Wednesday, 9 November 2011

صلاۃ غوثیہ کی حقیقت

صلاۃ غوثیہ کی حقیقت


یہاں اس غلط فہمی کو دور کرنا بھی ضروری ہے جو بعض عقیدت مندوں نے پیدا کر رکھی ہے کہ "خود شیخ جیلانی نے یہ تعلیم دی تھی کہ مشکلات کے وقت مجھے پکارا کرو میں زندگی میں بھی اور بعد از حیات بھی تا قیامت تمہاری سنتا اور مدد کرتا رہوں گا"-
اس سلسلہ میں آپ کی طرف جو جھوٹی باتیں منسوب کی جاتی ہیں، ان میں سے بطور نمونہ ایک جھوٹ ملاحضہ فرمائيں:
"شیخ نے فرمایا کہ جو کوئی مصیبت میں مجھ سے مدد چاہے یا مجھ کو پکارے تو میں اس کی مصیبت کو دور کروں کا اور جو کوئی میرے توسل سے خدائے تعالی سے اپنی حاجت روائی چاہے گا تو خدا تعالی اس کی حاجت کو پورا کرے گا- جو کوئی دو رکعت نماز پرھے اور ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد گارہ مرتبہ سورۃ اخلاص یعنی "قل ھو اللہ احد" پڑھے اور سلام پھرینے کے بعد گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھے اور مجھ پر بھی سلام بھیجے اور اس وقت اپنی حاجت کا نام بھی لے تو ان شاءاللہ تعالی اس کی حاجت پوری ہوگی- بعض نے بیان کیا ہے کہ دس پانچ قدم جانب میرے مزار کی طرف جل کر میرا نام لے اور اپنی حاجت کو بیان کرے اور بغض کہتے ہیں مندرجہ ذیل دو شعروں کو بھی پڑھے:
(ترجمہ اشعار: کیا مجھ کو کچھ تنگدستی پہنچ سکتی ہے جبکہ آپ میرا ذخیرہ ہیں اور کیا دنیا میں مجھ پر ظلم ہوسکتا ہے جبکہ آپ میرے مددگار ہیں- بھیڑ کے محافظ پر خصوصا جبکہ وہ میرا گار ہو، ننگ و ناموس کی بات ہے کہ بیابان میں میرے اونٹ کی رسی گم ہوجائے"-
(قلائد الجواہر، مترجم: ص 192)

"پھر عراق (بغداد) کی سمت میرا نام لیتا ہوا گیارہ قدم چلے"
(بھجۃ الاسرار۔ ص:102)

نقد و تبصرہ:

٭ اول تو یہ واقعہ ان کتابوں سے ماخوذ ہے جن کی استنادی حیثیت کے حوالہ سے ہم یہ ثابت کر چکے ہیں کہ وہ قابل اعتماد نہیں ہیں-
٭ اگر بالفرص شیخ نے یہ بات خود فرمائی بھی ہو تو تب بھی اس پر عمل اس لئے نہیں کیا جاسکتا کہ یہ قرآن و سنت کے صریح خلاف ہے- 
٭ فی الحقیقت یہ بات خود شیخ کی موحدانہ تعلیمات کے منافی ہے کیونکہ شیخ تو یہ فرماتے ہیں کہ:
"اخلاص پیدا کرو اور شرک نہ کرو، حق تعالی کی توحید کا پرچار کرو اور اس کے درواوے سے منہ نہ موڑو- اسی اللہ سے سوال کرو، کسی اور سے سوال نہ کرو، اسی سے مدد مانگو، کسی اور سے مدد نہ مانگو، اسی پر توکل و اعتماد کرو اور کسی پر توکل نہ کرو"-
(الفتح الربانی: مجلس 48، ص 151)

اقتباس: شیخ عبدالقادر جیلانی اور موجودہ مسلمان
تالیف: مبشر حسین لاھوری

خبر بیان کرنے کا مسئلہ

خبر بیان کرنے کا مسئلہ


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"کفی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ما سمع"
آدمی کے لیے جھوٹا ہونے میں (یہ بات) کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو (بغیر تحقیق کے) بیان کرے"-
(رواہ مسلم)

تشریح: مطلب یہ ہے یہ اگر کوئی شخص یہ عادت رکھتا ہو کہ جو کچھ سنے بغیر تحقیق کےروایت بیان کرے تو اس کے جھوٹ بولنے میں اسی قدر کافی ہے- کیونکہ جو کچھ وہ سنتا ہے، سب سچ نہیں ہوسکتا بلکہ سنی سنائی باتیں اکثر جھوٹ ہوتی ہیں- اس لیے جب تک کسی بات یا خبر کا سچ ہونا متحقق نہ ہو اسے ہرگز آگے بیان نہیں کرنا چاہیے- معلوم ہوا کہ خبروں کا بیان کرنا ایک ذمہ داری کی چيز ہے اور مسائل دین میں سے ہے- 
خبردار! کسی سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق و تفتیش کے کبھی آگے نہ پہنچاؤ- 

برصغیر میں محدثین کی آمد

برصغیر میں محدثین کی آمد

جناب محمد زکریا شاہد اعوان

یہ بات مسلمہ ہے کہ جانباز صحابہ کرام ] کا ہر قول و فعل حدیث رسول e سے ہم آہنگ تھا۔ وہ جہاں بھی رخت سفر باندھتے، تجارت کی غرض سے جاتے غرضیکہ زندگی کے تمام نشیب و فراز میں فرامین رسول عربی سے ہی رہنمائی لیتے۔ جب محدثین کی برصغیر آمد ہوئی تو احادیث مبارکہ کا ایک روح پرور ذخیرہ بھی ان کے ساتھ آیا۔ رسول اکرم e کے دنیا سے رحلت فرمانے کے بعد ۵۱ھ میں اس خطہ میں رسول اکرم e کی احادیث مبارکہ پہنچنا شروع ہو گئی تھیں۔ صحابہ کرامؓ کی منزلیں آپ کے فرامین و ارشادات کی روشنی میں ہوتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے طرز معاشرت کا ہر گوشہ اور اسلوب زندگی کا ہر پہلو نبی کریم e کے سانچے میں ڈھلا ہوا تھا وہ گھر میں ہوں یا باہر سفر میں ہوں یا حضر میں، حالت امن میں ہوں یا جنگ میں، الغرض زندگی کے تمام نشیب و فراز میں فرامین رسول کا گلستان پر بہار ان کے سامنے لہلہاتا رہتا تھا اور اسی کے سائے انہیں روحانی اور جسمانی سکون حاصل ہوتا تھا۔ یہی ان کا مقصد حیات اور سرمایہ زندگی تھا۔ وہ جس ملک میں گئے حدیث رسول اپنے ساتھ لے کر گئے۔ برصغیر میں آئے تو یہ انمول خزانہ بھی ساتھ لے کر آئے۔ 
کاروان اہلحدیث:

برصغیر میں اسلام کے یہ اولین نقوش ۵۱ھ میں اس خطہ ارضی پر ابھرے اور پھر تاریخ کے ایک خاص تسلسل کے ساتھ پوری تیزی سے لمحہ بہ لمحہ ابھرتے اور نمایاں ہوتے چلے گئے۔ یہ اولین نقوش و آثار اس پر عظمت کارواں کے ہیں جنہیں اصحاب حدیث اور ”اہلحدیث“ کے عظیم الشان لقب سے پکارا جاتا ہے۔ یہی وہ پہلا کارواں تھا جو نبی اکرم eکے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے صرف چار سال بعد برصغیر میں وارد ہوا۔ دوسرا کارواں حدیث تابعین کا، تیسرا محمد بن قاسم اور ان کے رفقائے عالی قدر کا اور چوتھا کارواں تبع تابعین کا تھا۔ 
یہ پاکباز لوگ جہاں قدم رکھتے گئے حدیث رسول ان کے ہمرکاب رہی یہی ان کی زندگی کا حاصل یہی ان کا اوڑھنا بچھونا اسی کے احکام ان کے شب و روز کا معمول تھا اور یہی ان کا مقصد زیست اور یہی ان کا طرہ امتیاز تھا۔ یہ چار جلیل القدر کارواں جنہوں نے اپنے دور میں برصغیر کے مختلف علاقوں میں مساعی جمیلہ سر انجام دیں۔ یہی وہ ذی مرتبت حضرات ہیں جنہوں نے یہاں پہلے قال اللہ وقال الرسول مسرت انگیز اور بہجت افزا صدائیں بلند کیں۔ 

ایک اشکال اور اس کا جواب:

بعض حضرات کہتے ہیں کہ برصغیر میں سب سے پہلے حنفی مسلک آیا، اہلحدیث کی عمر اس ملک میں صرف ڈیڑھ دو سو سال ہے۔ یہ بالکل بے وزن اور حقیقت کے خلاف بات ہے اور ان لوگوں کی ذہنی اختراع ہے جو برصغیر کی اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور سے واقفیت نہیں رکھتے یا اس کا اظہار نہیں کرنا چاہتے بلکہ انہوں نے اپنی اس خواہش کا نام تاریخ رکھ لیا ہے۔ 
تاریخی واقعات بیان کرنے کیلئے تاریخ کو سمجھنے اور اس کے مختلف گوشوں کو فہم کی گرفت میں لانے کی ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ پچیس جانباز صحابہ کرامؓ جو یہاں آئے تھے وہ حنفی تھے؟ کیا وہ کسی ذی الحرام امام فقہ کے مقلد تھے؟ کیا ان کے بعد ان کے زمانے میں برصغیر تشریف لانے والے ۲۴ بیالیس تابعین کسی لائق صد احترام شخصیت کے حلقہ تقلید سے وابستہ تھے؟ ہر گز نہیں! وہ براہ راست نبی اکرمe کی احادیث مبارکہ پر عمل پیرا تھے اور آپ کے فرامین اقدس پر عامل اور ان کے اولین مبلغ تھے اور اسی متاع گراں بہا کی رفاقت میں انہوں نے اس نواح کا رخ فرمایا۔ ان کا مرکز عمل اور نقطہ نظر صرف قرآن و حدیث تھے۔ اس کے علاوہ کوئی بات کبھی بھی ان کے حاشیہ خیال میں نہیں آئی۔ 
یہ وہ دور ہے جب فقہی مسالک کا کہیں نام و نشان نہ تھا اور نہ ہی کسی قابل تکریم امام فقہ کا کوئی وجود تھا۔ صحابہ کرامؓ کا پہلا کارواں برصغیر میں ۵۱ھ میں آیا حضرت امام ابوحنیفہؒ اس سے ۵۶ سال بعد ۰۸ ھ میں پیدا ہوئے۔ ۰۵۱ھ میں انہوں نے رخت سفر باندھا۔ امام مالکؒ ۳۹ھ میں پیدا ہوئے اور ۹۷۱ھ میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ امام شافعیؒ ۰۵۱ میں اس جہاں ہست و بود میں نمودار ہوئے۔ اور ۴۰۲ھ میں یہ آفتاب غروب ہو گیا۔ امام احمد بن حنبلؒ کی ولادت ۴۶۱ھ ہے اور ۱۶۲ھ میں مالک حقیقی سے جا ملے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ صحابہ کرامؓ کے زمانہ اقدس میں نہ کوئی حنفی تھا نہ کوئی شافعی تھا نہ مالکی نہ ہی حنبلی تھا۔ خالص فرامین پیغمبر اور حدیث رسول کا سکہ چلتا تھا۔ کسی امام فقہ کی تقلید کا ہر گز کوئی تصور نہ تھا جب آئمہ فقہ کی پاکباز ہستیاں دنیا میں موجود ہی نہ تھیں تو تقلید کیسی؟ اور کس کی؟ 
تقلید کے سلسلے ان کے کئی سو سال بعد پیدا ہوئے پہلے صرف قرآن و حدیث اور فقط کتاب و سنت کی بنیاد پر عمل کی دیواریں استوار کی جاتی تھیں اور اسی پر اسلام کا قصہ رفیع الشان قائم تھا اور اسی کا نام اہلحدیث ہے اور اسی کو ماننے اور حرز جان بنانے والے لوگ سب سے پہلے وارد برصغیر ہوئے، جنہیں رسول اللہ e کے صحابہؓ کے پراعزاز لقب سے پکارا جاتا ہے۔ اور جن کے بارے میں قرآن ناطق ہے: ”رضی اللہ عنہم ورضواعنہ“ اللہ تعالیٰ کی خوشنودیاں ان کے حصہ میں آئیں اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ 
کیا اہلحدیث نیا مذہب ہے؟

جو حضرات گرامی قدر اہلحدیث کو برصغیر میں نیا مذہب قرار دیتے ہیں۔ ہم نہایت ادب و احترام سے ان کی خدمت میں عرض کریں گے کہ اگر اس خطہ ارضی میں رسول اکرمe کی حدیت نئی ہے تو یہ مذہب بھی نیا ہے اگر آپ کی حدیث پاک کا وجود ۴۱ سو سال پہلے سے ہے تو اہلحدیث کا وجود بھی چودہ سو سال سے ہے۔ اور اسی کا نام قدامت اہلحدیث ہے۔ تاریخی حقائق ہمیں بتاتے ہیں اور واقعات اس کی شہادت دیتے ہیں کہ مسلک اہلحدیث اصل دین اور اسلام کی صحیح ترین تعبیر ہے۔ جو صحابہ کرامؓ کی محنت و کاوش سے برصغیر میں آیا اور یہاں کے لوگ اس سے آشنا ہوئے۔ اس کے علاوہ باقی سب فقہی مذاہب یا مسالک ہیں جو بہت بعد میں عالم وجود میں آئے۔ اس وقت حنفیت، مالکیت، شافعیت اور حنبلیت کا تصور تک نہ تھا۔ 
امام ابن تیمیہ کی شہادت:

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ رقم فرماتے ہیں کہ اہل حدیث کوئی نیا مذہب نہیں بلکہ آئمہ اربعہ سے پہلے کا ہے اور صحابہ کرامؓ اسی کے مطابق عمل کرتے تھے۔ امام موصوف اس ضمن میں رقم طراز ہیں: ”اہل سنت کا یہ معروف مذہب ہے جو امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کی ولادت باسعادت سے بہت پہلے کا ہے۔ اور یہی مذہب صحابہ کرامؓ کا ہے جس کی تعلیم انہوں نے نبی اکرمe سے حاصل کی جو لوگ اس کے خلاف دوسری راہ اپنائیں گے ان کا شمار اہل بدعت میں ہو گا۔“ (منہاج السنة) 
اہل حدیث کے اوصاف بیان کرتے ہوئے امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں: یہ لوگ ہر رسول اور اللہ کی طرف سے نازل کردہ تمام کتب پر ایمان رکھتے ہیں یہ اللہ کے پیغمبروں میں سے کسی کے درمیان فرق کرتے ہیں اور نہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو دین میں تفرقہ ڈالتے ہیں۔ (نقض المنطق) 
امام صاحب اپنی اسی تصنیف میں اہل حدیث کے بارے میں امام اسماعیل بن عبدالرحمن صابونیؒ کا یہ قول نقل کرتے ہیں: ”اہل حدیث کا شیوہ یہ ہے کہ وہ کتاب و سنت سے تمسک کرتے ہیں۔ اللہ کی وہی صفات بیان کرتے ہیں جو اس نے خود اپنی کتاب قرآن مجید میں بیان فرمائی ہیں۔ اور جن کا ذکر اس کے رسول نے کیا ہے جو احادیث عادل و ثقہ راویوں سے مروی ہیں وہ اس کی صفات کو اس کی مخلوقات کی صفات سے تشبیہ نہیں دیتے نہ ان کی کیفیات بیان کرتے ہیں اور نہ ہی وہ معتزلہ وجہمیہ کی طرح کلام میں تحریف کرتے ہیں۔ 
اہل حدیث کا منہج:

مسلک اہلحدیث کے اصول و ضوابط اور فروع و اصول قرآن و سنت کے قصر رفیع پر استوار ہیں۔ یہی ان کے حاملین کی روح کی غذا اور یہی ان کے قلب و ضمیر کی صدا ہے۔ زمانہ ہزاروں لاکھوں کروٹیں لے چکا ہے اور ہر صبح نئے سے نئے انقلاب کو اپنے دامن پرُ رونق میں لپیٹ کر لباس شب زیب تن کرتی ہے لیکن قرآن و سنت کے احکام و اوامر اور قوائد و قوانین اپنی جگہ اٹل ہیں۔ ان کے رنگ و روغن میں وہی سج دھج ہے جو آج سے چودہ سو سال پہلے اس کا طرہ امتیاز تھی۔ اس کے حسن و جمال میں وہی نکھار ہے وہی رعنائی وہ زیبائی وہی دلآویزی ہے جو دور نزول میں اس کے ساتھ مختص تھی۔ زمانہ جس نہج پر چل رہا ہے اور یہ عالم رنگ و بو ترقی کی جن منازل پر گامزن ہےں۔ اس کی روشنی میں غور کیا جائے تو وہ وقت دور نہیں جب پوری دنیا صرف قرآن و سنت کو ہی مرکز اطاعت قرار دینے لگے گی اور نبض عالم کی دھڑکنیں اس میں مرکوز ہو کر رہ جائیں گی۔ (ان شاءاللہ) 
اہل حدیث کی وسعت قلبی:

یہاں ہم یہ حقیقت بھی واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اہل حدیث کے قلب و ذہن کا کوئی گوشہ فقہ اور آئمہ فقہ کے متعلق قطعاً غبار آلود نہیں۔ وہ آئمہ کرام کی وسعت پذیر مساعی اور گرانقدر خدمات کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو انہوں نے مختلف حالات و ظروف کی روشنی میں اپنے انداز میں سر انجام دی ہیں۔ وہ حضرت امام ابوحنیفہ a کی فراست فقہی، فطانت علمی اور اجتہادی صلاحیتوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اعتراف کرتے ہیں۔ لیکن جو حضرات امام ابوحنیفہؒ کی وراثت کے مدعی بنے بیٹھے ہیں وہ ان کے علم و فضل کو ایک ہی گوشے اور ایک ہی مسلک میں محدود کر رہے ہیں یہ امام ابوحنیفہؒ کی توقیر نہیں بلکہ ان کے فیض رسانیوں کی حد بندی ہے۔ ہم امام شافعیؒ کی ان فقید المثال علمی و فقہی خدمات کو بھی کھلے دل سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کی بدولت پہلی بار استناد حدیث کے متعدد گوشے نکھر کر سامنے آئے۔ اور فکر و نظر کی طراوت کا باعث بنے۔ 
اس طرح اہلحدیث کے نزدیک امام مالکؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کی خدمات جلیلہ اور مساعی جمیلہ بھی از حد لائق تعریف ہیں کہ انہوں نے حفاظت اور صیانت سنت رسول کی ذمہ داریوں کو بھی بطریق احسن پورا کیا۔ اور تعلیم و تدریس کی مسانید کو بھی زینت بخشی یہ تمام حضرات صرف کتاب و سنت پر عمل پیرا تھے اور ان کا فرمان ہے کہ اگر ہماری کوئی بات قرآن و حدیث کے ساتھ مطابقت نہ رکھتی ہو تو اسے بالکل نہ مانو۔ 
یہی اہل حدیث کا عقیدہ بھی ہے یعنی دور صحابہؓ سے لے کر اب تک اہلحدیث کا یہی طرز عمل اور یہی طریق ہے کہ براہ راست قرآن و حدیث کو مانو کیونکہ یہی اسلام کا اصل ماخذ ہے اور وہ اس کیلئے ہر آن کوشاں ہیں۔ گزشتہ دنوں امام کعبہ سماحة الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس (حفظہ اللہ) پاکستان کے دورے پر تشریف لائے مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کی طرف سے فقید المثال علماءکنونشن کا انعقاد کیا گیا۔ علماءکنونشن سے خطاب کرتے ہوئے امام کعبہ نے کہا کہ تمام تر فرقے اور مسالک کو اگر کوئی چیز متحد کر سکتی ہے تو وہ صرف اور صرف کتاب و سنت ہے۔ مسلمان قرآن و سنت کا اور سلف صالحین کا منہج اختیار کر کے ہر قسم کے چیلنج سے نمٹ سکتے ہیں۔ انہوں نے دلائل کی روشنی میں اہل حدیث کو فرقہ ناجیہ (کامیاب جماعت) قرار دیا۔ 
راقم السطور کہتا ہے کہ بشری کمزوریوں کی بناءپر ان میں بہت سی خامیاں دیکھی جا سکتی ہیں لیکن جہاں تک ان کے مسلک اور ان کی دعوت کا تعلق ہے اس کے ڈانڈے صحابہؓ کی جماعت سے ملتے ہیں۔ 
احب الصالحین ولست منھم
لعل اللہ یرزقنی صلاحا
وصلی اللہ تعالیٰ علی نبینا محمد وعلیٰ اٰلہ وصحبہ اجمعین۔

نماز میں صفیں درست کرنے کا بیان

 

نماز میں صفیں درست کرنے کا بیان
صفیں درست کرنا فرض ہے:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اپنی صفیں درست کرو، بلاشبہ صفیں درست کرنا نماز کا حصہ ہے"
(بخاری، کتاب الاذان، باب اقامت الصف من تمام الصلاۃ: 723، مسلم: 433)

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"صفیں سیدھی کرو، ایک دوسرے  کے ساتھ کندھے برابر کرو، خلا کو پر کرو، (صفیں درست کروانے والو9 اپنے بھائیوں کے لیے نرم ہوجاؤ اور شیطان کے لیے (بیچ میں) خالی جگہ مت چھوڑو۔"
(ابوداؤد، کتاب الصلاۃ، باب تسویۃالصفوف: 666- صحیح)

صفیں درست کرنے کی فضیلت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"صفیں ملانے (یعنی خلا کو پر کرنے) والوں کو اللہ (اپنے ساتھ) ملالیتا ہے اور صفیں کاٹنے والوں کو اللہ (اپنے سے) کاٹ دیتا ہے-"
(ابو داؤد، کتاب الصلاۃ، باب تسویۃ الصفوف:666، نسائی:820- صحیح)

 صفیں درست نہ کرنے کی سزا:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" تم ضرور بضرور اپنی صفیں درست کرلو، ورنا اللہ تعالی تمہارے درمیان اختلاف پیدا کردے گا۔"
(بخاری، کتاب الاذان، باب تسویۃ الصفوف عند الاقامۃ و بعدھا: 717- مسلم:436)

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" اپنی صفوں میں خوب مل کر کھڑے ہوا کرو، انھیں قریب قریب بناؤ اور گردنوں کو بھی برابر رکھو، اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بلاشبہ میں شیطان کو دیکھتا ہوں کہ وہ بکری کے بچے کی طرح صفوں کی خالی جگہوں میں گھس جاتا ہے (اور نماز خراب کرتا ہے)۔"
(ابوداؤد، کتاب الصلاۃ، باب تسویۃ الصفوف: 667، نسائی:816- صحیح)

صفیں درست کرنے کا طریقہ:

سیدنا انس رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں:
"جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صفیں درست کرنے کا حکم دیتے  تو ہم اس طرح کھڑے ہوتے تھے کہ ہم نمازی اپنا پاؤں اور کندھے ساتھ والے کے ساتھ پاؤں اور کندھے کے ساتھ چپکا دیتا تھا۔"
(صحیح بخاری، کتاب الاذان، باب الزاق المنکب بالمنکب۔۔۔۔۔۔الخ:725)

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"پاؤں کو سیدھا کرنا اور ہاتھ کو ہاتھ پر رکھنا سنت میں سے ہے-"
(ابوداؤد، کتاب الصلواۃ، باب مضع الیمنی علی الیسری فی الصلواۃ: 754- حسن)
تقبل قنا و منکم

Saturday, 5 November 2011

***** نفلی روزوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حُکم اور ہفتہ کا روزہ *****

***** نفلی روزوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حُکم اور ہفتہ کا روزہ *****


نفلی روزوں کے معاملے میں ایک بہت ہی اہم بات جو ہمیں اچھی طرح سمجھنا چاہیئے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حُکم ہے لاتصوموا یومَ السبت اِلَّا فیمَا افتُرض َ علیکُم فاِن لم یَجِدَ احدکُم اِلَّا عُودَ عِنَبٍ او لَحَاءَ شجرۃٍ فَلیَمُصّہُ )( ہفتے کے دِن کا روزہ مت رکھو ، سوائے فرض روزے کے ، اگر تُم سے کِسی کو انگور کی چھال یا درخت کی جڑ کے عِلاوہ اور کُچھ نہ ملے تو اسی کو چُوس لو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِن الفاظ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہفتے کے دِن کے روزے کی ممانعت کِس قدر شدید ہے کہ اگر درخت کی چھال یا جڑ چُوس کر ہی افطار کرنا پڑے تو بھی حالتِ افطار میں رہنا چاہئیے ، روزہ نہیں رکھنا چاہیئے ، سوائے فرض یعنی رمضان کے روزں کے ۔ 

یہ حدیث عبداللہ بن بُسر ، الصَّمَّاءُ بنت بُسر ، بُسر بن ابی بُسر المازنی ، اور ابی اُمامہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے مُندرجہ ذیل کتابوں میں روایت کی گئی ہے ، 
صحیح ابن خزیمہ/ حدیث /٢١٦٤ ، مُستدرک الحاکم/١٥٩٢ ، اِمام الحاکم نے کہا کہ یہ حدیث بُخاری کی شرط کے مُطابق صحیح ہے ، سُنن ابو داؤد/حدیث /٢٤١٨ ، سُنن ابن ماجہ/حدیث /١٧٦٦ ، سُنن الترمذی/حدیث /٧٤٤ ، مُسند احمد ٦/ ٣٦٨ ، سُنن الدارمی/حدیث/١٧٤٩ ، سُنن البیہقی/٤/ ٣٠٢ ، مُسند عبد بن حمید/حدیث/٥٠٧ ، اِمام ابو نعیم نے '' الحُلیۃ الاولیاء '' میں ، اِمام خطیب بُغدادی نے '' تاریخ '' میں اِمام الضَّیاء المقدسی نے '' الاحادیث المُختارۃ '' میں ، اِمام الدَّولابی نے '' الکُنی '' میں ، اِمام ابنِ عساکر نے اپنی '' تاریخ '' میں اِمام ابو زرعۃ الدمشقی نے اپنی '' تاریخ '' میں ، اِمام ابن الاثیر نے '' اُسد الغابہ '' میں ، اِمام البغوی نے '' شرح السُنّۃ '' میں روایت کیا ، اور اِس کے عِلاوہ بھی یہ حدیث بہت سی دیگر کتابوں میں مُختلف اسناد کے ساتھ موجود ہے شیخ علی بن حسن نے اپنی کتاب '' زَہر الرَّوض فی حُکم صِیام یَوم السَّبت فی غیر الفَرض '' میں اِس کی مُکمل تحقیق اور تخریج کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس حُکم کو ٹالنے یا بدلنے یا خاص اور عام کرنے کی کوئی دلیل نہیں .

***** بھائیوں ، بہنوں ، مندرجہ بالا صحیح حدیث کی روشنی میں کوئی بھی نفلی روزہ ہفتے کے دِن رکھنا جائز نہیں ، آپ صاحبان شوال کے روزے رکھتے ہوئے اور کوئی بھی نفلی روزہ رکھتے ہوئے اِس بات کو کبھی نہ بھولئیے گا اور اپنے ساتھ ساتھ اپنے دوسرے مُسلمان بھائی بہنوں کو بھی بتائیے تا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حُکم کی نافرمانی کا شکار نہ ہوں ۔