Saturday, 5 November 2011

::: یوم عرفات ، نو ذی الحج کا روزہ :::

::: یوم عرفات ، نو ذی الحج کا روزہ ::: 
ماہ ذی الحج کے پہلے دس دِن بہت ہی فضیلت والے ہیں ، اِس کا بیان ''' ماہ حج اور ہم::: ماہ حج کے پہلے دس دِن ::: فضیلت اور احکام ''' میں کر چکا ہوں ، 
اِن ہی دس بلند رتبہ دِنوں کا نواں دِن وہ ہے جِس دِن حاجی میدانِ عرفات میں قیام کرتے ہیں ، اِس دِن اور قیام کی فضیلت بھی ابھی اُوپر ذِکر کیے گئے مضمون میں مختصراً بیان کر چکاہوں۔
اِس با برکت دِن میں عرفات میں قیام کرنے والوں کو اللہ کی طرف سے مغفرت کی خوشخبری دی گئی ، اور جو وہاں نہیں ہوتے لیکن اُس دِن اللہ کی رضا حاصل کرنے کی نیّت سے روزہ رکھیں تو اُنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زُبانِ مُبارک سے یہ خوشخبری سُنائی گئی:
((((( صِیَامُ یَومِ عَرَفَۃَ اَحتَسِبُ علی اللَّہِ اَن یُکَفِّرَ السَّنَۃَ التی قَبلَہُ وَالسَّنَۃَ التی بَعدَہُ ::: مجھے اللہ سے یقین ہے کہ (اللہ) عرفات کے دِن کے روزے کے ذریعے ایک پچھلے سال اور ایک اگلے سال کے گُناہ معاف کر دے گا ))))) 

اور دوسری روایت کے الفاظ ہیں (((((یُکَفِّرُ السَّنَۃَ المَاضِیَۃَ وَالبَاقِیَۃَ::: پچھلے ایک سال اور اگلے ایک سال کے گُناہ معاف کرواتا ہے ))))) دونوں روایات صحیح مُسلم /حدیث ١١٦٢ /کتاب کتاب الصیام /باب ٣٦،

::::: ایک بہت ہی اہم بات :::::
دو سال کے صغیرہ (چھوٹے) گُناہ معاف ہونا ، عرفات کے دِن کے روزے کے نتیجے میں ہے ، یعنی وہ دِن جِس دِن حاجی میدانِ عرفات میں قیام کرتے ہیں ، نہ کہ اپنے اپنے مُلکوں ، عِلاقوں میں اپنے اپنے مذاہب و مسالک کی پابند تاریخوں کے مُطابق آنے والے نو ذی الحج کے دِن کے روزے کے نتیجے میں، پس اِس بات کا خیال رکھا جانا چاہیئے کہ روزہ عرفات والے دِن کا رکھنا ہے ۔

::::: ذرا غور تو فرمائیے ::::: اگر اِس چھوٹے سے مضمون کو نشر کریں اور آپ کو سبب بنا کر اللہ تعالیٰ کچھ مُسلمانوں کو یوم عرفات کا روزہ رکھنے کو توفیق عطاء فرما دے ، تو اُن سب کے روزے کے ثواب کے برابر آپ کو بھی ثواب ملے گا ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے (مَن دَلَّ عَلَی خَیرٍ فَلَہُ مِثلُ اَجرِ فَاعِلِہِ ) ( جِس نے خیر کی طرف راہنمائی کی اُس کو اُس خیر پر عمل کرنے والے کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا ) صحیح مُسلم /حدیث ١٨٩٣ /کتاب الامارۃ /باب٣٨، 

فورمز کی انتظامیہ سے بھی گذارش ہے کہ اِس مراسلے کی تشہیر کریں ، اللہ تعالیٰ اِس کو سبب بنا کر زیادہ سے زیادہ مُسلمانوں کو یوم عرفات کا روزہ رکھنے کی توفیق عطاء فرمائے اور اُن کے روزے قُبُول فرمائے اور ہمیں اُن کے برابر ثواب عطاء فرمائے۔
:::::: ایک اور اہم بات ::::::
اس دفعہ یعنی ذی الحج 1432 ہجری میں بھی عرفات کا دِن ہفتے کو آ رہا ہے ، اس لیے سب ہی قارٕئین کی خصوصی توجہ اس طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ اس دفعہ یومءعرفات کا روزہ نہ رکھا جإئے ، کیونکہ ہفتے کے دِن نفلی روزہ رکھنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بہت سختی سے منع فرمایا ہے ، 
ارشاد فرمایا ہے کہ ((((( لاتصوموا یومَ السبت اِلَّا فیمَا افتُرض َ علیکُم ، فاِن لم یَجِدَ أحدکُم اِلَّا عُودَ عِنَبٍ أو لَحَائَ شجرۃٍ ، فَلیَمُصّہُ ::: ہفتے کے دِن کا روزہ مت رکھو ، سوائے فرض روزے کے اگر تُم سے کِسی کو انگور کی لکڑی یا درخت کی جڑ کے عِلاوہ اور کُچھ نہ ملے تو اِسی کو چُوس لو ))))) 
نہ ہی اس حکم سے کسی استثناء کی گنجإئش ہے کہ ہفتے کے ساتھ کسی اور دِن کا روزہ ملا لیا جإئے تو پھر ہفتے کا نفلی روزہ رکھا جا سکتا ہے ، 
اس موضوع پر جنوری 2004 میں‌ میں نے ایک تحقیقی کتاب لکھی تھی ، ان شاء اللہ جلد ہی اسے ری فارمیٹ کر کے قارٕئین کے لیے پیش کروں گا ، ان شاء اللہ اُس کا مطالعہ تمام اشکال رفع کرنے کا سبب ہو گا ، فی الحال یہ سمجھ لیجیے کہ ہفتے کا نفلی روزہ نہیں رکھا جانا چاہیے خواہ اس 
کی کتنی ہی فضیلت بیان ہوٕئی ہو ، والسلام علیکم۔

ڈاکٹرطاہر القادری اور موضوع روایات کی ترویج

ڈاکٹرطاہر القادری اور موضوع روایات کی ترویج



٭۔یہ بات بالکل سچ اور حق ہے کہ 
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 
’’ لا تکذبوا عليّ فإنہ من کذَب عليّ فلیلِج النار ‘‘
’’مجھ پر جھوٹ نہ بولو،کیونکہ بیشک جس نے مجھ پر جھوٹ بولا تو وہ (جہنم کی) آگ میں داخل ہو گا۔ ‘‘( صحیح بخاری ، کتاب العلم، باب إثم من کذب علی النبي ﷺ ح ۱۰۶، صحیح مسلم : ۱)
٭۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’ من حدّث عني بحدیث یرٰی أنہ کذب فھو أحد الکاذبین ‘‘
’’جس نے مجھ سے ایسی حدیث بیان کی جس کا جھوٹ ہونا معلوم ہو ، تو وہ شخص جھوٹوں میں سے ایک ( یعنی جھوٹا) ہے۔ ‘‘( صحیح مسلم قبل ح ۱، ترقیم دارالسلام : ۱)
ان احادیث اور دیگر دلائل کو مدنظر رکھ کر علماے کرام نے فرمایا کہ موضوع (یعنی جھوٹی، من گھڑت )روایت کا بیان کرنا حلال نہیں ہے۔
حافظ ابن الصلاح نے فرمایا : 
’’اعلم أن الحدیث الموضوع شر الأحادیث الضعیفۃ ولا تحل روایتہ لأحد عَلِم حالہ في أي معنی کان إلا مقرونًا بِبَیان وضعہ ‘‘ ( مقدمہ ابن الصلاح مع التقیید والایضاح ص ۱۳۰، ۱۳۱، دوسرا نسخہ ص ۲۰۱)
’’جان لو کہ بے شک موضوع حدیث ضعیف اَحادیث میں سب سے بری ہوتی ہے اور حال معلوم ہونے کے بعد کسی شخص کے لئے اس کی روایت حلال نہیں ہے، چاہے جس معنی میں (بھی ) ہو ، سوائے اس کے کہ اُس کے موضوع ہونے کا ذکر ساتھ بیان کر دیا جائے۔‘‘
مگر افسوس ہے اُن لوگوں پر جو اَحادیث نبویہ ﷺ اور آثارِ صحیحہ کے باوجود جھوٹی اور بے اصل روایتیں مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں اور آخرت کی پکڑ سے ذرّہ بھر بھی نہیں ڈرتے۔
٭۔ایک طویل حدیث میں آیا ہے کہ 
نبی کریمﷺ نے خواب میں دیکھا: ایک شخص کی باچھیں چیری جا رہی ہیں۔ ( دیکھئے صحیح بخاری : ۱۳۸۶) یہ عذاب اس لئے ہو رہا تھا کہ وہ شخص جھوٹ بولتا تھا، لہٰذا آپ غور کریں کہ رسول اللہﷺ پر جھوٹ بولنے یا جھوٹ پھیلانے والے کو کتنا بڑا عذاب ہو گا!؟
٭۔رسولﷺنے فرمایا:
’’ وإیاکم والکذب ‘‘ (صحیح مسلم: ۲۶۰۷، ترقیم دارالسلام : ۶۶۳۹) ’’اور(تم سب ) جھوٹ سے بچ جائو۔ ‘‘
٭۔حافظ ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم الاندلسی(متوفی ۴۵۶ھ)نے لکھا ہے:
’’وأما الوضع في الحدیث فباقٍ ما دام إبلیس وأتباعہ في الأرض ‘‘
’’اور اس وقت تک وضع ِ حدیث ( کا فتنہ ) باقی رہے گا، جب تک ابلیس اور اُس کے پیروکار رُوئے زمین پر موجود ہیں۔ ‘‘ ( المحلی:۹؍ ۱۳ مسئلہ : ۱۵۱۴)
معلوم ہوا کہ شیطان اور اُس کے چیلوں کی وجہ سے جھوٹی روایات گھڑنے اور ان کے پھیلانے کا فتنہ قیامت تک باقی رہے گا، لہٰذا ہر انسان کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئے اور اپنی خیر منانی چاہئے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ ٹھکانا جہنم مقرر کر دیا گیا ہو اور بندہ اپنے آپ کو بڑا نیک ، جنتی ، مبلغ اور عظیم سکالر سمجھتا رہے!
اس تمہید کے بعد عرض ہے کہ جھوٹی روایات پھیلانے اور غلط بیانیاں لکھنے میں پروفیسر ڈاکٹرمحمد طاہر القادری بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں، جس کی فی الحال دس (۱۰) مثالیں مع ثبوتِ وضع پیشِ خدمت ہیں:
1۔سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی طرف منسوب ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺکے پاس سفید ٹوپی تھی جسے آپ پہنا کرتے تھے ، وہ آپ کے سر اَقدس پر جمی رہتی تھی۔ ( المنہاج السوي ص ۷۷۰ ح ۹۸۵ بحوالہ ابن عساکر فی تاریخ دمشق ۴؍ ۱۹۳ (دوسرا نسخہ ۴؍ ۳۳۳) کنز العمّال ۷؍۱۲۱ ح ۱۸۲۸۵)
اس روایت کوطاہر القادری صاحب نے بطورِ حجت اپنی کتاب میں پیش کیا ہے، حالانکہ اسکی سند میں عاصم بن سلیمان کوزی راوی ہے، جس کے بارے میں 
حافظ ابن عدی نے فرمایا:
’’ یعدّ فیمن یضع الحدیث ‘‘ ( الکامل لابن عدي ۵؍ ۱۸۷۷، دوسرا نسخہ ۶؍ ۴۱۲) ’’اُس کا شمار اُن لوگوں میں ہے جو حدیث گھڑتے تھے۔‘‘
امام دارقطنی نے فرمایا:
’’بصري کذاب عن ہشام وغیرہ‘‘ ’’ہشام ( بن عروہ ) وغیرہ سے روایت کرنے والا بصری جھوٹا ہے۔‘‘(الضعفاء والمتروکین: ۴۱۲) 
2۔کئی مجہول راویوں کی ایک روایت میں آیا ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: 
’’إذا کان یوم القیامۃ نادٰی منادٍ یا محمد! قُم فادخل الجنۃ بغیر حساب، فیقـوم کل من اسمہ محمّد فیتوھم أن النداء لہ فلکرامۃ محمد لایُمنعون‘‘ (اللآلی المصنوعۃ في الأحادیث الموضوعۃ للسیوطي :۱؍ ۱۰۵)
’’جب قیامت کا دن ہو گا تو ایک منادی پکارے گا:اے محمد! اُٹھ کر جنت میں بغیر حساب کے داخل ہو جاؤ، تو ہر وہ شخص جس کا نام محمد ہو گا یہ سمجھتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہو گا کہ یہ نداء اُس کے لئے ہے، پس محمدﷺ کی کرامت ( بزرگی ) کے سبب انھیں منع نہیں کیا جائے گا۔ ‘‘
یہ روایت بیان کر کے جلال الدین سیوطی نے فرمایا: 
’’ ھذا معضل،سقط منہ عدۃ رجال، واﷲ أعلم ‘‘ ( ایضاً: ص ۱۰۵، ۱۰۶)
’’یہ معضل ( یعنی شدید منقطع) ہے، اس سے کئی راوی گر گئے ہیں۔ واللہ اعلم ‘‘ 
محدثین کی اصطلاح میں ’ معضل‘ اُس روایت کو کہتے ہیں جس کے ’’ درمیان سند سے دو متوالی راویوں کو چھوڑ دیا جائے۔‘‘ ( دیکھئے تذکرۃ المحدثین از غلام رسول سعیدی، ص ۳۴)
متوالی کا مطلب ہے: اوپر نیچے، پے در پے ، لگاتار۔
سیوطی کی بیان کردہ اس موضوع اور معضل روایت کو علی بن برہان الدین حلبی شافعی (متوفی۱۰۴۴ھ)نے اپنی کتاب ’انسان العیون‘ یعنی السیرۃ الحلبیۃ میں درج ذیل الفاظ کے ساتھ نقل کیاہے: 
’’وفي حدیثٍ معضلٍ: إذا کان یوم القیامۃ ۔ ۔ ۔ ‘‘ (۱؍ ۸۳، دوسرا نسخہ :۱؍ ۱۳۵)
اس روایت کو طاہر القادری صاحب نے اپنی علمیت کا اظہار کرتے ہوئے درج ذیل الفاظ میں نقل کیا ہے:
’’ مُعضل سے مروی حدیث ِمبارکہ میں ہے: 
إذا کان یوم القیامۃ ‘‘( تبرک کی شرعی حیثیت، ص ۵۸، اشاعت سوم، ستمبر ۲۰۰۸ئ)
گویا کہ طاہر القادری صاحب کے نزدیک معضل نامی کوئی راوی تھا ، جس سے یہ موضوع حدیث مروی ہے۔ سبحان اللہ !!
اُصولِ حدیث کی اِصطلاح معضل( یعنی منقطع) کو راوی بنا دینا اس بات کی دلیل ہے کہ واقعی طاہر القادری صاحب بہت بڑے ’ ڈاکٹر ‘ اور ’ پروفیسر‘ ہیں۔ سبحان اللہ !
3۔ایک روایت میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم !(اے نبی کریمﷺ) میں کسی ایسے شخص کو آگ کا عذاب نہیں دوں گا جس کا نام آپ کے نام پر (یعنی محمد ) ہو گا۔ (إنسان العیون یعنی السیرۃ الحلبیۃ:۱؍ ۸۳، دوسرا نسخہ :۱؍ ۱۳۵)
اس روایت کو طاہر القادری صاحب نے روایت نمبر۱ قرار دے کر بحوالہ انسان العیون بطورِ حجت پیش کیا ہے، حالانکہ انسان العیون (السیرۃ الحلبیۃ) نامی کتاب میں اس کی کوئی سند یا حوالہ موجود نہیں ہے۔
علامہ عجلونی حنفی اور ملا علی قاری نے بتایا کہ اسے ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔ (دیکھئے: کشف الخفاء ومُزیل الإلباس:۱؍۳۹۰ح ۱۲۴۵،الأسرار المرفوعۃ في الأخبار الموضوعۃ : ص ۲۰۱ رقم ۱۹۲)
ابو نعیم والی روایت کی سند سیوطی کی کتاب ذیل اللآلي المصنوعۃ (ص ۲۰۱) میں موجود ہے اور ابو نعیم کی سند سے ہی اسے مسند الفردوس میں نقل کیا گیا ہے۔ دیکھئے مسند الفردوس اور اس کا حاشیہ (۳؍ ۲۲۰ ح ۴۴۹۱ وقال في الأصل:نبیط بن شریط)
اس کے راوی احمد بن اسحق بن ابراہیم بن نبیط بن شریط کے بارے میں حافظ ذہبی نے فرمایا :
’’لا یحل الاحتجاج بہ فإنہ کذاب‘‘ ’’اس سے حجت پکڑنا حلال نہیں،کیونکہ وہ کذاب ( جھوٹا )ہے۔ ‘‘ (میزان الاعتدال:۱؍ ۸۳ ت ۲۹۶، لسان المیزان: ۱؍ ۱۳۶)
کذاب کے موضوع نسخے سے روایت کو ’ مشہور حدیث ِمبارکہ‘ کہہ کر بطورِ حجت نقل کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بیان کرنے والاڈاکٹر طاہر القادری ترویج اکاذیب میں مصروف ہے۔
4۔ایک روایت میں آیا ہے کہ آدمؑ نے (سیدنا) محمد رسول اللہﷺ کے وسیلے سے دعا کی تھی۔ طاہر القادری صاحب نے اس روایت کو بحوالہ المستدرک للحاکم ( ۲؍ ۶۱۵) نقل کر کے لکھا ہے:
’’ اس حدیث پاک کو جن اجل علماء اور ائمہ و حفاظ حدیث نے اپنی کتب میں نقل کر کے صحیح قرار دیا ہے، ان میں سے بعض یہ ہیں:
  1. البیہقي في الدلائل، ۵:۴۸۹
  2. ابو نعیم فی الحلیۃ ، ۹: ۵۳
  3. التاریخ الکبیر ، ۷: ۳۷۴
  4. المعجم الصغیر للطبراني، ۲: ۸۲
  5. الہیثمي في مجمع الزوائد، ۸: ۱۵۳ f ابن عدي في الکامل ، ۴: ۱۵۸۵
  6. الدر المنثور، ۱: ۶۰
  7. الآجري في الشریعۃ ۴۴۲۔ ۴۲۵
  8. فتاوٰی ابن تیمیہ ، ۲: ۱۵۰ ‘‘
( عقیدئہ توحید اور حقیقت ِشرک، ص ۲۶۶، اشاعت ہفتم ،جون ۲۰۰۵ئ)
اس عبارت میں طاہر القادری صاحب نے نو(۹) مذکورہ کتابوں اور علماء کے بارے میں نو (۹) عدد غلط بیانیاں کی ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
1۔امام بیہقی نے اس روایت کو صحیح نہیں کہا، بلکہ فرمایا:
’’تفرّد بہ عبدالرحمٰن بن زید ابن أسلم من ھذا الوجہ عنہ وھو ضعیف (واﷲ أعلم)‘‘ ( دلائل النبوۃ :۵؍ ۴۸۹ ،طبع دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان ) ’’اس سند کے ساتھ عبدالرحمن بن زید بن اسلم منفرد ہوا، اور وہ ضعیف ہے۔ ‘‘( واللہ اعلم )
امام بیہقی نے توراوی کو ضعیف قرار دیا ہے اور قادری صاحب کہہ رہے ہیں کہ اُنہوں نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے ۔ سبحان اللہ!
2۔حافظ ابو نعیم الاصبہانی کی کتاب حلیۃ الأولیاء ( ۹؍ ۵۳) میں یہ روایت نہیں ملی اور نہ اسے ابو نعیم کا صحیح قرار دینا ثابت ہے۔
3۔التاریخ الکبیرسے مراد اگر امام بخاری کی کتاب التاریخ الکبیرہے تو یہ روایت وہاں نہیں ملی اور نہ امام بخاری سے اسے صحیح قرار دینا ثابت ہے۔اگر التاریخ الکبیرسے مراد کوئی دوسری کتاب ہے تو اس کی صراحت کیوں نہیں کی گئی بلکہ یہ تو صریح تدلیس ہے۔
4۔المعجم الصغیر للطبراني (۲؍ ۸۲، ۸۳ ح ۱۰۰۵، بترقیمی) میں یہ روایت موجود ہے لیکن امام طبرانی نے اسے صحیح قرار نہیں دیابلکہ فرمایا:یہ (سیدنا) عمرؓسے صرف اسی اسناد (سند ) کے ساتھ مروی ہے، احمد بن سعید نے اس کے ساتھ تفرد کیا ہے۔
5۔حافظ ہیثمی نے اس روایت کو صحیح قرار نہیں دیا، بلکہ لکھا ہے:
’’رواہ الطبراني في الأوسط والصغیر وفیہ من لم أعرفھم ‘‘
’’ اسے طبرانی نے الأوسط اورالصغیرمیں روایت کیا اور اس میں ایسے راوی ہیں جنھیں میں نہیں جانتا ۔‘‘ ( مجمع الزوائد: ۸؍ ۲۵۳)
6۔ابن عدی کی کتاب الکامل کے محولہ صفحے بلکہ ساری کتاب میں یہ روایت نہیں ملی۔
7۔درّمنثور(۱؍ ۵۸، دوسرا نسخہ ۱؍ ۱۳۱)میںیہ روایت بحوالہ المعجم الصغیر للطبراني، حاکم،الدلائل لأبي نعیم، الدلائل للبیہقياور ابن عساکر موجود ہے، لیکن اسے صحیح قرار نہیں دیا گیا۔
8۔الآجري نے اسے صحیح قرار نہیں دیا۔ (الشریعہ: ص ۴۲۷، ۴۲۸ ح ۹۵۶، دوسرا نسخہ :۳؍ ۱۴۱۵)
9۔حافظ ابن تیمیہ ؒ نے اس روایت کو بحوالہ ابو نعیم في دلائل النبوۃ نقل توکیا ہے مگر صحیح قرار نہیں دیا،بلکہ عرش کے بارے میں صحیح اَحادیث کی تفسیر کے طور پر نقل کیا۔ (دیکھئے: مجموع فتاویٰ : ۲؍ ۱۵۰، ۱۵۱)بلکہ ابن تیمیہؒ نے بذاتِ خود اس روایت پر جرح کی ، فرمایا:
’’اس حدیث کی روایت پر حاکم پر انکار کیا گیا ہے،کیونکہ اُنہوں نے خود (اپنی)کتاب المدخل میں کہا: عبدالرحمن بن زید بن اسلم نے اپنے باپ سے موضوع حدیثیں روایت کیں۔۔۔( قاعدۃ جلیلۃ في التوسل والوسیلۃ ص ۸۵، مجموع فتاویٰ ج۱ص ۲۵۴۔ ۲۵۵)
فائدہ:
مجھے عبدالاول بن حماد بن محمد انصاری مدنیؒ نے خبر دی کہ میں نے اپنے والد (شیخ حماد الانصاری رحمہ اللہ)کو فرماتے ہوئے سنا:
’’إن الاعتماد علی الفتاوٰی التي في خمسۃ وثلاثین مجلدًا لا ینبغي وتحتاج إلی إعادۃ النظر وقد وجدّتُ فیھا تصحیفًا وتحریفًا ‘‘ 
’’بے شک پینتیس (۳۵) جلدوں والے فتاویٰ پر اعتماد نہیں کرنا چاہئے اور ( اس میں)نظر ثانی کی ضرورت ہے،میں نے اس میں تصحیف اور تحریف پائی ہے۔‘‘ ( نیز دیکھئے المجموع في ترجمۃ حماد الانصاري :۲؍ ۷۲۳ فقرہ نمبر ۱۱۰)
معلوم ہوا کہ فتاویٰ ابن تیمیہ مطبوعہ پر اندھا دھند اعتماد صحیح نہیں بلکہ اس کی عبارات کو حافظ ابن تیمیہ ؒکی دوسری عبارات پر پیش کرنا چاہئے۔
قادری صاحب کی نو( ۹) غلط بیانیوں کے تذکرے کے بعد عرض ہے کہ مستدرک الحاکم وغیرہ کی روایتِ مذکورہ موضوع ہے۔ اسے حافظ ذہبی نے موضوع کہا اور باطل خبر قرار دیا۔ حافظ ابن حجر نے ’خبرًا باطلا‘ والی جرح نقل کر کے کوئی تردید نہیں کی یعنی حافظ ابن حجر کے نزدیک بھی یہ روایت باطل ہے۔ (دیکھئے: لسان المیزان :۳؍ ۳۶۰، دوسرا نسخہ :۴؍ ۱۶۲)
٭۔اگر کوئی کہے کہ حاکم نے اسے صحیح الإسناد کہا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تصحیح کئی وجہ سے غلط ہے۔مثلاً:
1۔خود حاکم نے اس روایت کے ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم کے بارے میں فرمایا: 
’’روٰی عن أبیہ أحادیث موضوعۃ۔ ۔ ۔‘‘ ( المدخل إلی الصحیح ص ۱۵۴ت ۹۷)
’’اُس نے اپنے باپ سے موضوع حدیثیں بیاں کیں ۔‘‘
گویا وہ اپنی شدید جرح بھول گئے تھے۔
2۔حاکم کی یہ جرح جمہور علماء مثلاً حافظ ذہبی وغیرہ کی جرح سے معارض ہے۔
3۔حاکم اپنی کتاب المستدرک میں متساہل تھے۔
4۔اس کی سند میں عبداللہ بن مسلم راوی ہے، جس کے بارے میں حافظ ابن حجرؒ نے فرمایا کہ اس کا عبداللہ بن مسلم بن رشید ہونا میرے نزدیک بعید نہیں ہے۔ ( لسان المیزان ۳؍ ۳۶۰)
اس ابن رشید کے بارے میں حافظ ابن حبان نے فرمایا:’یضع‘وہ ( حدیثیں) گھڑتا تھا۔ ( المجروحین:۲؍ ۴۴، لسان المیزان:۳؍ ۳۵۹)
5۔ایک روایت میں آیا ہے کہ ’’ کوئی قوم مشورہ کے لئے جمع ہو اور محمد نام والا کوئی شخص اُن کے مشورہ میں داخل نہ ہو تو اُن کے کام میں برکت نہیں ہو گی۔‘‘ (موضح أوھام الجمع والتفریق للخطیب:۱؍ ۴۲۹،دوسرا نسخہ ۱؍ ۴۴۶ ذکر أحمد بن حفص الجزري )
یہ روایت نقل کر کے طاہر القادری صاحب نے لکھا ہے کہ
’’ حلبی نے إنسان العیون (۱:۱۳۵) میں کہا ہے کہ حفاظِ حدیث نے اِس روایت کی صحت کا اِقرار کیا ہے۔ ‘‘ ( تبرک کی شرعی حیثیت ،ص ۶۰ حاشیہ ۲)
عرض ہے کہ نہ تو حلبی نے انسان العیون ( ۱؍ ۱۳۵، دوسرا نسخہ ۱؍ ۸۳) میں یہ بات کہی ہے اور نہ حفاظِ حدیث نے اس کی صحت کا اقرار کیا ہے بلکہ حلبی نے روی کہہ کر اس روایت کو بغیر سند اوربغیر حوالے کے ذکر کیاہے
جبکہ حافظ ذہبی نے اس روایت کے راوی احمد بن کنانہ شامی پر ابن عدی کی جرح نقل کی، اور یہ حدیث مع دیگر اَحادیث نقل کر کے فرمایا:
’’قلت:وھٰذہ أحادیث مکذوبۃ‘‘ ’’میں نے کہا: اور یہ حدیثیں جھوٹی ہیں۔ ‘‘ ( میزان الاعتدال :۱؍ ۱۲۹ ت ۵۲۲)
حافظ ابن حجر نے اس جرح کو نقل کر کے برقرار رکھا اور کوئی تردید نہیں کی۔ (دیکھئے :لسان المیزان :۱؍ ۲۵۰، دوسرا نسخہ :۱؍ ۳۷۷)
حفاظِ حدیث نے تو اس روایت کو مکذوب(جھوٹی) قرار دیا ہے، لیکن طاہر القادری صاحب اسے صحیح باور کرانے کی فکر میں ہیں ۔
6۔طاہر القادری صاحب نے امام ابو حنیفہ سے ایک روایت نقل کی :
’’ میں نے حضرت انس بن مالکؒسے سنا، اُنھوں نے حضور نبی اکرمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
’’ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلیٰ کُلِّ مُسْلِمٍ ‘‘
’’علم حاصل کرناہر مسلمان پر فرض ہے۔ ‘‘( امام ابو حنیفہ امام الائمہ فی الحدیث :۱؍ ۷۸۷، ۷۸۶)
قادری صاحب نے اس کے لئے تین حوالے دیئے:
  1. ’’ ابو نعیم الاصبہانی ، مسند الامام ابی حنیفہ : ۱۷۶ ( ہمارا نسخہ ص ۲۴)
  2. خطیب بغدادی ، تاریخ بغداد ، ۴: ۲۰۸، ۹: ۱۱۱
  3. موفق ، مناقب الامام الاعظم ابی حنیفہ ، ۱: ۲۸ ‘‘
اس کے بعد قادری صاحب نے دیگر محدثین کے حوالے دیئے ، جن کی روایات میں إمام أبو حنیفۃ قال:سمعت أنس بن مالک رضي اﷲ عنہ یقول:‘‘ کا نام و نشان تک نہیں لہٰذا اُن کا یہاں ذکر صحیح نہیں ہے۔
روایت ِ مذکورہ کی تینوں سندوں میں احمد بن صلت حمانی راوی ہے، جسے امام ابن عدی، حافظ ابن حبان اور امام دارقطنی وغیرہم نے کذاب قرار دیا اور حافظ ذہبی نے فرمایا:
’’ کذاب وضّاع‘‘( میزان الاعتدال:۱؍ ۱۴۰) ’’وہ جھوٹا، حدیثیں گھڑنے والا ہے۔الخ ‘‘ تفصیل کے لئے دیکھئے ماہنامہ ’الحدیث‘ حضرو ( عدد ۷۲ ص ۱۲۔۱۳)
قادری صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ کذاب راوی کی منفرد روایت موضوع ہوتی ہے اور روایتِ مذکورہ کو کسی ثقہ و صدوق راوی کا امام ابو حنیفہ سے’’ قال سمعت أنس ابن مالک رضي اﷲ عنہ‘‘کی سند سے بیان کرنا کہیں بھی ثابت نہیں ہے۔موٹی موٹی کتابیں لکھنے کے بجائے اگر چھوٹی سی مختصر اور صحیح احادیث والی کتاب ہو تو دنیا اور آخرت دونوں کے لئے مفید ہو سکتی ہے بشرطیکہ آدمی کا عقیدہ صحیح ہو اور کتاب سلف صالحین کے فہم و منہج پر ہو۔
تنبیہ:
روایتِ مذکورہ پر خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے درج ذیل جرح فرمائی ہے:
اسے بشر ( بن الولید ) سے احمدبن صلت کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا اور یہ ابو یوسف سے محفوظ( یعنی صحیح ثابت ) نہیں ہے اور انس بن مالک ؓسے امام ابو حنیفہ کا سماع ثابت نہیں ہے۔ واللہ اعلم (تاریخ بغداد :۴؍ ۲۰۸)
دوسرے حوالے میں اس روایت کے بارے میں خطیب بغدادی نے فرمایا: 
’’لا یصح لأبي حنیفۃ سماع من أنس بن مالک وھذا الحدیث باطل بھٰذا الإسناد ۔ ۔ ۔ ‘‘ (تاریخ بغداد ۹؍ ۱۱۱ ت ۴۷۱۹)
’’انس بن مالکؓ سے ابو حنیفہ کا سماع صحیح نہیں ہے اور یہ حدیث اس سند سے باطل ہے۔۔۔ ‘‘
تاریخ بغداد کے مذکورہ حوالے پیش کرنا اور اس جرح کو چھپانا اگر خیانت نہیں تو پھر کیا ہے؟
7۔طاہر القادری صاحب نے امام ابو حنیفہ سے ذکر کیا کہ 
’’ میں نے حضرت عبداللہ بن اُنیسؓ سے سنا:اُنہوں نے حضور نبی اکرمﷺسے سنا: تیری کسی چیز سے محبت تجھے اندھا اور بہرا کر دیتی ہے۔ ‘‘ ( المنہاج السوي ص ۸۰۸ ح ۱۰۴۶ بحوالہ جامع المسانید للخوارزمي:۱؍ ۷۸)
عرض ہے کہ مسند الخوارزمی کی اس روایت کا دارومدار أبو علی الحسن بن علی بن محمد بن إسحق دمشقی التمار پر ہے، جس نے اسے علی بن بابویہ اسواری عن جعفر بن محمد بن علی بن الحسن عن یونس بن حبیب عن أبی داود طیالسی کی سند سے روایت کیا ہے۔(جامع المسانید:۱؍ ۷۸۔ ۷۹)
اس الحسن بن علی کے بارے میں امام ابن عساکر نے فرمایا:
’’حدّث عن علي بن بابویہ الأسواري عن أبي داود الطیالسي بخبر کذب والحمل فیہ علیہ أو علیٰ شیخہ فإنما مجھولان‘‘ 
’’اس نے علی بن بابویہ اسواری عن ابی داود الطیالسی کی سند سے جھوٹی روایت بیان کی جس کا ذمہ دار وہ یا اُس کااستاد ہیں کیونکہ یہ دونوں مجہول ہیں۔ ‘‘ ( لسان المیزان:۲؍ ۲۴۰، ۲۴۱ ، نیز دیکھئے :لسان المیزان :۲؍ ۲۳۶)
سیدنا عبداللہ بن اُنیسؓ جون (۵۴) ہجری میں فوت ہوئے تھے اور امام ابو حنیفہ اَسّی ( ۸۰) ہجری میں پیدا ہوئے تھے۔ دیکھئے: تقریب التہذیب (۳۲۱۶ ، ۷۱۵۳)
اپنی پیدائش سے چھبیس ( ۲۶) سال پہلے فوت ہو جانے والے صحابی سے امام ابو حنیفہ کس طرح حدیث سن سکتے تھے؟ کیا انہی ’ تحقیقات ‘ کی بنا پر انہوں نے ’شیخ الاسلام‘ کا لقب اختیار کیا ہے؟! 
8۔طاہر القادری صاحب فرماتے ہیں:
’’ حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ۸۰ ہجری میں پیدا ہوا اور میں نے اپنے والد کے ساتھ ۹۶ ہجری میں ۱۶ سال کی عمر میں حج کیا پس جب میں مسجد ِحرام میں داخل ہوا میں نے ایک بہت بڑا حلقہ دیکھا تو میں نے اپنے والد سے پوچھا یہ کس کا حلقہ ہے؟تو اُنہوں نے فرمایا: یہ عبداللہ بن جَزء زبیدی کا حلقہ ہے۔ پس میں آگے بڑھا اور ان کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جو اللہ تعالیٰ کے دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے غموں کو کافی ہو جاتا ہے اور اسے وہاں وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا۔‘‘ ( المنہاج السوي ص ۸۰۹ ح ۱۰۴۸، بحوالہ جامع المسانید للخوارزمي ۱؍۸۰، تاریخ بغداد للخطیب البغدادي۳؍ ۳۲ رقم ۹۵۶)
اس روایت کی دو سندیں ہیں:
1۔ایک میں احمد بن صلت حمانی ہے جو کہ بہت بڑا کذاب تھا۔ (دیکھئے مضمون ہذا ،روایت نمبر ۶)
2۔الحسن بن علی دمشقی کذاب ہے ۔ (دیکھئے روایت نمبر ۷)
اسکے باقی کئی راوی مجہول ہیں اور سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدیؓ اس جھوٹی روایت کے برعکس ۸۵، ۸۶، ۸۷ یا ۸۸ھ میں فوت ہو گئے تھے۔ (دیکھئے: تقریب التہذیب: ۳۲۶۲)
9۔طاہر القادری صاحب نے سیدنا ابو ہریرہؓ کی طرف منسوب سند سے نقل کیا کہ رسول اللہﷺکے پاس ایک شامی سفید ٹوپی تھی۔
( المنہاج السوي ص ۷۶۹ ح ۹۸۳ ، بحوالہ جامع المسانید للخوارزمي ۱؍ ۱۹۸)
اس روایت کا پہلا راوی ابو محمد عبداللہ بن محمد بن یعقوب البخاری الحارثی کذاب ہے۔ اس کے بارے میں امام ابو احمد الحاکم الکبیر اور حاکم نیشاپوری صاحب المستدرک دونوں نے فرمایا: ’’وہ حدیث بناتا تھا۔‘‘ ( کتاب القراء ۃ للبیہقي ص ۱۵۴، دوسرا نسخہ ص ۱۷۸ ح ۳۸۸ وسندہ صحیح إلیہما)
مزید تفصیل کے لئے دیکھئے الکشف الحثیث عمن رُمی بوضع الحدیث (ص ۲۴۸) لسان المیزان ( ۳؍ ۳۴۸۔ ۳۴۹) اور میری کتاب نُور العینین (ص ۴۳)
نیز اس روایت میں کئی راوی نامعلوم ہیں۔
10۔طاہر القادری صاحب نے لکھا ہے:
’’ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے مبارک قدموں کو بھی یہ معجزہ عطا فرمایا کہ اُن کی وجہ سے پتھر نرم ہو جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے قدومِ مبارک کے نشان بعض پتھروں پر آج تک محفوظ ہیں۔ ‘‘
1۔حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں:
’’ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ کَانَ إذا مَشٰی عَلَی الصَّخر غَاصَتْ قَدَمَاہُ فِیْہِ وَ أَثرت ‘‘ (تبرک کی شرعی حیثیت ،ص۷۶، اشاعت سوم ستمبر ۲۰۰۸ئ)
(زرقانی ، شرح المواھب اللدنیہ ،۵:۴۸۲… سیوطی ، الجامع الصغیر،۱:۲۷،رقم:۹)
’’ حضور نبی اکرمﷺ جب پتھر وں پر چلتے تو آپﷺ کے پاؤں مبارک کے نیچے وہ نرم ہو جاتے اور قدمِ مبارک کے نشان اُن پر لگ جاتے۔‘‘ حالانکہ یہ روایت ذکر کرنے کے بعد زرقانی (متوفی ۱۱۲۲ھ) نے لکھاتھا :
’’ وأنکرہ السیوطي وقال: لم أقف لہ علیٰ أصل ولا سند ولا رأیت من خرجہ في شيء من کتب الحدیث وکذا أنکرہ غیرُہ لکن ۔۔۔ ‘‘ 
’’اور سیوطی نے اس ( روایت ) پر انکار کیا اور کہا: مجھے اس کی کوئی اصل یا سند نہیں ملی اور نہ میں نے دیکھا کہ حدیث کی کتابوں میں کسی نے اسے روایت کیا ہے، اور اس طرح دوسروں نے بھی اس (روایت) کا انکار کیا لیکن ۔۔۔ ‘‘ ( المواہب اللدنیۃ :۵؍ ۴۸۲)
’لیکن‘ والی بات تو بے دلیل ہے اور سیوطی کی کتاب الجامع الصغیرمیں یہ روایت قطعاً موجود نہیں بلکہ عبدالرؤف المناوی نے اسے الجامع الصغیرکی شرح میں ذکر کیا اور کہا: ’’ولم أقف لہ علیٰ أصل‘‘ مجھے اس کی کوئی اصل نہیں ملی۔ (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر:۵؍ ۹۱ح ۶۴۷۸)
مناوی کی اس شرح کے شمائل والے حصے کو حسن بن عبید باحبشی (مجہول)نے الشمائل الشریفۃ کے نام سے دار طائر العلم سے شائع کیا اور اس کی ج۱؍ص ۹، رقم ۹ (الشاملہ) پر یہ روایت مناوی کی جرح کے ساتھ موجود ہے۔
محمد بن یوسف صالحی شامی نے کہا:
’’ولا وجود لذٰلک في کتب الحدیث البتۃ‘‘ ( سبل الھدی والرشاد في سیرۃ خیر العباد ۲؍ ۷۹، مکتبہ شاملہ)
’’اور اس ( روایت ) کا کتب ِ حدیث میں کوئی وجود نہیں ہے۔‘‘
خلاصہ یہ کہ اس بے سند اوربے اصل (موضوع) روایت کو طاہر القادری نے حدیثِ رسول قرار دے کر عام لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے۔
لنک

Thursday, 27 October 2011

"پیٹ کے بل یا الٹی کروٹ لیٹنا جہنمیوں کا طریقہ ہے"


"پیٹ کے بل یا الٹی کروٹ لیٹنا جہنمیوں کا طریقہ ہے"

حضرت یعیش بن طھفہ غفاری نے اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ، انہوں نے فرمایا:جو نادار حضرات نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مہمان ہوا کرتے تھے(ایک بار)اس میں(شامل ہو کر))میں بھی آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم )کے ہاں مہمان ہوا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) رات کواپنے مہمانوں کی دیکھ بھال کی غرض سے تشریف لائے تو مجھے یٹ کے بل لیٹے دیکھا۔ آنخضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے قدم مبارک سے ٹھوکر دیا اور فرمایا:" اس انداز سے نہ لیٹو۔ اللہ تعالی اس انداز سے لیٹنے کو نا پسند فرماتے ہیں"۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ قدم مبارک سے ٹھوکردے کر جگایا اور فرمایا: "یہ اہل جہنم کا لیٹنے کا انداز ہے۔"
سنن الترمذی

Sunday, 21 August 2011

صومالیہ کی قحط سالی اور اس کے پیچے چھپے بیرونی اسباب


صومالیہ کی قحط سالی اور اس کے پیچھے چھپے بیرونی اسباب


یہ بات قابل ذکر ہے کہ صومالیہ ہمیشہ سے ایسا نہ تھا۔ صومالیہ کی سرزمین مشرقی افریقہ کی بڑی منڈی رہی ہے۔ اس کی صحرائی پٹی دنیا کی دوسری بڑی صحرائی پٹی ہے۔ اس سرزمین پر پائے جانے والے تیل، یورینیم، گیس اور سونے کے ذخائر جو ہنوز نکالے جانے کے منتظر ہیں اس کے باسیوں کی بربادی کا سامان بنے۔ مغربی طاقتیں ان ذخائر پر وحشی درندوں کی مانند نظریں جمائے بیٹھی ہیں۔ 

حال ہی میں منظر عام پر آنے والی صومالی باشندوں کی قحط زدہ تصاویر دیکھ کر دل پھٹنے کو آتا تھا۔ کوئی ماں کیسے برداشت کر سکتی ہے کہ اس کا لخت جگر بھوک کے سبب جاں بہ لب ہو، اور وہ اس قابل نہ ہو کہ اس کو گندم کا ایک دانہ یا دودھ کا ایک قطرہ دے سکے۔ انہی تصاویر میں سے ایک تصویر میں، ہڈیوں کے ڈھانچے پر چڑھی جلد کی دبیز سی تہ میں لپٹا بچہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دنیا کے مقتدر انسانوں سے سوال کر رہا ہے کہ آیا خدا کی زمین پر میرا اتنا بھی حق نہیں کہ اس سے حاصل ہونے والا رزق میری زندگی میں کچھ لمحوں کا اضافہ کر سکے۔ یہ تصاویر دیکھ کر اقبال کی معروف نظم ” اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو “ کا یہ شعر بار بار ذہن کے بام و در پر دستک دیتا ہے

میں ناخوش و بیزار ہوں مر مر کی سلوں سے
میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو 

اربوں ڈالر کی لاگت سے بننے والی مساجد اور سونے سے مزین گنبد ہم مسلمانوں کو پکار پکار کر کہہ رہے ہیں، اے اہل ایمان! بہتر تھا کہ تم ہم کو کچے مٹی کے گھروندے ہی رہنے دیتے مگر انسان کو اس قدر بےتوقیر اور بے بس نہ ہونے دیتے۔ 

صومالیہ کے باسی مسلمان ہیں یا کسی اور دین کے پیروکار، انتہائی بھونڈا سوال ہے۔ خدائے واحد پر ایمان رکھنے والا انسان جو محمد عربی کے دین کو اپنا اوڑھنا بچھونا قرار دیتا ہے، رمضان کے اس ماہ احساس میں بھی اگر ان قحط زدہ انسانوں کی بھوک اور پیاس کو محسوس کر کے ان کی مدد کے لیے کوئی اقدام نہ کر سکے تو حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کا یہ جملہ السلام علی الاسلام ہی میرے جذبات کی صحیح عکاسی کر سکتا ہے۔ 

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صومالیہ ہمیشہ سے ایسا نہ تھا۔ صومالیہ کی سرزمین مشرقی افریقہ کی بڑی منڈی رہی ہے۔ اس کی صحرائی پٹی دنیا کی دوسری بڑی صحرائی پٹی ہے۔ اس سرزمین پر پائے جانے والے تیل، یورینیم، گیس اور سونے کے ذخائر جو ہنوز نکالے جانے کے منتظر ہیں اس کے باسیوں کی بربادی کا سامان بنے۔ مغربی طاقتیں ان ذخائر پر وحشی درندوں کی مانند نظریں جمائے بیٹھی ہیں۔ ان تمام وسائل کے ساتھ ساتھ صومالیہ ایک زرعی ملک بھی ہے۔ اس ملک کی 64 فیصد آبادی زراعت سے متمسک تھی۔ اس زرخیز ملک کے باسیوں کو کیسے گندم کے ایک ایک دانے کا محتاج کیا گیا؟ یہ سوال اپنے اندر حقائق کا ایک سمندر لیے ہوئے ہے۔ جس کا عندیہ اقبال نے بہت پہلے ہی دے دیا تھا۔ 

برفتند تا روش رزم در این بزم کہن
دردمندان جہاں طرح نو انداختہ اند
من از ایں بیش نہ دانم کہ کفن دزدی چند
بھر تقسیم قبور انجمنی ساختہ اند 

صومالیہ ہی وہ سرزمین ہے جس نے اسلام کے پہلے مہاجرین کو اپنی آغوش میں پناہ دی۔ حبشہ کا ساحل جو آج صومالیہ کے ساحلی شہر زیلہ کا حصہ ہے، یہی وہ مقام تھا جو جعفر طیار اور ان کے انصار کی پناہ گاہ بنا۔ صومالیہ کا دارلخلافہ موگا دیشو مشرقی افریقا میں اسلام کا اہم مرکز بنا۔ مسلمان تاجروں نے موگا دیشو اور موزمبیک میں اپنی تجارتی منڈیاں قائم کیں اور اسی دور میں موزمبیک کی کانوں سے سونے کی تلاش کا کام شروع کیا گیا۔ 

استعمار جب وسائل کی تلاش کے لیے دنیا پر تسلط کی غرض سے نکلا تو مشرقی افریقہ کے اس ملک نے اسے ناکوں چنے جبوائے۔ درویشوں کے سربراہ محمد عبداللہ حسن نے صومالی قوم کو استعماری تسلط کے خلاف مجتمع کیا اور کالونیلیزم کے خلاف لڑی جانے والی جنگوں میں سب سے بڑی جنگ لڑی۔ درویشوں کی حکومت نے بہت جلد صومالیہ کے تمام علاقوں پر اپنا کنڑول قائم کیا۔ تاہم برطانوی ہوائی حملوں کے سبب درویشوں کو حزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر صومالیہ استعماری افواج کا میدان جنگ بن گیا۔ ایک حصہ برطانوی صومالی لینڈ جبکہ دوسرا اطالوی صومالی لینڈ اور تیسرا حصہ فرانسیسی صومالی لینڈ قرار پایا۔ 

جنگ عظیم دوئم کے بعد برطانیہ نے اٹلی کو یہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور وہ خود 1960ء تک ان دونوں علاقوں پر مسلط رہا۔ جاتے ہوئے برطانیہ نے صومالیہ کے ساتھ بھی وہی کام کیا جو اس نے برصغیر کے مسلمانوں سے کیا تھا۔ برطانوی افواج نے صومالیہ کے دو اہم علاقے ایتھوپیا اور کینیا کو دے دیے، جن کا تصفیہ ہنوز باقی ہے۔

استعمار کے جانے کے بعد یہ خطہ کیمونسٹوں کی چراگاہ بنا۔ فوج اور پولیس کے سربراہوں نے مل کر سیاسی حکومت کا خاتمہ کیا اور سوشلسٹ پارٹی کے تحت کیمونسٹ حکومت کی بنیاد رکھی۔ اس حکومت نے صومالیہ میں بہت سے اہم ترقیاتی کام کیے۔ 

1977ء میں ایتھوپیا اور صومالیہ کے مابین متنازعہ علاقے پر جنگ چھڑ گئی، جس میں روس نے ایتھوپیا کا ساتھ دیا، جس کے سبب اس وقت کے صومالی صدر باری نے مغرب میں نئے اتحادیوں کی تلاش شروع کی۔ اسی اور نوے کی دہائی میں صومالیہ داخلی انتشار کی جانب چل پڑا۔ 

خانہ جنگی کا یہ سلسلہ آج بھی صومالیہ کی معیشت کو اپنے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہے اور اس ملک کی ترقی میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ باری صومالیہ کے جنوبی علاقوں میں اپنے مسلح حواریوں کے ہمراہ اپنے تئیں صدر تھا جبکہ شمالی علاقے پر شمالی اور جنوبی قبائل کی حکومت تھی، جس کا سربراہ علی مہدی محمد کو بنایا گیا۔ 

اسی اثناء میں 1992ء میں صومالیہ میں پہلا قحط آیا، جس کے سبب تین لاکھ افراد لقمہ اجل بنے۔ جبکہ عالمی برادری نے امداد اور امنیت کے نام پر صومالیہ میں اپنی افواج داخل کر دیں۔

unitaf امریکی افواج اور اس کے اتحادیوں کا پہلا دستہ تھا جو صومالیہ کے قحط زدہ جنوبی علاقوں میں امداد کے لیے پہنچا۔ 1993ء میں یہ ذمہ داری اقوام متحدہ کے سپرد کر دی گئی، جو unosom ii کے عنوان سے صومالیہ میں سرگرم ہوئی۔ 

صومالیہ کے جنرل محمد فرح آیدید نے اس اتحاد کو اپنے اقتدار کی راہ میں رکاوٹ جانتے ہوئے ان پر متعدد حملے کیے، جس کے سبب 1995ء میں اقوام متحدہ نے بھاری نقصان اٹھانے کے بعد اپنے مشن کو ادھورا چھوڑتے ہوئے فرار کی راہ اختیار کی۔ 

آج صومالیہ کے جنوبی علاقوں پر القاعدہ سے متمسک جماعت الشباب کا کنٹرول ہے۔

جنوبی صومالیہ میں گزشتہ دو ماہ میں پیدا ہونے والی قحط کی نئی صورتحال نے عالمی امدادی اداروں اور مغربی ذرائع ابلاغ میں کھلبلی کی سی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اگر اگلے دو ماہ میں امدادی کام کا آغاز نہ کیا گیا تو یہ قحط پورے جنوبی صومالیہ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ عالمی امدادی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال کی خشک سالی اور قحط کو گزشتہ نصف صدی کی سب سے بڑی آفت قرار دیا جا رہا ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ اگر فی الفور اقدامات نہ کیے گیے تو ممکن ہے کہ یہ صورتحال کسی بڑے انسانی المیے کو جنم دے دے۔ 

دوسری جانب مغربی میڈیا اور امدادی ادارے صومالیہ میں الشباب کی جانب سے امدادی سرگرمیوں پر لگائی جانے والی 2009ء کی پابندیوں کا واویلا کر رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ الشباب امدادی کاموں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،

کوئی بھی عالمی ادارہ ملک کی سیکورٹی صورتحال کے مدنظر اپنے وسائل کو داﺅ پر لگانے کے لیے تیار نہیں۔ اس کے برعکس الشباب نے عالمی امدادی اداروں کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کسی کو بھی امداد کرنے سے نہیں روک رہے، نہ ہی ہم نے دریاﺅں کے رخ بدلے ہیں اور نہ ہی ہم جنوبی صومالیہ کے باسیوں کو علاقہ چھوڑنے سے روک رہے ہیں۔

شنید یہ ہے کہ الشباب نے بھی جنوبی علاقوں کو خالی کرنا شروع کر دیا ہے اور ان کی جگہ وفاقی حکومت کی 
افواج لے رہی ہیں، تاہم ابھی کئی علاقے ایسے بھی ہیں جہاں الشباب کا مکمل کنٹرول ہے۔

صومالیہ کا تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ قحط خوراک کی کمی نہیں بلکہ خوراک کی سپلائی کی زیادتی کے سبب آتا
 ہے۔ خوراک کی اندھا دھند ترسیل ملکی زراعت کے لیے زہر قاتل کا کام کرتی ہے، نیز گلوبلائزیشن کے اس دور میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اصلاحاتی پروگرام قحط سازی کے اس عمل میں براہ راست ملوث ہیں چونکہ یہ پروگرام انتہائی منظم انداز سے دیہی اور شہری علاقوں کی ان معاشی سرگرمیوں کا استحصال کرتے ہیں جن کا عالمی نظام معیشت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ 

ہمارا سوال اب بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ ایک زرعی ملک کیسے قحط کے دہانے پر پہنچا؟

عالمی برادری اس بدحالی کو ملک میں خانہ جنگی اور خشک سالی کا شاخسانہ قرار دیتی ہے جو کسی حد تک درست ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ یہ خانہ جنگی شروع کیسے ہوئی؟

وسائل سے مالا مال ساحلی پٹی پر بسنے والے صومالیوں نے کیونکر ویران صحرائی علاقوں کا رخ کیا؟

زرعی شعبے کے ساتھ کیا بیتی؟

عالمی امدادی تنظیمیں اس سلسلے میں کس کردار کی حامل ہیں؟

صومالی معیشت کو اس نہج پر پہنچانے والا کون ہے؟ 


1990 کی دہائی سے صومالیہ عالمی سطح پر ایک ناکام ریاست تصور کی جاتی ہے۔ یہاں کوئی مرکزی حکومت نہیں۔ پنٹا لینڈ اور صومال لینڈ صومالیہ کے دو خود مختار خطے ہیں جب کہ جنوبی صومالیہ جس کا ذکر قبل ازیں کیا گیا مختلف مسلح گروہوں کے مابین منقسم ہے۔

1980ء کی دہائی میں صومالیہ معاشی طور پر عدم استحکام کا شکار ہونا شروع ہوا اور اس ملک کا خوراک و زراعت کا شعبہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

دا ٹائمز میگزین کے مطابق صومالی صدر محمد صیاد باری نے صومالیہ کا دو تہائی علاقہ تیل تلاش کرنے والی چار امریکی کمپنیوں Conoco، Amoco، Chevron and Phillips کو دے دیا۔

امریکی انتظامیہ ہمیشہ سے صومالیہ میں اپنی سرگرمیوں کو انسانی بنیادوں پر استوار قرار دیتی آئی ہے جبکہ امریکی تیل کی صنعت کے لوگ جن میں سابق امریکی صدر جارج بش بھی شامل ہیں کے صومالیہ میں مفادات ہر صاحب نظر کے لیے واضح اور آشکار ہیں۔

اسی طرح ورلڈ فوڈ پروگرام کی پالیسیاں بھی اس قحط میں ایک اہم عامل ہیں۔

2006ء سے صومالیہ کے شہر اریٹیریا میں مقیم واحد آزاد مغربی صحافی تھامس سی ماونٹین صومالیہ کے قحط میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے کردار کے بارے میں لکھتے ہیں۔

صومالیہ میں ورلڈ فوڈ پروگرام ایک مکروہ اور گھناﺅنی تاریخ کا حامل ہے۔

2006ء میں جب صومالی کسان اپنی گندم بیچنے کے لیے بازار میں لائے تو ورلڈ فوڈ پروگرام نے پورے صومالیہ میں سال بھر کی امدادی گندم کی تقسیم کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اس امدادی گندم کی موجودگی میں صومالی کسانوں کے لیے اپنی گندم فروخت کرنا ناممکن ہو گیا۔ صومالی کسانوں نے ورلڈ فوڈ پروگرام کے دفاتر کا گھیراﺅ کیا، جس پر ان دفاتر کی جانب سے باقاعدہ معافی مانگی گئی اور آئندہ ایسی حرکت نہ کرنے کا وعدہ کیا گیا، تاہم اگلے سال یعنی 2007ء میں دوبارہ وہی عمل دہرایا گیا۔

اس بار ورلڈ فوڈ پروگرام کو ایتھوپیا کی افواج کا تعاون حاصل تھا۔ اسی بنا پر صومالیہ کی مسلم عسکری تنظیم الشباب نے ورلڈ فوڈ پروگرام اور تمام تر مغربی امددی اداروں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی۔

The Globalization of Poverty جیسی معرکة الاراء کتاب کے مصنف مائیکل چوسو ڈوسکی (Michel Chossudovsky) نے صومالیہ کے ابتر حالات کے اسباب کا ذرا مفصل تجزیہ کیا ہے ان کا یہ تجزیہ 1993 ء میں شائع ہوا۔ اس مقالے کے چند اقتباسات پیش قارئین ہیں


آئی ایم ایف 

صومالی معیشت کا دارومدار گلہ بانوں اور چھوٹے کسانوں کے مابین اشیاء کے تبادلے پر تھا۔

1983ء تک مویشیوں کی برآمد سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ ملک کے کل زرمبادلہ کا 80 فیصد تھا۔ 80 کی دہائی میں آئی ایم ایف کی آمد کے سبب صومالی معیشت گراوٹ کا شکار ہوئی۔

آئی ایم ایف کی افریقی ممالک کے لیے زرعی اصلاحات نے اس پورے خطے بالخصوص صومالیہ کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ حکومت پر پیرس کلب کے قرضہ جات ادا کرنے کے لیے انتہائی سخت پابندیاں عائد کی گئیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ رقم ان قرضوں کی ادائیگی کے لیے مہیا کی جا سکے۔


شعبہ خوراک و زراعت کی تباہی

SAP اسٹرکچل ایڈجیسمنٹ پلین کے ذریعے صومالیہ کی حکومت کو مجبور کر دیا گیا کہ وہ درآمد شدہ گندم پر انحصار کرے۔ اسی کی دہائی میں خوراک کی مد میں ملنے والی امداد پندرہ گنا بڑھا دی گئی۔ اس سستی درآمد نے مقامی پیداوار کو بری طرح متاثر کیا۔ ملک میں کرنسی کی قیمت گرتی گئی، جس کے سبب تیل، فرٹیلائزر اور زرعی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سامنے آئے۔ اسی عرصے میں بہت سا زرعی علاقہ بیوروکریسی، فوجی افسران اور حکومت کے کاسہ لیس کاروباری حضرات کو عنایت کیا گیا۔ اپنی غذائی ضروریات کے لیے پیداوار کے بجائے برآمد کی جانے والی مصنوعات جیسا کہ پھل، سبزی اور کپاس کی کاشت کی حوصلہ افزائی کی گئی۔


شعبہ پرورش حیوانات کی تباہی

ورلڈ بنک کی ایما پر جانوروں کی ویکسی نیشن کے شعبہ کو نجی ملکیت میں دے دیا گیا۔ ویکسی نیشن کی بہت سی نجی کمپنیاں بنائی گئیں۔ حکومت کے پرورش حیوانات کے شعبہ کو مکمل طور پر ورلڈ بینک کا باج گزار کر دیا گیا۔ جس کے سبب حیوانات کی صحت پر ان عالمی اداروں کا مکمل کنٹرول ہو گیا۔ خشک سالی کے سالوں میں جانوروں کے لیے خوراک کی کمی اور ویکسی نیشن کی عدم دستیابی کے سبب صومالیہ کی معیشت کا یہ اہم حصہ زبوں حالی کا شکار ہوتا چلا گیا۔ اس زبوں حالی کا بالواسطہ فائدہ مغربی ممالک کو بھی پہنچا۔ صومالیہ سے گوشت درآمد کرنے والے ممالک نے آسٹریلیا اور یورپی منڈیوں کا رخ کرنا شروع کیا۔


ریاست کی تباہی

بریٹن ووڈ انسٹی ٹیوٹ کی سرپرستی میں صومالی حکومت کے اخراجات کی از سرنو تشکیل نے بھی صومالیہ کے شعبہ زراعت کی تباہی میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ آئی ایم ایف نے صومالی حکومت کو زراعت کے شعبے کی از سرنو بحالی کے عمل کے لیے مقامی وسائل کو بروئے کار لانے سے سختی سے روک دیا۔ بجٹ کے خسارے کو دور کرنے کے لیے انتہائی سخت شرائط رکھ دی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی امدادی اداروں نے خوراک کی صورت میں امداد میں اضافہ کر دیا۔ جسے حکومت مقامی مارکیٹ میں فروخت کر کے اپنے ترقیاتی منصوبے چلاتی رہی۔ اسی کی دہائی میں اس امدادی خوراک کی فروخت ہی حکومت کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ تھی، جس کے سبب امدادی اداروں کو حکومت کے بجٹ پر مکمل تصرف حاصل ہو گیا۔ صحت اور تعلیم کی مد میں خرچ کی جانے والی رقم بہت کم کر دی گئی۔

آئی ایم ایف نے صومالیہ کی معیشت کو ایک نہ ختم ہونے والے گھناﺅنے مدار میں داخل کر دیا۔ حیوانات کی بڑے پیمانے پر ہلاکت نے صومالی گلہ بانوں کو فاقوں پر مجبور کر دیا۔ جس کے اثرات گندم کے کاشتکاروں پر پڑے جو اپنی گندم کے تبادلے میں جانور خریدا کرتے تھے۔ صومالی معیشت کا مکمل نظام تباہ ہو گیا۔

امریکا کی جانب سے آنے والی رعایتی گندم اور کھیت کی تیاری کے لیے ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے سبب مقامی کسان بے روزگار ہونے لگے۔ شہری علاقوں میں آمدن کی کمی کے سبب خوراک کی ضرورت میں بھی کمی واقع ہونے لگی، جس کے سبب حکومت نے زراعت کے شعبے پر توجہ کم کر دی۔ حکومتی فارمز کو آنے والے سالوں میں ورلڈ بینک کی سرکردگی میں نجی ملکیت میں دے دیا گیا۔

ورلڈ بینک کے 1989ء کے ایک تخمینے کے مطابق صومالیہ کے نجی شعبے میں ایک فرد کی اوسط آمدن 3 ڈالر ماہانہ ہو چکی تھی جو کہ 1970ء کی نسبت 90 فیصد کم تھی۔ حکومتی شعبے میں تنخواہیں ورلڈ بینک ادا کر رہا تھا۔ اسی ورلڈ بینک کے احکامات پر ملازمین کی تعداد میں کمی کرائی گئی۔

1989ء میں صومالیہ کے بڑی مقدار میں واجب الادا قرضوں کے سبب آئی ایم ایف کی امداد روک دی گئی۔

ورلڈ بینک نے 1989ء میں صومالیہ کے لیے 70 ملین ڈالر کے قرضے کی منظوری دی، جس کی ادائیگی کچھ ہی ماہ بعد روک دی گئی۔

مائیکل چوسو ڈوسکی کے مطابق اس وقت فقط صومالیہ ہی نہیں بلکہ تیسری دنیا کے سو سے زیادہ ممالک میں انہی پالیسیوں پر عمل درآمد جاری ہے۔

اس کے نزدیک تیسری دنیا میں بہت سے صومالیہ ہیں جو اپنے اپنے وقت پر خشک سالی اور قحط کا شکار ہو جائیں گے۔ صومالیہ کا تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ قحط خوراک کی کمی نہیں بلکہ خوراک کی سپلائی کی زیادتی کے سبب آتا ہے۔ خوراک کی اندھا دھند ترسیل ملکی زراعت کے لیے زہر قاتل کا کام کرتی ہے، نیز گلوبلائزیشن کے اس دور میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اصلاحاتی پروگرام قحط سازی کے اس عمل میں براہ راست ملوث ہیں چونکہ یہ پروگرام انتہائی منظم انداز سے دیہی اور شہری علاقوں کی ان معاشی سرگرمیوں کا استحصال کرتے ہیں جن کا عالمی نظام معیشت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

ان تمام حقائق کے مدنظر جب ہم پاکستان میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہیں تو زبان پر قائداعظم کے وہ آخری الفاظ آ جاتے ہیں جو انھوں نے یہ دنیا چھوڑنے سے قبل کہے تھے۔ 
اللہ! پاکستان