Sunday, 4 December 2011

جہیز- محض ایک سماجی برائی یا حلال و حرام کا مسئلہ؟

جہیز- محض ایک سماجی برائی یا حلال و حرام کا مسئلہ؟

اگر دوسری قومیں جہیز کے لین دین کو ایک سماجی برائی Social evil کہتی ہیں توٹھیک ہے لیکن ایک مسلمان کیلئے یہ محض ایک سماجی برائی نہیں بلکہ اس سے آگے بہت کچھ ہے۔یہ ایک حلال و حرام کا سنگین مسئلہ ہے ۔ اسے سگریٹ یا سینما بینی کے برابر کی ایک برائی قرار دینا ایک نادانی ہے۔ یہ نادانی نادانستہ نہیں بلکہ دانستہ ہے ۔ چونکہ پورا نظام عورتوں کے ہاتھوں چل رہاہے جس پر مرد کنٹرول نہیں رکھتا جس کی وجہ سے یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ حلال و حرام کا مسئلہ ہے مرد مجبوریوں، مصلحتوں اور مفادات کا شکار رہتے ہیں۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ گھر کے باہر مسجدوں میں غیر اہم فروعی مسائل پر بھی ایک دوسرے کی تکفیر ہی نہیں بلکہ قتال تک کے لئے آمادہ ہوجانے والی قوم کے افراد گھر کے اندر حلال و حرام کے اتنے بڑے مسئلے پر جانتے بوجھتے خاموشی برتتے ہیں؟
اور جہاں عورتیں قصوروار نہیں وہاں مردوں کی انانیت، حرص، سوسائٹی میں جو دوسرے کر رہے ہیں ویسا یا اس سے زیادہ کرنے کی خواہش، تفاخر اور سب سے بڑھ کر یہ کہ شریعت کے احکام کو جانتے بوجھتے اپنی طرف سے کوئی نہ کوئی جواز پیدا کرکے مطمئن ہوجانے کی خود فریبی یہ تمام اسباب اس بڑھتی ہوئی لعنت کے ذمہ دار ہیں۔

کوئی تو ملے جو کہے ہاں میں خود دار نہیں


آج تک بے شمار لوگوں سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی ۔ کوئی ایسا نہ ملا جس نے یہ کہا ہو کہ
”ہاں ہم نے جہیز کا مطالبہ یا فرمائش کی تھی“ ۔
جتنے ملے سب شرفاء ملے ۔ ہر ایک نے یہی کہا بلکہ فرمایا کہ
”الحمدلله ہم نے ایک پیسہ بھی نہیں لیا ، ہمارے ہاں اس چیز کو سخت معیوب سمجھاجاتا ہے “ ۔
جب دور دور تک کوئی ایسا شخص نہیں جس نے جہیز مانگا ہو تو پھر کیا وجہ ہے کہ معاشرہ کا ہر باپ اور ہر بھائی اپنی بیٹی یا بہن کی شادی کے لیے پریشان ہے ؟

قاضی صاحب اور پنڈت جی میں فرق کیا ہے؟


اب آپ ذرا تحقیق کریں کہ جب سوسائٹی میں ہر شخص جہیز اور بے جا رسومات کا مخالف ہے تو ایک مسلمان کی شادی اور ایک غیر مسلم کی شادی میں فرق کیوں کر ختم ہوگیا ہے ؟ سوائے اس کے کہ اُن کے ہاں پنڈت آکر کسی کی سمجھ میں نہ آنے والے کچھ اشلوک پڑھتا ہے اور یہاں قاضی صاحب کسی کی سمجھ میں نہ آنے والی کچھ عربی آیتیں پڑھ جاتے ہیں۔ وہاں آگ کے پھیرے ہوتے ہیں اور یہاں کچھ دیر کے لیے سروں پر ٹوپیاں یا دستیاں ڈال کر کچھ افراد دلہا دلہن سے ایجاب و قبول کی رسم پوری کروا کر بغیر وضو کے دعاء و فاتحہ پڑھ کر مصری بادام کے لوٹنے لٹانے کی چھینا جھپٹی پر ”النکاح من سنتی“ والے ڈرامے کا The End کرتے ہیں ۔
پنڈت جی وہاں اپنی دکھشنا لے کر ہاتھ جوڑتے نمسکار کرتے ہوئے رخصت ہوجاتے ہیں اور اِدھر قاضی صاحب اپنی فیس اور Tip وصول کر کے خوشی خوشی آداب بجا لاتے ہوئے نکل جاتے ہیں ۔ باقی سب کچھ تو وہی ہوتا ہے یعنے جہیز ، رسمیں ، لڑکی کے سرپرست کے خرچے پر اپنے سارے مہمان باراتیوں کی ضیافت وغیرہ ۔ نوٹوں کی گڈیاں تو دونوں طرف شادی سے پہلے ہی وصول کرلی جاتی ہیں ۔ جو لوگ ذرا غیرت مند اور خود دار ہوتے ہیں وہ بجائے نقد وصول کرنے کے کچھ اور معاملہ deal طئے کرلیتے ہیں ۔
یہ کافری تو نہیں کافری سے کم بھی نہیں
کہ مردِ حق ہو گرفتارِ حاضر و موجود
آئیے ! پھر اسی سوال کی طرف کہ جب نوشہ اور اُن کا سارا گھرانہ ان تمام ہندوانہ رسموں کو نا پسند کرتا ہے تو پھر یہ سب کیونکر ہوا ؟ پوچھئے تو انتہائی شرافت اور فخر سے فرماتے ہیں :
”ہم نے تو صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ہمیں سوائے لڑکی کے اور کچھ نہیں چاہئے ۔ جو بھی دینا ہے وہ اپنی بیٹی کو دے دیجئے ۔۔۔وہ بھی خوشی سے“۔
دراصل یہی وہ اصل کھیل ہے جسے لوگ شرافت و خوداری کا لبادہ اوڑھ کر تہذیب ، رواج یا سسٹم کے نام پر کھیلتے ہیں ۔
میاں بیوی کا رشتہ صرف دو افراد کا میل نہیں بلکہ ایک خاندان اور پورے معاشرے کی بنیاد ہے ۔ اگر بنیاد میں غلطی رہ جائے ، چاہے دانستہ ہو یا نا دانستہ، نہ کوئی دیوار سلامت رہتی ہے نہ چھت ، نہ کھڑکی نہ دروازہ ۔ تو پھر ایسی عمارت کے انجام کا آپ خود اندازہ کرسکتے ہیں۔ اسی طرح اگر میاں بیوی کا رشتہ غلط بنیادوں پر کھڑا ہو تو خاندان ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں تک اس کے غلط اثرات پڑتے ہیں ۔ جس بنیاد کو ڈالنے کے لیے لڑکی کے سرپرست کو خوشی سے یا مجبوری و مصلحت کی وجہ سے لڑکے پر خرچ کرنا پڑا ہو۔ اس کے لیے لڑکی کے باپ اور بھائی کو ہوسکتا ہے گھر بیچنا پڑا ہو ، چندہ ، خیرات یا زکوٰة مانگنی پڑی ہو۔ ہوسکتا ہے جھوٹ ، رشوت ، چوری اور بے ایمانی کرنی پڑی ہو۔ اب آپ ہی اندازہ لگائیے کہ ایسی غلط کاریوں کے ساتھ قائم ہونے والی بنیاد کیا معاشرے میں ایک پاک خاندان کی مضبوط عمارت کھڑی کرپائے گی ؟ جس طرح جام کے پیڑ سے آم نہیں اُگتے اسی طرح اسلام کو پامال کرنے والے طریقے کی بنیاد پر شروع ہونے والے رشتے نیک اور دیندار نسلیں نہیں پیدا کرسکتے ۔ یہ منطق Logic کے خلاف ہے ۔

عورت بغاوت پر کیوں اتر آئی ہے؟


کسی بھی دین یا مذہب کے حق ہونے یا نہ ہونے کی دو کسوٹیاں Criteria ہیں ایک تو یہ کہ عقائد ، عبادات یا رسومات کے علاوہ وہ دین انسان کو زندگی گزارنے کا طریقہ System of Life کیا دیتا ہے ؟
دوسرے یہ کہ اس کے ماننے والے اُسے کس طرح پیش کرتے ہیں ؟
یہاں ہماری ناکامی کی اصل وجہ کا پتہ چلتاہے ۔ اگرچہ کہ ہر شخص یہ اعتراف کرتا ہے حتٰی کہ مخالفینِ اسلام خود تسلیم کرتے ہیں کہ سوائے اسلام کے کوئی اور مذہب ایسا نہیں ہے جو اتنا مکمل اور شاندار نظام حیات System of Life دیتا ہو ۔ لیکن اسکے پیش کرنے والوں نے اِسے دنیا کی نظروں میں نہ صرف مشکوک کردیا بلکہ دور کردیا۔اسلام کی صحیح تعلیمات جن پر عمل پیرا ہونے سے یہ زمین بھی جنّت نما بن جاتی ہے وہ تعلیمات خود مسلمانوں کی زندگی میں دور دور تک نظر نہیں آتیں ۔ہر شخص نماز ، روزے ، داڑھی ، ٹوپی وغیرہ کے بارے میں پوچھئے تو وہ ہر ضروری اور غیر ضروری تفصیل کے ساتھ خوب بحث کر سکتا ہے لیکن اسلام کے معاشی ، سیاسی ، سماجی ، عدل ، یا تعلیمی نظام اور بنکنگ، انشورنس یا ٹریڈنگ کے بارے میں پوچھئے تووہ سوائے چند مبہم فتوؤں کے کچھ نہیں بتا پائے گا ۔
اسی طرح عورتوں کے حقوق کے بارے میں پوچھئے ، سوائے اسکے کہ طلاق کس طرح دی جائے ، کب دی جائے ، عورت کی کون سی غلطی پراُسے کیا سزا دی جائے ؟ اس کے علاوہ اسے کچھ نہیں معلوم۔ دوسرے الفاظ میں اگر عورت غلطی کرے تو اسلام مرد کو کیا اختیار دیتا ہے وہ یہ تو بہت اچھی طرح جانتا ہے لیکن اگر مرد کمینہ پن کرے تو اسلام عورت کو کیا حق دیتا ہے وہ اس بارے میں کچھ نہیں بتاتا ۔
یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان عورتیں بغاوت کررہی ہیں۔ ابھی حال ہی میں ٹامل ناڈو میں عورتوں نے اپنی مسجد علٰہدہ بنانے کا اعلان کردیا اسکے علاوہ بھی کئی مقامات سے خبریں پڑھنے میں آئیں کہ عورتوں نے خود نماز کی امامت، جمعہ کا خطبہ اور قاضی کے فرائض ادا کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کئی عورتیں غیر مسلموں سے شادیاں بھی کررہی ہیں۔ اسکی مزید تفصیل آگے باب ”نقصانات “میں ملاحظہ ہو۔
اور اسی طرح کی بغاوت اور سرکشی کی کئی خبریں دنیا کے دوسرے ممالک سے بھی ملتی رہتی ہیں۔ اسکے اسباب تو کئی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہیکہ عورتیں اس نظام کے خلاف اب کھڑی ہوچکی ہیں جو نظام قاضیوں، دارالقضاة، مفتیوں اور علماء نے قائم کیا جسمیں مرد کی جانب سے طلاق دئیے جانے پر تو فوری سرٹیفکٹ دے دیا جاتا ہے لیکن اگر عورت خلع حاصل کرنا چاہے تو اسے مہینوں اور برسوں لٹکا کر رکھا جاتا ہے۔
عہد نبوی میں حضرت ثابت بن قیس (رضی اللہ عنہ) کی دو بیویوں حبیبہ بنت سہیل (رضی اللہ عنہا) اور جمیلہ (رضی اللہ عنہا) نے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے خلع کی درخواست کی اور وجوہات بتائیں تو آپ نے انہیں فوری طلاق حاصل کرلینے کی اجازت دے دی ۔
لیکن ہمارے عہد میں بے چاریاں دفترقضاء ت یا پھر کورٹ کے چکر لگاتی رہتی ہیں ۔مرد نہ مہر ادا کرنے راضی ہوتا ہے اور نہ لیا ہوا جہیز اور جوڑے کی رقم وغیرہ واپس کرنے تیار ہوتاہے۔ برسوں نہیں صدیوں عورت نے مرد کے ہاتھوں یہ ظلم سہا ہے شائد یہ انہی کی بددعا کا نتیجہ ہیکہ ہندوستان میں Anti Dowry Act Section 498A نافذ ہوا ۔ اس قانون کا جائز استعمال کم اور ناجائز زیادہ ہوا اور نتیجہ یہ نکلا کہ ہر مرد عورت کے آگے ڈرنے لگا۔
اُدھر پاکستان میں بھی ایک اسلامی مملکت ہونے کے باوجود مرد سے دوسری شادی کی آزادی چھین لی گئی۔مرد شریعت کی آڑ لینا بھول گیا۔ ایسا ہونا بھی چاہئیے تھا کیونکہ انصاف کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ جو فریق منگنی، نکاح کے دن کی دعوت ، جہیز وغیرہ پر خرچ کرے اُسی کی مرضی اور اسی کا فیصلہ چلنا بھی چاہئے۔

پہلا ذمہ دار طبقہ … دین و شریعت کے علمبردار


اس پورے فساد میں اصل قصور دینی امور کے ذمہ داروں اور شریعت کے نام نہاد علمبرداروں کا ہے ۔ ہمارے واعظ اور مقرر جس شدت کے ساتھ عقائد ، ایمانیات ، بدعات و شرکیات پر اپنا پورا زورِ بیان صرف کرتے ہیں اس شدت کے ساتھ کبھی جوڑے جہیز کے بارے میں بیان نہیں کرتے ۔ مسلکی اختلافات پر فریقین جسطرح ایک دوسرے کے خلاف دندناتے ہوئے جلوسوں اور جلسوں میں مظاہرے کرتے ہیں ، گرجدار شعلہ بیان تقریروں کے ذریعے ایک دوسرے پر کفر ، شرک اور نہ جانے کیا کیا فتوے لگاتے ہیں وہی جوہرِ شعلہ بیانی کبھی جہیز کی لعنتوں کے خلاف نہیں صرف کرتے۔ جن فروعی مسائل پر یہ لوگ زور دیتے ہیں ان موضوعات کا تعلق نہ ایک غریب گھر کی روٹی سے ہے نہ اس کے معاشی مسائل سے، نہ ان موضوعات میں کوئی دعوت، تقویٰ و تزکیہ کا پہلو ہے اورنہ غیر مسلموں کے لیے ان میں کوئی کشش ۔ جب کہ جوڑا جہیز کا موضوع ایک ایسا سماجی موضوع ہے جس کا تعلق نہ صرف ہر مسلمان کے معاش ، اخلاق و کردار سے ہے بلکہ کروڑوں غیر مسلمین کے لیے اس میں اسلام کی دعوت پوشیدہ ہے۔جسمیں مسلمان اور غیر مسلمین دونوں کی معاشی راحت کا سامان ہے ہمارے مقرر اور واعظ اس موضوع کو چھوتے بھی نہیں۔ اگر کچھ کہتے بھی ہیں تو نہ وہ گرج ہوتی ہے نہ مخالفین پر فائرنگ کا انداز ہوتا ہے ۔ ایسا لگتا ہے جیسے ابا جان شریر بچے کو چمکار تے ہوئے کہہ رہے ہوں :
” بیٹا بُری بات ہے اچھے بچے اس طرح شرارت نہیں کرتے “۔
اور نہ قاضی صاحبان خطبے میں ان چیزوں کی ممانعت کرتے ہیں ۔
ہوس بالائے ممبر ہے تجھے رنگیں بیانی کی
نصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کی
اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ خود بھی اور ان کے اہل خاندان اور ان کے ساتھ ساتھ وہ تمام لوگ بھی جن کے چندوں سے مدرسے اور مسجدوں کی انتظامی کمیٹیاں چلتی ہیں اس جرم میں کسی نہ کسی حد تک شریک ہیں ۔ ظاہر ہے جب کہنے والے کے ہاتھ خود خون میں رنگے ہوں وہ دوسروں پر انگلی کیسے اٹھا سکتا ہے ۔
اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جوڑا جہیز ہی دراصل آج مسلمانوں کی ذلت و رسوائی کا اصل سبب ہے ۔اسکی ذمہ داری سب سے پہلے دین کی نمائندگی کرنے والے طبقے پر ہے، اسکے بعد تعلیم یافتہ خوشحال مسلمانوں پر۔

Friday, 11 November 2011

شیطان کا ڈاکیا

شیطان کا ڈاکیا


عربی زبان میں ایک نہایت زہریلے سانپ کو عاضۃ کہتے ہیں جس کا ڈسا ہوا فورًا مر جاتا ہے۔ اسی سے "العضۃ" کا لفظ ہے جس کا معنی چغل خور ہے کیونکہ وہ بھی فریقین کے درمیان فتنہ و فساد کی آگ بڑھکا دیتا ہے اور بات فورًا دشمنی اور قتل و غارت تک پہنچ جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ایک دفعہ اپنے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا:
أَتَدْرُونَ مَا الْعَضْهُ؟
"جانتے ہو "العضہ" کیا ہے؟؟
صحابہ نے عرض کیا "اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتا ہے"
فرمایا: 
نَقْلُ الْحَدِيثِ مِنْ بَعْضِ النَّاسِ إِلَى بَعْضٍ، لِيُفْسِدُوا بَيْنَهُمْ
"بعض کی باتیں بعض کی طرف بیان کرنا تا کہ ان کے درمیان فساد ڈالا جائے" 
(سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ حدیث نمبر 846)

مسلمان کبھی شیطان کا ڈاکیا نہیں بنتا۔ اگر کسی موقع پر کسی کے خلاف کوئی بات سن لے تو اس کو وہاں پر ہی دفن کر دے تا کہ فریقین کےدرمیان نفرت و کدورت کے جراثیم مزید پیدا نہ ہوں۔

ایک دفعہ کسی آدمی نے اللہ کے ایک نیک بندے کو آ کر بتلایا کہ فلاں شخص آپ کے خلاف فلاں فلاں باتیں کرتا ہے، وہ سن کر فرمانے لگے "شیطان کو تیرے علاوہ کوئی ڈاکیا نہیں ملا"؟ ایک اور شخص نے اللہ کے ایک بندے سے کہا "فلاں شخص نے آپ کو یہ یہ گالی دی ہے" وہ کہنے لگے "اے ظالم! اس نے نہیں دیں گالیاں تو تو نے دی ہیں۔ اس نے تو پتھر پھینکا تھا مگر مجھے نہیں لگا مگر تو اس قدر ظالم نکلا کہ وہ اٹھا کر مجھے مار ہی دیا"۔ 
اللہ تعالیٰ ہمیں چغل خوری کی لعنت سے محفوظ فرمائے۔

Wednesday, 9 November 2011

صلاۃ غوثیہ کی حقیقت

صلاۃ غوثیہ کی حقیقت


یہاں اس غلط فہمی کو دور کرنا بھی ضروری ہے جو بعض عقیدت مندوں نے پیدا کر رکھی ہے کہ "خود شیخ جیلانی نے یہ تعلیم دی تھی کہ مشکلات کے وقت مجھے پکارا کرو میں زندگی میں بھی اور بعد از حیات بھی تا قیامت تمہاری سنتا اور مدد کرتا رہوں گا"-
اس سلسلہ میں آپ کی طرف جو جھوٹی باتیں منسوب کی جاتی ہیں، ان میں سے بطور نمونہ ایک جھوٹ ملاحضہ فرمائيں:
"شیخ نے فرمایا کہ جو کوئی مصیبت میں مجھ سے مدد چاہے یا مجھ کو پکارے تو میں اس کی مصیبت کو دور کروں کا اور جو کوئی میرے توسل سے خدائے تعالی سے اپنی حاجت روائی چاہے گا تو خدا تعالی اس کی حاجت کو پورا کرے گا- جو کوئی دو رکعت نماز پرھے اور ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد گارہ مرتبہ سورۃ اخلاص یعنی "قل ھو اللہ احد" پڑھے اور سلام پھرینے کے بعد گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھے اور مجھ پر بھی سلام بھیجے اور اس وقت اپنی حاجت کا نام بھی لے تو ان شاءاللہ تعالی اس کی حاجت پوری ہوگی- بعض نے بیان کیا ہے کہ دس پانچ قدم جانب میرے مزار کی طرف جل کر میرا نام لے اور اپنی حاجت کو بیان کرے اور بغض کہتے ہیں مندرجہ ذیل دو شعروں کو بھی پڑھے:
(ترجمہ اشعار: کیا مجھ کو کچھ تنگدستی پہنچ سکتی ہے جبکہ آپ میرا ذخیرہ ہیں اور کیا دنیا میں مجھ پر ظلم ہوسکتا ہے جبکہ آپ میرے مددگار ہیں- بھیڑ کے محافظ پر خصوصا جبکہ وہ میرا گار ہو، ننگ و ناموس کی بات ہے کہ بیابان میں میرے اونٹ کی رسی گم ہوجائے"-
(قلائد الجواہر، مترجم: ص 192)

"پھر عراق (بغداد) کی سمت میرا نام لیتا ہوا گیارہ قدم چلے"
(بھجۃ الاسرار۔ ص:102)

نقد و تبصرہ:

٭ اول تو یہ واقعہ ان کتابوں سے ماخوذ ہے جن کی استنادی حیثیت کے حوالہ سے ہم یہ ثابت کر چکے ہیں کہ وہ قابل اعتماد نہیں ہیں-
٭ اگر بالفرص شیخ نے یہ بات خود فرمائی بھی ہو تو تب بھی اس پر عمل اس لئے نہیں کیا جاسکتا کہ یہ قرآن و سنت کے صریح خلاف ہے- 
٭ فی الحقیقت یہ بات خود شیخ کی موحدانہ تعلیمات کے منافی ہے کیونکہ شیخ تو یہ فرماتے ہیں کہ:
"اخلاص پیدا کرو اور شرک نہ کرو، حق تعالی کی توحید کا پرچار کرو اور اس کے درواوے سے منہ نہ موڑو- اسی اللہ سے سوال کرو، کسی اور سے سوال نہ کرو، اسی سے مدد مانگو، کسی اور سے مدد نہ مانگو، اسی پر توکل و اعتماد کرو اور کسی پر توکل نہ کرو"-
(الفتح الربانی: مجلس 48، ص 151)

اقتباس: شیخ عبدالقادر جیلانی اور موجودہ مسلمان
تالیف: مبشر حسین لاھوری

خبر بیان کرنے کا مسئلہ

خبر بیان کرنے کا مسئلہ


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"کفی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ما سمع"
آدمی کے لیے جھوٹا ہونے میں (یہ بات) کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو (بغیر تحقیق کے) بیان کرے"-
(رواہ مسلم)

تشریح: مطلب یہ ہے یہ اگر کوئی شخص یہ عادت رکھتا ہو کہ جو کچھ سنے بغیر تحقیق کےروایت بیان کرے تو اس کے جھوٹ بولنے میں اسی قدر کافی ہے- کیونکہ جو کچھ وہ سنتا ہے، سب سچ نہیں ہوسکتا بلکہ سنی سنائی باتیں اکثر جھوٹ ہوتی ہیں- اس لیے جب تک کسی بات یا خبر کا سچ ہونا متحقق نہ ہو اسے ہرگز آگے بیان نہیں کرنا چاہیے- معلوم ہوا کہ خبروں کا بیان کرنا ایک ذمہ داری کی چيز ہے اور مسائل دین میں سے ہے- 
خبردار! کسی سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق و تفتیش کے کبھی آگے نہ پہنچاؤ- 

برصغیر میں محدثین کی آمد

برصغیر میں محدثین کی آمد

جناب محمد زکریا شاہد اعوان

یہ بات مسلمہ ہے کہ جانباز صحابہ کرام ] کا ہر قول و فعل حدیث رسول e سے ہم آہنگ تھا۔ وہ جہاں بھی رخت سفر باندھتے، تجارت کی غرض سے جاتے غرضیکہ زندگی کے تمام نشیب و فراز میں فرامین رسول عربی سے ہی رہنمائی لیتے۔ جب محدثین کی برصغیر آمد ہوئی تو احادیث مبارکہ کا ایک روح پرور ذخیرہ بھی ان کے ساتھ آیا۔ رسول اکرم e کے دنیا سے رحلت فرمانے کے بعد ۵۱ھ میں اس خطہ میں رسول اکرم e کی احادیث مبارکہ پہنچنا شروع ہو گئی تھیں۔ صحابہ کرامؓ کی منزلیں آپ کے فرامین و ارشادات کی روشنی میں ہوتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے طرز معاشرت کا ہر گوشہ اور اسلوب زندگی کا ہر پہلو نبی کریم e کے سانچے میں ڈھلا ہوا تھا وہ گھر میں ہوں یا باہر سفر میں ہوں یا حضر میں، حالت امن میں ہوں یا جنگ میں، الغرض زندگی کے تمام نشیب و فراز میں فرامین رسول کا گلستان پر بہار ان کے سامنے لہلہاتا رہتا تھا اور اسی کے سائے انہیں روحانی اور جسمانی سکون حاصل ہوتا تھا۔ یہی ان کا مقصد حیات اور سرمایہ زندگی تھا۔ وہ جس ملک میں گئے حدیث رسول اپنے ساتھ لے کر گئے۔ برصغیر میں آئے تو یہ انمول خزانہ بھی ساتھ لے کر آئے۔ 
کاروان اہلحدیث:

برصغیر میں اسلام کے یہ اولین نقوش ۵۱ھ میں اس خطہ ارضی پر ابھرے اور پھر تاریخ کے ایک خاص تسلسل کے ساتھ پوری تیزی سے لمحہ بہ لمحہ ابھرتے اور نمایاں ہوتے چلے گئے۔ یہ اولین نقوش و آثار اس پر عظمت کارواں کے ہیں جنہیں اصحاب حدیث اور ”اہلحدیث“ کے عظیم الشان لقب سے پکارا جاتا ہے۔ یہی وہ پہلا کارواں تھا جو نبی اکرم eکے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے صرف چار سال بعد برصغیر میں وارد ہوا۔ دوسرا کارواں حدیث تابعین کا، تیسرا محمد بن قاسم اور ان کے رفقائے عالی قدر کا اور چوتھا کارواں تبع تابعین کا تھا۔ 
یہ پاکباز لوگ جہاں قدم رکھتے گئے حدیث رسول ان کے ہمرکاب رہی یہی ان کی زندگی کا حاصل یہی ان کا اوڑھنا بچھونا اسی کے احکام ان کے شب و روز کا معمول تھا اور یہی ان کا مقصد زیست اور یہی ان کا طرہ امتیاز تھا۔ یہ چار جلیل القدر کارواں جنہوں نے اپنے دور میں برصغیر کے مختلف علاقوں میں مساعی جمیلہ سر انجام دیں۔ یہی وہ ذی مرتبت حضرات ہیں جنہوں نے یہاں پہلے قال اللہ وقال الرسول مسرت انگیز اور بہجت افزا صدائیں بلند کیں۔ 

ایک اشکال اور اس کا جواب:

بعض حضرات کہتے ہیں کہ برصغیر میں سب سے پہلے حنفی مسلک آیا، اہلحدیث کی عمر اس ملک میں صرف ڈیڑھ دو سو سال ہے۔ یہ بالکل بے وزن اور حقیقت کے خلاف بات ہے اور ان لوگوں کی ذہنی اختراع ہے جو برصغیر کی اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور سے واقفیت نہیں رکھتے یا اس کا اظہار نہیں کرنا چاہتے بلکہ انہوں نے اپنی اس خواہش کا نام تاریخ رکھ لیا ہے۔ 
تاریخی واقعات بیان کرنے کیلئے تاریخ کو سمجھنے اور اس کے مختلف گوشوں کو فہم کی گرفت میں لانے کی ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ پچیس جانباز صحابہ کرامؓ جو یہاں آئے تھے وہ حنفی تھے؟ کیا وہ کسی ذی الحرام امام فقہ کے مقلد تھے؟ کیا ان کے بعد ان کے زمانے میں برصغیر تشریف لانے والے ۲۴ بیالیس تابعین کسی لائق صد احترام شخصیت کے حلقہ تقلید سے وابستہ تھے؟ ہر گز نہیں! وہ براہ راست نبی اکرمe کی احادیث مبارکہ پر عمل پیرا تھے اور آپ کے فرامین اقدس پر عامل اور ان کے اولین مبلغ تھے اور اسی متاع گراں بہا کی رفاقت میں انہوں نے اس نواح کا رخ فرمایا۔ ان کا مرکز عمل اور نقطہ نظر صرف قرآن و حدیث تھے۔ اس کے علاوہ کوئی بات کبھی بھی ان کے حاشیہ خیال میں نہیں آئی۔ 
یہ وہ دور ہے جب فقہی مسالک کا کہیں نام و نشان نہ تھا اور نہ ہی کسی قابل تکریم امام فقہ کا کوئی وجود تھا۔ صحابہ کرامؓ کا پہلا کارواں برصغیر میں ۵۱ھ میں آیا حضرت امام ابوحنیفہؒ اس سے ۵۶ سال بعد ۰۸ ھ میں پیدا ہوئے۔ ۰۵۱ھ میں انہوں نے رخت سفر باندھا۔ امام مالکؒ ۳۹ھ میں پیدا ہوئے اور ۹۷۱ھ میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ امام شافعیؒ ۰۵۱ میں اس جہاں ہست و بود میں نمودار ہوئے۔ اور ۴۰۲ھ میں یہ آفتاب غروب ہو گیا۔ امام احمد بن حنبلؒ کی ولادت ۴۶۱ھ ہے اور ۱۶۲ھ میں مالک حقیقی سے جا ملے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ صحابہ کرامؓ کے زمانہ اقدس میں نہ کوئی حنفی تھا نہ کوئی شافعی تھا نہ مالکی نہ ہی حنبلی تھا۔ خالص فرامین پیغمبر اور حدیث رسول کا سکہ چلتا تھا۔ کسی امام فقہ کی تقلید کا ہر گز کوئی تصور نہ تھا جب آئمہ فقہ کی پاکباز ہستیاں دنیا میں موجود ہی نہ تھیں تو تقلید کیسی؟ اور کس کی؟ 
تقلید کے سلسلے ان کے کئی سو سال بعد پیدا ہوئے پہلے صرف قرآن و حدیث اور فقط کتاب و سنت کی بنیاد پر عمل کی دیواریں استوار کی جاتی تھیں اور اسی پر اسلام کا قصہ رفیع الشان قائم تھا اور اسی کا نام اہلحدیث ہے اور اسی کو ماننے اور حرز جان بنانے والے لوگ سب سے پہلے وارد برصغیر ہوئے، جنہیں رسول اللہ e کے صحابہؓ کے پراعزاز لقب سے پکارا جاتا ہے۔ اور جن کے بارے میں قرآن ناطق ہے: ”رضی اللہ عنہم ورضواعنہ“ اللہ تعالیٰ کی خوشنودیاں ان کے حصہ میں آئیں اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ 
کیا اہلحدیث نیا مذہب ہے؟

جو حضرات گرامی قدر اہلحدیث کو برصغیر میں نیا مذہب قرار دیتے ہیں۔ ہم نہایت ادب و احترام سے ان کی خدمت میں عرض کریں گے کہ اگر اس خطہ ارضی میں رسول اکرمe کی حدیت نئی ہے تو یہ مذہب بھی نیا ہے اگر آپ کی حدیث پاک کا وجود ۴۱ سو سال پہلے سے ہے تو اہلحدیث کا وجود بھی چودہ سو سال سے ہے۔ اور اسی کا نام قدامت اہلحدیث ہے۔ تاریخی حقائق ہمیں بتاتے ہیں اور واقعات اس کی شہادت دیتے ہیں کہ مسلک اہلحدیث اصل دین اور اسلام کی صحیح ترین تعبیر ہے۔ جو صحابہ کرامؓ کی محنت و کاوش سے برصغیر میں آیا اور یہاں کے لوگ اس سے آشنا ہوئے۔ اس کے علاوہ باقی سب فقہی مذاہب یا مسالک ہیں جو بہت بعد میں عالم وجود میں آئے۔ اس وقت حنفیت، مالکیت، شافعیت اور حنبلیت کا تصور تک نہ تھا۔ 
امام ابن تیمیہ کی شہادت:

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ رقم فرماتے ہیں کہ اہل حدیث کوئی نیا مذہب نہیں بلکہ آئمہ اربعہ سے پہلے کا ہے اور صحابہ کرامؓ اسی کے مطابق عمل کرتے تھے۔ امام موصوف اس ضمن میں رقم طراز ہیں: ”اہل سنت کا یہ معروف مذہب ہے جو امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کی ولادت باسعادت سے بہت پہلے کا ہے۔ اور یہی مذہب صحابہ کرامؓ کا ہے جس کی تعلیم انہوں نے نبی اکرمe سے حاصل کی جو لوگ اس کے خلاف دوسری راہ اپنائیں گے ان کا شمار اہل بدعت میں ہو گا۔“ (منہاج السنة) 
اہل حدیث کے اوصاف بیان کرتے ہوئے امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں: یہ لوگ ہر رسول اور اللہ کی طرف سے نازل کردہ تمام کتب پر ایمان رکھتے ہیں یہ اللہ کے پیغمبروں میں سے کسی کے درمیان فرق کرتے ہیں اور نہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو دین میں تفرقہ ڈالتے ہیں۔ (نقض المنطق) 
امام صاحب اپنی اسی تصنیف میں اہل حدیث کے بارے میں امام اسماعیل بن عبدالرحمن صابونیؒ کا یہ قول نقل کرتے ہیں: ”اہل حدیث کا شیوہ یہ ہے کہ وہ کتاب و سنت سے تمسک کرتے ہیں۔ اللہ کی وہی صفات بیان کرتے ہیں جو اس نے خود اپنی کتاب قرآن مجید میں بیان فرمائی ہیں۔ اور جن کا ذکر اس کے رسول نے کیا ہے جو احادیث عادل و ثقہ راویوں سے مروی ہیں وہ اس کی صفات کو اس کی مخلوقات کی صفات سے تشبیہ نہیں دیتے نہ ان کی کیفیات بیان کرتے ہیں اور نہ ہی وہ معتزلہ وجہمیہ کی طرح کلام میں تحریف کرتے ہیں۔ 
اہل حدیث کا منہج:

مسلک اہلحدیث کے اصول و ضوابط اور فروع و اصول قرآن و سنت کے قصر رفیع پر استوار ہیں۔ یہی ان کے حاملین کی روح کی غذا اور یہی ان کے قلب و ضمیر کی صدا ہے۔ زمانہ ہزاروں لاکھوں کروٹیں لے چکا ہے اور ہر صبح نئے سے نئے انقلاب کو اپنے دامن پرُ رونق میں لپیٹ کر لباس شب زیب تن کرتی ہے لیکن قرآن و سنت کے احکام و اوامر اور قوائد و قوانین اپنی جگہ اٹل ہیں۔ ان کے رنگ و روغن میں وہی سج دھج ہے جو آج سے چودہ سو سال پہلے اس کا طرہ امتیاز تھی۔ اس کے حسن و جمال میں وہی نکھار ہے وہی رعنائی وہ زیبائی وہی دلآویزی ہے جو دور نزول میں اس کے ساتھ مختص تھی۔ زمانہ جس نہج پر چل رہا ہے اور یہ عالم رنگ و بو ترقی کی جن منازل پر گامزن ہےں۔ اس کی روشنی میں غور کیا جائے تو وہ وقت دور نہیں جب پوری دنیا صرف قرآن و سنت کو ہی مرکز اطاعت قرار دینے لگے گی اور نبض عالم کی دھڑکنیں اس میں مرکوز ہو کر رہ جائیں گی۔ (ان شاءاللہ) 
اہل حدیث کی وسعت قلبی:

یہاں ہم یہ حقیقت بھی واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اہل حدیث کے قلب و ذہن کا کوئی گوشہ فقہ اور آئمہ فقہ کے متعلق قطعاً غبار آلود نہیں۔ وہ آئمہ کرام کی وسعت پذیر مساعی اور گرانقدر خدمات کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو انہوں نے مختلف حالات و ظروف کی روشنی میں اپنے انداز میں سر انجام دی ہیں۔ وہ حضرت امام ابوحنیفہ a کی فراست فقہی، فطانت علمی اور اجتہادی صلاحیتوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اعتراف کرتے ہیں۔ لیکن جو حضرات امام ابوحنیفہؒ کی وراثت کے مدعی بنے بیٹھے ہیں وہ ان کے علم و فضل کو ایک ہی گوشے اور ایک ہی مسلک میں محدود کر رہے ہیں یہ امام ابوحنیفہؒ کی توقیر نہیں بلکہ ان کے فیض رسانیوں کی حد بندی ہے۔ ہم امام شافعیؒ کی ان فقید المثال علمی و فقہی خدمات کو بھی کھلے دل سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کی بدولت پہلی بار استناد حدیث کے متعدد گوشے نکھر کر سامنے آئے۔ اور فکر و نظر کی طراوت کا باعث بنے۔ 
اس طرح اہلحدیث کے نزدیک امام مالکؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کی خدمات جلیلہ اور مساعی جمیلہ بھی از حد لائق تعریف ہیں کہ انہوں نے حفاظت اور صیانت سنت رسول کی ذمہ داریوں کو بھی بطریق احسن پورا کیا۔ اور تعلیم و تدریس کی مسانید کو بھی زینت بخشی یہ تمام حضرات صرف کتاب و سنت پر عمل پیرا تھے اور ان کا فرمان ہے کہ اگر ہماری کوئی بات قرآن و حدیث کے ساتھ مطابقت نہ رکھتی ہو تو اسے بالکل نہ مانو۔ 
یہی اہل حدیث کا عقیدہ بھی ہے یعنی دور صحابہؓ سے لے کر اب تک اہلحدیث کا یہی طرز عمل اور یہی طریق ہے کہ براہ راست قرآن و حدیث کو مانو کیونکہ یہی اسلام کا اصل ماخذ ہے اور وہ اس کیلئے ہر آن کوشاں ہیں۔ گزشتہ دنوں امام کعبہ سماحة الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس (حفظہ اللہ) پاکستان کے دورے پر تشریف لائے مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کی طرف سے فقید المثال علماءکنونشن کا انعقاد کیا گیا۔ علماءکنونشن سے خطاب کرتے ہوئے امام کعبہ نے کہا کہ تمام تر فرقے اور مسالک کو اگر کوئی چیز متحد کر سکتی ہے تو وہ صرف اور صرف کتاب و سنت ہے۔ مسلمان قرآن و سنت کا اور سلف صالحین کا منہج اختیار کر کے ہر قسم کے چیلنج سے نمٹ سکتے ہیں۔ انہوں نے دلائل کی روشنی میں اہل حدیث کو فرقہ ناجیہ (کامیاب جماعت) قرار دیا۔ 
راقم السطور کہتا ہے کہ بشری کمزوریوں کی بناءپر ان میں بہت سی خامیاں دیکھی جا سکتی ہیں لیکن جہاں تک ان کے مسلک اور ان کی دعوت کا تعلق ہے اس کے ڈانڈے صحابہؓ کی جماعت سے ملتے ہیں۔ 
احب الصالحین ولست منھم
لعل اللہ یرزقنی صلاحا
وصلی اللہ تعالیٰ علی نبینا محمد وعلیٰ اٰلہ وصحبہ اجمعین۔