختم کر دیتی ہے ۔ اس طرح یہ جراثیم انسانی جسم پر رہ کر مضر اثرات پیدا نہیں کرتے خاص طور پر جب انسان کو پسینہ آتا ہے تو جراثیم کش پروٹین متحرک ہو جاتی ہے ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ پروٹین نہ ہوتی تو بچوں میں ہیضے ، دست اور قے کی بیماریاں بہت زیادہ ہوتیں ۔ ( روزنامہ نوائے وقت 30 جون 2005ء ) 

اہل مغرب کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنے کے فعل کو غیرصحت مند ( Unhigienic ) قرار دے کر اس پر حرف گیری کرتے رہے ہیں ، لیکن اب سائنس اس کی تصدیق کر رہی ہے کہ یہ عمل تو نہایت صحت مند ہے کیونکہ انگلیاں منہ کے اندر نہیں جاتیں اور یوں منہ کے لعاب سے آلودہ نہیں ہوتیں ۔ نیز انگلیوں کے پوروں پر موجود پروٹین سے مضر بیکٹیریا بھی ہلاک ہو جاتے ہیں ۔ اس کے برعکس چمچے یا کانٹے سے کھانا کھائیں تو وہ بار بار منہ کے لعاب سے آلودہ ہوتا رہتا ہے اور یہ بے حد غیرصحت مند عمل ہے ، جب اللہ تعالیٰ نے انگلیوں کے پوروں پر جراثیم کش پروٹین پیدا کی ہے تو ہاتھ سے کھانا اور کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنا دونوں صحت مند افعال ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ بالا حدیث میں انہی دو باتوں پر عمل کی تلقین کی گئی ہے ، یعنی ( 1 ) کھانا ہاتھ ( دائیں ) سے کھایا جائے ، ( 2 ) ہاتھ پونچھنے سے پہلے انگلیاں چاٹی جائیں ۔ 
دائیں ہاتھ سے کھانے اور اس کے بعد انگلیاں چاٹنے کی اس اسلامی روایت بلکہ سنت کو عربوں نے اب تک زندہ رکھا ہوا ہے جسے ماضی میں یورپ والے غیر 
صحت منع عمل ٹھہراتے رہے ، مگر اب انہی کے طبی محققین کی تحقیق کہہ رہی ہے کہ یہ ہرگز مضر عمل نہیں بلکہ عین صحت مند اور فائدہ مند ہے ۔

کتا چاٹ جائے تو برتن کو مٹی سے دھونے کا حکم : 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

(( طھور اناءاحدکم اذا ولغ فیہ الکلب ان یغسلہ سبع مرات اولاھن بالتراب ))
( صحیح مسلم ، الطھارۃ ، باب حکم ولوغ الکلب ، حدیث : 279 ) 
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے : فلیرقۃ اسے چاہئے کہ اس ( میں موجود کھانے یا پانی ) کو بہاد دے ۔ “
( مسلم ، الطھارۃ ، باب حکم ولوغ الکلب ، حدیث : 279(89) ) 

اور ترمذی کی روایت میں ہے :

(( اولاھن او اخراھن بالتراب ))
( جامع الترمذی ، باب ما جاءفی سور الکلب ، حدیث : 91 ) 
” پہلی یا آخری بار مٹی کے ساتھ دھونا چاہئے ۔ “ ا

س کی توضیح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام ( انگریزی ) میں یوں کی گئی ہے :

یہ واضح رہے کہ کسی چیز کی محض ناپاکی سے صفائی کے لئے اسے سات دفعہ دھونا ضروری نہیں ، کسی چیز کو سات دفعہ دھونے کا فلسفہ محض صفائی کرنے سے مختلف ہے ۔ آج کے طبی ماہرین کہتے ہیں کہ کتے کی آنتوں میں جراثیم اور تقریبا 4 ملی میٹر لمبے کیڑے ہوتے ہیں جو اس کے فضلے کے ساتھ خارج ہوتے ہیں اور اس کے مقعد کے گرد بالوں سے چمٹ جاتے ہیں ، جب کتا اس جگہ کو زبان سے چاٹتا ہے تو زبان ان جراثیم سے آلودہ ہو جاتی ہے ، پھر کتا اگر کسی برتن کو چاٹے یا کوئی انسان کتے کا بوسہ لے جیسا کہ یورپی اور امریکی عورتیں کرتی ہیں تو جراثیم کتے سے اس برتن یا اس عورت کے منہ میں منتقل ہو جاتے ہیں اور پھر وہ انسان کے معدے میں چلے جاتے ہیں ، یہ جراثیم آگے متحرک رہتے ہیں اور خون کے خلیات میں گھس کر کئی مہلک بیماریوں کا باعث بنتے ہیں چونکہ ان جراثیم کی تشخیص خوردبینی ٹیسٹوں کے بغیر ممکن نہیں ۔ شریعت نے ایک عام حکم کے تحت کتے کے لعاب کو فی نفسہ ناپاک قرار دیا اور ہدایت کی کہ جو برتن کتے کے لعاب سے آلودہ ہو جائے اسے سات بار ضرور صاف کیا جائے اور ان میں سے ایک بار مٹی کے ساتھ دھویا جائے ۔
( بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام ) ( انگریزی ) مطبوعہ دارالسلام ، صفحہ : 16 حاشیہ : 1 ) 

مکھی کے ایک پر میں بیماری ، دوسرے میں شفا : 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

(( اذا وقع الذباب فی شراب احدکم فلیغمسہ ثم لینزعہ فان فی احدی جناحیہ داءوفی الاخرٰی شفاء ))
( صحیح البخاری ، بدءالخلق ، باب اذا وقع الذباب.... حدیث : 3320 ) 
” اگر تم میں سے کسی کے مشروب ( پانی ، دودھ وغیرہ ) میں مکھی گر پڑے تو اسے چاہئے کہ اس کو مشروب میں ڈبکی دے ، پھر اسے نکال پھینکے ، کیوں کہ اس کے ایک پر میں بیماری ہے تو دوسرے میں شفا ۔ “ 

ڈاکٹر محمد محسن خاں اس ضمن میں لکھتے ہیں : ” طبی طور پر اب یہ معروف بات ہے کہ مکھی اپنے جسم کے ساتھ کچھ جراثیم اٹھائے پھرتی ہے ، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے 1400 سال پہلے بیان فرمایا جب انسان جدید طب کے متعلق بہت کم جانتے تھے ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کچھ عضوےے ( Organisms ) اور دیگر ذرائع پیدا کئے جو ان جراثیم ( Pathogenes ) کو ہلاک کر دیتے ہیں ، مثلاً پنسلین پھپھوندی اور سٹیفائلو کوسائی جیسے جراثیم کو مار ڈالتی ہے ۔ حالیہ تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک مکھی بیماری ( جراثیم ) کے ساتھ ساتھ ان جراثیم کا تریاق بھی اٹھائے پھرتی ہے ۔ عام طور پر جب مکھی کسی مائع غذا کو چھوتی ہے تو وہ اسے اپنے جراثیم سے آلودہ کر دیتی ہے لہٰذا اسے مائع میں ڈبکی دینی چاہئے تا کہ وہ ان جراثیم کا تریاق بھی اس میں شامل کر دے جو جراثیم کامداوا کرے گا ۔ 

میں نے اپنے ایک دوست کے ذریعے اس موضوع پر جامعۃ الازہر قاہرہ ( مصر ) کے عمید قسم الحدیث ( شعبہ حدیث کے سربراہ ) محمد السمحی کو خط بھی لکھا جنہوں نے اس حدیث اور اس کے طبی پہلوؤں پر ایک مضمون تحریر کیا ہے ۔ اس میں انہوں نے بیان کیا ہے کہ ماہرین خرد حیاتیات ( Microbiologists ) نے ثابت کیا ہے کہ مکھی کے پیٹ میں خامراتی خلیات ( Yeast Cells ) طفیلیوں ( Parasites ) کے طور پر رہتے ہیں اور یہ خامراتی خلیات اپنی تعداد بڑھانے کے لئے مکھی کی تنفس کی نالیوں ( Repiratory Tubules ) میں گھسے ہوتے ہیں اور جب مکھی مائع میں ڈبوئی جائے تو وہ خلیات نکل کر مائع میں شامل ہو جاتے ہیں ، اور ان خلیات کا مواد ان جراثیم کا تریاق ہوتا ہے جنہیں مکھی اٹھائے پھرتی ہے ۔
( مختصر صحیح البخاری ) ( انگریزی ) مترجم ڈاکٹر محمد حسن خاں ، ص : 656 حاشیہ : 3 )

اس سلسلے میں ” الطب النبوی صلی اللہ علیہ وسلم لابن القیم “ کے انگریزی ترجمہ : Healing with the Madicine of the Prophet طبع دارالسلام الریاض میں لکھا ہے :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مکھی خوراک میں گر پڑے تو اسے اس میں ڈبویا جائے ، اس طرح مکھی مر جائے گی ، بالخصوص اگر غذا گرم ہو ، اگر غذا کے اندر مکھی کی موت غذا کو ناپاک بنانے والی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پھینک دینے کا حکم دیتے اس کے برعکس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے محفوظ بنانے کی ہدایت کی ۔ شہد کی مکھی ، بھڑ ، مکڑی اور دیگر کیڑے بھی گھریلو مکھی کے ذیل میں آتے ہیں ، کیوں کہ اس حدیث سے ماخوذ حکم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم عام ہے ۔ مردہ جانور ناپاک کیوں ہیں ؟ اس کی توجیہ یہ ہے کہ ان کا خون ان کے جسموں کے اندر رہتا ہے ، اس لئے کیڑے مکوڑے یا حشرات جن میں خون نہیں ہوتا وہ پاک ہیں ۔ 

بعض اطباءنے بیان کیا ہے کہ بچھو اور بھڑ کے کاٹے پر گھریلو مکھی مل دی جائے تو اس شفا کی وجہ سے آرام آ جاتا ہے جو اس کے پروں میں پنہاں ہے ، اگر گھریلو مکھی کا سر الگ کر کے جسم کو آنکھ کے پپوٹے کے اندر رونما ہونے والی پھنسی پر ملا جائے تو انشاءاللہ آرام آجائے گا ۔ ( الطب النبوی : 105,104 ) 

طاعون زدہ علاقے سے دور رہنے کا حکم اور اس کی حکمت : 
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

(( الطاعون رجز ، ارسل علی بنی اسرائیل ، او علی من کان قبلکم فاذا سمعتم بہ بارض فلا تقدموا علیہ ، واذا وقع بارض وانتم بھا ، فلا تخرجوا فرارا منہ ))
( صحیح مسلم ، الطب ، باب الطاعون ، حدیث : 2218 ) 
” طاعون عذاب ہے ، جو بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر اور تم سے پہلوں پر نازل ہوا ، چنانچہ جب تم سنو کہ کسی علاقے میں طاعون پھیلا ہوا ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب وہ اس علاقے میں پھوٹ پڑے جہاں تم مقیم ہو تو فرار ہو کر اس علاقے سے باہر مت جاؤ ۔ “

صحیحین ہی کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

(( الطاعون شھادۃ لکل مسلم ))
( صحیح البخاری ، الطب ، باب ما یذکر من الطاعون ، حدیث : 5732 ) 
” طاعون ہر مسلم کے لئے شہادت ہے ۔ “ 

طبی اصطلاح میں طاعون ایک مہلک گلٹی ہے جو بہت شدید اور تکلیف دہ متعدی عارضہ ہے اور یہ تیزی سے متاثرہ حصے کے رنگ کو سیاہ ، سبز یا بھورے رنگ میں تبدیل کر دیتا ہے پھر جلد ہی متاثرہ حصے کے اردگرد زخم نمودار ہونے لگتے ہیں ۔ طاعون عموماً جسم کے تین حصوں ،بغلوں ، کان کے پیچھے اور ناک پھنک یا جسم کی نرم بافتوں ( Tissues ) پر حملہ کرتا ہے ۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا :

(( غدۃ ، کغدۃ البعیر یخرج فی المراق والابط ))
( التمھید لابن عبدالبر : 6/212 ) 
” یہ ایک گلٹی ہے ، جو اونٹ کی گلٹی سے مشابہ ہے اور جو پیٹ کے نرم حصوں اور بغلوں میں نمودار ہوتی ہے ۔ “ 

امام ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ کی تصنیف الطب النبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ” نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو طاعون زدہ علاقے میں داخل نہ ہونے کا حکم دیا ہے ، کے زیر عنوان لکھا ہے :

طاعون کے نتیجے میں جسم میں تعدیہ یا عفونت ( Infection ) زخم ( Ulcers ) اور مہلک رسولیاں نمودار ہوتی ہیں ، اطباءاپنے مشاہدے کی رو سے انہیں طاعون کی علامات قرار دیتے ہیں ۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ طاعون کی وبا سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ جسم کو مضر رطوبتوں سے نجات پانے میں مدد دی جائے ۔ اسے پرہیزی غذا ملے اور جسم کی خشکی عموماً محفوظ رہے ۔ انسانی جسم میں مضر مادے ہوتے ہیں جو بھاگ دوڑ اور غسل کرنے سے متحرک ہو جاتے ہیں پھر وہ جسم کے مفید مادوں سے مل کر کئی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں ، اس لئے جب کسی جگہ طاعون حملہ آور ہو تو وہیں ٹھہرنے میں عافیت ہے تا کہ انسان کے جسم میں مضر مادے متحرک نہ ہوں ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو طاعون سے متاثرہ علاقے میں نہ جانے یا وہیں ٹھہرنے کا جو حکم دیا ، اس میں بڑی حکمت پنہاں ہے ، اس کا مقصد یہ ہے :

( 1 ) آدمی نقصان اور نقصان کا باعث بننے والی شے سے بچ جائے ۔

( 2 ) اپنی صحت برقرار رکھے ، کیوں کہ ضرورت زندگی کے حصول اور عاقبت کے تقاضے پورے کرنے کا دارومدار اسی پر ہے ۔ 

( 3 ) آلودہ اور مضر ہوا میں سانس لے کر بیمار نہ پڑ جائے ۔

( 4 ) طاعون سے متاثرہ لوگوں سے میل ملاپ سے احتراز کرے ، تا کہ خود اسے طاعون نہ آئے ۔ 

( 5 ) جسم اور روح کی چھوت اور توہم سے تحفظ ہو ، جن کا نقصان صرف انہیں ہوتا ہے جو ان پر یقین رکھتے ہوں ۔ 

غرض یہ کہ طاعون سے متاثرہ علاقے میں داخل ہونے کی ممانعت ایک احتیاطی تدبیر اور ایک طرح کی پرہیزی غذا ہے ، جو انسان کو نقصان کی راہ سے پرے رکھتی ہے ، اور یہ طاعون سے متاثرہ علاقہ چھوڑ کر جانے کا نہیں بلکہ اللہ کی رضا اور اس کے فیصلوں کے آگے سرجھکانے کا سبق ہے ۔ پہلا حکم تعلیم و تربیت ہے جب کہ دوسرا تسلیم و اطاعت اور تمام امور اللہ کی رضا پر چھوڑ دینے کا درس دیتا ہے ۔
( الطب النبوی ( انگریزی ) کے صفحہ 53 کے حاشیے میں ” ایڈیٹر کا نوٹ “ کے زیر عنوان لکھا ہے : ” ہمارے مصنف ( ابن قیم ) کے زمانے میں ابھی قرنطینہ کا طبی تصور قائم نہیں ہوا تھا مگر یہ حدیث مصنف سے بھی تقریبا 700 سال پہلے ارشاد ہوئی تھی ۔ اس حدیث نے ایمان کی وساطت سے قرنطینہ نافذ کر دیا تھا ، اگرچہ طب کے علماءکو اس سے متعلق علم کہیں صدیوں بعد حاصل ہوا ۔

Saturday, 16 July 2011

ماہر القادری رح کا دین خانقاہی پر تبصرہ


ماہر القادری رح کا دین خانقاہی پر تبصرہ


ہر طرف خیمے لگے ہیں دور تک بازار ہے
یہ نمائش ہے کوئی میلہ ہے یا تہوار ہے


کوئی بارات اس جگہ اتری ہے باصد کر و فر
میں یہ سمجھا شامیانوں کی قطاریں دیکھ کر


یہ نفیری کی صدائيں یا کٹوروں کی کھنک
یہ دھویں کے پیچ یہ پھولوں کے گجروں کی مہک


نیم وا برقعے نگاہوں پر فسوں کرتے ہوئے
شوق نظارا کو ہر لخط فووں کرتے ہوئے


ہے یہ تقریب عقدت عرس ہے اک پیر کا
کام کرتی ہے یہان کی خاک بھی اکثیر کا

اک طوائف گارہی ہے سامنے درگاہ کے
کیا مزے ہیں خوب حضرت سہاگن شاہ کے


ساز پر کچھ چھوکرے قوالیاں گاتے ہوئے
گٹکری لیتے ہوئے ہاتھوں کو پچکاتے ہوئے


رقص فرمانے لگے کجھ صاحبان وجد و حال
یہ کرامت شیخ کی ہے یا ہے نغمے کا کمال


عورتوں کی بھیڑ میں نظارہ ٹھوکر کھائے ہے
اس ہجوم رنگ و بو میں کب خدا یاد آئے ہے


مقبرے کی جالیوں میں عرضیان لٹکی ہوئيں
یہ وہ منزل ہے جہاں نیکیاں بھٹکی ہوئيں


ان میں لکھا ہے ہماری جھولیاں بھردے
درد دل سن لیجیے مشکل کشائی کیجیے


پھول ہٹتے ہیں کہیں اور دیگ لٹتی ہے کہیں
دل مچلتا ہے کہیں اور سانس گھٹتی ہے کہیں

یہ چراغوں کی قطاریں جگ مگاتے بام و در
جس طرف بھی دیکھنے سامان تفریح نظر


چادریں چڑھتی ہوئيں ڈھولک بھی ہے بجتی ہوئی
یہ مجاور ہیں جو پوجا کررہے ہیں قبر کی


کوئی سجدے میں جھکا ہے کوئی مصروف طواف
تھام رکھا ہے کسی نے دونوں ہاتھوں سے غلاف


رو رہا ہے کوئی چوکھٹ ہی پہ سر رکھے ہوئے
ہیں کسی کے ہاتھ بہر التجا اٹھتے ہوئے


دیکھتا ہی رہ تماشائی زباں سے کجھ نہ بول
چادروں کی دھجیاں بکتی ہیں یاں سونے کے مول


ھن برستا ہے یہان چاندی اگلتی ہے زمین
آخرت کی یاد اس جا پاؤں رکھ سکتی نہیں


زائروں کے خود مجاور ہی جھکادیتے ہیں سر
مو رکے پنکھوں کے سائے میں کلاوے باندھ کر


ہے یہی تعلیم تعلیم نبی ۖ فرمان قرآن کی
ہر ایک بدعت ضلالت شرک ہے ظلم عظیم


مدعی توحید کے اور شرک سے یہ ساز باز
ایک طرف قبروں پہ سجدے دوسری جانب جائے نماز


تابکے یہ کھیل دنیا کو دکھایا جائے گا
مضحکہ توحید کا کب تک اڑایا جائے گا
------------------------------------------------------------------------------------
اقتباس: اہل حرم کے سومنات
تالیف: زاہد حسین مرزا

عورتوں کا کان و ناک کا چھدوانا؟


السلام علیکم شیوخ!
کسی سسٹر نے مجھے ای میل کی تھی اور اس میں انہوں نے سوال کیا تھا اور وہ جاننے کی کوشش کررہی تھیں کہہ:
اسلام میں عورت کا کان و ناک چھدوانے کے بار ےمیں کیا حکم ہے؟
اگر اسلام میں اس قسم کا کوئی حکم ہے تو اس کا ثبوت پیش کیا جائے اور نہیں ہے تو اس کا بھی ثبوت پیش کیا جائے اور بتایا جائے کہ ہر عورت (اسلامی و غیر اسلامی) کان و ناک چھدواتی ہے تو کیوں؟
امید کہ واضح جواب عنایت فرمائیے گا۔ ان شاءاللہ
والسلام علیکم

رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارکہ میں صحابیات ایسا کرتی تھیں یعنی ناک کان چھدواتی تھیں اور بالیاں وغیرہ پہنتی تھیں اور ضرورت پڑنے پر اپنے کانوں سے بالیاں اتار کر صدقہ بھی فرما دیا کرتیں تھیں 
عن جابر بن عبد الله قال :" شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة يوم العيد , فبدأ بالصلاة قبل الخطبة بغير أذان و لا إقامة , ثم قام متوكئا على بلال , فأمر بتقوى الله , و حث على طاعته , و وعظ الناس و ذكرهم , ثم مضى حتى أتى النساء , فوعظهن و ذكرهن , فقال : تصدقن فإن أكثركن حطب جهنم , فقامت امرأة من وسط النساء سفعاء الخدين , فقالت : لم يا رسول الله ? قال : لأنكن تكثرن الشكاة و تكفرن العشير , قال : فجعلن يتصدقن من حليهن , يلقين فى ثوب بلال من أقراطهن و خواتمهن " . 
أخرجه مسلم ( 3/19 ) و كذا النسائى ( 1/233 ) و الدارمى ( 1/377 ـ 378 ) و البيهقى ( 3/296 ) و المحاملى ( 135/2 ) و أحمد ( 3/318 )