Tuesday, 9 July 2013

مکہ میٹرو پراجکٹ کا 2014 میں افتتاح

مکہ میٹرو پراجکٹ کا 2014 میں افتتاح


مکہ میں 62 بلین ریال مالیتی عوامی ٹرانسپورٹ نظام شہریوں کے علاوہ عازمین حج و عمرہ کے ٹرانسپورٹ میں ڈرامائی ارتقاء کا وسیلہ بنے گا۔ اس نظام 
میں 4 لائنوں پر مشتمل میٹرو ریل اور 88 اسٹیشن اور ایک تیز رو بس خدمات نٹ ورک بھی شامل ہوگا۔
مکہ کے مئیر اسامہ البر نے یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایاکہ پراجکٹ کے پہلے مرحلہ کا کام آئندہ سال کے وسط میں شروع ہوگا۔ پراجکٹ کا یہ حصہ 25.5 بلین ریال کے مصارف سے مکمل ہوگا اور اس کی تکمیل میں 3برس لگ جائیں گے۔ مسجد الحرام کے ارد گرد کے علاقوں میں زیر زمین لائنیں بچھائی جائیں گی۔ یہ سلسلہ تیسرے رنگ روڈ کی تعمیر تک جاری رہے گا۔ اس علاقہ سے باہر لائینیں متعلق پلوں پر سے گذریں گے۔
 پراجکٹ کے پہلے مرحلہ میں ام القراء یونیورسٹی سے سیدہ عائشہ مسجد تک 30 کیلو میٹر لائن بچھانے کا عمل مکمل ہوگا۔ ام القراء یونیورسٹی عابدیہ میں قائم ہے۔ مکہ مئیر الٹی کی زیر ملکیت کمپنی البلاد الامین میٹرو ریل پراجکٹ کا تکنیکی جائزہ لیا ہے جس کا نفاذ مکہ ریلوے کمپنی کی جانب سے عمل میں آئے گا۔ اس پراجکٹ پر ایک فرانسیسی مشاورتی کمپنی سستر اور جرمن کمپنی بی ڈبلیو انجینئرس بھی کام کریں گی۔ بس خدمات کو میٹرو نظام سے مربوط کیا جائے گا۔ البر نے مزید وضاحت کی کہ تیز رفتار بس خدمات شہر کے مختلف علاقوں کو ایک دوسرے سے مربوط کریں گی۔ 60 کیلو میٹر کے فاصلہ 160 اسٹیشنوں پر قیام سے طئے ہوگا۔ ان علاقوں میں مقامی بس خدمات کا انتظام ہوگا جہاں میٹرو ریل اسپیڈ بس نٹ ورک نہیں ہوگا۔ مقامی بسیں مسجد الحرام اور ارد گرد کے رہائشی اضلاع تک 65کیلو میٹر کا فاصلہ طے کرے گی۔
 انہوں نے یہ بھی بتایاکہ پبلک ٹرانسپورٹ اسکیم 3مرحلوں میں اور 10سال میں مکمل ہوگی۔ میٹرو نظام کیلئے فیڈر بس خدمات کا آغاز ہوگا۔ مکہ کے گورنر پرنس خالد الفیصل جدہ ہلٹن میں آج پراجکٹ پر 2روزہ ورکشاپ کا افتتاح کریں گے۔ پراجکٹ کے انتظام کی ذمہ دارایاں ایک برطانوی مشاورتی کمپنی انجام دے گی جس کے ساتھ معاہدہ پر دستخط ہوگا۔
گورنر نے اپنے نائب عبدالعزیز الخضائر کی زیر صدارت11 رکنی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور پراجکٹ کی نگہداری اسی کے ذمہ ہوگی۔ البر نے 
مشائر ریلوے اور حرمین ریلوے اسٹیشن کو مربوط کرنے کے ایک پراجکٹ کے نفاذ کے پلان سے بھی آگاہ کیا۔

Wednesday, 3 July 2013

الطاف حسین بھائی - برطانوی پولیس شکنجے میں

 الطاف حسین بھائی - برطانوی پولیس شکنجے میں

عمران فاروق قتل کیس کی تفتیش نتیجہ خیز مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ 
اسی سلسلے میں لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے ایم کیو ایم کے بانی رہنما الطاف حسین سے تفتیش شروع کردی ہے ۔ دو ہفتوں کے اندر الطاف حسین اور ان کی  پارٹی کے دو   رہنماؤں کے گھروں پر پولیس نے چھاپہ مارتے ہوئے بہت سارا مواد حاصل کیا ہے جو عمران فاروق قتل کی تفتیش میں ممکنہ مدد دے گا۔ لندن پولیس الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزام کی بھی تفتیش کررہی ہے اور اس سلسلے میں ان کے گھر سے بھاری مقدار میں رقوم بھی برآمد کرچکی ہے۔ اس ضمن میں لطاف حسین او ر دوسرے پارٹی رہنماؤں کے بینک اکاؤنٹ کی تفتیش بھی شروع ہو گئی ہے ۔  عمران فاروق قتل کے سلسلے میں گزشتہ ہفتے ایم کیو ایم کے پارٹی رہنما  اور الطاف حسین کے کزن افتخار حسین کو لندن پولیس نے کینیڈا سے  لندن آتے ہوئے ائرپورٹ پر گرفتار کیا اور ان سے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے۔

درج بالا وجوہات کی بنا پر الطاف حسین پچھلے ہفتے سے اپنے خلاف ہونی والی تفتیش سے  دل برداشتہ ہیں اور برطانوی پولیس  اور اسکاٹ لینڈ یارڈ کے خلاف بیانات کا سلسلہ شروع کر چکے ہیں اور ان کی پارٹی کے اراکین بھی برطانیہ کے خلاف بیان دینے میں اب نہیں ہچکچا رہے ہیں۔   کہا جا رہا ہے کہ قتل کے سارے  ثبوت گھوم پھر کر ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے گرد جمع ہو رہے ہیں اور اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب الطاف حسین پر لندن پولیس کے طرف سے باقاعدہ فرد جرم عائد کردیا جائے گا۔

پچھلے کئی دنوں سے الطاف حسین اور پارٹی رہنماؤں کے جو بیانات سامنے آ رہے ہیں وہ کسی لطیفے سے کم نہیں ہیں، ایک تازہ بیان میں الطاف حسین نے اپنی ایک  تقریر میں یہ تک کہدیا کہ  " مجھے عمران فاروق قتل کیس میں  پھنسانا بند کردیا جائے اسی میں برطانیہ کے بہتری ہے"-
اس بیان کو یا تو ایک لطیفہ سمجھنا چاہیے یا پھر پاگل پن کی ایک حد کہ اس طرح کے بیان کے ذریعے دراصل حکومت برطانیہ کو ایک کھلے اور اوچھے انداز میں دھمکی دی گئی ہے۔ یا پھر پاکستان میں بیٹھے ہوئے اپنے لوگوں کو اپنی طاقت کا غلط اندازہ کروانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔
اوپر سے پارٹی  کے کچھ  رہنماؤں کا یہ بیان بھی سمجھ سے بالا تر ہے جس میں انہوں نے یہ فرمایا ہے کہ " الطاف حسین کے خلاف یہ انٹرنیشنل سازش اس لیے کی جارہی ہے کہ الطاف حسین جاگیردارانہ نظام کے خلاف ہیں"۔
اب کوئی تو بندہ اٹھے اور ان سے پوچھے کہ بھائیو برطانوی پولیس کا آپ کے ملک کے جاگیردارانہ نظام سے کیا لینا دینا ہے ؟!!!!!

لندن پولیس کو تو درحقیقت بغیر کسی دباؤ کے اپنے ایک شہری کے قتل کی تفتیش کرنی ہے کیونکہ یہ کوئی پاکستانی پولیس نہیں ہے جو کسی ایم پی اے کے کہنے پر قتل کی تفشیش کا رخ کہیں اور موڑ دے بلکہ یہ تو وہ پولیس ہے جس کے لیے ایک آفیشلی مثال آج بھی موجود ہے کہ  " یہ دنیا کے پولیس کی ماں ہے" جو اپنے ہی وزیر اعظم (ٹونی بلیئر) سے تفشیش کر چکی ہے اور جس کے سبب ٹونی بلیئر کے پسینے چھوٹ گئے تھے۔

برطانوی پولیس کے متعلق مشہور ہے کہ کوئی بھی کیس تب تک عدالت میں پیش نہیں کرتی جب تک اس کیس سے متعلق تمام ثبوت حاصل نہ ہو جائیں چاہے اس کیس کے پیچھے 10 سال جتنا طویل عرصہ کیوں نہ بیت جائے۔ اس قسم کی کئی مثالیں پہلے سے موجود ہیں کہ کس طرح 25-30 سالہ  پرانے مقدمات کو بھی عدالت میں پیش کر کے مجرمین کو لمبی لمبی سزائیں دلوائی گئی ہیں؟

لندن  پولیس کے خلاف پارٹی کارکنان کا یہ بیان کہ وہ الطاف حسین (بھائی) کے خلاف بین الاقوامی سازش کر رہی ہے ایک بودہ الزام کے علاوہ نہایت بے معنی سی بات لگتی ہے۔  اگر الطاف حسین کے خلاف کوئی بھی ایسا ثبوت حاصل کیا گیا  جوکہ عدالت میں انہیں مجرم ثابت کرنے کے لیے کافی ہے تو دنیا کا کوئی بھی بیرونی دباؤ  الطاف حسین کو برطانوی عدالت سے نہیں بچا سکتا۔ 
منی لانڈرنگ کیس اگر ثابت ہوجائے تو 10 سے 15 سال تک بھی ایم کیو ایم پوری کراچی کو بند کروا کر الطاف حسین کو نہیں بچا سکے گی۔ ایک ڈیڑھ سال قبل برطانوی پولیس نے اسی قتل کے سلسلے میں ایم کیو ایم کے دو گرفتار شدہ قاتلوں کو برطانیہ کے حوالے کرنے کی درخواست دی تھی جو جنوبی افریقہ سے کراچی پہنچتے ہوئے گرفتار ہوئے تھے اور انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ پارٹی کے حکم پر لندن کے ویزے لگاواکر ادھر بلایا گیا تھا اور عمران فاروق کو قتل کیا گیا۔  مگر اس وقت کی حکومت نے ان دونوں قاتلوں کو برطانوی حکام کے حوالے کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اب اگر موجودہ حکومت  ان قاتلوں کو برطانوی حکام کے حوالے کر دیتی ہے تو معاملہ اسی وقت حل ہوجائے گا وگرنہ تھوڑی دیر ضرور ہوگی مگر عمران فاروق کے قاتلوں کو کیفر کردار تک ضرور پہنچادیا جائے گا۔

گذشتہ زرداری حکومت اسی مضبوط نکتے کے سبب ایم کیو ایم کو بلیک میل کر کے واپس اپنی حکومت میں شامل کر لیتی تھی کہ عمران فاروق کے قاتل اس کے پاس موجود تھے مگر کیا موجودہ نواز حکومت بھی ایسا ہی کھیل کھیلے گی یا مجرموں کو برطانیہ کے حوالے کردے گی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ بہرطور یہ بات طے ہے کہ لندن پولیس ان قاتلوں کے علاوہ مزید دیگر ثبوتوں کی بنیاد پر یہ کیس حل کرنا چاہتی ہے جس کے لیے انہوں نے  ڈی این اے اور فورینسک  ذرائع کا استعمال کیا ہے اور دیگر انٹیلی جنس طریقوں سے وہ اس کیس کو حل کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

الطاف حسین برطانیہ کے ایک عام شہری ہیں اور ان سے برتاؤ بھی ایک عام شہری کی طرح ہوگا نہ کہ پاکستانی سیاستدان  کی طرح اور اگر ان پرجرم ثابت ہو جاتا ہے تو ان کو قید تنہائی بھی اسی طرح کاٹنی ہوگی جس طرح ایک عام برطانوی مجرم برطانیہ کے جیل میں کاٹتا ہے۔  لہذا الطاف حسین کے لیے سب سے بہتر مشورہ یہی ہوگا کہ وہ برطانوی قانون کی پاسداری کریں اور  اس قتل کے سلسلے میں قانون کی ہر ممکن مدد کریں  اسی میں ان کی اور انکی پارٹی کی بہتری ہے ورنہ برطانوی قانون سب کے لیے یکساں  ہے اس میں کوئی بھی چھوٹا اور بڑا نہیں  ہے اور نہ کوئی سیاستدان یا حکومتی عہدیدار اپنے عہدے یا مقبولیت کی بنا پر کوئی معنی  رکھتا ہے جبکہ الطاف حسین تو ویسے بھی مملکت برطانیہ کے ایک عام شہری ہیں۔



ایم کیو ایم بانی الطاف حسین بھائی - برطانوی پولیس شکنجے میں

Monday, 27 May 2013

سیکس گرومنگ اسکینڈل (برطانیہ)

سیکس گرومنگ اسکینڈل 



برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کو چاہئے کہ وہ ان ٹولیوں کے مسئلہ کی یکسوئی کریں جو منظم خطوط پر فروغ پاتے ہوئے نوجوان سفید فام لڑکیوں کا 
استعمال بیجا کررہے ہیں۔ آکسفورڈ میں 11سال عمر تک کی لڑکیوں کے خلاف قرون وسطی کی بدچلنی پر مبنی جرائم کے ارتکاب کی پاداش میں 7افراد کو سزا سنائی گئی۔ برطانوی وزیر انصاف ڈیمین گرین نے یہ بات بتائی۔ انہوں نے بتایاکہ وقت آچکا ہے کہ اس مسئلہ کی سیاسی تصحیح کے کسی بھی امکان کو مسترد کردیاجائے۔ پاکستانی نژاد افراد کو لڑکیوں کے خلاف جنسی جرائم کا قصور وار قرار دیا گیا۔ بحیثیت مجموعی ان کے خلاف 43جرائم پر انہیں خاطی قراردیا گیا۔ آکسفورڈ کے رہنے والے قمر جمیل، اختر ڈوگر، انجم ڈوگر، اسد حسین، محمد کرار، باسم کرار، ذیشان احمد اور محمد حسین جن کی عمریں 20تا30سال ہے انہیں عصمت ریزی یا اس جرم کی سازش پر متاثرہ لڑکیوں کو جنسی افعال کے ارتکاب سے قبل الکحل اور منشیات کا استعمال کروایا گیا تھا۔ بعض کو زدوکوب کیا گیا اور دیگر کو جھلساتے ہوئے دھمکیاں بھی دی گئیں۔ اولڈ بیلی کے جج نے آج اپنے فیصلے میں بتایاکہ "تم لوگوں کو انتہائی سنگین جرائم کا قصور وار قرار دیا گیا ہے اور مدت طویل تک حراست کے فیصلے ناگزیر ہیں"۔ متاثرہ لڑکیاں جن کی عمریں11تا15 سال تھیں انہوں نے پولیس کو اپنی استحصال اور ان دہشت ناک سرگرمیوں پر چوکس کیا تھا جو آکسفورڈ کے علاقہ کا ولی میں کھلے مقامات اور پارکس میں واقع فلیٹس اور گیسٹ ہاوزس میں جاری تھیں۔ اگرچہ کے بعض سماجی ورکرس اس بات سے واقف تھے کہ چند لڑکیوں کو تیار کیا جارہا تھا تاہم کسی نے بھی کوئی کارروائی نہیں کی اور ثبوت اکٹھا نہیں کیا۔ بعدازاں ایک تحقیقاتی عہدیدار نے 2010 کے اواخر میں اس کیس کا جائزہ حاصل کیا تھا۔ پولیس اور سماجی خدمات کی جانب سے متاثرین سے معذرت خواہی کی گئی ۔ جبکہ پولیس نے ان کی تعداد امکانی طورپر 50سے متجاوز بتائی ہے۔ 2010ء کے بعد یہ پانچواں آکسفورڈ اسکینڈل رہا ہے جبکہ مذکورہ سال کے دوران پاکستانیوں کے ٹولوں کو راشڈیل، ڈرجی، راٹرہیمپ اور شراپ شائر میں ممثال کیسس پر سزا سنائی گئی تھی۔ ڈیلی ٹیلیگراف کو دئیے گئے انٹرویو میں پولیس اور فوجداری انصاف کے وزیر گرین نے بتایاکہ وہ بچوں کے خلاف جنسی تشدد کی کارروائی کے مسئلہ سے نمٹنے دفتر داخلہ کی زیر قیادت گروپ تشکیل دے رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بتایاکہ پاکستانی قائدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پوری طرح اس بات کو واضح کریں کہ اس قسم کا رویہ صد فیصد ناقابل قبول ہے۔ 




                                                                                     
اس پر تبصرہ بے معنی ہی لگتا ہے، برطانیہ میں اس قسم کے پاکستانیوں نے اپنی اور اپنے ملک کی عزت خاک میں ملا کر رکھ دی ہے۔ جہاں دیکھو ان پاکستانیوں نے قانون توڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، یہ لوگ پوری دنیا میں تو مشھور ہیں ہی مگر یوکے میں بھی ان لوگوں نے اپنی کاروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ 
منشیات میں دیکھو یہ آگے، جیل میں دیکھو یہ آگے، بچوں کا استحصال دیکھو تو یہ آگے،فراڈ میں دیکھو تو یہ آگے، یعنی کہ کہیں بھی انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اوپر سے سینہ چوڑا کرکے کہتے ہیں کہ ہم ہی اصل مسلمان ہیں اور ہم ہی محب وطن پاکستانی ہیں۔ 
کبھی پی آئی اے پائلٹ پاسپورٹ کی بوریاں لے کر یہاں بیچتے ہیں تو کبھی پاکستانی ایف آئی اے کے لوگ امیگریشن فراڈ میں ملوث نظر آتے ہیں، کیا عام سا بندہ کیا سرکاری افسر، کیا پرائیوٹ کمپنی کیا سرکاری ادارہ سب لوگ برطانیہ میں جرائم کرنے میں باز نہیں آتے۔ 
اکثریت پاکستانیوں کی برطانیہ میں امن پسند ہیں اور اچھے اچھے فلاحی کاموں میں اور سیاست میں اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں مگر ان چند لوگوں کی وجہ سے ہم سب لوگ بدنام ہوکر رہ گئے ہیں۔ 
کبھی پاکستانی ٹیکسی ڈرائیوروں کا اسکینڈل سامنے آیا تھا کہ یہ لوگ سفید فام لڑکیوں کو جو شراب کے نشے میں ان کے ٹیکسی میں بیٹھتی تھیں ان کی عزتیں لوٹتے تھے اور دوستوں کو بھی مدعو کرتے تھے، اب کی بار تو سیکس گروممنگ اسکینڈل نے پورے برطانیہ میں ہلچل مچادی۔ پاکستانیوں کی یہاں جو ۃھوڑی بہت عزت تھی وہ بھی خود انہوں نے خاک میں ملادی۔ 
پاکستان میں تو یہ لوگ بچوں کے ساتھ زیادتی کرکے قتل کردیتے ہیں مگر اس قسم کے ذہنی مریض لوگوں نے برطانیہ میں بھی اس قسم کی کاروائیان جاری رکھی ہوئی تھی مگر یہ لوگ بھول گئے تھے یہ یہ پاکستان نہیں بلکہ برطانیہ ہے جہاں قانون کا بول بالا ہے اور کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے اور ہر کسی کو جو قانون کو ہاتھ میں لیتا ہے قانون کے سامنے جوابدہ ہوگا۔ ان شاءاللہ 
پتہ نہیں کب یہ قوم سدھرے گی اور اپنی غلط حرکتوں سے باز آئی گی، اللہ ہی ان کو سیدھے راستے پر لاسکتا ہے۔ ان شاءاللہ 

Sunday, 17 June 2012

کیا انسان اللہ کاخلیفہ ہے؟

کیا انسان اللہ کاخلیفہ ہے؟


السلام علیکم!
جب ہم پاکستان میں تھے تو ہمیں یہ ہی بتایا جاتا تھا کہ اللہ نے آدم علیہ سلام کو خلیفہ بنا کر زمین پر بھیجا ہے، اور آدم اللہ کا خلیفہ ہے۔ 
اور یہاں تک کہ ہمیں پڑھایا بھی یہی جاتا تھا اور وہاں کے مولوی حضرات بھی یہ ہی راگ الاپتے رہتے تھے کہ اللہ نے ہمیں اپنا خلیفہ بنا یا ہے۔ 
خیر یہاں یو کے میں بھی یہ ہی کچھ تھیوری چل رہی ہے، مگر کچھ دن پہلے ٹی وی پر ڈاکٹر الشیخ صہیب حسن حفظ اللہ کا قسط وار پروگرام "فکر آخرت" چل رہا تھا تو ادھر اسی موضوع پر تھوڑا سا تبصرہ ہوا تھا، جس کو میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں، امید کہ معلومات میں اضافہ ہو۔ ان شاءاللہ 

یہ حقیقیت ہے کہ اللہ نے آدم کو خلیفہ بناکر دنیا میں بھیجا جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ:

"وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَةً"

(اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں)

تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ آدم کو اپنا خلیفہ بناکر دنیا میں بھیجنا چاہتا ہے۔ 
احادیث میں بھی یہ ہی مرکوز ہے کہ اللہ نے آدم کو دنیا میں خلیفہ بنایا ہے، مگرکہیں بھی مرکوز نہیں ہے کہ اللہ نے آدم کو دنیا میں اپنا خلیفہ یا نائب مقرر کیا ہے۔ 
خلیفہ عربی لفظ ہے جس کا مطلب ہے کسی کی جگہ لینے والا جسے انگریزی میں کہتے ہیں Successor، یعنی کسی کی جگہ لینا، To succeed some one
اب Successor ہمیشہ کسی کی جگہ لینے آتا ہے، جب ایک خلیفہ کا اس دنیا سے انتقال ہوگا تب دوسرا اس کی جگہ لے گا، مگر اللہ تو حیّ اور قیّوم ہے، ہمیشہ سے ہے اور رہے گا تو پھر ان کا خلیفہ بننے کا یہاں کوئی جواز نہیں ملتا۔ 
اب سوال یہ ہے کہ اگر آدم علیہ سلام اللہ کے خلیفہ بن کے زمین پر نہیں آئے تو پھر خلیفہ کا لفظ کیوں استعمال ہوا ہے؟
دراصل کچھ راویات میں آیا ہے کہ انسانوں سے پہلے اس دنیا میں جن آباد تھے پھر وہ سرکش ہوگئے اور اللہ کی حدود کو پامال کردیا تو اللہ نے انہیں ایک بہت بڑے لشکر کے ذریعے نیست و نابود کیا اور اس لشکر کے سردار عزازیل تھے۔ 
پھر اللہ نے عزازیل کا رتبہ بہت بڑا کردیا اور وہ فرشتوں کی محفل میں اٹھنے بیٹھنے لگا اور جب اللہ نے آدم کو پیدا فرمایا تو وہ اس وقت فرشتوں کی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے تو اس نے اللہ کی نافرمانی کی تو اللہ نے اسے ابلیس بنادیا۔ 
ابلیس کا لفظ ابلس سے نکلا ہے جس کی معنی ہیں اللہ کی رحمت سے دھتکارا ہوا۔ 
تو ہم پہلے والے موضوع پر آتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ آدم سے پہلے اس زمین پر جنوں کی حکمرانی تھی اور اللہ نے آدم کو جنوں کے بعد اس زمین پر خلیفہ مقرر کیا۔ 
اب اس کا صاف مطلب نکلتا ہے کہ انسان اس زمین پر خلیفہ تو مقرر ہوا تھا مگر اللہ کا خلیفہ نہیں بلکہ اس سے پہلے کی قوم کی جگہ اس کو خلیفہ مقرر کیا تھا۔ 
اور قران میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ آدم کو اللہ کا خلیفہ بنا کر زمین پر بھیجا گیا۔ 
واللہ اعلم

Sunday, 3 June 2012

بر طانیہ میں مسلمانوں کا قیام : صدیوں کے آئینے میں

بر طانیہ میں مسلمانوں کا قیام : صدیوں کے آئینے میں

مسجد القديسة آن
 چاسرنے کینٹربری ٹیلز میں اسلامی اسکالرز کے حوالے دئیے ہیں۔
1386 ء
جان نیلسن پہلا شخص تھا جس کے اسلام قبول کرنے کا علم ہوا۔
16 ویں صدی میں
اوکسفرڈ اور کیمبرج یونی ورسٹیوں نے عربی چیئرز قائم کیں۔
1630 ء کے عشرے میں
ایک دستاویز میں حوالہ دیا گیا کہ  ’  محمتنوں (ahomatens) کے ایک فرقے کا یہاںلندن میں پتا چلا ہے‘۔
1641 ء
  الیگزینڈر راس نے انگریزی زبان میں قران مجید کا پہلا ترجمہ کیا۔
1649 ء
مسلمانوں کا پہلا بڑا گروپ ہندوستان سے برطانیہ پہنچا۔ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں جو بحری عملہ بھرتی کیا اس نے ساحلی علاقوں اور شہروں میں پہلی مسلمان کمیونٹیز کی 
تشکیل کی۔دوسرے افراد ان علاقوں سے آئے جو اب بنگلہ دیش اور پاکستان کا حصہ ہیں۔
1700 ء
  نہر سوئیز کے کھلنے سے مسلمان تارکینِ وطن کی ایک اور لہر آئی۔تجارت کو فروغ ہوا تو یمنی اورصومالی محنت کش کارڈف،  لورپول،  پولک شیلڈز اور لندن کے ساحلوں پرکام کرنے آ پہنچے۔
1869 ء
مغربی رسم الخط میں تحریر شدہ قدیم قرانی نسخہ؛   مرسیہ اور انگلینڈ کے بادشاہ اؤفا مصنوعی سونے کا سکہ دینار، یہ سکہ عباسی خلیفہ منصور کے 157ہجری  (74  عیسوی)سونے 
کے دینار کی نقل ہے اور اس پر عربی میںاسلامی کلمہ شہادت کندہ کیا گیا ہے۔
لندن  میں انجمنِ اسلام قائم ہوئی جسے بعد میں پین اسلامک سوسائٹی کا نام دیا گیا۔
1886 ء
لور پول کے ایک سا لیسٹر ولیم ہنری کوئیلیم نے مراکش میں اپنے قیام کے دوران اسلام قبول کیا۔انہوں نے لورپول میں لورپول مسجد، مسلم انسٹی ٹیوٹ اور ایک یتیم خانہ مدینہ ہاؤس قائم کیا۔وہ ’  اسلامک ورلڈ‘  او ر  ہفت روزہ ’ کریسنٹ‘  کی ادارت بھی کرتے تھے۔
1887 ء
ووکنگ میں پہلی باقاعدہ تعمیر شدہ مسجد کا افتتاح ہوا۔
1889 ء
ایک اسلامی اسکالر امیر علی نے رٹز میں ایک عوامی میٹنگ منعقد کی جس میں لندن میں ایک’  ایسی مسجد کے قیام کا مطالبہ کیا گیا جو اسلامی روایات اور برطانوی سلطنت کے دارالحکومت کے شانِ شایان ہو  ‘۔
1910 ء
جانوروں کے ذبیحے کے قانون میں حلال ذبیحے کے لئے استثناء فراہم کیا گیا۔
1911 ء
لاہور سے ایک بیرسٹر خواجہ کمال الدین لندن صرف اس مقصد سے آئے کہ اسلام کے بارے میںغلط فہمیاں دور کی جاسکیں۔ایک سال بعد انہوں نے اسلامک ریویو شائع کرنا شروع کیا۔
1912 ء
انگریز نومسلم لارڈ ہیڈلی نے برٹش مسلم سوسائٹی کی بنیاد ڈالی۔
1914 ء
لندن میں مرکزی مسجد کی تعمیر کی تجاویز پر غور کرنے کے لئے لندن نظامیہ ٹر سٹ قائم کیا گیا۔
1928 ء
 برٹش لائبریری میں ایرانی اور ترکی ذخیرے کے مہتمم ڈاکٹر محمد عیسٰی والی ؛  ووکنگ مسجد
حکومت نے لندن میں مسجد کی تعمیر کے لئے00,000پاؤنڈ مختص کر دئیے۔
1940 ء
ایسٹ لند ن مسجد ٹرسٹ نے کمرشل روڈاسٹیپنی میں تین عمارتیں خرید کر انہیں لندن کی پہلی مسجد میں تبدیل کر دیا۔
1941 ء
شاہ جارج ششم ریجنٹس پارک لندن میں اسلامک کلچرل سینٹر کے افتتاح میں شریک ہوئے۔
1944 ء
اسلامی ملکوں کے 13سفیروں نے سینٹرل لندن مسجد ٹرسٹ قائم کردیا۔
1947 ء
تقسیم کے بعد بھارت اور پاکستان سے مسلمان تارکینِ وطن برطانیہ پہنچے۔برطانیہ میں محنت کشوں کی کمی سے ، جوخاص طور پر یارکشائر اور لنکاشائر میںاسٹیل اور کپڑا بنُنے کی صنعت میںتھی اس نقل ِمکانی کی حوصلہ افزائی ہوئی
1950-60 ء
مسلمانوں کی آبادی اندازاً 23,000ہو گئی۔
1951 ء
مسلمان تارکینِ وطن کی اگلی لہر افریقہ ، خاص طور پر کینیا اور یوگنڈا سے آئی جہاں کئی ایشیائیوں کو تعصب کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
1960-70 ء
برطانیہ میں مسلمان آبادی 82,000تک پہنچ گئی ، یہ اضافہ لوگوں کے کامن ویلتھ ایکٹ (962ئ) نافذ ہونے سے پہلے برطانیہ پہنچنے کی کو شش کی وجہ سے ہوا کیونکہ اس ایکٹ سے کامن ویلتھ کے شہریوں کابرطانیہ میں داخلے کا خود اختیاری حق ختم ہونے والا تھا۔
1961 ء
 ایسٹ لندن مسجد؛ کارڈف، ویلز میں 50سال تک امامت کرنے والے شیخ زید؛ ایک ایشیائی دلہن نورجہاں
برطانیہ میں اب 18مساجدہوگئیں،  جن کی تعداد میں اگلے دس سال میں سالانہ سات کے حساب سے اضافہ ہوتا رہے گا۔
1966 ء
مسلمان آبادی اندازاً 369,000ہوگئی۔
1971 ء
عیدی امین نے یوگنڈا سے 60,000ایشیائی مسلمانوں کو نکال دیا ، جن میں سے بیشتر برطانیہ میں آباد ہوگئے۔
1972 ء
اسلامک کونسل آف یورپ کا قیام عمل میں آیا جس کاہیڈ کوارٹر لندن بنا۔عیسائیوں اورمسلمانوں میں ’ محلے میں اسلام ‘  کے موضوع پر پہلا ڈائیلاگ ہوا۔
1973 ء
برٹش کونسل آف چرچز نے برطانیہ میں اسلام کے مطالعے کے لئے ایک مشیر مقرر کیا۔
1974 ء
ملکہ برطانیہ نے فیسٹول آف اسلام کا افتتاح کیا۔
1976 ء
ریجنٹس پارک میں لند ن سینٹرل مسجد کی شروعات ہوئیں ۔ بلفاسٹ اسلامک سینٹر کا قیام عمل میں آیا۔آئر لینڈ میں مسلمانوں کی تعداد کا تخمینہ 3,000لگایا گیا
1977 ء
نیچے بائیں سے دائیں: ریجنٹس پارک مسجد لندن؛ اسلامک سینٹر ڈبلن ، آئر لینڈ
اسلامک ریلیف قائم ہوئی جوآج بر طانیہ کی سب سے بڑی اسلامی فلا حی تنظیم ہے۔
1984 ء
اب یہاں رجسٹرڈ مساجدکی تعداد 338 ہوگئی
1985 ء
بر طانیہ کے سب سے بڑے اسلامی جریدے ’ کیو نیو ز  ‘کا اجراء؛  بریڈفورڈ میں پہلے رمضان ریڈیو نے مذہبی تقاریر، مذہبی موسیقی اور مذاکروں کی ملی جلی نشریات کا آغاز کیا۔
1992 ء
اسلامک سوسائٹی آف برٹن نے اسلام کے بارے میں شعور کے فروغ اور غلط فہمیوں کے تدارک کے لئے پہلی باراسلامی آگاہی کا ہفتہ منعقد کیا ۔
1994 ء
انڈیپینڈینٹ رنی میڈ ٹرسٹ نے ’ برطانوی مسلمان اور اسلامو فوبیا ‘ پر کمیشن قائم کیا۔
1996 ء
  برطانیہ کی تمام اسلامی تنظیموں کی سرپرست تنظیم کی حیثیت سے مسلم کونسل آف برٹن(ایم سی بی)کا قیام عمل میں آیا۔محمد سرور (گووآن سے) پہلے مسلمان رکن پارلمینٹ منتخب ہوئے۔
1997 ء
دو اسلامی اسکولوں کوسرکاری گرانٹ کے استحقاق کا درجہ ملا۔ دار الامراء میں لارڈ نذیر احمد اور بیرونس پاؤلاالدین پہلے مسلمان لارڈز  مقرر ہوئے۔
1998 ء
فارن آفس نے حج وفد تشکیل دیا جو ہر سال حج کے لئے مکہ جانے والے 25,000حاجیوں کو طبی اور کونسلر خدمات فراہم کیا کریگا۔
2000 ء
  ہز رائل ہائی نس پرنس چارلس لندن میں اسلامیہ اسکول کا دورہ کر رہے ہیں؛ کوسووا میں اسلامک ریلیف کا فلاحی کام
قوی مردم شماری میں پہلی بار مذہب کے بارے میں ایک سوال شامل کیا گیا ۔ یارکشائر کے شہروں میں فسادات کے بعد ٹیڈ کینٹل کی سر براہی میں لئے گئے سرکاری جائزے میں کمیونٹیز کے ادغام کو بہتر بنانے کے بارے میں تجاویز پیش کی گئیں۔حکومت نے نسلی تعلقات کے قوانین میں نسلی منافرت پر اکسانے کو شامل کرنے کے لئے قوانین پیش  کئے۔
2001 ء
جیل کے لئے پہلے کل وقتی امام کا برکسٹن جیل میں تقرر کیاگیا ۔
2002 ء
بنک آف انگلینڈ کے ڈپٹی گورنر ہاورڈ ڈیویزنے ایک تاریخی تقریر کی جس میں بر طانیہ میں اسلامی سرمایہ کاری کے فروغ کی حوصلہ افزائی کی گئی تھی۔ اسلامی مارگیجز میں سہولت کے لئے گھروں کی خریداری پر ٹیکس کے ضابطوں میں ترمیم کی گئی۔ جائے ملازمت پر مذہبی عقیدے کی بنا پر تعصب کو غیر قانونی قرار دینے کے لئے قانون متعارف کرا  یا گیا۔
2003 ء
یورپ کے پہلے اسلامی بنک ، اسلامک بنک آف برٹن نے برمنگھم میں پہلی برانچ کا آغاز کیا ۔الپ محمت بر طانیہ کے پہلے مسلمان سفیر( برائے آئس لینڈ) مقرر ہوئے۔
2004 ء
ڈیفنس منسٹری نے عاصم حفیظ کو مسلح افواج کاپہلا’  مسلمان چیپلن ‘  مقرر کیا۔اسلامی فلاحی تنظیموں نے ’  غربت کو تاریخ کا حصہ بنادو‘  مہم میں شرکت کا آغاز کیا ۔جولائی کے لندن بم دھماکوں کے بعد حکومت نے ’  ا نتہاپسندی کا مشترکہ بچاؤ‘ کے تحت برطانوی مسلمانوں کے ورکنگ گروپس تشکیل دئیے۔کشمیر میں آنے والے زلزلے کے دو دن کے اندر برطانوی اسلامی فلاحی تنظیموں نے ہنگامی امداد کے لئے 1.75ملین پاؤنڈ جمع کئے۔
2005 ء
وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم میں اسلامی آرٹ کے لئے نئی گیلری مخصوص کر دی گئی۔مانچسٹرمیوزیم آف سائنس اینڈ انڈسٹری میں 1001ایجادات کے عنوان سے نمائش کا آغاز ہوا جس میں جدیدطرزِ زندگی پرعربوں اورمسلمانوں کے  اثرات کو نمایاں کیا گیا تھا۔امجد حسین برطانیہ کے پہلے مسلمان ایڈمرل مقرر ہوئے۔