Tuesday, 25 January 2011

امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ اور ان پر لعن ‍طعن


امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ اور ان پر لعن ‍طعن

مقصود الحسن فیضی


الحمد للہ وحدہ الصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ ۔

اما بعد

ارشاد باری تعالی ہے : [تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ] {البقرة:134}

" یہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی ، ان کی کمائی ان کے لئے ہے اور تمہاری کمائی تمہارے لئے اور ان کے اعمال کے بارے میں تم سے باز پرس نہ ہوگی " ۔

ارشا نبوی ہے :

"لا تسبو الاموات فانھم قد افضوا الی ما قدموا " ۔

مردوں کو گالی نہ دو ، اس لئے کہ جو کچھ اچھے برے اعمال وہ آگے بھیجے اس تک پہنچ گئے "

{ صحیح بخاری :1393 ، الجنائز – سنن النسائی :1936 ، الجنائز – مسند احمد6/180، بروایت عائشہ }

بلکہ ہمیں حکم یہ ہے کہ مردوں کے عیبوں کو ظاہر کرنے سے بچیں اور ان کی خوبیوں کو واضح کریں "

ارشاد نبوی ہے :

" اذکروا محاسن موتاکم وکفوا عن ساوئھم "

" اپنے مردوں کی خوبیوں کا ذکر کرو اور ان کے عیوب کو نہ چھیڑو " ۔

{ سنن ابو داود :4900، الادب – سنن الترمذی :1019، الجنائز – مستدرک الحاکم :1/358 ، بروایت ابن عمر }

ذرا اس قصہ پر بھی غور کریں :

ایک مجلس میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے سوال کیا : یزید بن قیس کا – اس پر اللہ کی لعنت ہو – کیا حال ہے ؟ [ واضح رہے کہ یہ یزید وہی شخص ہے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والوں کا سردار تھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ کو کھلے عام برا بھلا کہتا تھا ] لوگوں نے جواب دیا : وہ تو مرگیا ، یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا استغفار پڑھنے لگیں ، لوگوں نے کہا : ابھی تک تو آپ اسے گالیاں دے رہی تھیں اور اب استغفار پڑھ رہی ہیں ، اس کا کیا مطلب ہے ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : مردوں کو برا بھلا نہ کہو اس لئے کہ وہ اپنے کئے کو پہنچ گئے ہیں ۔

{ صحیح ابن حبان :5/43 ، نمبر :2010 }

سنن ابو داود میں یہ حدیث مختصر ہے جس کے الفاظ ہیں :

" اذا مات صاحبکم فدعوہ ولا تقعوا فیہ "

" جب تمہار ساتھی مر جائے تو اس کو چھوڑ دو اور اس کی عیب جوئی کے پیچھے نہ پڑو "

{ سنن ابو داود :4899، الادب }

خاص کر اگر کسی مردے کو برا بھلا کہنے سے زندوں کو تکلیف پہنچ رہی ہو تو اس کی قباحب اور بڑھ جاتی ہے ۔

ارشاد نبوی ہے :

" لا تسبوا الاموات فتوذوا بہ الاحیاء "

" مردوں کو گالی نہ دو کہ اس سے زندوں کو تکلیف پہنچے "

{ سنن ابو داود :1983 ، الجنائز – مسند احمد :4/252 – صحیح ابن حبان :3011 ، 5/43 ، بروایت مغیرہ بن شعبہ }

ان احادیث کے پیش نظر اگر کوئی مصلحت راجحہ نہ ہوتو کسی مرد کو برا بھلا کہنا جائز نہیں ہے بلکہ بعض علماء کا خیال ہے کہ اگر کسی مردہ کافر کو برا بھلا کہنے سے زندوں کو تکلیف ہوتی ہو تو اسے بھی برا بھلا نہ کہا جائے گا ۔

{ دیکھئے فتح الباری :3/258-259 }

اس تمہید کے بعد عرض ہے کہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ و رضی اللہ عنہ و ارضاہ کی شخصیت قدماء اہل علم میں محل نزاع رہی ہے کچھ علماء نے بعض مسائل کی بنیاد پر ان پر جرح کی ہے حضرت امام سے متعلق بعض ناروا چیزیں معاصرانہ چشمک کی وجہ سے بعض کتابوں میں منقول ہوگئی ہیں ، دوسری طرف کچھ لوگوں نے ان کے بارے میں اس قدر غلو سے کام لیا کہ قولا نہیں تو عملا ان کی معصومیت کا عقیدہ رکھ لیا ہے اور ان کے فضائل میں حدیثیں گھڑ لیں ہیں ، یہ دونوں رائیں مردود اور انصاف پسند اہل علم کے نزدیک قابل رد ہیں ، امام موصوف کے بارے میں عادلانہ رائے یہ ہے کہ وہ اہل سنت وجماعت کے اماموں میں سے ایک بہت بڑے امام ، کتا ب وسنت کے پابند اور دین اسلام کے ایک بہت بڑے خادم اور اس کی طرف سے دفاع کرنے والے عالم ہیں ، نہ غلطیوں سے مبرا ہیں اور نہ ہی فسق وفجور اور کفر وبدعت کے داعی ہیں ۔

{ دیکھئے معیا ر حق کا مقدمہ از شیخ الکل میاں نذیر حسین محدث دہلوی }

چنانچہ کتب تراجم وتاریخ و سیر کے عصر تدوین وتمحیص میں اہل سنت و جماعت کے معتبر اور قابل اعتماد علماء کا اس پر اتفاق ہے ، چھٹی و ساتویں صدی ہجری اور اس کے بعد لکھی جانے والی معتبر تاریخی کتابوں کا جس شخص نے بھی مطالعہ کیا ہوگا وہ اس حقیقت کا اعتراف کرے گا ۔

میں یہاں چند حوالے نقل کرتا ہوں :

[۱] امام ذہبی رحمہ اللہ اپنی کتاب تذکرۃ الحفاظ میں لکھتے ہیں وکان امام ورعا ، عالما عاملا ، متعبدا، کبیر الشان لا یقبل جوائز السلطان بل یتجرد وینکسب ۔ {1/168}

آپ ایک پرہیزگار ، باعمل عالم ، عبادت گزار اور بڑے عظیم شان والے امام ہیں ، بادشاہوں کے انعامات قبول نہ کرتے بلکہ خود تجارت اور اپنی روزی کماتے ۔

یہی امام ذہبی اپنی مشہور کتاب سیر اعلام النبلاء کے تقریبا پندرہ صفحات پر امام صاحب کا ذکر خیر کیا ہے اور آپ کے ذم میں ایک حرف بھی نقل نہیں کیا بلکہ ذم کی طرف اشارہ تک نہیں کیا کہ امام موصوف پر لوگوں نے کچھ کلام کیا ہے ، پھر آخر میں لکھتے ہیں :

وقال الشافعی : الناس فی الفقہ عیال علی ابی حنیفہ قلت : الامامۃ فی الفقہ و دقائقہ مسلمۃ الی ھذا لامام و ھذا امر لا شک فیہ ، ولیس یصح فی الاذھان شیئ، اذا احتاج النھار الی دلیل وسیرتہ تحتمل ان تفرد فی مجلدین رضی اللہ عنہ ورحمہ توفی شھیدا سقیا فی سنۃ خمسین ومائۃ ولہ سبعون سنۃ " ۔
{ السیر :6/403 }

امام شافعی فرماتے ہیں کہ تمام لوگ فقہ میں امام ابو حنیفہ کے خوشہ چیں ہیں ، میں کہتا ہوں کہ فقہ اور فقہ کے دقیق مسائل کا استنباط اس امام کے بارے میں امر مسلم ہے ، یہ ایسی چیز ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے [پھر امام ذہبی عربی کا ایک شعر لکھتے ہیں جس کا ترجمہ ہے ] اگر دن کو وجود بھی دلیل پیش کرنے کا محتاج ہوتو ایسے ذہن رکھنے والوں کے نزدیک کوئی چیزصحیح نہیں ہوسکتی ، امام موصوف کی سیرت ایسی ہے کہ اسے دو جلدوں میں مرتب کی جائے اللہ تعالی ان سے راضی ہو اور ان پر رحم کرے ،سن۱۵۰ھ میں زہر دے کر انہیں شہید کردیا گیا ، اس وقت ان کی عمر ستر سال تھی ۔
[۲] امام ذہبی کے ہم عصر ایک اور امام جو تفسیر وحدیث اور تاریخ میں معروف خاص عام ہیں ، میری مراد حافظ عماد الدین ابن کثیر رحمہ اللہ سے ہے وہ اپنی مشہور کتاب البدایہ و النہایہ میں لکھتے ہیں :

" فقیہ العراق و احد أئمۃ الاسلام و السادۃ الاعلام و احد أرکان العلماء و احد أئمۃ الاربعۃ اصحاب المذاھب المتبوعۃ " ۔

عراق کے فقیہ ، ائمہ اسلام میں سے ایک ، اسلام کے سرداروں اور جوئی کے لوگوں میں سے ایک ، علماء میں سے ایک اہم بڑی شخصیت ، چار متبوعہ مذاہب سے ایک کے امام ۔

پھر تقریبا ایک صفحہ پر امام موصوف کی تعریف میں اہل علم کے اقوال نقل کئے ہیں ۔

{ البدایہ :10/110 }

[۳] حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے تہذیب التھذیب کے تقریبا چار صفحات پر امام موصوف کا ذکر خیر کیا ہے اور ان کے ذم میں ایک لفظ بھی نقل نہیں کیا بلکہ آخر میں لکھتے ہیں :

" ومناقب الامام ابو حنیفہ کثیرۃ حدا فرضی اللہ عنہ و أسکنہ الفردوس " آمین


امام ابوحنیفہ کے مناقب بہت زیادہ ہیں اللہ تعالی آپ سے راضی ہو اور جنت الفردوس میں جگہ دے ،

{ تھذیب التھذیب :10/102}

واضح رہے کہ یہ تینوں بزرگ جن کا ذکر کیا گیا ان میں سے کوئی بھی حنفی نہیں ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان کے سامنےوہ تمام اقوال تفصیل کے ساتھ تھے جن سے امام ابو حنیفہ کی تنقیص وتوہین ثابت ہوئی ہے لیکن ان بزرگوں کا ان اقوال کی طرف اشارہ تک نہ کرنا بلکہ ان تمام باتوں کو بالکل ہی گول کرجانا اس بات کی دلیل ہے کہ ان محققین کے نزدیک وہ اقوال امام صاحب ، ان کے علم ، ورع اور تقوی کے شایان شان نہیں ہیں ۔

[۴] حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے بھی امام ابو حنیفہ کو اپنی کتاب طبقات الحفاظ سے پانچویں طبقہ میں رکھا ہے اور ان کے ذم میں ایک لفظ بھی نقل نہیں کیا ہے ۔

{ طبقات الحفاظ :80-81 } ۔

[۵] بلکہ حسن اتفاق یہ دیکھئے کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے ایک مختصر سی کتاب طبقات المحدثین میں لکھی ہے جس میں بڑے بڑے محدثین اور حفاظ حدیث کے نام کی فہرست رکھی ہے ، لکھتے ہیں : " فھذہ مقدمۃ فی ذکر اسماء اعلام حملۃ الآثار النبویہ "

{ المعین طبقات المحدثین ،ص:17 }

اس کتاب میں محدثین کے کل ستائیس طبقات ہیں جن میں چوتھے طبقے کا عنوان ہے ، طبقۃ الاعمش و ابی حنیفہ ، پھر اس طبقہ کے محدثین عظام میں امام ابو حنیفہ کا بھی نام درج ہے ۔ {ص:51-57 } ۔

[۶] امام ابن خلکان رحمہ اللہ ساتویں صدی ہجری کے مشہور امام و مؤرخ ہیں انہوں نے بھی اپنی مشہور کتاب وفیات الاعیان کے تقریبا دس صفحوں پر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ذکر خیر کیا ، چنانچہ ایک جگہ
 لکھتے ہیں :" وکان عالما عاملا زاھدا عابدا ، ورعا تقیا ، کثیر الخشوع دائم التفرع الی اللہ تعالی " { 5/406 }

" وہ عالم باعمل تھے ، پرہیزگار و عبادت گزار تھے ، متقی اور صاحب ورع بزرگ تھے ، ہمیشہ خشوع و خضوع اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے " ۔

پورے ترجمے میں ایک لفظ بھی ذم میں نقل نہیں کیا ہے بلکہ لکھتے ہیں کہ کاشکہ وہ اقوال جو خطیب بغدادی نے امام موصوف کے مثالب میں نقل کیا ہے نہ لکھے ہوتے تو بہتر تھا ۔

اس طرح اگر اگلے پچھلے اہل علم کے اقوال نقل کئے جائیں تو موضوع بہت طویل ہوجائے گا ، ہم نے یہاں صرف پانچ اہل علم کے حوالے نقل کئے ہیں جو اہل سنت وجماعت کے معتبر اور قابل اعتماد ناقدین فن ہیں خاص کر ابتدا کے تین حضرات کے اقوال وتحقیق پر حدیث کی تصحیح و تضعیف کی بنیاد رکھی جاتی ہے ، اب ان حضرات کا امام موصوف کے ذم و تنقیص کا ایک لفظ بھی نقل نہ کرنا بلکہ ان کی طرف اشارہ تک نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اقوال اس لائق ہیں کہ انہیں طاق نسیان پر رکھ کر اس پر بھول کا دبیز پردہ ڈال دیا جائے ۔ واللہ اعلم ۔

یہی منہج ہمارے ہند وپاک کے کبار علمائے اہلحدیث کا رہا ہے اور اپنے اساتذہ کو بھی ہم نے اس نہج پر چلتے پایا ہے چنانچہ شیخ الکل میاں نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ اپنی کتاب معیار حق میں امام حنیفہ رحمہ اللہ کو اپنا پیشوا مجتہد ، متبع سنت اور متقی و پرہیزگار لکھتے ہیں ۔ {ص:29 }

امام عصر علامہ محمد ابراہیم سیالکوٹی رحمہ اللہ اپنی مشہور کتاب تاریخ اہل حدیث میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا تذکرہ بڑے خوبصورت اور عمدہ انداز میں کرتے ہیں ، اہل حدیث کو اس کا مطالعہ کرلینا چاہئے ، علامہ سیالکوٹی رحمہ اللہ امام موصوف کی طرف دفاع کرتے ہوئے لکھتے ہیں : " حالانکہ آپ اہل سنت کے بزرگ امام ہیں اور آپ کی زندگی اعلی درجے کے تقوے اور تورع پر گزری جس سے کسی کو انکار نہیں " ۔

{ تاریخ اہل حدیث ،ص:77 }

اس کے بعد ان تمام الزامات کی تردید کی ہے جو امام پر لگائے جاتے ہیں اور ائمہ فن کے اقوال بھی نقل کئے ہیں اس میں سب سے پہلے نمبر پر امام ابو حنیفہ کو رکھا ہے اور تقریبا بارہ صفحات پر آپ کی سیرت لکھی ہے ۔

{ص:54تا 65 }

۲- سابق امیر جمعیت اہل حدیث پاکستان علامہ محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ اپنے گہرے علم ، باریک بینی اور توازن طبع کے لحاظ سے بہت مشہور ہیں ، جن لوگوں نے ان کی کتابیں پڑھی ہیں وہ اس حقیقت کو سمجھتے ہیں ، ان کی بعض اردو کتابوں کا ترجمہ عربی زبان میں ہوا ہے ، وہ اپنی کتاب فتاوی سلفیہ میں لکھتے ہیں : " جس قدر یہ زمین [زمین کوفہ ]سنگلاخ تھی اسی قدر وہاں اعتقادی اور عملی اصلاح کے لئے ایک آئینی شخص حضرت امام ابو حنیفہ تھے جن کی فقہی موشگافیوں نے اعتزال و تجمم کے ساتھ رفض وتشیع کو بھی ورطہٴحیرت میں ڈال دیا ۔ اللھم ارحمہ واجعل الجنۃ الفردوس ماواہ ۔

{ فتاوی سلفیہ ،ص:143 }

۳- عصر حاضر میں علامہ البانی رحمہ اللہ کا حدیث وفقہ میں جو مقام ہے اور علمائے اہل حدیث کے نزدیک ان کی جو اہمیت ہے وہ کسی پر پوشیدہ نہیں ہے ، علامہ مرحوم جہاں ایک طرف حفظ و ضبط کے لحاظ سے امام موصوف پر کلام کرتے ہیں وہیں ان کی علمیت ، صلاح وتقوی سے متعلق جو کچھ امام ذہبی نے نقل کیا ہے اس سے مکمل موافقت ظاہر کرتے ہیں چنانچہ لکھتے ہیں :

" ولذلک ختم الامام الذھبی فی سیر النبلاء :5/288/1 ، بقولہ وبہ نختم : قلت : الامامۃ فی الفقہ و دقائقہ مسلمۃ الی ھذا الامام وھذا امر لا شک فیہ ،

لیس یصح فی الاذھان شیئ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اذا احتاج النھار الی اللیل ۔


{ سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ :1/167 }

یہاں یہ امر بھی قابل اشارہ ہے کہ ہمارے ہندوپاک کے بعض اہل علم نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پرکلام کیا ہے جیسے حال میں مولانا رئیس احمد ندوی رحمہ اللہ ۔

اس سلسلہ میں گزارش یہ ہے کہ :

اولا : اگر بعض اہل علم نے امام صاحب سے متعلق کوئی ایسی بات کہی ہے تو ان کے مقابل جمہور علمائے اہل حدیث جو ان سے زیادہ علم رکھنے والے اوران سے گہری نظر رکھنے والے اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مقام کو زیادہ سمجھنے والے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو ان الزامات سے بری قرار دیا ہے جیسے شیخ الکل اور علامہ میں سیالکوٹی رحمہم اللہ جمیعا ۔

ثانیا : مولانا رئیس ندوی رحمہ اللہ نے مستقلا اور بالمقصد امام صاحب رحمہ اللہ پر کلام نہیں کیا اور نہ عوام کے سامنے امام موصوف کے عیوب بیان کرتے پھرتے تھے بلکہ ان کی تحریر تو دیوبندی حضرات کا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں غلو اور اہلحدیثوں پر امام صاحب پر توہین کے الزام کا رد عمل ہے جس سے مولانا مرحوم کا مقصد یہ بتلانا تھا کہ :

اتنی نہ بڑھا پاکی واماں کی حکایت

دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

اور یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ اہل علم کا علمی مجالس میں کسی موضوع کو چھڑنا اور معنی رکھتا ہے اور اسے حدیث مجالس اور کم علم وکم سمجھ اور کم تجربہ لوگوں کے سامنے بیان کرنا دوسرا معنی رکھتا ہے ۔

حتی کہ میری رائے میں حضرت مولانا رئیس احمد ندوی رحمہ اللہ اگر وہی اسلوب اختیار کئے ہوتے جو علامہ عبد الرحمن معلمی یمانی رحمہ اللہ نے التبکیل میں استعمال کیا ہے تو بہتر ہوتا ۔

ذرا غور کریں کہ ہم جیسے معمولی علم رکھنے والے طالبان علم کو یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اگر ایک طرف امام صاحب پر کسی وجہ سے بعض اہل علم نے کلام کیا ہے تو دوسری طرف دوسرے اہل علم نے انکی مدح سرائی بھی کی ہے جسے کتب سیر میں دیکھا جاسکتا ہے ، اب صرف ایک طرف کی بات کو لے لینا اور باقی باتوں کو چھوڑ دینا تحقیق و انصاف سے گری ہوئی بات ہے ، خاص کر امام موصوف رحمہ اللہ کی طرف منسوب بہت سی باتیں محل نظر ہیں علی سبیل المثال خلق القرآن سے متعلق امام موصوف سے دونوں قسم کی روایتیں منوقل ہیں ایک طرف یہ نقل کیا جاتا ہے کہ امام صاحب خلق قرآن کے قائل تھے { واضح رہے کہ اس کم علم کی تحقیق میں یہ روایتیں صحیح نہیں ہیں } اور دوسری طرف یہ منقول ہے کہ امام صاحب خلق قرآن کے قائل نہیں تھے بلکہ اسے بدعت اور کفر قرار دیتے تھے جیسا کہ فقہ اکبر اور عقیدہ طحاویہ وغیرہ میں مذکور ہے ، اب سوال یہ ہے کہ ہمارے پاس ان متضاد راویوں کو پرکھنے کا معیار کیاہے ؟ جب کہ ہم دیکھتے ہیں امام ذہبی ، امام ابن کثیر اور حافظ ابن حجر رحمہم اللہ جیسے ناقدین فن ان باتوں سے قطعا اعراض کرتے آئے ہیں بلکہ امام ابن تیمیہ اور امام ذہبی رحمہما اللہ وغیرہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو سلف کے عقیدے پر مانتے ہیں ۔

اس لئے طالبان علوم شرعیہ سے میری گزارش ہے کہ اپنے علم کو پختہ بنانے ، تزکیہ نفس اور ذہنی تربیت پر خصوصی توجہ دیں اور اہل علم کے عیوب اور ان کی ذات پر کیچڑ اچھالنے سے پرہیز کریں اور یاد رکھیں کہ علماء نے کہا ہے کہ " لحوم العلماء مسمومۃ " علماء کا خون زہر آلود ہے ، نیز تاریخ شاہد ہے کہ جن لوگوں نے جذبات اور ناتجربہ کاری اور اپنے کو عوام مِں ظاہر کرنے کی غرض سے علماء حق پر انگلی اٹھائی ہے اللہ تعالی نے ان کے علم کی برکت کو محو کردیا ہے ، ایسے لوگوں کو امام سخاوی رحمہ اللہ کی کتاب الاعلان بالتوبیخ لمن ذم التاریخ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے ۔

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے متعلق یہ چند سطریں اس لئے تحریر کی گئیں کہ بہت سے جذباتی اور نوجوان اہلحدیث دعاۃ سے متعلق سننے میں آتا ہے کہ وہ امام موصوف سے متعلق بدزبانی ہی نہیں بلکہ بدعقیدگی میں مبتلا ہیں حتی کہ ان میں سے بعض تو امام موصوف کو " رحمہ اللہ " کہنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ امام صاحب کو مسلمان نہیں سمجھتے { حاشا للہ } مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں ایسے لوگ خود ہی رحمت الہی سے محروم نہ ہوجائیں ،
 علامہ میر سیالکوٹی لکھتے ہیں :

ہر چند کہ میں سخت گنہگار ہوں ، لیکن یہ ایمان رکھتا ہوں اور اپنے اساتذہ جناب ابو عبد اللہ عبیدہ اللہ غلام حسن صاحب مرحوم سیالکوٹی اور جناب مولانا حافظ عبد المنان صاحب مرحوم محدث وزیر آبادی کی صحبت وتلقین سے یہ بات یقین کے رتبے تک پہنچ چکی ہے کہ بزرگان دین خصوصا حضرات ائمہ متبوعین سے حسن عقیدت نزول برکات کا ذریعہ ہے ۔

{ تاریخ اہل حدیث :95 }

واللہ اعلم وصلی اللہ علی نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Saturday, 18 December 2010

درود شریف کی چار اقسام

درود شریف کی چار اقسام





احادیث شریف میں درود شریف کا ذبر متعدد الفاظ کے ساتھ کیا گیا ہے- ان میں سے چار اقسام کے الفاظ مبارک ذیل میں توفیق الہی سے پیش کیے جارہے ہیں۔ ان شاءاللہ :



(1) امام بخاری رحمہ اللہ نے عبدالرحمن بن ابی لیلی سے روایت کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا ، کہ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی، تو انہوں نے فرمایا:

" کیا میں تمہیں وہ تحفہ نہ دے دوں، جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا؟"

میں نے عرض کیا: " جی ہاں، مجھے یہ تحفہ عطا فرمائیے-"

انہوں نے بیان فرمایا: "ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا:

" آپ کے اہل بیت پر درود کیسے ہے؟ (جبکہ) اللہ تعالی نے ہمیں سلام بھیجنے کا طریقہ تو (خود) ہی سکھلادیا ہے-"

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو:

{ اللہم صل علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم و علی آل ابراہیم انک حمید مجید۔ اللہم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم انک حمید مجید-}

(صحیح بخاری، کتاب الانبیاء، باب، رقم الحدیث۔ 337، 6/408)



(2)امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان فرمایا: " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو ہم نے عرض کیا:

" یا رسول اللہ! ہمیں یہ تو معلوم ہوگیا ہے کہ ہم آپ پر سلام کیسے کہیں، لیکن آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟"

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"تم کہو:

{ اللہم صل علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم انک حمید مجید۔ اللہم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراہیم انک حمید مجید-}

متفق علیہ: (بخاری، کتاب الدعوات، باب الصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم، رقم الحدیث 6354، 11/152)

(مسلم، کتاب الصلواۃ، باب صلواۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعد التشھید، رقم الحدیث 66- (406)، 1/305-) الفاظ حدیث صحیح بخاری کے ہیں-



(3) امام بخاری رحمہ اللہ نے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے عرض کیا:

" یا رسول اللہ! ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " تم کہو:

{ اللہم صل علی محمد و ازواجہ و ذریتہ کما صلیت علی ال ابراہیم وبارک علی محمد و ازواجہ و ذریتہ کما بارکت علی ال ابراہیم انک حمید مجید}-

(صحیح بخاری، کتاب الانبیاء، باب، رقم الحدیث 3369، 6/407)



(4) حافظ ابن حجر نے تحریر کیا ہے:

" روایات میں سب سے کم الفاظ والا (درود شریف یہ ہے):

{اللہم صل علی محمد کما صلیت علی ابراہیم}

(فتح الباری 11/166)
راتوں کو اٹھ کر، خیالوں میں ہوکر، یادوں میں کھوکر، تمہیں کیا خبر ہے



اپنے اللہ سے۔۔۔۔۔۔۔۔!

میں کیا مانگتا ہوں، ویرانوں میں جاکر، دکھڑے سنا کر، دامن پھیلا کر


آنسو بہا کر، تمہیں کیا خبر


اپنے اللہ سے میں کیا مانگتا ہوں

تم تو کہو گے، صنم مانگتا ہوں، غنم مانگتا ہوں، زر مانگتا ہوں


میں گھر مانگتا ہوں، زمین مانگتا، نگین مانگتا ہوں


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

تم تو کہو گے، ہم کو خبر ہے، کہ راتوں کو اٹھ کر، خیالوں سے ہوکر


یادوں میں کھوکر، آنکھیں بھگو کر، کسی دلربا کی، کسی دلنشین کی

وفا مانگتا ہوں، یہ بھی غلط ہے، وہ بھی غلط ہے، جو بھی ہے سوچا


سو بھی غلط ہے، نہ صنم مانگتا ہوں، نہ زر مانگتا ہوں


نہ دلربا کی، نہ دلنشین کی، نہ ماہ جبین کی وفا مانگتا ہوں

تمہیں کیا خبر ہے۔۔۔۔اپنے اللہ سے میں کیا مانگتا ہوں


میں اپنے اللہ سے

آدم کے بیٹے کی آنکھوں سے جاتی ۔۔۔۔۔حیا مانگتا ہوں


حوا کی بیٹی کے سر سے اترتی ۔۔۔۔۔۔ردا مانگتا ہوں

اس کڑے وقت میں ۔۔۔۔پاک وطن کی بقا مانگتا ہوں۔

Sunday, 24 October 2010

موسمی تبدیلیاں زلزلے اور دجالین

موسمی تبدیلیاں زلزلے اور دجالین

خادم الاسلام و المسلمین ڈاکٹر عصمت حیات علوی



بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

دنیا میں موسموں کی تبدیلی اور عالمی درجہ حرارت یعنی گلوبل وارمنگ کا ذکر ہم اکثر اخبارات اور رسائل میں پڑھتے رہتے ہیں اور الیکٹرانک میڈیا پر بھی اس کے بارے میں سنتے ہی رہتے ہیں دنیا کے سبھی سائنسدان اور موسمیاتی ماہرین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ موسموں کایہ منفی رد عمل دراصل مختلف طرح کے کارخانوں اور دیگر صنعتوں سے دھواں اور دیگر کثافتوں کے خارج ہونے کے نتیجے میں ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔
اچانک آنے والے طوفانوں بارشوں اور یہاں تک کہ زلزلوں کو بھی اسی گلوبل وارمنگ کے ردعمل کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔اب حج کے دن ہمارے مقامات مقدسہ پر جو غیر متوقع اور غیر معمولی بارش ہوئی ہے اسے بھی گلوبل ورمنگ کی کارستانی قرار دے کر بھلا دیا جائے گا ۔ مگر کچھ اہل نظر اس غیر متوقع وغیر معمولی بارش کو اور چند برس قبل کشمیر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں آنے والے زلزلے کو قدرتی یا حقیقی قرار نہیں دے رہے ہیں بلکہ ان کے پیچھے بھی کسی انسانی ہاتھ کو دیکھ رہے ہیں بلکہ ڈھکے چھپے لفظوں میں ان دونوں واقعات کوانسانی شرارت قرار دے رہے ہیں۔
قارئین کرام یاد کریں کہ گذشتہ برس جب چین کے دارلحکومت بیجنگ میں اگست کے مہینے میں اولمپکس گیمزکھیلی گئیں تھیں تب وہ مون سون کا موسم تھا اور اس مہینے میں اس علاقے میں بارشیں ہوا ہی کرتی ہیں ۔مگر چین نے ایسا مکمل انتظام کر رکھا تھا کہ جب بادل بیجنگ کا رخ کریں تو ان کو راستے میں ہی برسا دیا جائے اور یوں بادلوں کو بیجنگ تک پہنچنے ہی نہ دیا جائے ۔
ہم بچپن میں پڑھا کرتے تھے کہ مون سون کے موسم میں بحیرہ بنگال سے نمی کے بخارات اٹھتے ہیں اور نمی سے لدے ہوئے بادل بن جاتے ہیں پھر یہ نمی سے لدے ہوئے بادل ہواﺅں کے دوش پر پورے ہندوستان پر برسے بغیرگذر جاتے ہیں اس کے بعد وہ ہمارے ملک کے شمال میں واقع بلند وبالا پہاڑوں سے ٹکرا کر رک جاتے ہیں اورواپس پلٹ کر آنے والے مزید بادلوں سے مل جاتے ہیں اس طرح سے ہمارے میدانی علاقوں کے اوپر ہوا میں نمی کا تناسب اس قدر زیادہ ہوجاتا ہے کہ ہوا اس تناسب کو سنبھال نہیں سکتی یوں نمی قطرے بن کر برسنا شروع ہو جاتی ہے۔اس عمل کو بارش کہتے ہیں۔
جس طرح سے نمی سے لدے ہوئے بادل ہندوستان کے اوپر سے برسے بغیر سینکڑوں میل کا سفر کرتے ہوئے گذر جاتے ہیں اسی طرح سے بحیرہ عرب سے اٹھنے والے نمی سے لدے ہوئے بادل بھی عرب ممالک کے اوپر اوپر سے بہت ہی زیادہ بلندی پر گذرتے ہیں مگر چونکہ ان کے راستے میں کوئی بلندوبالا پہاڑ نہیں آتے اس لئے نمی کا تناسب زیادہ نہیں ہو پاتا یوں وہ بادل عرب ممالک پر برسے بغیر آگے نکل جاتے ہیں کبھی کبھار جب ہوا میں نمی بڑھ جاتی ہے تب عرب کے ریگذاروں پر بارش ہو جایا کرتی ہے ۔
جیسے سمندروں جھیلوں اور گھنے جنگلوں کے اوپر ہوا میں نمی کی مقدار ہمیشہ ہی زیادہ ہوتی ہے اس لئے سمندروں جھیلوں اور گھنے جنگلوں پر بارشیں زیادہ ہی ہوتی ہیں یعنی کہ بارش ہونے کا عمل پہاڑوں سے بادلوں کے ٹکرائے بغیر بھی ہو سکتا ہے بشرطِ کہ ہوا میں نمی زیادہ کردی جائے اور اس عمل کا مظاہرہ یورپ کے کئی سائنسدان پچھلی صدی میں کئی مرتبہ کر چکے ہیں۔اب تو سائنس اچھی خاصی ترقی کرچکی ہے جبھی تو جدید طیاروں سٹیلائٹ اور سپیس ٹیکنالوجی کی مدد سے سائنسدانوں نے مصنوعی بارش برسانا بچوں کا کھیل بنا دیا ہے ۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے مقامات حج پر جو یہ اچانک غیر معمولی اور غیر متوقع بارش ہوئی ہے اس کے پیچھے دجالین یعنی کہ انٹی مسلمین صہیونی سائنسدانوں کا ہاتھ ہے۔
آپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہوگا کہ یہ دجالین کیا ہے۔ دراصل ہم مسلم قوم کا قرآن کریم اور حدیث مبارکہ پر اتنا ایمان نہیں ہے جتنا اعتماد کافراقوام کو ہماری مقدس کتاب قرآن کریم اور احادیث ﷺ میں بیان کی گئی پیشین گوئیوں اور دیگر حقائق پر ہے۔ہمارے طبقہ اعلیٰ والے جب مادی و معاشی ترقی کرتے ہیں تو نہ صرف مدرپدر آزاد ہوجاتے ہیں بلکہ مذہب کا مذاق اڑانا جدیدیت اور فیشن سمجھتے ہیں جب کہ ان کے برعکس یورپ اور امریکہ کے برسراقتدار طبقات نہ صرف کٹر مذہبی ہیں بلکہ جیسے جیسے وہ اقتدار کی سیڑھی پر بلند ہوتے جاتے ہیں ویسے ویسے وہ زیادہ مذہبی اور انتہا پسند ہو تے جاتے ہیں میں ہر ملک سے مثالیں نہیں دوں گا کیونکہ ایسے بات لمبی ہو جائے گی۔
صرف امریکہ سے ایک مثال دے کر بات آگے بڑھاوں گا۔ آنجہانی صدر ریگن سے لے کر امریکہ کی موجودہ اور اصلی حکمران ہیلری کلنٹن کے عقائد کر دیکھ لیں ۔یہ سبھی کے سبھی انتہا پسند بنیاد پرست کٹراور متعصب عیسائی یا صہیونی ہیں جو کہ یسوع مسیح کی آمد پر غیر متزلزل یقین رکھتے ہیں اور ان کے استقبال کی تیاریوں میں دل وجان سے مصروف ہیں ۔ یسوع مسیح کی دوبارہ آمد کے بارے میں ان کی تبدیل شدہ کتب میں جو کچھ بھی درج ہے۔
یہ صہیونی اور صلیبی نہ صرف اس کو مانتے ہیں بلکہ اس سلسلے میں قرآن مجید اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی مطالعہ کرتے ہیں تاکہ نہ صرف ہماری روک تھام کی جا سکے بلکہ ہمیں گمراہ بھی کیا جا سکے جیسا کہ کتب احادیث میں درج ہے کہ امام مہدی کی مدد کے لئے خِراسان سے کالے جھنڈوں والا ایک لشکرنکلے گا اسی حدیث کو سچ مان کر صہیونیوں اور صلیبیوں نے اس مذکورہ لشکر کا راستہ روکنے کے لئے پہلے تو افغانستان پر بھرپور حملہ کیا تھا پھر پاکستان پر قبضہ کیا ہے اور اب اس اہم خطے میں طرح طرح کی قلعہ بندیوں میں مصروف ہیں ۔
کچھ کالمسٹ یہ خیال کرتے ہیں اور پھر وہ ایسا لکھتے بھی ہیں کہ عنقریب امریکن اس خطے سے نکل جائیں گے ایسے لکھاریوں اور دانشوروں سے میری یہ درخواست ہے کہ وہ جدید علوم پڑھنے کے ساتھ ساتھ احادیث رسول ﷺ کا مطالعہ بھی کیا کریں اگر میرے فاضل دوست خاص طور پر امام مہدی کے ظہور ۔دجال کے خِروج اور عیسیٰ علیہ اسلام کی دوبارہ آمد کی احادیث کا بغور مطالعہ کریں تو ان پر یہ حقیقت کھل جائے گی کہ یہ دجالی لشکر واپس جانے کے لئے نہیں آیا ہے بلکہ ام الحرب یعنی کہ جنگوں کی ماں لڑنے کے لئے آیا ہواہے کیونکہ دجالین کا ایمان یہی ہے کہ اس بڑی جنگ کے نتیجے میں ہی دجال کا فتنہ ظاہر ہوگا۔
سچ تو یہ ہے کہ سابق امریکن صدر جارج واکر بش نے کروسیڈ کا لفظ سہواً نہیں بولا تھا بلکہ یہ ایک کوڈ ورڈ تھا اور حقیقت میں دنیا کے کونوں کھدروں میں چھپے ہوئے صہیونیوں کے لئے ایک واضح پیغام تھا کہ اب نیو ورلڈ آڈر یعنی کہ دجال کے استقبال کی تیاریوں کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے اس لئے تم بھی اپنی کمر کس لو اب تو یہ راز بھی راز نہیں رہا ہے کہ انتہا پسند بنیاد پرست اور کٹر عیسائی یہودیوں کے مخالف نہیں رہے ہیں بلکہ وہ بھی صہیونی بن چکے ہیں ۔
یہاں پر ایک بات کی وضاحت کر دوں کہ کسی شخص کے صہیونی ہونے کے لئے اس کا یہودی ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ جو بھی شخص گریٹر اسرائیل کی حمایت کرتا ہے اور جنگوں کی ماں یعنی کہ آرمیگڈون کی تیاریوں میں انتہا پسندیہود کے ساتھ ہے وہ بھی صہیونی ہی ہے اس تعریف کے لحاظ سے بش اور کانڈولیزا رائیس بھی صہیونی ہیںاور پرویزمشرف بھی صہیونی ہی ہے ۔
اب جو لوگ دجال کو اپنا لیڈر مانتے ہیں اور اس کے استقبال کی تیاریوں میں دل وجان سے مصرف ہیں ان کو میرے کچھ قابل احترام علما ءنے دجالی کہا ہے اور میں نے انہی محترم علما اور اساتذہ کرام کی تقلید میں ان صہیونیوں اور صلیبیوں کو دجالین کا نام دیا ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب متعصب یہود اور ہنود ہم کو الٹے سیدھے اور اپنے من پسند القابات سے نواز سکتے ہیں تو ہمیں بھی یہ حق حاصل ہے کہ ہم اپنی سچی کتاب کی روشنی میں ان کے صفاتی اور عملیاتی نام رکھیں ۔
اب چونکہ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں یہود کے باطل لیڈر کو دجال کہا گیا ہے یوں اس کا استقبال کرنے والے اور چاہنے والے دجالیں ہی کہلوائیں گے۔یہ دجالین یا صہیونی اپنے لیڈر کی آمد کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے اطمینان سے نہیں بیٹھے ہوئے ہیں بلکہ ہر قسم کی تیاریوں میں مصروف ہیں ۔ وہ اپنے لیڈر کی قیادت میں جنگ کرنے کے لئے سپر ہیومن بنانے کے تجربات ہٹلر کے دور میں ہی شروع کرچکے ہیں ۔ دراصل ہٹلر کو اس قسم کے عجیب وغریب تجربات کرنے کے لئے اور ایک سپر ریس یا سپر ہیومین بنانے پر یہودی سائینس دانوں نے ہی آمادہ کیا تھا ۔
یوں اس عیار قوم نے جرمن قوم کا کثیر سرمایہ اپنے تخیلا تی انسان کے تجربات پر ضائع کر دیا تھا اور پھر جب ان صہیونیوں کی سازشوں سے جرمن قوم کو شکست ہوئی تھی تو انہی صہیونی یا دجالی سائنس دانوں نے اپنے گھناونے کارناموں کو ہٹلر کے کھاتے میں ڈال دیا ہے ۔ اب ہٹلر تو مر چکا ہے وہ عالم بالا سے واپس آکر صہیونیوں یعنی کہ دجالین کے بارے میں درست اور اصل حقائق تونہیں بیان کر سکتا یوں صہیونیوں کا جھوٹ دنیا کے سر پر چڑھ کر بول رہا ہے۔ جب جنگ عظیم دوم کے خاتمے پر جرمنی پر چار مغربی طاقتوں نے قبضہ کر لیا تھا تب جرمنی کے صہیونی سائنس دان نے امریکہ جانے کا فیصلہ کیا تھا تو عیسا ئی سائنس دانوں نے مجبوری کے عالم میں روسیوں کے ساتھ جانا قبول کر لیا تھا۔

 

جب صہیونی یعنی کہ دجالین سائنسدان امریکہ آگئے تھے تو انہوں نے اپنے شیطانی (دجالی) منصوبوں کی تکمیل کے لئے امریکہ کے سرمائے کو ایسے ہی استعمال کرنا شروع کردیا تھا جیسے وہ جرمنی کی شکست سے قبل جرمن قوم کے سرمائے کو اپنی قوم کے مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کر رہے تھے یہ تجربات پچاس کی دھائی کے آغاز سے ہی شروع کر دیئے گئے تھے۔
ملٹی پل ہیومن ری پروڈکشن۔ سپر ہیومن ۔شی میل ۔ہی فیمیل ۔ سیلف ری پروڈکٹیو ہیومن(ایسا انسان یا سپر مین جو ایک مکمل نر اور مادہ ہو اور خود بخود بچے جننے کی صلاحیت رکھتا ہو) ۔یہ سبھی دجالین سائنسدانوں کے اذہان کی اختراعات ہیں اور ان پر امریکہ کے بہت سارے ریسرچ سنٹر زمیں تین چار عشروں سے کام ہو رہا ہے جن کا فائدہ تو بہرحال صہیونی (دجالین ) ہی اٹھائیں گے مگر ان پر کثیر سرمایہ امریکن کا ہی لگ رہا ہے۔ ڈولی شیپ دراصل کلوننگ سائنس کا پہلا اور ابتدائی کارنامہ ہے اور اس کے پیچھے صہیونیوں کے ایک فرقہ رئیلینز کی فکر کام کر رہی اس فرقے کو امریکن پریس کلونائیڈ کا نام دیتا ہے۔
بہرحال یہ سبجیکٹ بہت وسیع ہے اور چونکہ میں اس بارے میں خاصا علم رکھتا ہوں اس لئے ان موضوعات پر تفصیل سے لکھوں گا۔انشا اللہ العلیم و الخبیر۔ مگر اس وقت میں مسلم قوم کے ذہین افراد کا عوماً اور مسلم سائنسدانوں کا خصوصاً دھیان اس طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ صہیونی سائنس دان زمین کی مقناطیسیت اور زمین کے توازن پر پہاڑوں کی اہمیت پر برسوں سے تجربات کررہے ہیں اوران کے ان تجربات کی بنیاد قرآن حکیم کی متعدد آیات ہیں ۔جیسے کہ اللہ حکیم نے سورة ٰلقمٰن میں دسویں آیت میں ارشاد فرمایا ہے
﴾خلق السمٰوٰ ت بغیر عمدٍ ترونھا و القٰی فی الارض رواسی ان تمید بکم ﴿
تر جمہ:: اسی نے آسمانوں کو ستونوں کے بغیر پیدا کیا جیسا کہ تم دیکھتے ہو اور زمین پر پہاڑ رکھ دیے تاکہ تم ہلا ہلا نہ دے۔

میں فزکس اور ارضیات کے بارے میں کچھ علم نہیں رکھتا اسی لئے اپنے مسلم بھائی اور بہن سائنس دانوں سے درخواست گذار ہوں کہ وہ زمین کی گردش پرمقناطیسیت کے اثرات ا ور زمین کے توازن کے لئے پہاڑوں کی اہمیت پر کچھ روشنی ڈالیں اور جو کچھ بھی علم ان کو اللہ العلیم و الخبیر نے عطا فرمایا ہے اس علم کی روشنی میں مسلم امة کی راہنمائی کے لئے کچھ مفید مضامین تحریر فرمائیں۔اس کا اجر ان کو اللہ مالک و خالق عطا فرمائیں گے۔ انشا اللہ
جب کشمیر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں شدید زلزلہ آیا تھا تو میں حیران رہ گیا تھا کیونکہ میرے علم کے مطابق ارضی اور سمٰوٰتی عذاب صرف اس بستی پر نازل ہوا کرتے ہیں جو کہ کھلم کھلا اللہ رب العزت کی نافرمان ہوچکی ہو ۔ اس لئے میں تحقیق اور جستجو میں پڑ گیا تھا پھرایک سال کے مکمل مطالعے رابطے اور انٹرویوز کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام برسوں سے ایک خاص نہج پر جاری و ساری ہے تو میں نے خود سے سوال کیا تھا ۔
کیا یہ عذاب الہٰی ہے یا کسی انسانی چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ ہے؟ کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب کسی بستی یا کسی علاقے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام جاری وساری ہو تو اس بستی یا علاقے پر ربی عذاب نہیں آیا کرتے خواہ وہ بستی کھلم کھلا بدکاری کی مرتکب ہو رہی ہو کیونکہ جب تک کسی بستی میں ایک بھی مبلغ اسلام موجودہواللہ رحیم و کریم اس بستی پر رحم و کرم ہی فرمایا کرتے ہیں ۔
پھر مجھے میرے سوال کا جواب مل گیا تھا ۔یہ سب میرے رب کا فضل و کرم ہے اس میں میری کوئی خوبی نہیں ہے ۔وہ اپنے گناہ گار بندوں کی بھی راہنمائی فرماتا ہے سو اس ذات لا شریک نے میرے جیسے بدکار اور برے کی راہنمائی بھی فرمائی ہے

یہ ایک چھوٹا سا مضمون تھا جو کہ فزکس کے کسی ماہر نے لکھا تھا اور یہ انٹر نیٹ پر کچھ دیر ہی رہا تھا۔ افسوس کہ ان دنوں میرے پاس نہ تو پرنٹر تھا اور نہ ہی میرا پرانا کمپیوٹر اس قابل تھا کہ میں اس کو کاپی اور پیسٹ کرکے اپنے کمپیوٹر میں محفوظ کر لیتا مگر میرا مقصد حل ہو گیا تھا ۔الحمد للہ الرب العالمین
اس مضمون کا ماحاصل یہ تھا کہ ہماری زمین ایک بڑے مقناطیس کی مانند ہے اور اس کی کچھ پرتوں میں مقناطیسی لہریں شمالی قطب سے جنوبی قطب کو چلتی ہیں اور کچھ دوسری پرتوں میں یہی لہریں جنوبی قطب سے شمالی قطب کو واپس آتی ہیں یعنی کہ لہروں کے چلنے کا ایک مربوط اور مکمل نظام ہے اگر اس نظام میں خلل واقع ہوجائے یا کسی طرح سے خلل واقع کر دیا جائے تو زلرلہ آسکتا ہے اور پہاڑ بھی سرک سکتے ہیں کیونکہ یہ پہاڑ اسی مقناطیسی قوت کے بل پر زمین پر اپنی اپنی جگہ پر قائم ہیں۔

تب میں نے سوچا تھا کہ کسی دجالی سائنس دان نے قرآن حکیم کی سورة التکویر (۱۸) کی تیسری آیت اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے پر تدبر کیا ہوگا اور پھرسائنسی تحقیق میں جٹ گیا ہوگا۔
پھر میں نے تصور کیا تھا کہ تورا بورا پر کارپٹ بمباری کے بعد امریکن فوجیوں کے بھیس میں دجالی سائنس دان افغانستان کے علاقے واخان میں پہنچے ہوں گے اور طویل گہرے غاروں میں ایسے آلات لگائے ہوں گے جو کی زمین کے مقناطیسی لہروں میں خلل اندازی پیداکرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے اور ان سائنسی یا مقناطیسی آلات کو بذریعہ سٹیلائیٹ ریموٹ سے کنٹرول کیا جا سکتا ہوگا ۔پھر ان دجالی سائنس دانوں نے امریکہ یا اسرائیل میں بیٹھ کر یہ تجربہ کیا ہوگا جس کی کامیابی کے نتیجے میں کشمیر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ایک خوفناک اور تباہ کن زلزلہ آیا تھا۔
جو لوگ افغانستان کے مذکورہ پہاڑی مقامات دیکھ چکے ہیں وہ میری اس بات کی تصدیق کریں گے کہ واخان اور ملحقہ پہاڑوں میں میلوں لمبے قدرتی غار ہیں جن کی انتہا کا اندازہ لگا نا ابھی انسانی بس سے باہر ہے اور مجھے یقین ہے کہ سائنسی آلات کی مدد سے دجالی سائنس دان ایسی گہرائی تک جا پہنچے ہوں گے جہاں تک کوئی انسان نہ جا سکا ہوگا۔ یہ کوئی مفروضہ نہیں ہے ان مقناطیسی لہروں اور دیگر تجربات کے بارے میں انگلش لینگویج میں تو بہت کچھ شائع ہو چکا ہے۔
البتہ اردو زبان میں پڑھنا ہو تو میں مفتی ابولبانہ شاہ منصور کی تحقیقی کتاب دجال تجویز کرتا ہوں یہ کتاب الفلاح کراچی سے شائع ہوئی ہے اور اس میں امام مہدی کے ظہور۔ فتنہ دجال اور عیسیٰ علیہ السلام کی آمد پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے یوں یہ کتاب دور قدیم کی اسلامی ہدایات و معلومات اور دور جدید کی تحقیقات کا حسین مرقع بن گئی ہے۔
اپنے اختتامی کلمات میں میں اپنے مسلم بھائیوں اور بہنوں سے یہی درخواست کروں گا کہ آپ جدید علوم یعنی کہ ماڈرن ایجوکیشن اینڈ ٹیکنالوجی ضروربہ ضرور حاصل کریں مگر ساتھ ہی ساتھ قرآن حکیم پر تدبر کرنے کی عادت کو اپنائیں اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر غورو فکر بھی کیا کریں۔
::وما علینا الالبلاغ

Wednesday, 20 October 2010

" تبدیلی اور انقلاب بغیر قیمت دیے نہیں آتے "

" تبدیلی اور انقلاب بغیر قیمت دیے نہیں آتے "

شیخ عبدالعزیز بن باز کے فرزند شیخ احمد عبدالعزیز بن باز




نمازوں کے لئے مجبورکرنا کیا جائز ہے؟

شیخ احمد نے محکمہ امر بالمعروف کو چیلنج کیا ہے کہ وہ شریعت سے اس بات کا ثبوت پیش کریں جس کے ذریعے (بازار اور آفس زبردستی بند کروا کر) وہ عوام کو مخصوص وقت میں ہی نماز پڑھنے کا پابند کرتے ہیں۔ شیخ احمد کہتے ہیں کہ نماز کیلئے لوگوں کو تلقین کرنا ایک اچھی بات ہے تاکہ لوگ غفلت سے خبردار رہیں۔ لیکن پہلے تو یہ مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں پر زبردستی کی جائے اور نماز اُسی وقت پر نہ پڑھنے والوں کو سزا دی جائے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ میں نے سات سال کے عرصے میں امر بالمعروف والوں کو کئی بار تحریری طور پر توجہ دلائی یہ پہلی بار نہیں ہو رہا ہیکہ مجھ پر ٹکراؤ کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ایسا کر کے امربالمعروف کے بعض لوگ لوگوں کی عزت اور آزادی کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ یہ مسئلہ ہر موقع پر زیر بحث آنا چاہیے۔ تیسری بات یہ ہیکہ مجھ پر شہرت پسندی کا الزام دراصل ایسا تیار حربہ ہے جسکے ذریعے وہ اُن حقیقی مسائل اور نظریات کو نظر انداز کر ڈالتے ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ چوتھی بات یہ ہیکہ یہ مسائل آج تک حل نہیں کئے گئے شاید اسلئے کہ ان پر ابھی تک کسی نے توجہ نہیں دلائی۔
فتویٰ وحی نہیں ہوتا
شیخ احمد بن باز پران کے والد کے فتوؤں کے خلاف رائے دینے کا الزام ہے ۔ اس الزام کو انہوں نے ردّ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والدِ مرحوم کے فتوے مخصوص حالات اور وقت کے تقاضے کے مطابق تھے۔ کسی بھی چیز کو اس کی حقیقت یا حقیقی واقعہ کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے۔ چونکہ ہر واقعہ وقتی ہوتا ہے اور اس کی نوعیت، وقت ماحول اور افراد کے ساتھ ہی بدل جاتی ہے اس لئے حالات بدلتے ہی فتوے بھی مختلف ہو جاتے ہیں۔

امام احمد بن حنبل (رحمۃ اللہ علیہ) کے ایک ہی عنوان پر نو مختلف فتوے موجود ہیں۔ امام شافعی (رحمۃ اللہ علیہ) کے بھی ایک ہی چیز کے بارے میں نئے اور پرانے مختلف فتوے موجود ہیں اور دوسرے اماموں کے ایسے کئی فتوے موجود ہیں جو ایک ہی مسئلہ پر ہوتے ہوئے ایک دوسرے سے مختلف ہیں اورکئی ائمہ سلف نے اپنی راے سے رجوع بھی کیا ہے۔ لہذا حالات کی نوعیت کے ساتھ ہی فتوے کا اطلاق بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔ خود میرے والد کے ایک ہی مسئلہ پر دو مختلف نئی اور پرانی رائیں موجود ہیں جیسے کے ٹیلیویژن کے بارے میں انہوں نے پہلے یہ فتویٰ دیا کہ یہ حرام ہے، بعد میں رائے بدلی اور یہ فتوی دیا کہ ٹی-وی ایک مشین کی طرح ہے جس کا حلال یا حرام ہونا اس کے استعمال پر منحصر ہے۔ میرے والد کے وہ فتوے جن میں اختلاف ہے کسی مخصوص شخص اور مخصوص حالات یا مخصوص اسباب کی روشنی میں تھے جو ضروری نہیں کہ وہی کسی دوسرے شخص کیلئے قابل اتباع ہوں۔ان فتوؤں کو عمومی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
کیا ہر غیر مسلم کافر ہے؟

لفظ کافر کو عمومی طور پر ہر اہل کتاب کیلئے استعمال کرنا غلط ہے۔ قرآن و حدیث میں کہیں بھی اہلِ کتاب کو کافر نہیں قرار دیا گیا۔ کافر اس شخص کیلئے لاگو ہوتا ہے جس کو اسلام کی حقیقت پہنچا دی جائے اور وہ سچ کو پانے کے بعد بھی ردّ کردے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آج دنیا کو واقعی وہی اسلام پہنچ رہا ہے جو حقیقتاََ اسلام ہے یا اس کی مسخ شدہ شکل پہنچ رہی ہے؟

عورتوں کا کار چلانا

جہاں تک عورتوں کے کار چلانے کا تعلق ہے میرے والد نے جس وقت اس کے حرام ہونے کا فتویٰ دیا تھا اُس وقت کے حالات اور تھے آج وہ حالات نہیں رہے۔ آج اس فتوے پر پھر سے نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ جس وقت اسے حرام قرار دیا گیا تھا اس وقت کے حالات شاید بہت سارے لوگوں کے علم میں نہیں ہیں۔ 1990ء کا وہ دور دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے زیادہ نازک دور تھا۔ صدام کے کویت پر قبضے اور امریکی فوجوں کی خلیج میں آمد نے ایک غیر یقینی تشویشناک صورت حال سے دوچار کر دیا تھا۔اور ٹیلیویژن بھی اسی زمانے میں غیر معمولی ترقی کر رہا تھا۔ ایسے پیچیدہ حالات میں اچانک کچھ عورتوں کا سڑک پر کار چلا کر احتجاج کرنا ایک اچنبھے میں ڈالنے والی حرکت تھی۔ اپنے مسائل کو پیش کرنے اور احتجاج کرنے کا یہ نیا طریقہ غیر اخلاقی اور نا قابل قبول تھا اور ہماری سماجی اقدار کے خلاف بھی ۔ ایسے وقت میں جبکہ سیاسی صورت حال دھماکو تھی اور جنگ سر پر منڈلا رہی تھی ، بم کے خوف سے لوگوں میں ماسک تقسیم کئے جارہے تھے، یہ اندیشہ بڑھتا جارہا تھا کہ کہیں ایک خارجی دشمن کی وجہہ سے ہم لوگ داخلی طور پر تقسیم نہ ہو جائیں ایسے وقت میں بے شمار ایسے لوگ بھی دارالافتاء پر احتجاج کیلئے جمع ہو گئے تھے جن کو متوع کہتے ہیں۔ اس وقت دارالافتاء کے اندر چند علماء تھے جن میں میرے والد بھی تھے۔ ایسے وقت میں میرے والد عبدالعزیز بن باز نے عورت کا کار چلانا حرام قرار دیا ۔ اس فتوے کو ان حالات کے پس منظر کے بغیر نہیں دیکھا جا سکتا۔
فتوؤں کا کھیل

آج کل فتوؤں کا دنیا میں ایک کھیل بن گیا ہے جس پر روک لگانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے اسلاف کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ نہ تو وہ اس قدر سوالات کیا کرتے تھے اور نہ اس طرح فتوے دیا کرتے تھے۔ یہ ہم ہی ہیں جنہوں نے فتوؤں کو کھیل بنا دیا ہے۔ ہر شخص نے انفرادی طور پر فتوے دینا شروع کر دیا ہے۔ کچھ فروعی مسائل ایسے ہیں جن کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دے دی گئی ہے اور ان کی حیثیت ایسے فرض یا واجب کی طرح کر دی گئی ہے جن کو تبدیل کیا ہی نہیں جا سکتا حالانکہ انکی حیثیت فروعی ہے جن پر علماء کا مدت دراز سے اختلاف ہے۔ جن مسائل پر آج ہم کثرت سے گفتگو کرتے ہیں ان مسائل کی اکثریت اسی قسم کے فروعی مسائل سے ہے جن کو اتنی ہی اہمیت یا وزن دینا چاہیے جو ان کی واقعتاً ہے۔
کیا آج تجدید فقہ کی ضرورت ہے؟

جی ہاں! آج ضرورت ہے ایسے مدارس کی جہاں شریعت کے وسیع ترمقاصد کی تکمیل کیلئے فقہی تحقیق کی ضرورت ہے۔ جہاں مسائل کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے۔
مذہبی شدّت پسندی

آج کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اپنے دینی اور فقہی عقائد پر انتہا پسندی پر اُترآئے ہیں۔ دوسروں پر اپنا اصول مسلّط کرنا چاہتے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں دنیا آج بھی وہی ہے جوآج سے ساٹھ ستّر سال پہلے تھی۔ اصلاح اور دعوت کے کام کیلئے افہام و تفہیم کے راستے کھولنے اور ذہن و دل کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ تحمل اور ضبط کے بغیر یہ کام نہیں ہوگا ۔ یہ سعی کئی قربانیاں اور وقت چاہتی ہے۔ ان امور پر توجہ کرنے کی زیادہ ضرورت ہے جو اہمیت کے اعتبار سے زیادہ اہم ہیں۔ (شیخ احمد یہ تمام باتیں اس سوال کے جواب میں کہہ رہے تھے کہ: کیا ان مسائل پر بھی فتوے دینا ضروری ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے محض رحم کی بنیاد پر ذکر کرنا مناسب نہ سمجھا، یعنی کئی ایسے مسائل جن پر شریعت نے تو خاموشی اختیار کی لیکن لوگوں نے ان پر حلال و حرام کی بحث شروع کر دی)۔
لوگ لکیر کے فقیر ہوتے ہیں

شیخ احمد کی جن لوگوں نے کردارکشی کرنے کی کوشش کی ، ان کا نام یا حوالہ دیئے بغیر کہا کہ : “اصل مسائل پر توجہ دلانے والے پر باغی ، آزاد اور سیکولر وغیرہ ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ لیکن یہ طئے ہے کہ کوئی تبدیلی اور ریفارم قیمت دئیے بغیر نہیں آتی۔ جو ریفارم کیلئے اُٹھے اُسے یہ تہمتیں اور الزامات قیمت کے طور پرسہنے ہی ہیں۔ اور جو لوگ ایسے الزامات دھرتے ہیں وہ سطحی عقل کے لوگ ہوتے ہیں۔ نہ اُن کا تعلیمی معیار ہوتا ہے اور نہ ان میں اتنی ذہانت ہوتی ہے کہ وہ تعمیری تنقید کے عمل کو سیکھیں اور برتیں۔ اور نہ ان میں افہام و تفہیم کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اسلئے یہ لوگ اختلاف الرائے رکھنے والے کی فوری طور پر کافر ، باغی ، ایجنٹ وغیرہ کی درجہ بندی کر دیتے ہیں اور اس طرح کی اصطلاحات تراش لیتے ہیں۔ یہ بہت پرانی روش ہے۔ لیکن آج حالات بدل رہے ہیں اب لوگ پڑھتے بھی ہیں اور گفتگو بھی کرتے ہیں ہیں۔ اندھی تقلید کرنے کی روش اب بدل رہی ہے۔
دار الکفر اور دار الاسلام کی بحث

سعودی عرب ہی کے ایک عالم نے شیخ احمد بن عبدالعزیز بن باز کے 2003ء میں شائع شدہ الشرق الاوسط کے ایک مضمون کے جواب میں اپنا سخت موقف اختیار کرتے ہوئے مذہب اور سیکولرزم کے نازک فرق کو نظرانداز کرتے ہوئے یہ لکھا کہ :

” جسطرح رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ہجرت کے بعد مکہ مکرمہ میں مشرکین کی حکومت رہی اور مسلمانوں کو ان کے دین کی دعوت کے حق سے محروم کر دیا گیا۔ اسی طرح کی جہاں بھی ایسی ریاست جس میں شرک اور کفر کی حکومت ہوگی وہ دارالکفر کہلائے گا اور موصوف نے لکھا تھا کہ دارالکفر یا دارالاسلام محض اصطلاحات نہیں بلکہ نص سے ثابت ہیں”۔

اس کے جواب میں شیخ احمد بن باز نے کہا کہ” دارالاسلام یا دارالکفر کی درجہ بندی دراصل ایسی اصطلاحات ہیں جو اجتہادی ہیں ۔ جن لوگوں نے بھی ان اصطلاحات کو رائج کیا وہ ان کی ذاتی سوچ و فکر یا ذاتی رائے ہے۔ آج کے عہد میں ان فقہی اصطلاحات کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ درحقیقت صدیاں گزرجانے کے بعد آج بھی ہم کئی ایسے خیالات اور اصطلاحات کو برت رہے ہیں جن کا نہ قرآن سے کوئی ثبوت ہے اور نہ وہ آج کے حالات سے کسی قسم کی مطابقت رکھتے ہیں۔ جس دور میں مسلمانوں کی حکومت کو دارالاسلام اور غیر مسلموں کی حکومت کو دارالکفر کہا جاتا تھا آج وہ دور باقی نہیں رہا اب کسی کو دارالاسلام یا دار الکفر قرار دینا مشکل ہے۔ ان اصطلاحات کو اسلئے بھی منطبق نہیں کیا جا سکتا کہ اب حکومت کا تصور الگ ہے۔ اس میں ریاست ، قوم، شہری، مختلف طرزِحکومت ، طریقہ انتخاب ، پارلیمنٹ، مجالس نمائندگان، ملکی اور عالمی تنظیمیں ایک ریاست کے تصور میں شامل ہیں۔ مثال کے طور پر لبنان کو لیجئے جہاں صدر اگرا یک مذہب کا ہو تو وزیر اعظم دوسرے مذہب کا ہوتا ہے۔ اسپیکر تیسرے مذہب کا ہوتا ہے۔ (وہاں مسلمان کرسچین اور یہودی سارے مل کر رہتے ہیں مسلمانوں میں بھی شیعہ سنی بڑی تعداد میں ہیں اس لئے قانون یہ بنا دیا گیا کہ صدر ، وزیراعظم اور اسپیکر مختلف مذاہب کے ہوں گے تا کہ تمام مذاہب کا حکومت کی تشکیل میں برابر کا حصہ رہے)۔ اسلئے اب لبنان کو قدیم اصطلاحات کی بنیاد پر کیا درجہ دیا جائے گا؟ دارالکفر یا دار الاسلام؟۔

آج ہم کو نئی فقہی نظریات کی تخلیق کرنے کی ضرورت ہے، جوحکومت، قوم، وطن سے وفاداری، عالمی تعلقات اور عالمی تنظیموں کا صحیح تصور پیش کریں، ایسا تصورجسے سماجی، سیاسی اور دانشوری کے زاویہ سے دیکھا جائے۔

آج ہمیں انتفادہ کی ضرورت ہے (جس طرح فلسطینیوں نے میدان کارزار میں انتفادہ کیا اسی طرح کا ) ایسا انتفادہ جو دانشورانہ اور علمی ہو۔ اس کے لئے ورکشاپس، یونیورسٹیوں میں تحقیق اور نئی فقہی تالیف کی ضرورت ہے جس کے ذریعے آج کی تیزی سے تغیر پذیر تہذیبی نشیب و فراز کا جائزہ لیا جائے۔ ہمیشہ کی طرح (پرانی کتابوں اور پرانے اصولوں کو) کاپی پیسٹ نہ کیا جائے جسطرح کہ اسلامی معاشیات کی کتابوں میں کیا جاتا ہے۔ آج کی دنیا نے کئی اہم تہذیبی اورانسانی کارنامے انجام دئیے ہیں ، صنعتی انقلاب سے لے کر آج کے ڈیجیٹل انقلاب تک وہ وہ تبدیلیاں آچکی ہیں جو پہلے ہزاروں سال میں نہیں آئی تھیں۔

ہم کو ایک لمحے کے لئے رک کر سوچنا ہوگا اور کئی چیزوں پر از سرِنو غور کرنا ہوگا،اور ایسے نئے اصول وضوابط وضع کرنے ہونگے جو شریعت کی کسوٹی اور مقصد کی عکاسی کریں۔ ہم محض خاموش تماشائی یا ان ترقیوں کے محض خریدنے والے بن کر نہ رہیں بلکہ آگے بڑھیں اور مستقبل کیلئے خود بھی کچھ اقدام کریں ۔ ہم ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے جیتے ہیں ، ہمارے ایجنڈے میں وہی مسائل ہوتے ہیں جو فوری طور پر پیش آتے ہیں (مستقبل کی منصوبہ بندی ہمارے لائحہ عمل میں شامل نہیں ہوتی)۔



شیخ احمد بن باز نے ایک اور اچھی خبر سنائی کہ سعودی عرب کے موجودہ فرمانروا مَلِک عبداللہ بن عبدالعزیز خود ایک تبدیلی اور انقلاب کے خواہاں ہیں اور اس کے لئے انہوں نے انقلابی اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔ شیخ احمد نے یہ اقرار کیا کہ ان کی دعوتی اور اصلاحی کوششوں میں مَلِک عبداللہ بن عبدالعزیز ہی کی ہمت
افزائی کے نتیجے میں اضافہ ہوا ہے۔