Friday, 28 January 2011

بارہ ربیع الأول اور عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم

12 ربیع الأول اور عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم

اسلامی بھائیو! یہ ربیع الاول کا مہینہ ہے ،مہینوں سے متعلق اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

(إن عدة الشہور عند اللہ اثنا عشر شہراًفی کتاب اللہ یوم خلق السموات والأرض منہا أربعة حرم)
" مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ کی ہے ،اسی دن سے جب سے آسمان وزمین کو اس نے پیدا کیا ہے ان میں سے چار حرمت وادب کے ہیں "
 ( سورئہ توبہ :٣٦) 

 ابتداء آفرینش سے ہی اللہ تعالی نے بارہ مہینے مقرر فرمائے ہیں جن میں چار حرمت والے ہیں اور وہ یہ ہیں: رجب، ذو القعدة ،ذوالحجة اور محرم.
بعض مہینے کی فضیلت اور اہمیت کتاب وسنت سے ثابت ہے جیسے ماہِ رمضان ،ذوالحجة اور محرم وغیرہ ،البتہ ربیع الاول مہینہ کی کوئی فضیلت نہیں سوائے اس کے کہ اس مہینہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے ہیں.اورتاریخ پیدائش کے بارے میں مؤرخین کا اختلاف ہے ،بعض تاریخ نگاروں نے ١٢ربیع الاول ذکر کیا ہے تو بعض نے ٩ربیع الاول بتایا ہے ،مولانا صفی الرحمن مبارکپوری نے اپنی کتاب "الرحیق المختوم "میں٩ربیع الاول  ١   عام الفیل یوم دو شنبہ کو راجح قرار دیا ہے.علامہ سلیمان سلمان منصور پوری اور محمود پاشا فلکی کی بھی یہی تحقیق ہے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٩ربیع الاول کو پیدا ہوئے ہیں .

بہر حال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش ٩ربیع الاول ہو یا ١٢ ،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا نبی  ۖ کی ولادت کے دن ہم محفلیں منعقد کرسکتے ہیں ؟خوشیاں منا سکتے ہیں، کھانے پینے کے اچھے پکوان بنا سکتے ہیں،عطر اور خوشبوسے معطر زرق برق نئے لباس وپوشاک پہن سکتے ہیں،قرآن مقدس کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کر سکتے ہیں،کثرت
سے درود شریف پڑھ سکتے ہیں، نعت خوانی کرسکتے ہیں،علماء کرام کو بلواکر ان سے تقریریں کرواسکتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کو پڑھ کر لوگوں کو سنا سکتے ہیں؟تو ان سب کا جواب ایک عام مسلمان یہی دے گا کہ ان میں حرج کیا ہے ؟مگر کیا یہ جواب صحیح ہے ؟اس بات کو جاننے کے لئے آپ مندرجہ ذیل بنیادی باتیں غور سے پڑھئے:
١۔ہم تمام مسلمانوں کی دنیاوی فلاح وبہبود کے لئے اور اخروی کامیابی وکامرانی کے لئے صرف دو بنیادی چیزیں ہیں ،ایک اللہ کی کتاب قرآن کریم اور دوسری نبی اکرم  ۖ  کی سنت مبارکہ،جیسا کہ آپ ۖکا ارشاد گرامی ہے:

" ترکت فیکم أمرین لن تضلوا مامسکتم بہما :کتاب اللہ وسنة نبیہ"
"تمہارے لئے دو چیزیں چھوڑ کے جارہا ہوں جب تک تم ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رہو گے ہرگز گمراہ نہ ہوگے ایک اللہ کی کتاب اوردوسری اس کے نبی کی سنت"
(موطا امام مالک،کتاب القدرباب:١حدیث:٣)

معلوم ہوا کہ ایک مسلمان کی رشد وہدایت کتاب وسنت کی اتباع میں مضمر ہے ،اور اسی کا نام اسلام ہے .
٢۔اسلام ایک مکمل دین ہے یا نہیں؟اگر مکمل ہے تو اس میں کمی وبیشی کی کوئی گنجائش ہے یانہیں ؟ تو اس کا جواب ہر مسلمان یہی دے گا کہ اسلام ایک مکمل دین ہے اس میں ذرہ برابرکمی وبیشی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے:
 (الیوم اکملت لکم دینکم ،واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا)
 "آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھر پور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا "
(سورئہ مائدہ:٣)

مکمل کی مثال: مکمل اور لبالب ایک گلاس پانی اس وقت ہوگا جب اس کے اندر ایک بوند اور ایک قطرہ کی بھی گنجائش باقی نہ رہ جائے .اسی طرح ٩ریال ننانوے ہللہ کو مکمل دس ریال نہیں کہ سکتے ہیں جب تک کہ٩ریال اور ١٠٠ہللہ مکمل نہ ہوں .
٣۔ نیکی اور اجروثواب کے ہر کام کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتادیا ہے یا اس میں سے کچھ اپنی امت پر چھوڑ دیا ہے ؟اس سوال کا جواب جاننے کے لئے نبی ۖ کا یہ ارشاد گرامی پڑھئے ،آپۖ نے فر مایا:

"نہ لم یکن نبی قبلی لا کان حقا علیہ أن یدل أمتہ علی خیر ما یعلمہ لہم،وینذرہم شرما یعلمہ لہم"
"مجھ سے پہلے جو بھی نبی گزرا ہے اس پر یہ واجب تھا کہ اپنی امت کو ہر وہ بھلائی بتادے جو وہ جانتا ہے اور انہیں ہر اس برائی سے آگاہ کر دے جو وہ جانتا ہے "
(صحیح مسلم کتاب المارةباب:١٠ حدیث:٤٦)

نیز آپ ۖنے ارشاد فرمایا:
"ما ترکت شیئا یقربکم لی اللہ لا وقد أمرتکم بہ،وما ترکت شیئا یبعدکم عن اللہ لا وقد نہیتکم عنہ"
"میں نے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی ہے جس سے تم اللہ کی قربت حاصل کرو مگر ا س کا میں نے تم کو حکم دے دیا ہے ،اور کوئی ایسی چیز. نہیں چھوڑی کہ جس کے کرنے سے تم اللہ سے دور ہوجاؤ مگر میں نے اس سے تم کو روک دیا ہے "
(رواہ الطبرانی بسند صحیح)

ایک تیسری حدیث میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
"لقد ترکنا محمد ۖ وما یحرک طائر جناحیہ فی السماء الا اذکرنا منہ علما"
 "حضرت محمد ۖ نے ہمیں اس حال میں چھوڑا ہے کہ اگر کوئی پرندہ بھی آسمان میں اڑ رہا ہے تو اس کا بھی علم(شریعت میں اس پرندے سے متعلق احکام ومسائل کا علم)ہمیں دیا ہے "
(مسند احمد بن حنبل ج٥/١٥٣حدیث:٢١٣٩٩)

مذکورہ حدیثوں سے معلوم ہوا کہ ہر نیکی اور بھلائی کا کام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو بتادیا ہے اسی طرح ہر منکر اور برے کام سے بھی اپنی امت کو آگاہ کر دیا ہے. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ "عید میلاد النبی منانا"یا وہ تمام اعمال جو آج ہمارے مسلمانوں کے ایک مخصوص طبقہ میں ١٢ ربیع الاول کے دن انجام دیئے جاتے ہیں وہ سب نیکی اور بھلائی کے کام ہیں یا نہیں ؟اگر یہ تمام افعال اجروثواب اور نیکی کے نہیں ہیں تو پھراس کا کرنا عبث اور بیکار ہے ، اور اگر یہ نیکی اور بھلائی کے کام ہیں تو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اعمال کو ضرور بتایا ہوگامگر افسوس کہ جب ہم احادیث رسول ۖکی طرف رجوع کرتے ہیں توان اعمال کا کہیں سراغ تک نہیں لگتاہے ،بلکہ خیرون القرون تک اس کا کوئی اتاپتہ نہیں ملتاہے .اس لئے میں مناسب سمجھتاہوںکہ خود "عید میلاد النبی "کی ابتداء اور اس کی تاریخ پیدائش قارئین کرام کے سامنے بیان کردوں تاکہ اس کی حقیقت مزید کھل کر واضح ہوجائے .

علامہ محمد بخیت الحنفی مفتی مصر اپنی کتاب "أحسن الکلام فیما یتعلق بالسنة والبدعة من الأحکام" کے صفحہ ٤٤۔٤٥ پر لکھتے ہیں کہ:
ن أول من أحدثہابالقاہرة الخلفاء الفاطمیون وأولہم المعز لدین اللہ توجہ من المغرب لی مصر فی شوال سنة ٣٦١ھ فوصل لی ثغر اسکندریة فی شعبان سنة ٣٦٢ھ ودخل القاہرة لسبع خلون من شہر رمضان فی تلک السنة فابتدعوا ستة موالد :المولد النبوی ۔ مولد امیر المؤمنین علی بن أبی طالب۔مولد السیدة فاطمة الزہراء ۔ومولد الحسن ۔ ومولد الحسین ۔ومولد الخلیفة الحاضر ،وبقیت ہذہ  الموالد علی رسومہا لی أن أبطلہا الأفضل بن أمیر الجیوش....الخ"
سب سے پہلے عید میلاد قاہرہ میں فاطمی خلیفوں نے ایجاد کیا ان میں سب سے پہلے المعز لدین اللہ ہے جو دیار مغرب سے مصر کی طرف شوال ٣٦١ھ میں متوجہ ہوا اور شعبان ٣٦٢ھ میں اسکندریہ کی سرحد تک پہونچ گیا اور قاہرہ میں اسی سال٧ رمضان المبارک کو داخل ہوا تو ان لوگوں نے ٦موالید ایجاد کیں :(١) عید میلاد النبی ۖ(٢)عید میلا دعلی رضی اللہ عنہ(٣) عید میلاد حسن رضی اللہ عنہ(٤)عید میلاد حسین رضی اللہ عنہ(٥)عید میلاد فاطمہ رضی اللہ عنہا (٦)موجودہ خلیفہ کا عید میلاد۔ یہ چھ موالید اپنی رسم ورواج کے ساتھ جاری رہیں حتی کہ افضل بن امیر الجیوش نے آکر انہیں ختم کیا"پھر دوبارہ ان موالید کو عمر بن محمد نے "موصل"میں ایجاد کیا اور اس کی اتباع اربل کا بادشاہ مظفر الدین کوکبوری نے کیا ،مزے کی بات یہ ہے کہ ان رافضی شیعوں نے چھ میلادیں ایجاد کیں مگر مسلمانوں کے ایک بڑے طبقہ نے روافض کے پانچ میلادوں کو چھوڑ کر ایک میلاد کو اختیار کرکے اسے محبت رسول ۖ کے نام سے جاری رکھا اور پھر "ملا آں باشد کہ چپ نہ شود"کے تحت اس کی دلیلیں بھی ڈھونڈ لیں.

  معلوم ہوا کہ عید میلاد النبی ۖ منانے کی یہ بدعت فاطمی حکمرانوں (رافضی شیعوں)کی چھ میلادوں میں سے ایک ہے جو کہ نبی ۖ کی وفات کے تین سو سال بعدایجاد ہوئی ،اس کو میں نے بدعت اس لئے کہا ہے کہ خیر القرون میں اس کا کہیں وجود نہیں ملتاہے ،خود رسول اللہ ۖ جن کی پیدائش پریہ عید منائی جاتی ہے ان کے اعلان نبوت ورسالت کے بعد ٢٣مرتبہ یہ دن آیا لیکن آپ ۖ  نے کبھی اس کو عید قرار دے کر اس کے لئے خصوصی محفلیں منعقد نہیں کیں اور نہ ہی اپنے صحابہ کرام کو اس کا حکم دیا ،اسی طرح آپۖ کی وفات کے بعد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں دو مرتبہ ١٢ ربیع الاول آیا،عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ١١مرتبہ ١٢ربیع الاول کا دن آیا ،داماد رسولۖ عثمان بن عفان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ١٢ مرتبہ یہ دن آیا ،داماد رسول ۖ علی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں پانچ مرتبہ یہ دن آیا ،خلیفہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے زمانے میں ٢٠دفعہ یہ دن آیا ،آخری صحابی ابو طفیل دوسی رضی اللہ عنہ کی وفات تک سینکڑوں بار ١٢ربیع الاول کا دن آیا مگر صحابہ میں سے کسی ایک صحابی نے اس کو منانے کا اہتمام نہیں کیا.

اسی طرح امام ابو حنیفہ ،امام مالک،امام شافعی،امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے ایام ہائے زندگی میں سینکڑوں بار ١٢ربیع الاول کا یہ دن آیا مگر کسی بھی امام نے اس کوعید میلاد قرار دے کر اس کا اہتمام نہیں کیا ،کیا ان لوگوں کو رسول اللہ ۖ سے محبت نہیں تھی ؟ان کے بعد بڑے بڑے محدثین اور فقہاء گزرے مگر کسی نے اپنی کتابوں میں اس میلاد کا ذکر تک نہیں کیا آخر کیوں؟اس لئے کہ اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں  اگر دین سے تعلق ہوتا تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ائمہ عظام اور محدثین کرام رحمہم اللہ ضرور اپنی کتابوں میں اس کا تذکرہ کرتے اور ہر سال اس کا اہتمام کرتے.
اب اگر کوئی شخص اجر وثواب کے لئےیا دین سمجھ کر کوئی ایسا کام کرے جس کام کو نہ نبی ۖنے کیانہ خلفاء راشدین نے کیا ،نہ صحابہ کرام میں سے کسی نے کیا ،نہ تابعین نے نہ تبع تابعین نے ،نہ ائمہ عظام نے اور نہ ہی محدثین کرام نے کیاہے، تو ایسے عمل سے اس مسلمان کو ثواب تو نہیں مل سکتا البتہ گناہ ضرور ملے گا کیونکہ اللہ تعالی ارشاد  فرماتا ہے:
 (ام لہم شرکاء شرعوا لہم من الدین ما لم یأذن بہ اللہ ، ولولا کلمة الفصل لقض بینہم ، وان الظالمین لہم 'عذاب الیم)
"کیا ان لوگوں نے ایسے (اللہ کے )شریک (مقرر کر رکھے) ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کر دیئے ہیں جو اللہ کے فر مائے ہوئے نہیں ہیں ،اگر فیصلي اللہ عليہ و سلم  کے دن کا وعدہ نہ ہوتا تو (ابھی ہی) ان میں فیصلہ کردیا جاتا،یقینا(ان)ظالموں کے لئے ہی دردناک عذاب ہے "
(سورۃشوری:٢١)

 نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"من عمل عملا لیس علیہ أمرنا فہورد"
"جس نے کار خیر سمجھ کر کوئی کام کیااور اس کا م کامیں نے حکم نہیں دیا تو وہ عمل مردود ہے ".
(صحیح مسلم کتاب الاقضیة باب :٨ حدیث نمبر :١٧١٨)

ایک مسلمان کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کی اتباع ہی کافی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"فعلیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المہدیین ، تمسکوا بہا وعضوا علیہا بالنواجذ ویاکم ومحدثات الأمور ، فن کل محدثة بدعة ، وکل بدعة ضلالة "وفی روایة النسائی "وکل ضلالة فی النار"
"مسلمانو!تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کے طریقے ہی کو اختیار کرنا اور اسے مضبوطی سے تھامے رکھنا اور دین میں اضافہ شدہ چیزوں سے اپنے کو بچاکررکھنا اس لئے کہ دین میں نیا کام ( چاہے وہ بظاہر کیسا ہی ہو) بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور نسائی کی ایک روایت میں ہے کہ ہر گمراہی جہنم تک لے جانے والی ہے "
( ابو داود کتاب السنة باب :٥حدیث : ٤٦٠٧ اور نسائی کتاب الخطبةباب :٢٢حدیث :١٥٧٦)

بدعت کی تعریف کرتے ہوئے جناب احمد یار خان نعیمی اپنی مشہور کتاب"جاء الحق "کے صفحہ ٢٠٤میں لکھتے ہیں:
"وہ اعتقاد یا وہ اعمال جو کہ حضور علیہ الصلاة والسلام کے زمانہ حیات ظاہری میں نہ ہوں بعد میں ایجاد ہوئے " اور یہ میں ثابت کرچکا ہوں کہ عید میلاد النبی ۖ منانے کاخیر القرون تک کوئی ثبوت نہیں ملتا.

اور عقلی طور پر بھی عید میلاد النبی منا ناجائز نہیں کیوں کہ نبی ۖکی تاریخ وفات بھی ١٢ربیع الاول ہی ہے اور جب انسان کی زندگی میں ایک ہی دن خوشی اور غم جمع ہو جائیں تو غم کو ترجیح حاصل ہوتی ہے مثلااگر کسی کے یہاںشادی ہو اور اسی تاریخ کو اسکے گھر میں کسی فردکا انتقال ہوجائے تو پہلے تجہیز وتکفین ہوگی پھر شادی.


چند شبہات اور ان کا ازالہ


(١)  اگر عید میلاد النبی ۖ منانا غلط اور بدعت ہے تو پھر ہندوستان ،پاکستان اوربنگلادیش میں لاکھوں مسلمان کیوں مناتے ہیں ؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ اکثریت کا  اسلام میں اعتبار نہیں بلکہ حق وباطل کا معیار اور کسوٹی کتاب وسنت ہے پس اگرہزاروں آدمی کتاب وسنت کے خلاف کر رہے ہوں اور صرف ایک آدمی اللہ کی کتاب اور نبی ۖ کی سنت کے مطابق عمل کررہا ہو تو وہ ایک آدمی صحیح اور حق پر ہے .دیکھئے  اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام سے متعلق فرمایا:

(ان براہیم کان أمة قانتا للہ حنیفا ولم یک من المشرکین)"
 بیشک ابراہیم علیہ السلام ایک امت اور اللہ تعالی کے فرمانبردار اور ایک طرفہ مخلص تھے ، وہ مشرکوں میں سے نہ تھے"
 (سورئہ نحل :١٢٠)

اسی طرح یہود ونصاری کا اپنی اکثریت کی دلیل پیش کرنے کی تردید کرتے ہوئے اللہ تعالی نے اپنے نبی ۖ کو خطا ب کرکے فرمایا:
( ون تطع أکثر من فی الأرض یضلوک عن سبیل اللہ )
"اور دنیا میں زیادہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کا ماننے لگیں تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے بے راہ کردیں"
(سورۃ انعام :١١٦)

ایک دوسر ے مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے:
(وما أکثر الناس ولو حرصت بمؤمنین)
"آپ کی خواہش کے باوجود اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں"
(سورۃ یوسف:١٠٣)

(وما یؤمن أکثرہم باللہ لا وہم مشرکون )
"ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں"
(سورۃ یوسف:١٠٦)

معلوم یہ ہوا کہ حق وباطل کا معیار ،دلائل وبراہین ہیں،لوگوں کی اکثریت واقلیت نہیں،اسلئے یہ کہنا کہ" اتنے سارے لوگ عید میلاد النبیۖ مناتے ہیں یہ کیسے غلط ہوسکتا ہے؟ " درست نہیں.

(٢)  حق وباطل کا معیار جب کتاب وسنت ہے تو ہمارے ملکوں میں اتنے بڑے بڑے علماء ہیں کیا وہ قرآن اور حدیث نہیں پڑھتے ہیں؟کیا ان کے پاس کتاب وسنت کا علم نہیں ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یقینا ہمارے ملکوں میں بڑے بڑے علماء ہیں جو قرآن وحدیث پڑھتے اورپڑھاتے ہیں مگر وہ انبیاء کی طرح معصوم عن الخطاء نہیں ہیں 
ان سے بھی قرآن وحدیث کے سمجھنے میں غلطی ہو سکتی ہے اسی لئے تو امام مالک نے مسجد نبوی میں حدیث کا درس دیتے وقت نبی اکرم ۖکی قبر کی طرف اشارہ کرکے فرمایا:
"کہ دنیا میں بڑے سے بڑے عالم کی بات قبول بھی کی جا سکتی ہے اور رد بھی سوائے اس قبر والے کے ".

(٣)  ہمارے ملکوں میں علماء کرام کہتے ہیں کہ عید میلاد النبی ۖمنانا بدعت نہیں بلکہ مستحب ہے اور اس عمل کے لئے قرآن وحدیث سے بے شماردلائل پیش کرتے ہیں، اور جب حق وباطل کا معیار دلائل اور براہین ہی ہیں تو پھر وہی لوگ حق پر ہیں کیونکہ ان کے پاس دلائل ہیں !؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
 (کل حزب بما لدیہم فرحون )
"ہر گروہ جو کچھ اس کے پاس ہے اسی پر خوش ہے "
(سورۃ مؤمنون:٥٣)

آئیے پہلے ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ دلیل کس کو کہا جاتا ہے ؟ دلیل یہ عربی کا لفظ ہے اور "دَلَّ" سے ماخوذ ہے جسکا معنی ہے مرشد یعنی رہنمائی کرنے والا،اب میں یہاںان تمام قرآنی آیات کا ترجمہ جناب احمد رضا صاحب کے ترجمہ وتفسیر سے قارئین کرام کی خدمت میں پیش کرتا ہوں جنہیں میلادی لوگ بطور دلیل پیش کرتے ہیں :

(١)"عیسی بن مریم نے عرض کی اے اللہ اے رب ہمارے ہم پرآسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لئے عید ہو ہمارے اگلے پچھلوں کی"(سورئہ مائدہ:١١٤)
(٢)"اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو "(سورئہ آ ل عمران :١٠٣)
(٣) "اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو "(سورئہ ضحی:١١)
(٤)"بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا "(سورئہ آل عمران :١٦٤)
(٥) "تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسکی رحمت اور اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں "(سورئہ یونس:٥٨)

یہ ہیں میلادیوں کی قرآنی دلیلیں جنہیں وہ چیخ چیخ کر اور گلا پھاڑ پھاڑ کر اپنے بھولے بھالے عوام کو سنا تے ہیں اور اپنا الو سیدھا کرتے ہیں ،قارئین کرام !دل پر ہاتھ رکھ کر کہئے کہ کیا اللہ نے ہم مسلمانوںکو ان آیتوں میں "عید میلاد النبیۖ" منانے کا حکم دیا ہے ؟اور کیا اس نے ہمیں وہ سب چیزیں کرنے کا حکم دیا جو آج ہمارے معاشرے میں عید میلاد النبی کے نام پر ہوتا ہے ؟ یقینا آپ کا جواب نفی میں ہوگا ،تو پھرکہیں کمانے کھانے کیلئے  ان آیتوں کا سہارا تو نہیں لیا جارہا ہے ؟
لاکھوں احادیث رسول میں میلادیوں کو اپنی بات ثابت کرنے کے لئے کوئی دلیل نہ ملی تو اس روایت کو بطور ثبوت انہوں نے پیش کیا:
"اور عروہ نے کہا ثویبہ ابو لہب کی لونڈی تھی ،ابو لہب نے اس کو آزاد کردیا تھا اور اس نے آنحضرتۖ کو دودھ پلایا تھا،جب ابولہب مرگیا تواس کے کسی عزیز نے مرنے کے بعد اس کو خواب میں برے حال میں دیکھا تو پوچھا کیا حال ہے کیا گزری ؟وہ کہنے لگا جب سے میں تم سے جدا ہوا ہوں کبھی آرام نہیں ملامگر ایک ذرا سا پانی ،ابو لہب نے اس گڑھے کی طرف اشارہ کیا جو انگوٹھے اور کلمہ کی انگلی کے بیچ میں ہوتا ہے ،یہ بھی اس وجہ سے کہ میں نے ثویبہ کو آزاد کردیا تھا"
(صحیح بخاری کتاب النکاح باب:٢٠ حدیث :٥١٠١)

اس روایت سے عید میلاد النبی کے لئے استدلال کرنا کئی اعتبار سے غلط ہے:

(١) اس روایت میں محض ایک خواب کا ذکر ہے اور اہل اسلام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ انبیاء ورسل (علیہم السلام) کے خواب کے علاوہ کسی کابھی خواب قابل حجت نہیں اور اس سے کوئی شرعی حکم ثابت نہیں ہوتا .
(٢) امام بخاری نے ضمنی طو رپر اس واقعہ کو ذکر صرف اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کیاہے کہ ثویبہ یہ آپۖکی رضاعی ماں تھی،اسی لئے انہوں نے یہ باب باندھاہے باب وأمہاتکم اللاتی أرضعنکم" اور تمہاری رضاعی ماؤں کا باب.
(٣) اس واقعہ میں اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ ابولہب نے نبی کی پیدائش کی خوشی میں ثویبہ کو آزاد کیا تھا بلکہ تاریخ کی دیگر کتابوں میں یہ وضاحت موجود ہے کہ ابولہب نے ثویبہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ سے ہجرت کرجانے کے بعد آزاد کیا تھا (دیکھئے الطبقات ج/١٠٨۔١٠٩،الاستیعاب ج١/١٢)
(٤) امام بخاری نے اس واقعہ کو عید میلاد النبی کے ثبوت کے لئے ذکر کیا ہے اورنہ ہی شارحین صحیح بخاری میں سے کسی نے اس واقعہ سے میلاد کیلئے استدلال کیا ہے .
(٥)یہ خبر ظاہر قرآن کے خلاف ہے ، ارشاد باری تعالی ہے:

 (وقدمنا الی ما عملوا من عمل فجعلناہ ہباء منثورا)
"اور انہوں نے جو جو اعمال کئے تھے ہم نے ان کی طرف بڑھ کرانہیں پراگندہ ذروں کی طرح کردیا"یعنی کافروں کے عمل قیامت کے دن ذروں کی طرح بے حیثیت ہونگے"
(سورۃ فرقان:٢٣)

(٦)بعض روایت کے مطابق یہ خواب عباس نے دیکھا ہے ،اور ابولہب غزوئہ بدر کے سا ت دن بعد مرگیا،اور عباس غزوہ بدر میں مشرکین قیدیوں میں سے تھے،فدیہ کے بعد وہ مکہ واپس ہوئے اور وہاں انہوںنے اسلام قبول کیا ،قرینہ یہ بتلارہا ہے یہ خواب عباس کے حالت کفر کا ہے اور ایک کافر ومشرک کا خواب قابل اعتبار نہیں۔
 (فتح الباری ج١/١٤٥۔الاصابہ فی تمییز الصحابہ ج٣/٥١١)

(٧)  اگر ما ن بھی لیاجائے کہ ابو لہب نے نبی کی ولادت کے دن اسے آزاد کیا تھا توسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ابولہب نے اپنے بھتیجے محمد بن عبد اللہ کی پیدائش کی خوشی میں لونڈی آزاد کی تھی یا محمد رسول اللہ کی پیدائش پر ؟ظاہر ہے اس نے رسول اللہ کی پیدائش کی خوشی میں اپنی لونڈی ثویبہ کو آزاد نہیں کیا تھا ،ورنہ وہ اسلام دشمنی میں سب کوپیچھے نہ چھوڑتا ،اورآج ہمارے مسلم بھائی قربت الہی کیلئے اس کے اس عمل کو دلیل بناکر خوشی مناتے ہیں ،کیا دونوں میں فرق نہیں ہے ؟
(٨)اگر مان بھی لیا جائے کہ ابو لہب نے یہ عمل اجروثواب اور قربت الہی کیلئے کیا تھا (اور یہ محال ہے )تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ "عید میلاد النبی "مناناملعون ابو لہب کی سنت ہے نہ کہ پیارے نبیۖاور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی.اور ہم مسلمانوں پر ایک ملعون کافر ومشرک کی اتباع حرام ہے .
         اللہ ہم سب کو کتاب وسنت کی صحیح سمجھ عطا فرمائے آمین.


12 ربیع الأول اور عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم



Tuesday, 25 January 2011

يزيد کے آلہء کار " ابن زياد اور شمر وغيرہ " کا حکم


يزيد کے آلہء کار "  ابن زياد اور شمر وغيرہ "   کا حکم

از قلم صلاح الدین یوسف

سوال :  "يزيد کے آلہ کار ابن زياد، شمر، وغيرہم کس حد تک مجرم ہيں اور آپ کے نزديک ان کا کيا حکم ہے؟(مدير ماہنامہ رضائے مصطفى )

جواب:  يہ لوگ يزيد کے آلہ کار نہيں، اہلکار تھے اور حضرت حسين رضي اللہ عنہ کے اقدام جو ناخوشگوار صورت حال پيدا ہوگئي تھي اس سے اپني صوابديد کے مطابق انہوں نے عہدہ برآ ہونے کي کوشش کي۔
يہ کوشش مذموم تھي يا مستحسن؟ اس ميں رائے دہي خَرطُ القَتَاد والي بات ہے۔ ايک تو تاريخ کي متضاد روائتوں نے واقعات کو بہت الجھا ديا ہے ۔ دوسرے اس "سياسي" نوعيت کے واقعے کو "مذہبي" رنگ دے ديا گيا ہے جس کي وجہ سے اس پر کھل کر گفتگو کرنا بھڑوں کے چھتے کو چھيڑنے کے مترادف ہوگيا ہے۔
ہم تاريخي تضاد کے انبار سے اگر حقيقت کي چہرہ کشائي کريں تو يہ راستہ طويل بھي ہوگا اور پھر بھي شائد آپ کے ليے ناقابل قبول۔ کيونکہ کہا جاسکتا ہےکہ يہ تاريخي روايات کا ايک پہلو ہے جب کہ روايات کا دوسرا پہلو اس کے برعکس ہے ۔ اس ليے ہم مختصراً صرف واقعے کي روشني ميں اتنا ہي عرض کريں گے کہ آپ جذبات اور مذہبيت سے الگ ہوکر معاملے کو واقعاتي سطح سے ديکھيں کہ حضرت حسين رضي اللہ عنہ اہل کوفہ کي دعوت پر بيعت خلافت لينے کے ليے تشريف لائے تھے وہ جنگ کرنے کے ليے نہيں آئے تھے، کيونکہ 60۔70، افراد کے ساتھ جو بيشتر اہل خانہ ہي تھے جنگ نہيں ہوا کرتي۔اہل کوفہ نے تو حضرت حسين رضي اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑ ديا۔ ليکن کيا حاکم وقت کے اہل کار بھي اپنے اس حاکم سے بغاوت کرڈالتے جس پر تمام مسلمان متفق ہوچکے تھے۔ ايسا چونکہ ممکن نہيں تھا ۔تاہم حضرت حسين رضي اللہ عنہ سے خير سگالي کي گفتگو کي گئي جس کا خاطر خواہ اثر بھي ہونے لگا تھا اور حضرت حسين رضي اللہ عنہ نےتو اپنے موقف سے رجوع کرکے تين شرائط بھي پيش کردي تھيں جن ميں ايک شرط يزيد کے پاس بھيج دينے کي بھي تھي ليکن انہي کوفيوں کي شرارت کہہ ليجئے جنہوں نے حضرت حسين رضي اللہ عنہ کو خطوط لکھ کر بلوايا تھا يا ابن زياد وغيرہ کي سختي کہ معاملہ سلجھتے سلجھتے الجھ گيا اور بات حضرت حسين رضي اللہ عنہ کي مظلومانہ شہادت تک جاپہنچي۔
اب اس وقت ايسا کوئي پيمانہ نہيں جس سے ناپ کر يا تول کر ابن زياد اور عمر بن سعد کي غلطي کا اندازہ کرکے کوئي حکم لگايا جاسکے اگر حضرت حسين رضي اللہ عنہ سے حسن سلوک ميں انہوں نے کوئي کوتاہي کي ہے تو وہ يقيناً مجرم ہيں۔ تاہم يہ بات ياد رکھني چاہيے کہ عمل اور رد عمل کے بنيادي نکتے کو نظر انداز کرکے بات بالعموم خانداني شرف وفضل کے اعتبار سے کي جاتي ہے جو اصولاً غلط اور تحقيقي نقطۂ نظر کے منافي ہے۔

یزید پر سب و شتم کا مسئلہ


یزیدپر سب و شتم کا مسئلہ

از قلم صلاح االدین یوسف
 اسي طرح ايک مسئلہ يزيد رحمۃ اللہ عليہ پر سب و شتم کا ہے جسے بدقسمتي سے رواج عام حاصل ہوگيا ہے اور بڑے بڑے علامہ فہامہ بھي يزيد کا نام برے الفاظ سے ليتے ہيں ، بلکہ اس پر لعنت کرنے ميں بھي کوئي حرج نہين سمجھتے اور اس کو "حب حسين " اور "حب اہل بيت" کا لازمي تقاضا سمجھتے ہيں حالانکہ يہ بھي اہل سنت کے مزاج اور مسلک سے ناواقفيت کا نتيجہ ہے محققين علمائےاہل سنت نے يزيد پر سب و شتم کرنے سے بھي روکا ہے اور اسي ضمن ميں اس امر کي صراحت بھي کي ہے کہ يزيد کا قتل حسين ميں نہ کوئي ہاتھ ہے نہ اس نے کوئي حکم ديا اور نہ اس ميں اس کي رضا مندي ہي شامل تھي۔ ہم يہاں شيخ الاسلام امام ابن تيميہ رحمۃ اللہ عليہ کے اقوال کے بجائے امام غزالي کي تصريحات نقل کرتے ہيں جن سے عام اہل سنت بھي عقيدت رکھتے ہيں۔ علاوہ ازيں امام ابن تيميہ کا موقف کتاب کےآخر ميں وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔
امام غزالي فرماتے ہيں:
((ما صح قتلہ للحسين رضي اللہ عنہ ولا امرہ ولا رضاہ بذٰلک ومھما لم يصح ذٰلک لم يجز ان يظن ذٰلک فان اسآءۃ الظن ايضا بالمسلم حرام قال اللہ تعاليٰ: }يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱجْتَنِبُوا۟ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ ٱلظَّنِّ إِثْمٌۭ {۔۔۔فھذا الامر لا يعلم حقيقہ اصلا واذا لم يعرف وجب احسان الظن بکل مسلم يمکن احسان الظن بہ))(وفيات الاعيان: 450/2، طبع جديد)
يعني"حضرت حسين رضي اللہ عنہ کو يزيد کا قتل کرنا يا ان کے قتل کرنے کا حکم دينا يا ان کے قتل پر راضي ہونا، تينوں باتيں درست نہيں اور جب يہ باتيں يزيد کے متعلق ثابت ہي نہيں تو پھر يہ بھي جائز نہيں کہ اس کے متعلق اسي بدگماني رکھي جائے کيونکہ کسي مسلمان کے متعلق بدگماني حرام ہے جيسا کہ قرآن مجيد ميں ہے، بنا بريں ہر مسلمان سے حسن ظن رکھنے کے وجوب کا اطلاق يزيد سے حسن ظن رکھنے پر بھي ہوتا ہے۔
اسي طرح اپني معروف کتاب احياء العلوم ميں فرماتے ہيں:
((فان قيل ھل يجوز لعن يزيد بکونہ قاتل الحسين او آمراً بہ قلنا ھٰذا لم يثبت اصلاً ولا يجوز ان يقال انہ قتلہ او امر بہ مالم يثبت)) (131/3)
يعني "اگر سوال کيا جائے کہ کيا يزيد پر لعنت کرني جائز ہے کيونکہ وہ (حضرت حسين رضي اللہ عنہ کا ) قاتل ہے يا قتل کاحکم دينے والا ہے ؟ تو ہم جواب ميں کہيں گے کہ يہ باتيں قطعاً ثابت نہيں ہيں اور جب تک يہ باتيں ثابت نہ ہوں اس کے متعلق يہ کہنا جائز نہيں کہ اس نے قتل کيا يا قتل کا حکم ديا۔"
پھر مذکورۃ الصدر مقام پر اپنے فتوے کو آپ نے ان الفاظ پر ختم کيا ہے:
((واما الترحم عليہ فجائز بل مستحب بل ہو داخل في قولنا في کل صلوٰۃ اللھم اغفر للمؤمنين والمؤمنات فانہ کان مؤمنا۔ واللہ اعلم)) (وفيات الاعيان: 450/3، طبع جديد)
يعني "يزيد کے ليے رحمت کي دعا کرنا (رحمۃ اللہ عليہ کہنا) نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے اور وہ اس دعا ميں داخل ہے جو ہم کہا کرتے ہيں ۔ (يا اللہ! مومن مردوں او ر مومن عورتوں سب کو بخش دے) اس ليے کہ يزيد مومن تھا! واللہ اعلم"
مولانا احمد رضا خاں کي صراحت:      مولانا احمد رضا خاں فاضل بريلوي، جو تکفير مسلم ميں نہايت بے باک مانے جاتے ہيں، يزيد رحمۃ اللہ عليہ کے بارے ميں يہ وضاحت فرمانے کے بعد کہ امام احمد رحمۃاللہ عليہ اسے کافر جانتے ہيں او رامام غزالي وغيرہ مسلمان کہتے ہيں، اپنا مسلک يہ بيان کرتے ہيں کہ:
"اور ہمارے امام سکوت فرماتے ہيں کہ ہم نہ مسلمان کہيں نہ کافر، لہٰذا يہاں بھي سکوت کريں گے۔۔۔(احکام شريعت، ص:88، حصہ دوم)
فسق و فجور کے افسانے؟     رہي بات يزيد رحمۃ اللہ عليہ کے فسق وفجور کے افسانوں کي، تو يہ بھي يکسر غلط ہے جس کي ترديد کے ليے خود حضرت حسين رضي اللہ عنہ کے برادر اکبر محمد بن الحنفيہ کا يہ بيان ہي کافي ہے جو انہوں نے اس کے متعلق اسي قسم کے افسانے سن کرديا تھا۔
((ما رايت منہ ما تذکرون وقد حضرتہ واقمت عندہ فرايتہ مواظباً علي الصلوٰۃ متحريا للخير يسال عن الفقہ ملازماً للسنۃ)(البدايۃ والنہايۃ: 236/8، دارالديان للتراث، الطبعۃ 1988ء)
يعني "تم ان کے متعلق جو کچھ کہتے ہو ميں نے ان ميں سے ايسي کوئي چيز نہيں ديکھي، ميں نے ان کے ہاں قيام کيا ہے اور ميں نے انہيں پکا نمازي ، خير کا متلاشي، مسائل شريعت سے لگاؤ رکھنے والا اور سنت کا پابند پايا ہے۔ (البدايۃ والنہايۃ، ج:8، ص:233)
غزوۂ قسطنطنيہ کے شرکاء کي مغفرت کے ليے بشارت نبوي: علاوہ ازيں کم از کم ہم اہل سنت کو اس حديث کے مطابق يزيد کو برا بھلا کہنے سے باز رہنا چاہيے جس ميں رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ قسطنطنيہ ميں شرکت کرنے والوں کے متعلق مغفرت کي بشارت دي ہے اور يزيد اس جنگ کا کمانڈر تھا۔ يہ بخاري کي صحيح حديث ہے اور آنحضرت ﷺ کا فرمان ہے، کسي کاہن يا نجومي کي پيشين گوئي نہيں کہ بعد کے واقعات اسے غلط ثابت کرديں۔ اگر ايساہوتو پھر نبي کے فرمان اور کاہن کي پيشين گوئي ميں فرق باقي نہ رہے گا۔ کيا ہم اس حديث کي مضحکہ خيز تاويليں کرکے يہي کچھ ثابت کرنا چاہتے ہيں؟ يہ حديث مع ترجمہ درج ذيل ہے:
((أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ)) (صحيح البخاري ، الجہاد والسير، باب ما قيل في قتال الروم، ح: 2924)
"ميري امت کا پہلا لشکر جو قيصر کے شہر (قسطنطنيہ) ميں جہاد کرے گا، وہ بخشا ہوا ہے۔

تفسیر ابن عباس (رض) کی حقیقت اور علماء دیوبند و بریلوی کا نقطہ نظر

تفسیر ابن عباس (رض) کی حقیقت اور علماء دیوبند و بریلوی کا نقطہ نظر



عربی تفسیر ابن عباس
کا اصل نام "تنویر المقباس" ہے ۔
واضح رہے کہ یہ تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خود کی تحریر کردہ نہیں ہے جیسا کہ عموماً تاثر دیا جاتا ہے۔ بلکہ یہ تفسیر جمعه ابو طاہر محمد بن يعقوب الفيروز آبادى الشافعی (المتوفى : 817 ھ) کی تصنیف ہے۔ اور انہوں نے اس تفسیر کو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے منسوب کیا ہے۔

مولانا جسٹس تقی عثمانی ، قرآنی علوم پر مبنی اپنی معروف کتاب "علوم القرآن" کے صفحہ نمبر 458 پر "مروجہ تفسیر ابن عباس (رض) کی حیثیت" کے زیر عنوان لکھتے ہیں :
اقتباس:
ہمارے زمانے میں ایک کتاب " تنویر المقباس فی تفسير ابن عباس" کے نام سے شائع ہوئی ہے جسے آج کل عموماً "تفسیر ابن عباس" کہا اور سمجھا جاتا ہے ، لیکن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف اس کی نسبت درست نہیں کیونکہ یہ کتاب ۔۔۔
محمد بن مروان السدی عن محمد بن السائب الکلبی عن ابی صالح عن ابن عباس
کی سند سے مروی ہے جسے محدثین نے "سلسلۃ الکذب (جھوٹ کا سلسلہ)" قرار دیا ہے لہذا اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
امت مسلمہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو "ترجمان القرآن" کا لقب دیا ہے۔ آپ کی فضیلت میں بیان ہوئی صحیح بخاری کی ایک حدیث یوں ہے :
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینے سے لگایا اور فرمایا :
اے اللہ ! اسے حکمت کا علم عطا فرما !
صحيح بخاري ، كتاب فضائل الصحابة ، باب : ذكر ابن عباس رضى الله عنهما ، حدیث : 3801

کئی برحق وجوہات کی بنا پر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو "امام المفسرین" بھی کہا جاتا ہے۔ تفسیر القرآن کے معاملے میں سب سے زیادہ روایات آپ ہی سے مروی ہیں۔
البتہ ان سے جو روایات مروی ہیں ، ان کا ایک بڑا حصہ ضعیف بھی ہے لہذا اُن کی روایات سے استفادہ کی خاطر انہیں اصولِ حدیث کی شرائط پر جانچنا بہت ضروری ہے۔

"تنویر المقباس فی تفسير ابن عباس" کے صفحۂ اول پر درج ہے کہ یہ مکمل تفسیر ذیل کی سند سے مروی ہے :
محمد بن مروان السدی عن محمد بن السائب الکلبی عن ابی صالح عن ابن عباس

ڈاکٹر محمد حسين الذهبي اپنی کتاب "التفسیر والمفسرون" ، جلد اول ، باب نمبر 56 کے تحت لکھتے ہیں :
امام شافعی کا قول ہے کہ اس سند (مروان عن کلبی عن ابی صالح عن ابن عباس) سے یہ تفسیر ، ابن عباس کی جانب ثابت نہیں ہے۔

امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ اپنی معروف کتاب "الاتقان" ، جلد دوم ، صفحہ نمبر 189 پر لکھتے ہیں :
محمد بن مروان اگر اس سند (عن کلبی عن ابی صالح عن ابن عباس) سے روایت کرے تو یہ پوری سند "سلسلۃ الکذب (جھوٹ کا سلسلہ)" کہلاتی ہے۔

واضح رہے کہ "سلسلۃ الکذب (جھوٹ کا سلسلہ)" کی ترکیب ، محدثین کے نزدیک "سلسلة الذهب (سونے کا سلسلہ / سونے کی زنجیر)" کے مقابلے میں تخلیق کی گئی ہے۔
" سلسلة الذهب (سونے کی زنجیر)" کی سند یوں ہے :
الشافعي عن مالك عن نافع عن ابن عمر

امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور کتاب " الفوائد المجموعة " ( صفحہ:316) پر لکھتے ہیں :
اس تفسیر (تفسیر ابن عباس) کے راوی "الکلبی" ، "السدی" اور "مقاتل" جھوٹے راویان ہیں۔ اور ابن تیمیہ (رحمۃ اللہ) سے بھی یہی بات معروف ہے۔

امام ابو حاتم رحمۃ اللہ اپنی کتاب "الجرح و التعدیل" ، جلد اول ، صفحہ 36 پر لکھتے ہیں :
سفیان ثوری رحمۃ اللہ نے کہا کہ محمد بن السائب الکلبی اگر اس سند عن ابی صالح عن ابن عباس سے روایت کرے تو حدیث نہیں لی جائے گی کہ یہ سند جھوٹی ہے۔

دیوبندی وبریلوی حضرات بعض مسائل میں بڑے فخرسے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب مذکورہ تفسیر کاحوالہ دیتے ہیں،کوئی رفع الیدین کے مسئلہ میں اس کا حوالہ دیتاہے تو کوئی نوروبشرپربحث کرتے ہوئے اس کانام لیتاہے حالانکہ یہ تفسیر دونوں مکتب فکرکے اکابر کی تحقیق کی روشنی میں غیرمستند ہے،دیوبندی مکتب فکرکاحوالہ توآپ نے اوپرپڑھ لیا-
اب بریلوی مکتب فکرکا حوالہ بھی ملاحظہ فرمائیے:
بریلویت کے بانی امام احمد رضاصاحب کی تحقیق کی روسے بھی عبداللہ بن عباس رضی اللہ کی طرف منسوب مذکورہ تفسیرکی سند غیرمعتبر ہے
کیونکہ اس سند میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اس تفسیرکاناقل جسے بتلایاگیاہے وہ ''ابوصالح ''ہے اور''ابوصالح '' کانام ''باذام'' ہے ،اورامام احمد رضا صاحب اس ''باذام'' کی مرویات کوضعیف قراردیتے ہیں ،چنانچہ سنن اربعہ کی وہ روایت جس میں قبروں پرچراغ جلانے والوں پرلعنت کی گئی ہے،اسے امام احمد رضاصاحب نے صرف اس لئے ضعیف قراردے کرردکردیا کہ اس کی سند میں ''باذام'' راوی ضعیف ہے،واضح رہے کہ سنن اربعہ میں بھی یہ راوی اپنے نام''باذام '' کے ساتھ نہیں بلکہ اپنی کنیت ''ابوصالح''ہی کے ساتھ مذکورہے،سب سے پہلے یہ روایت سنن أربعہ سے مع سند متن ملاحظہ ہو:
امام أبوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اقتباس:
حدثنا محمد بن ثیر خبرنا شعب عن محمد بن جحاد قال سمعت أبا صالح یحدث عن ابن عباس قال : لعن رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم زائرات القبور والمتخذین علیہا المساجد والسرج . (سنن بی داود :ـکتاب الجنائز :باب فی زیارة النساء القبور،حدیث نمبر 3236 )
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اقتباس:
حدثنا قتیب حدثنا عبد الوارث بن سعید عن محمد بن جحاد عن أبی صالح عن ابن عباس قال : لعن رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم زائرات القبور والمتخذین علیہا المساجد والسرج (سنن الترمذی:ـأبواب الصلوٰة:باب ما جا فی کراہییة أن یتخذ عل القبر مسجدا،حدیث نمبر 320)
امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اقتباس:
خبرنا قتیب قال حدثنا عبد الوارث بن سعید عن محمد بن جحاد عن آبی صالح عن بن عباس قال : لعن رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم زائرات القبور والمتخذین علیہا المساجد والسرج (سنن النسائی :ـکتاب الجنائز: التغلیظ فی اتخاذ السرج عل القبور،حدیث نمبر2043)
امام ابن ماجہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اقتباس:
دثنا زہر بن مروان حدثنا عبد الوارث حدثنا محمد بن جحاد عنا أ بی صالح عن ابن عباس :قال لعن رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم زوارات القبور(سنن ابن ماجہ :ـکتاب الجنائز: باب ما جا فی النہی عن زیار النسا القبور ،حدیث نمبر1575)
تنبیہ :ابن ماجہ کی روایت مختصرہے۔
قارئین ملاحظہ فرمائیں کہ مذکورہ حدیث سنن أربعہ کی ہے اورسب کی سند میں ''أبوصالح (باذام)'' موجودہے ،اب اس حدیث کے سلسلے میں امام احمد رضا صاحب کی تحقیق ملاحظہ فرمائیے:
کسی زید نامی شخص کے حوالے سے امام احمد رضا صاحب کے سامنے ایک سوال پیش ہو اجس میں یہ الفاظ بھی تھے:
اقتباس:
''میں بقسم شرعیہ اس کو باور کراتا ہوں کہ میں نے کوشش کی کہ چراغانِ قبور کا کسی تاویل سے استحسان ثابت ہو جائے تومیں رسم قدیم کی مخالفت نہ کروں، چنانچہ فتاوی عالمگیری کو دیکھا اس میں نکلا کہاخراج الشموع الی المقابر بدع لااصل لہ ( مزارات پر چراغان کرنا بدعت ہے اس کی کوئی اصل نہیں ۔ت) اسی طرح فتاوی بزازیہ میں ہے۔ درمختار میں بھی یہی نکلا۔ پھر میں نے حدیث شریف کو دیکھا۔ مشکو شریف میرے پاس تھی اس میں یہ حدیث نکلی :لعن رسول اللہ زائرات القبوروالمتخذین علیھا المساجد والسرج ۔ رواہ الترمذی والنسائی۔لعنت کی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے زائرات قبور پر اورجو پکڑیں قبروں پر مسجدیں ( یعنی قبروں کی طرف سجدہ کریں) اور قبروں پر چراغ روشن کریں۔ اسے ترمذی اور نسائی نے روایت کیا''(منقول بذریعہ یونی کوڈ کنورٹرازفتاوی رضویہ سوفٹ ویر جلد٩ص111)
اس سوال میں زید کی طرف سے جوحدیث پیش کی گئی اس پرغضب ناکی کا اظہار کرتے ہوئے احمد رضاصاحب فرماتے ہیں:

اقتباس:
حدیث مذکور کو زید نے بالجزم رسول خدا کا ارشاد بتایا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔ یہ سخت بیباکی وجرت ہے ۔ وہ حدیث صحیح نہیں ۔ ا س کی سند کا مدار ابوصالح باذام پر ہے ۔ باذام کو ائمہ فن نے ضعیف بتایا۔ تقریب امام ابن حجر عسقلانی میں ہے:باذام بالذال المعجم ویقال اخرہ نون ابوصالح مولی ام ھانی ضعیف مدلس ۔باذام ذال معجمہ سے اور کہا جا تا ہے کہ اخرمیں نون یعنی باذان ابوصالح ام ہانی کا آزاد کردہ غلام ضعیف تدلیس کرنے ولا ہے۔ یہیں سے ظاہر ہو ا کہ یہ حدیث قابلِ احتجاج نہیں'' 
(منقول بذریعہ یونی کوڈ کنورٹرازفتاوی رضویہ سوفٹ ویر جلد٩ص118)
نیزیہی امام صاحب ایک اورمقام پرلکھتے ہیں:
اقتباس:
''یہ اس تقدیر پرہے کہ حدیث مذکورکی صحت مان لی جائے ،والاففیہ باذام ضعیف وان حسنہ الترمذی فقدعرف رحمہ اللہ تعالی بالتساہل فیہ کمابینناہ فی مدارج طبقات الحدیث''(احکام شریعت:حصہ اول ص٦٩،مطبوعہ قادری کتاب گھر بریلی)
قارئین غورکریں کہ امام احمد رضا صاحب نے جس راوی ''أبوصالح باذام ''کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بھی بیان کردہ حدیث کوناقابل احتجاج قراردیاہے اورامام ترمذی کی تحسین کوبھی رد کردیاہے،ٹھیک وہی راوی مذکورہ تفسیرکی سند میں بھی موجود ہے،لہٰذا اس سند سے آنے والی مذکورہ تفسیربھی امام احمد رضاکے اصول کے مطابق ناقابل احتجاج ہے۔نیزجس طرح امام احمد رضاکے بقول أبوصالح کے طریق سے آنے والی حدیث کوبیان کرنا سخت بیباکی وجرت ہے اسی طرح اس راوی کی طریق سے آنے والی تفسیرکوبھی بیان کرنا سخت بیباکی وجرت ہے ۔
لہٰذابریلوی حضرات کوچاہئے کہ اپنے امام کی تحقیق کی قدرکریں اوریہ کہناچھوڑدیں کہ قرآنی آیت:
قَدْ جَاء َکُمْ مِنَ اللَّہِ نُور وَکِتَاب مُبِین ) (المائدة: 15)کی تفسیرمیں میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے نورسے مراد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوبتلایاہے۔