Monday, 19 July 2010

اللہ لفظ کہنے سے ذہنی امراض دور ہوجاتے ہیں

ہالینڈ کے اسکالر ، پروفیسر ، فان دیر ہوون نے کہا ہے کہ:
 قرآن مجید کی تلاوت خصوصاً لفظ "اللہ" کہنے سے ذہنی امراض دور ہوجاتے ہیں اور انسانی اعصاب سکون محسوس کرنے لگتے ہیں ۔
انہوں نے المدینہ اخبار کو بتایا کہ لفظ "اللہ" میں موجود پانچوں حروف کی حیرت انگیز تاثیر ریکارڈ کی گئی ہے ۔ یہ انسانی فکر کے دسترس سے باہر ہے ۔ عربی زبان میں حرف "الف" کا تلفظ سینے کے اوپر والے حصے سے ہوتا ہے ۔ ادائیگی کی شروعات ہوتے ہی تنفس موزوں ہونے لگتا ہے ۔
ہالینڈ کی زبان میں عربی کے حرف الف کی جگہ "اے" (A) آتا ہے ۔ عربی کے حرف "ل" کا معمولی سا حصہ غیر ملکی زبانوں میں بھی پایا جاتا ہے ۔ اس کی ادائگی پر زبان کی نوک پر جبڑے کا بالائی حصہ حرکت میں آتا ہے اور دو سیکنڈ سے کم عرصے کیلئے توقیف کا عمل ہوتا ہے ، اس کے تیزی کے ساتھ تکرار سے انسان زیادہ طاقتور اور زیادہ شفاف حرف "ہ" کی ادائگی کے لیے تیار ہوجاتا ہے ۔ عربی کے "ہ" کے بالمقابل ہالینڈ کی زبان میں حرف "ایچ" (H) آتا ہے ۔ یہ حرف پھیپڑوں کو دل سے جوڑ کر دل کی حرکت منظّم کردیتا ہے ۔ دس سے ایک ہزار بار "اللہ" کہنے سے ذہنی یا اعصابی مرض میں مبتالا افراد راحت محسوس کرتے ہیں۔


(بشکریہ اردو نیوز و المدینہ اخبارات ، جدہ ، سعودی عرب)

Thursday, 15 July 2010

اقوال صحابہ کی حجیت

اقوال صحابہ کی حجیت


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے صحابہ میں سے بغض علم، فقہ اور فتوای وغیرہ میں بہت مشھور ہوئے- ان کے کئے ہوئے فیصلے اور کس فتوے بذریعہ روایت ہم تک پہنچے ہیں- اگر کسی مجتہد کو کتاب و سنت اور اجماع سے کسی مسئلے سے کسی مسئلے کے لیے دلیل نہ ملے تو کیا وہ صحابہ کے ان اقوال، فتاوی جات اور فیصلوں سے حجت لے سکتا ہے یا نہیں؟ تو اس پر کچھ تفصیل نیچے ہے-

٭ صحابی کی وہ بات جو اجتہاد اور رائے کے ذریعے نہیں کی جاسکتی علماء کے نزدیک حجت ہے کیونکہ اس میں یہ احتمال ہے کہ یقینا یہ بات صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی سنی ہوگی۔

٭ صحابی کے جس قول پر اجماع ہوچکا ہو علماء اسے شرعی حجت قرار دیتے ہیں-

٭ صحابی کا ایسا قول جو رائے اور اجتہاد پر مبنی ہو کیا وہ حجت ہے؟

اس میں علماء نے اختلاف کیا ہے:

1/ بعض علماء اسے شرعی حجت قرار دیتے ہیں- ان کا کہنا ہے کہ جب کوئی مسئلہ عتاب و سنت اور اجماع سے نہ مل سکے تو صحابی کے قول پر عمل کرنا چاہیے کیونکہ اگرچہ وہ بات رائے پر مبنی ہے لیکن ان کی رائے ہماری رائے سے بہرحال بہتر ہے وہ اس لیے کہ وہ نزول وحی کے زمانے میں موجود تھے، تشریح احکام کی حکمت اور اسباب نزول سے واقف تھے، اور ایک لمبا عرصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں بھی رہے تھے- ان تمام وجوہات کی بنا پر ان کی آراء کو دوسروں کی آراء پر بڑی فضیلت حاصل ہے-

2/ اوربعض علماء اسے شرعی حجت نہیں گردانتے- ان کا کہنا ہے کہ ہم صرف کتاب و سنت کے دلائل پر عمل کے پابند ہیں اور صحابی کا قول ان میں شامل نہیں-

ہمارے علم کے مطابق راجح بات یہ ہے کہ اگرچہ صحابی کے ایسے قول پر جو اجتہاد و رائے پر مبنی ہو عمل واجب نہیں لیکن اپنی رائے پر ان کی رائے کو ترجیح دینا افضل ہے جیسا کہ اس کی وجوہات پہلے قول کےضمن میں بیان کی جا چکی ہیں-

اب ہم فقہ کے اماموں کی اس بارے میں رائے ملاحظہ کریں گے:

(ابو حنیفہ رحمہ اللہ):
اگر اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں مجھے کوئی چیز نہیں ملتی تو میں صحابہ کے اقوال اختیار کرلیتا ہوں-
[ ابو حنیفہ للشیخ ابی زھرۃ (ص/309)]

(مالک رحمہ اللہ):
 انہوں نے اپنی کتاب موطا میں بہت سے صحابہ کے فتاوی جات نقل کیے ہیں اور اکثر مسائل میں انہی پر اعتماد کیا ہے۔
[ مالک للشیخ ابی زھرۃ (ص/259)]

(شافعی رحمہ اللہ):
 اگر مجھے کتاب و سنت یا اجماع یا اس کے ہم معنی کسی دوسری چيز میں جو حکم لگانے والی ہو یا اس کے ساتھ قیاس ہو، کوئی چیز نہیں ملتی تو میرا مسلک یہی ہے کہ صحابہ میں سے کسی کے قول کو اختیار کرلیا جائے-
[ الرسالۃ للشافعی (ص/598)]

(احمد بن جنبل رحمہ اللہ):
 میں نے ہر مسئلے میں یا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے جواب دیا یا صحابہ یا تابعین کے کسی قول سے-
[ اصول الفقہ لابی زھرۃ (ص/215) ، اصول الفقہ و ابن التیمیہ (ص/356)]

اقتباس: فقہ الحدیث

تالیف: حافظ عمران ایوب لاھوری حفظ اللہ

اجماع

اجماع


قرآن و سنت کے بعد فقہ کے ذیلی ماخذ میں سے پہلا ماخذ اجماع ہے اور جمہور علماء کے نزدیک یہ ماخذ دیگر ماخذ سے قوت اور حجیت سے زیادہ قوی ہے۔

اجماع کی تعریف:

لغوی اعتبار سے تو اجماع "عزم، پختہ ارادہ اور کسی بات پر متفق ہونے" کو کہتے ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے۔

لاَ صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يُجْمِعْ قَبْلَ الْفَجْرِ
"اس شخص کا روزہ نہیں ہوگا جو فجر سے پہلے ہی روزہ رکھنے کی نیت نہ کرے"
(صحیح: النسائی، کتاب الصیام: باب ذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ حَفْصَةَ فِي ذَلِك:2348 ، 2349)

اور قرآن میں ہے کہ:

[فَأَجْمِعُواْ أَمْرَكُمْ وَشُرَكَاءكم]
"تم اپنا معاملہ اپنے شرکاء سے مل کر پختہ طور پر طے کرو"
(سورہ یونس:71)

اصطلاحی اعتبار سے اجماع کی تعریف یہ کی جاتی ہے:

(ھو اتفاق المجتہدین فی عصر من الغصور علی حکم شری بعد وفاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم بدلیل)
"اجماع سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کسی خاص دور میں (امت اسلامیہ کے) تمام مجتہدین کا کسی دلیل کے ساتھ کسی شرعی حکم پر متفق ہوجانا ہے-"
[ الارشاد المفحول (1/285)، المستصفی الغزالی (1/183)]

:اجماع کی شرائط

٭ مطلوبہ مسئلے پر متفق ہونے والے افراد مجتہد ہوں ورنہ اجماع معتبر نہ ہوگا۔

٭ مجتہدین کے اتفاق سے مراد تمام مجتہدین کا اتفاق ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ صرف ایک شہر والے یا ایک بستی کے علماء ہی کسی مسئلے پر جمع ہوں کیونکہ ایک کی مخالفت بھی اجماع کے منعقد ہونے مین رکاوٹ ہے-

٭ تمام مجتہد مسلمان ہوں۔

٭ جب کسی مسئلے پر تمام مجتہد متفق ہوجائيں تو پھر ضروری ہے کہ اتفاقی فیصلہ عمل میں آجائے- علاوہ ازیں یہ شرط نہیں ہے کہ تمام مجتہدین کی موت بھی اس اتفاق پر ہی ہو-

٭ اجماع کے لیے ضروری ہے کہ کسی شرعی حکم پر اتفاق ہو نہ کہ طب، ریاضی یا لغت سے متعلقہ کسی مسئلے پر ہو۔

٭ صرف وہی اجماع قابل قبول ہوگا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفات کے بعد ہوا ہو-

٭ اجماع کے لیے کسی شرعی دلیل کا ہونا ضروری ہے جس پر سب متفق ہوئے ہوں محض اپنی خواھش پر کیا جانے والا اجماع معتبر نہیں ہوگا۔

اجماع کی مثالیں:

٭ مسلمان عورت کا کسی غیر مسلم مرد سے نکاح نہیں ہوسکتا

٭ پھوپھی او ر بھتیجی، خالہ اور بھانجی کو بیک وقت نکاح میں نہیں رکھا جاسکتا

٭ مفتوحہ اراضی کو فاتحین کے درمیان دیگر اموال غنیمت کی طرح نہیں بانٹا جائے گا

٭ اگر سگے بھائی، بہن نہ ہوں تو باپ کی طرف سے بننے والے بھائی بہن کو ان کا حصہ دیا جائے گا۔

اجماع کی حجیت:

جمہور علماء کے نزدیک اجماع حجیت ہے اور وہ حجیت اجماع کے جو دلائل پیش کرتے ہیں ان میں سے چند حسب ذیل ہیں:

٭ ارشاد باری تعالی ہے کہ:

{وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءتْ مَصِيرًا}
"اور جس نے ہدایت واضح ہوجانے کے بعد رسول کی نافرمانی کی اور مومنین کے راستے کے علاوہ کسی دوسرے راستے کی پیروی کی تو اسے ہم اسی کی طرف لے جائيں گے جدھر وہ خود گیا اور اسے جہنم میں داخل کردیں گے جو بہت بری جائے قرار ہے-"
(النساء:115)

٭ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

{ إن أمتي لا تجتمع على ضلالة }
" بلاشبہ میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہوگی-"
(صحیح: ابن ماجہ، کتاب الفتن: باب السواد الاعظم3950)

٭ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

{ لا نزال طائفۃ من امتی ظاھرین علی الحق}
" میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر غالب رہے گا-"
(صحیح بخاری: کتاب التوحید: باب قول اللہ تعالی [ انما قولنا لشیئی اذا اردناہ}، 7459)

اجماع کی اقسام:

٭ اجماع صریح: اس سے مراد یہ ہے کہ تمام مجتہدعلماء کسی مسئلے پر اس طرح متفق ہوں کہ وہ اس کے متعلق صراحت سے اظہار کریں حواہ قول سے کریں یا افتاء سے کریں یا قضاء سے کریں- یہ اجماع بالاتفاق حجت ہے-

٭ اجماع سکوتی: اس سے مراد یہ ہے کہ جب کوئی مسئلہ پیش کیا جائے تو چند اہل اجتہاد علماء تو اس پر متفق ہوجائيں لیکن دیگر مجتہدین اس پر خاموشی اختیار کریں اور کوئی اعتراض نہ کریں- یا اجماع احناف کے نزدیک حجت ہے جبکہ امام مالک رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ اسے اجماع تسلیم نہیں کرتے۔

اقتباس: فقہ الحدیث

تالیف: حافظ عمران ایوب لاھوری حفظ اللہ

Monday, 12 July 2010

تقلید کا مفہوم ، تاریخ ، حکم اور نقصانات

تقلید کا مفہوم ، تاریخ ، حکم اور نقصانات

تقلید کی لغوی تعریف

دیوبندیوں کی لغت کی مستند کتاب ”القاموس الوحید“ میں لکھا ہے:
1:-
 قلّد۔۔فلاناً: تقلید کرنا،بنادلیل پیروی کرنا،آنکھ بن کر کے کسی کے پیچھے چلنا
 (القاموس الوحیدص:۶۴۳۱)

2:-
التقلید:بے سوچے سمجھے یا بنادلیل پیروی،نقل،سپردگی
 (القاموس الوحیدص:۶۴۳۱)
3:-
امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"اما التقلید فاصلہ فی الغة ماخوزمن القلادہ التی یقلد غیربہاومنہ تقلیدالہدی فکان المقلد جعل زلک الحکم الذی قلد فیہ المجتھد کالقلادة فی عنق من قلدہ۔

"یعنی تقلیدلغت میں گلے میں ڈالے جانے والے پٹے سے ماخوز ہے اور وقف شدہ حیوانات کے گلے میں طوق ڈالنا بھی اسی میں سے ہے، تقلید کو تقلید اس لئے کہتے ہیں کہ اسمیں مقلد جس حکم میں مجتہد کی تقلید کرتا ہے، وہ حکم اپنے گلے میں طوق کی طرح ڈالتا ہے۔"
(ارشاد الفحول ص:۱۴۴)
4:-
اسی طرح غیاث الغات میں تقلید کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:
”گردن بنددرگردن انداختن وکار بعھد کسی ساختن وبر گردن خود کار بگرفتن و مجاز بمعنی پیروی کسی بے در یافت حقیقت آن“

یعنی تقلید گلے میں رسی ڈالنے یا کسی کے زمےکوئی کام لگانے کا نام ہے۔اسی طرح اپنے زمہ کوئی کام لینابھی تقلید کہلاتا ہے ، اس کے مجازی معنیٰ یہ ہیں کی حقیقت معلوم کیے بغیرکسی کی تا بعداری کی جائے۔
 (غیاث الغات ص:۳۰۱)

تقلید کی اصطلاحی تعریف

1:-
حنفیوں کی معتبر کتاب ”مسلم الثبوت“میں لکھا ہے:
”التقلید: العمل بقول الغیرمن غیر حجةکا خذ العامی والمجتھد من مثلہ، فا لرجوع الی النبی علیہ الصلاٰة والسلام او الی ا الجماع لیس منہ و کذا العامی الی المفتی والقاضی الی العدول لا یجاب النص ذلک علیھما لکن العرف علی ان العامی مقلد للمجتھد، قال الامام: وعلیہ معضم الاصولین“ الخ
تقلید کسی دوسرے کے قول پر بغیر (قرآن و حدیث کی) دلیل کے عمل کو کہتے ہیں۔جیسے عامی (کم علم شخص) اپنے جیسے عامی اور مجتھدکسی دوسرے مجتھد کا قول لے لے۔پس نبی علیہ الصلاة اولسلام اور اجماع کی طرف رجوع کرنا اس (تقلید) میں سے نہیں۔ اور اسی طرح عامی کا مفتی کی طرف رجوع کرنا اور قاضی کا گواہوں کی طرف رجوع کرنا(تقلید نہیں) کیونکہ اسے نص (دلیل) نے واجب کیا ہے لیکن عرف یہ ہے کہ عامی مجتہد کا مقلد ہے۔امام (امام الحرمین الشافعی) نے کہا کہ” اور اسی تعریف پر علمِ اصول کے عام علماء(متفق)ہیں“۔ الخ
(مسلم الثبوت ص۹۸۲طبع ۶۱۳۱ھ وفواتح الر حموت ج۲ ص۰۰۴)
2:-
امام ابن ہمام حنفی (متوفی۱۶۸ھ) نے لکھا ہے:

”مسالة:التقلید العمل بقول من لیس قولہ احدی الحجج بلا حجة منھا فلیس الرجوع النبی علیہ الصلاة والسلام واالاجماع منہ“
مسئلہ:تقلید اس شخص کے قول پر بغیر دلیل عمل کو کہتے ہیں جس کا قول (چار) دلائل میں سے نہیں ہے۔پس نبی علیہ الصلاةوالسلام اوراجماع کی طرف رجوع تقلید میں سے نہیں ہے۔
 (تحریر ابنِ ہمام فی علم الاصول ج ۳ص۳۵۴)
نوٹ : بلکل یہی تعریف ابنِ امیر الحجاج الحنفی نے کتاب التقریروالتحبیرفی علم الاصول ج ۳ص ۳۵۴،۴۵۴ اور قاضی محمد اعلیٰ تھانوی حنفی نے کشاف الاصطلاحات الفنون ج ۲ص۸۷۱۱ میں بیان کی ہے کہ نبی علیہ الصلاةوالسلام اور اجما ع کی طرف رجو ع کرنا تقلید نہیں (کیونکہ اسے دلیل نے واجب کیا ہے)

3:-
تقلید کی ایک اور مشہور اصطلاحی تعریف یہ کی گئی ہے:

”ھو عمل بقول الغیر من غیر حجة“
کسی دوسرے کی بات پر بغیر (قرآن وحدیث کی) دلیل کے عمل کرنا تقلید ہے۔
 (ارشاد الفحول ص۱۴۴، شرح القصیدة الامالیة لملا علی القاری حنفی و تفسیر القرطبی ۲۱۱۲)
4:-
قاری چن محمد دیوبندی نے لکھا ہے:

”اور تسلیم القول بلا دلیل یہی تقلید ہے یعنی کسی قول کو بنا دلیل تسلیم کرنا، مان لینا یہی تقلید ہے“
 (غیر مقلدین سے چند معروضات ص۱ عرض نمبر ۱)
5:-
مفتی سعید احمد پالن پوری دیوبندی نے لکھا ہے:

کیونکہ تقلید کسی کا قول اس کی دلیل جانے بغیر لینے کا نام ہے۔
 (آپ فتویٰ کیسے دیں گے؟ ص۶۷)
6:-
اشرف علی تھانوی کے ملفوضات میں لکھا ہے:

ایک صاحب نے عرض کیا تقلید کی حقیقت کیا ہے؟ اور تقلید کسے کہتے ہیں؟ فرمایا : تقلید کہتے ہیں: ”اُمتی کا قول بنا دلیل ماننا“ عرض کیا کہ کیا اللہ اور رسول علیہ الصلاةوالسلام کی بات ماننا بھی تقلید ہے؟ فرمایا اللہ اور رسول علیہ الصلاةوالسلام کی بات ماننا تقلید نہیں بلکہ اتباع ہے۔
(الافاضات الیومیہ من الافادات القومیہ ملفوضات حکیم الامت ج۳ص۹۵۱ ملفوض:۸۲۲)
7:-
مفتی احمد یار نعیمی حنفی بریلوی لکھتے ہیں:

مسلم الثبوت میں ہے ، ”التقلید العمل بقول الغیر من غیر حجة“ اس تعریف سے معلوم ہوا کہ حضورعلیہ الصلاةوالسلام کی اطاعت کو تقلید نہیں کہہ سکتے کیونکہ انکا ہر قول دلیل ِ شرعی ہے (جبکہ) تقلید میں ہوتا ہے دلیل ِ شرعی کو نہ دیکھنا لہذا ہم نبی علیہ الصلاةوالسلام کے اُمتی کہلائیں گے نہ کے مقلد۔اسی طرح صحابہ کرام اور ائمہ دین حضورعلیہ الصلاةوالسلام کے اُمتی ہیں نہ کہ مقلداسی طرح عالم کی اطاعت جو عام مسلمان کرتے ہیں اس کو بھی تقلید نہ کہا جائے گاکیونکہ کوئی بھی ان علماءکی بات یا ان کے کام کواپنے لئے حجت نہیں بناتا، بلکہ یہ سمجھ کر ان کی بات مانتا ہے کہ مولوی آدمی ہیں کتاب سے دیکھ کر کہہ رہے ہوں گے۔۔۔
( جاءالحق ج۱ ص۶۱ طبع قدیم)
8:-
غلام رسول سعیدی نے لکھا ہے:

تقلید کے معنی ہیں(قرآن و حدیث کے) دلائل سے قطع نظر کر کے کسی امام کے قول پر عمل کرنا اور اتباع سے مراد یہ ہے کہ کسی امام کہ قول کوکتاب و سنت کہ موافق پا کراور دلائل ِ شرعیہ سے ثابت جان کراس قول کو اختیار کر لینا
(شرح صحیح مسلم ج۵ص۳۶)
9:-
سرفرازخان صفدر دیوبندی لکھتے ہیں:

.اور یہ طے شدہ بات ہے کہا کہ اقتداءو اتباع اور چیز ہے اور تقلید اور چیز ہے
 (المنہاج الواضح یعنی راہ سنت ص۵۳)
10:-
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

قبول قول لا یدری ما قال من این قال و زلک لا یکون علماً دلیلہ قولہ تعالیٰ: فا علم انہ لا الہ الا اللہ، فامر با لمعرفة لا بظن والتقلید۔
تقلید ایسی بات کے ماننے کو کہتے ہیں جس کی حیثیت اور ماخذ معلوم نہ ہو۔ ایسی بات کے ماننے کو علم نہیں کہتے کیونکہ اللہ کا فرمان ہے ”جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ اس (آیت) میں اللہ نے جاننے کا حکم دیا ہے نہ کہ گمان اور تقلید کا ۔
(فقہ اکبر للشافعی رحمہ اللہ ص۰۱)

نوٹ:

بریلویوں،دیوبندیوں اور علمِ اصول کے علماءکی ان تعریفوں سے درج باتیں ثابت ہوتی ہیں:

1:-کسی دوسرے شخص کی بات پر (قرآن و حدیث کی) دلیل کے بغیر عمل کرنا ”تقلید “ ہے۔
2:-احادیث پر عمل کرنا تقلید نہیں۔
3:-اجما ع پر عمل کرنا تقلید نہیں۔
4:-علماءکی بات پر( دلیل جان کر) عمل کرنا تقلید نہیں بلکہ یہ اتباع کہلاتا ہے۔
5:-اسی طرح قاضی کا گواہوں کی طرف اور عامی کا مفتی کی طرف رجوع کرنا بھی تقلید نہیں۔

6:-صرف اس گمان اور قیاس پر امام کی اندھا دھند تقلید کرنا کہ اُس کی بات کتاب و سنت کے مطابق ہو گی باطل ہے کیونک اللہ نے جاننے کا حکم دیا ہے نہ کے گمانوں اور قیاس آرائیوں کا (دیکھئے امام شافعی کی آخری تعریف)۔

مقلدین ہر جگہ یہ شورمچاتے نظر آتے ہیں کہ فلاں غیر مقلد نے اپنے فلاں عالم کی کتاب سے استفادہ کر لیا یا فلاں عالم سے مسئلہ پوچھ لیا اس لئیے وہ اُس عالم کا مقلد بن گیا ہے۔۔۔۔۔

جبکہ آلِ تقلید کے اپنے اکابرین نے تقلید کی جو تعریف کی ہے اُس کے مطابق دلیل کے ساتھ کسی عالم کی بات بیان کرنے یا اس پر عمل کرنے کو تقلید کہتے ہی نہیں۔

ہم مقلدین سے پوچھتے ہیں کہ اگر ایک حنفی شخص تقی عثمانی سے کوئی مسئلہ پوچھتا ہے اور مولانا کے بتا ئے ہوئے مسئلے پر عمل بھی کرتا ہے تو وہ کس کا مقلد کہلائے گا، تقی عثمانی کا یا امام ابو حنیفہ کا؟؟؟ ظاہری بات ہے کہ وہ امام ابوحنیفہ کا ہی مقلد کہلائے گا یعنی کسی عالم سے مسئلہ پوچھنا تقلید نہیں، اگر یہ تقلید ہے تو پھر اسوقت دنیا میں کوئی ایک بھی حنفی موجود نہیں بلکہ سب اپنے اپنے علماء کے مقلد ہیں۔۔۔۔فما کان جوابکم فھوجوابنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔  

Thursday, 8 July 2010

وضع حدیث اور موقف صحابہ رضی اللہ عنہ

وضع حدیث اور موقف صحابہ رضی اللہ عنہ



امیر المومنین عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مسلمان سخت ابتلا اور آزمائش میں گرفتار ہوگئے ملت واحدہ فرقوں میں تقسیم ہوگئی دشمنان اسلام بھی یہی کچھ چاہتے تھے چنانچہ انہیں اپنی کوششیں ثمر آور نظر آنے لگيں۔ مسلمانوں کے باہمی مناقشات نے ان کے پست حوصلوں کو بلند کیا جس سے یہ لوگ برسر عام اسلام کے بنیادی اصولوں کی تضحیک و تذلیل پر اتر آئے-

عبداللہ ابن سبا جو دراصل یہودی تھا اس نے اسلام کو نقصان پہنچانے کی خاطر اسلام کا ظاہری لبادہ اوڑھا تھا- مسلمانوں کے درمیاں اختلاف پیدا کرنے میں اس کی پارٹی کا ہاتھ تھا- اب وہ پارٹی بھی مستحکم ہوچکی تھی اور اہل بیت کی محبت کے پردہ میں وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر سرعام تنقید کرتے تھے کہ خلافت کے اصل حق دار آل رسول تھے جسے صحابہ کرام رض نے زبردستی عصب کرلیا- ظاہر ہے اس قسم کے الزامات کے لئے مواد کی ضرورت تھی مگر ان کے پاس مواد کہاں سے آتا لہذا انہوں نے دین میں جھوٹ کو داخل کیا اور پوری گرم جوشی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف من گھڑت روایات منسوب کیں-
سبائیوں نے اس منحوس امر کے آغاز کے لئے حالات کو سازگار پایا اس لئے کہ اکثر صحابہ کرام دنیا سے رخصت ہوچکے تھے اور جو باقی زندہ تھے ان میں اکثر مدینہ منورہ میں مقیم مسند علمی بچھوائے ہوئے تھے اور اسلام کی حفاظت میں انہیں نقوش پر گامزن تھے جن پر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علکہ وسلم اور اکابر کو پایا تھا لہذا ان کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ سبائیوں کے اس ہلاکت خيز فتنے پر خاموش تماشائی بنے رہتے چنانچہ انہوں نے ان حالات میں اسلام کی حفاطت کا فریضہ اس طرح انجام دیا کہ کذب پردازوں کی کوششیں ان کی موجودگی میں ناکام ثابت ہوئيں۔

 
تحقیق حدیث کا اہتمام
وہ ایسے کہ اہل علم صحابہ کرام نے روایت کو قبول کرنے کے لئے تحقیق کو لازم قرار دیا اور حدیث کے قبول کرنے کا ایک معیار مقرر کیا تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف من گھڑت بات منسوب نہ ہوجائے- جس کی توضیح عبداللہ ابن
عباس رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ اس اصول سے ہوتی ہے کہ فرماتے ہیں:
" ہم جب کسی آدمی سے سنتے کہ وہ قال رسول اللہ کہتا تو ہماری نظریں فورا اس کی طرف اٹھ جاتیں اور ہم کانوں کو اس کی طرف جھکادیتے مگر جب لوگوں نے ہر طرح کی حدیٹیں روایت کرنا شروع کریں تو ہم انہیں حظرات سے حدیث قبول کرتے جن کو ہم جانتے تھے-"
(مسلم:ص 10)

 
صحابہ کرام کے اس موقوف کی ترجمانی اور توضیح مشہور تابعی امام محمد بن سیرین نے کی ہے فرماتے ہیں:

" لوگ سند طلب نہیں کرتے تھے مگر جب (عثمان رض کی شہادت کا) فتنہ رونما ہوا (تو حدیث کے بارے میں سختی کی گئی اور سند کا مطالبہ شروع ہوگیا) وہ کہتے ہیں ہمیں بتاؤ یہ حدیث کس نے روایت کی ہے پھر دیکھا جاتا اگر اس حدیث کے راوی کا تعلق اہل سنت سے ہے تو تو اس کی حدیث قبول کرلی جاتی اہل بدیت کو دیکھا جاتا اگر حدیث کا راوی اہل بدعت سے ہوتا تو اس کی حدیث رد کی جاتی-"
( مسلم، ج 1، ص 11)

یہ اصول صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظم نے وصع کئے تھے بعد والوں نے علم حدیث کو انہیں اصولوں پر مرتب کیا-
جھوٹ سے نفرت

 
یہ اصول اسکی غمازی کرتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم روایت حدیث کے بارے میں بڑے محتاظ تھے اور قطعا پسند نہیں کرتے تھے کہ جھوٹ کا دین میں کجھ دخل ہو وہ ہر حال میں دین کو انہیں خطوط پر برقرار رکھتے تھے جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پایا تھا- یہی وجہ ہے کہ صحیح دین کے خلاف کسی امر کو پاتے تو فورا اس کا تدارک چاہتے اور ایسے کرنے والون کو رد کردیتے (جس کی متعدد مثالیں کتب حدیث میں موجود ہیں) اس لئے کہ انہوں نے دین براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اخذ کیا تھا اور ان کی تربیت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں ہوئی تھی اس لئے ان کی جھوٹ سے نفرت بجا آور قرین قیاس تھی-

پھر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اصل دین سمجھتے تھے اور دین کے لئے انہوں نے بے پناہ قربانیاں دی تھیں بھلا وہ جھوٹ بول کرصحیح دین کو باطل سے مکدر کیے کرسکتے تھے بلکہ وہ حدیث پورے حزم و احتیاط سے روایت کرتے جس میں جھوٹ کا شائبہ تا نہ ہوتا تھا-
مشہور تابعی حمید فرماتے ہیں کہ ہمیں انس رضی اللہ عنہ نے بتایا:
"ہم آپ سے جو حدیثیں روایت کرتے ہیں وہ تمام ہم نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ سے نہیں سنی ہوتیں لیکن ہم ایک دوسرے سے جھوٹ نہیں بولتے-"

حضرت براء فرماتے ہیں:
" ہمارے تمام حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نہیں سنتے تھے کیونکہ ہمارا کاروبار تھا جس میں ہم مشغول رہتے تھے لیکن بات یہ ہے کہ لوگ اس وقت جھوٹ نہیں بولتے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوتا وہ اس تک حدیث پہنچا دیتا جو غا‏ئب ہوتا-"
(المستدرک، ج 1، ص 123)
مشہور تابعی حضرت قتادہ رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
" ایک شحص نے حدیث بیان کی تو کسی نے اس سے پوچھا کیا یہ حدیث آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی"
وہ فرمانے لگے:
" جی ہاں میں نے رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے یا پھر مجھ سے اس شخص نے بیال کی ہے جو جھوٹ نہیں بولتا، اللہ کی قسم نہ ہم جھوٹ بولتے ہیں اور نہ ہی ہم جھوٹ سے واقف ہیں-"
( مفتاح الجنہ ص 37)
ان آثار سے واضح ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا دامن کذب سے پاک تھا بلاشبہ کسی صحابی سے بصحت سند معلوم نہیں کہ اس نے عمدا کسی جھوٹی بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا ہو یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت پر تمام اہل سنت کا اجماع ہے اور اس عدالت سے کوئی ایک بھی مستثنی نہیں ہے-

 
اقتباس: ضعیف اور موضوع روایات


تالیف: محمد یحی گوندلوی حفظ اللہ